دستوری ترامیم اور حکمران طبقے کا رویہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اپریل ۲۰۱۰ء

دستور پاکستان ایک بار پھر ترامیم کا سامنا کر رہا ہے اور ان سطور کی اشاعت تک دستور پر نظر ثانی کے لیے پارلیمنٹ کی قائم کردہ کمیٹی کی سفارشات منظر عام پر آ چکی ہوں گی۔ ۱۹۷۳ء میں منتخب دستور ساز اسمبلی نے یہ دستور منظور کیا تھا اور اس وقت کی پارلیمنٹ کو یہ اعزاز حاصل ہوا تھا کہ اس نے قیام پاکستان کے ربع صدی بعد ملک کو ایک ایسا متفقہ دستور دیا جو قوم کے تمام طبقوں اور علاقوں کے لیے قابل قبول تھا اور پوری قوم نے اس پر اتفاق کرتے ہوئے ایک نئی دستوری زندگی کا آغاز کیا تھا۔ اس دستور کی بنیاد تین امور پر تھی: اسلام، جمہوریت اور وفاق۔ یہی تین دستوری بنیادیں قوم کے اتفاق واتحاد کی علامات قرار پائیں، مگر ۱۹۷۳ء سے اب تک یہ دستور سترہ ترامیم کے مراحل سے گزر چکا ہے اور اب اٹھارویں ترمیمی بل کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ان دستوری ترامیم میں سے بعض ایسی بھی ہیں جو قوم کے اجتماعی مطالبے پر کی گئیں اور ایسی بھی ہیں جو کسی نہ کسی ڈکٹیٹر نے اپنی آمرانہ ترجیحات اور ضروریات کے مطابق دستور میں شامل کر دیں۔ ان آمرانہ ترامیم نے دستور کو موم کی ناک بنا دیا جو آمروں اور ڈکٹیٹروں کے رحم وکرم پر تھا اور اس کا نقشہ وقتاً فوقتاً بدلتا رہا۔ یہ آمر طاقت کی نمائندگی بھی کرتے تھے اور کچھ آمر وہ بھی تھے جنھوں نے جمہوریت کا لبادہ اوڑھ لیا تھا اور اس کی آڑ میں انھوں نے آمرانہ مزاج اور روایات کو دستور کا حصہ بنا دیا۔

ہمارے ہاں اصل میں دو مغالطے ہمیشہ کار فرما رہے۔ ایک یہ کہ آمریت اور جمہوریت میں فرق یہ ہے کہ حکمرانی کے منصب پر فائز شخص عوام کا نمائندہ ہے یا صرف طاقت کی نمائندگی کرتا ہے، حالانکہ آمریت کا تعلق ووٹ سے نہیں بلکہ مزاج اور نفسیات سے ہوتا ہے اور اس کا فیصلہ عوامی رجحانات کا احترام کرنے یا اسے پامال کر دینے کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ اس مغالطے نے ووٹ اور الیکشن کے ذریعے آنے والے بعض حکمرانوں کے ہاتھ میں بھی آمریت کی تلوار تھما دی اور اس کا نشانہ غریب دستور بنتا چلا گیا۔ دوسرا مغالطہ یہ کہ شاید سارے کام دستور ہی کرتا ہے اور اس میں رد وبدل کرنے سے پالیسیاں اور طرز عمل بھی خود بخود تبدیل ہو جایا کرتے ہیں، جبکہ اصل بات دستور کو چلانے والوں کی ذہنیت، نفسیات اور طرز عمل ہے۔ اگر عمل کرنے والوں کی نیت درست ہے، وہ قومی مفادات کو اپنے ذاتی، گروہی اور طبقاتی مفادات سے مقدم رکھتے ہیں اور عوام کی رائے ان کے نزدیک محترم ہے تو دستور وقانون اس کے مطابق حرکت کرتے ہیں اور اگر حکمرانوں کی نفسیات اور ترجیحات اس سے مختلف ہیں تو دستور وقانون کے لیے ان کے اشارۂ ابرو کے مطابق گھومتے چلے جانے کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں ہوتا اور پاکستان کے دستور وقانون کے ساتھ اب تک یہی ہوتا آ رہا ہے۔

پاکستان کے دستور کی تینوں بنیادوں پر نظر ڈال لیجیے کہ اسلام، جمہوریت اور وفاق میں سے کس کے ساتھ اب تک وفا کی گئی ہے اور ہماری رولنگ کلاس کا رویہ ان میں سے کس کے ساتھ مثبت رہا ہے؟ ہمارے حکمران طبقات نے جب چاہا ہے، ضرورت پڑنے پر ان میں سے ہر بنیاد کو ہتھیار کے طور پر ضرور استعمال کیا ہے لیکن ملک کے نظام اور معاشرتی ماحول میں ان میں سے کسی کو بھی عمل داری کے لیے آزاد نہیں چھوڑا گیا اور پھر ستم بالاے ستم یہ کہ ہماری رولنگ کلاس کے اوپر ایک اور ’’رولنگ کلاس‘‘ ورلڈ اسٹیبلشمنٹ کی صورت میں مسلط ہے جو پہلے ان دیکھی اور خفیہ ہوتی تھی، اب کھلم کھلا ملک کے ہر شہری کو دکھائی دے رہی ہے۔ اور صورت حال یہ ہے کہ دستور وقانون کی جو صورت ان دونوں کے مفاد میں ہوتی ہے اور اس پر عمل درآمد سے ان میں سے کسی کا مفاد مجروح نہیں ہوتا، وہ کسی درجے میں عمل میں آ جاتی ہے، لیکن جمہوریت، راے عامہ اور دستور وقانون کی جو تعبیر ان میں سے کسی کی ترجیحات کے لیے رکاوٹ بنتی ہے، وہ ان دیکھے فریزر میں منجمد ہو کر رہ جاتی ہے۔

دستور کی اسلامی دفعات پر عمل درآمد، پارلیمنٹ کی بالادستی اور وفاق کے تقاضوں کے مطابق صوبوں کے حقوق اور اسٹیٹس کی بحالی کے مسائل ربع صدی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود جوں کے توں پڑے ہیں اور اس کی تازہ ترین عملی مثال یہ ہے کہ مبینہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے قوم کی منتخب پارلیمنٹ نے متفقہ قرارداد کی صورت میں جو قومی موقف طے کیا تھا، وہ خدا جانے کون سے فریزر میں منجمد پڑا ہے اور جن پالیسیوں کو عوام نے دو سال قبل عام انتخابات میں کھلم کھلا مسترد کر دیا تھا، ان کا تسلسل نہ صرف جاری ہے بلکہ اسے تحفظ فراہم کر کے عوامی رائے اور مینڈیٹ کا کھلم کھلا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ دستور پاکستان پر جتنی بار چاہیں، نظر ثانی کر لیں اور جتنے بھی ترمیمی بل منظور کرا لیں، اگر رولنگ کلاس کا رویہ، نفسیات اور ترجیحات تبدیل نہیں ہوں گی تو بار بار کی دستوری ترامیم سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اصل ضرورت فدویانہ طرز عمل کو بدلنے کی ہے، نوآبادیاتی نظام اور سوچ سے پیچھا چھڑانے کی ہے، ملک کی دستوری بنیادوں اسلام، جمہوریت اور وفاق کے تقاضوں کو بروے کار لانے کی ہے اور عوام کے جذبات ورجحانات کے آگے سرنڈر کرنے کی ہے۔ اگر رولنگ کلاس اس کے لیے تیار ہے تو حالات میں اصلاح کی توقع کی جا سکتی ہے، ورنہ

گر یہ نہیں ہے بابا پھر سب کہانیاں ہیں