بم دھماکوں کے پس پردہ کیا کچھ ہے؟

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جون ۲۰۱۳ء

روزنامہ پاکستان لاہور میں ۲۳ مئی ۲۰۱۳ء کو شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیے:

’’فیصل آباد (بیورو رپورٹ) وارث پورہ سے ملحقہ بلال ٹاؤن گلی نمبر ۷ میں بم دھماکے میں ملوث تین میں سے ۲ ملزمان کو پولیس نے مختلف مقامات پر چھاپے مار کر گرفتار کر لیا جبکہ تیسرا ملزم ذیشان عرف ببلو مسیح بم دھماکہ میں شدید زخمی ہونے کے بعد دم توڑ گیا تھا۔ سی پی او رفعت مختار راجہ ایس ایس پی آپریشنز گوہر نفیس نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ گزشتہ روز منگل کی رات ۹ بجے کے قریب بم دھماکہ کے ملزموں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

بلال ٹاؤن گلی نمبر ۷ میں ہنڈا ۱۲۵ موٹر سائیکل نمبر ایف ڈی ایل ۶۶۵۵، اور روڈ پرنس موٹر سائیکل بلانمبری پر سوار ملزمان داؤد نگر کا رہائشی ذیشان عرف ببلو ولد شہباز، مسیح شیراز عرف نوکی ولد انور صدیق اور وارث پورہ کا رہائشی سہیل سرفراز ولد لکھن جاوید نے ایک پادری قیصر سے تاوان کی بھاری رقم وصول کرنے کے لیے اسے لشکر جھنگوی کراچی کے ارکان بن کر فون کیا کہ وہ چپکے سے ۱۰ لاکھ روپے تاوان ادا کر دے ورنہ اس کے گھر کو بم سے اڑا دیا جائے گا۔ ملزمان نے پادری کو اس سلسلہ میں دھمکی آمیز خط لکھا تھا، جواب نہ ملنے پر ملزمان نے دھماکہ خیز مواد کا بم ذیشان ببلو کی جھولی میں رکھا اور قیصر پادری کے گھر پھینکنے گئے اور بم کو آن کر کے اسے پادری کے گھر پھینکنے سے پہلے ہی بم پھٹ گیا جس سے ذیشان ببلو مسیح اس کی لپیٹ میں آکر شدید زخمی ہو گیا اور کچھ دیر بعد دم توڑ گیا۔ اس بم دھماکہ کے بعد اس کے دوسرے دونوں ساتھی ملزمان شیراز اور سہیل سرفراز موقع سے فرار ہو گئے۔

سی پی او رفعت مختار راجہ نے ایس پی ایڈمن اینڈ سکیورٹی عمران کشور کی زیر نگرانی ڈی ایس پی بٹالہ کالونی جاوید احمد خان، ڈی ایس پی گلبرگ ناصر محمود باجوہ، ایس ایچ او بٹالہ کالونی سب انسپکٹر سعید انور، ایس ایچ او تھانہ صدر سب انسپکٹر سبطین شاہ پر مشتمل خصوصی ٹیم تشکیل دی جس نے مختلف مقامات پر جا کر معلومات کے حصول اور تفتیش کی روشنی میں چھاپے مار کر دونوں ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ملزمان کے خلاف پادری قیصر کی طرف سے ۲۵ ڈی ٹیلگراف ایکٹ اور ۵۰۶ ت پ کا مقدمہ جبکہ دھماکہ کے سلسلہ میں بجرم ۴/۳ ایکسپلوزو ایکٹ 7ATA مقدمہ درج کر لیا۔ اس سلسلہ میں جائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم مزید تفتیش کر رہی ہے کہ ملزمان نے دھماکہ خیز مواد کہاں سے حاصل کیا اور اس سے پہلے وہ کہاں کہاں کیا کیا واردات کر چکے ہیں اور یہ کہ ان کے ساتھ دیگر ملوث افراد کون ہیں۔‘‘

ملک کے مختلف حصوں میں بم دھماکوں کے ذریعے خوف و ہراس اور بد اَمنی کی جو صورتحال ہے اس نے ملک کے ہر شہری کو مضطرب کر رکھا ہے لیکن ان کا سلسلہ رکنے میں نہیں آرہا۔ ہم کئی بار یہ عرض کر چکے ہیں کہ ان بم دھماکوں کے پیچھے موجود مختلف محرکات کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینے کی ضرورت ہے مگر ہمارے ہاں پولیس کا ایک لگا بندھا روایتی طریق کار چلا آرہا ہے کہ جس علاقہ میں دھماکہ ہوتا ہے وہاں کے پہلے سے مشکوک قرار دیے جانے والے افراد کی ایک طے شدہ فہرست میں سے کچھ لوگوں کو گرفتار کر کے وقتی طور پر لوگوں کو مطمئن کر دیا جاتا ہے لیکن بعد میں ثبوت نہ ملنے پر وہ تو رہا ہو جاتے ہیں جبکہ اصل ملزم اکثر پردۂ اخفا میں رہتے ہیں اور اپنی مذموم کاروائیوں میں آزاد ہوتے ہیں۔

مذکورہ واقعہ میں بم طے شدہ وقت سے پہلے پھٹ گیا جس کی وجہ سے سازش پکڑی گئی ورنہ اگر منصوبہ کامیاب ہو جاتا تو نہ صرف یہ کہ اس علاقہ میں مسلم مسیحی فسادات کی آگ بھڑک اٹھتی، جو نہ جانے کتنی جانوں اور املاک کے نقصان تک منتج ہوتی، بلکہ ’’لشکر جھنگوی‘‘ کی آڑ میں گرفتاریوں کا ایک نیا سلسلہ چل نکلتا۔ ہم فیصل آباد کے سی پی او جناب رفعت مختار راجہ، ایس ایس پی آپریشنز جناب گوہر نفیس اور ان کے رفقاء کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے بروقت کاروائی کر کے اس سازش کو بے نقاب کیا اور بم دھماکوں کے پس پردہ بعض عوامل کی طرف لوگوں کو توجہ دلائی۔

اس کے ساتھ ہی ہم حکومت سے گزارش کریں گے کہ اس تناظر میں بم دھماکوں کی ملک گیر صورتحال کا قومی سطح پر جائزہ لینے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے فرض شناس اور دیانتدار افسران پر مشتمل ’’ورکنگ گروپ‘‘ قائم کیا جانا چاہیے تاکہ بم دھماکوں کی روک تھام کے ساتھ ساتھ اصل مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے اور بے گناہوں کو خواہ مخواہ ہر بار ملوث کر دینے کے روایتی طریقہ کے سدباب کا اہتمام کیا جا سکے۔