برطانوی پولیس کی کارکردگی کا چشم دید واقعہ

   
مجلہ: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
نا معلوم

طارق صاحب ہمارے محترم دوست ہیں، ابوبکرؓ مسجد کے پرانے نمازی ہیں، ساؤتھ آل لندن میں رہتے ہیں اور تبلیغی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا خاندان مشرقی پنجاب کے کسی علاقہ سے یوگنڈا چلا گیا تھا اور وہاں سے وہ لندن آ گئے۔ گزشتہ ہفتے کی بات ہے کہ وہ مغرب کی نماز کے لیے مسجد ابوبکر آئے اور مسجد کے مین گیٹ کے سامنے براڈوے پر گاڑی کھڑی کر دی۔ نماز سے فارغ ہو کر واپس جانے کے لیے دروازے سے باہر نکلے تو دیکھا کہ ان کی گاڑی حرکت کر رہی ہے اور دو گورے اس میں بیٹھے ہیں۔ وہ ابھی صورتحال کو سمجھنے کی کوشش ہی کر رہے تھے کہ گاڑی یہ جا وہ جا، اور اس طرح ان کی گاڑی ان کے دیکھتے دیکھتے چوری ہو گئی۔ وہ ابوبکر اسلامک سنٹر کے دفتر میں آئے اور فون پر پولیس کو اطلاع کرتے ہوئے گاڑی کا نمبر اور اسے لے جانے والوں کا حلیہ، جیسا وہ جلدی میں دیکھ سکے تھے، بتا دیا۔ اس کے بعد وہ دفتر میں نصب حفاظتی ٹی وی کے سامنے آ بیٹھے جو ابوبکر سنٹر کے اردگرد کے ماحول کو واچ کرنے کے لیے حفاظتی نقطہ نظر سے نصب کیا گیا ہے۔

میں اچانک دفتر میں گیا تو انہوں نے بتایا کہ ابھی ان کی گاڑی چوری ہو گئی ہے اور وہ ویڈیو کو ریورس کر کے ان دو گوروں کے چہرے پہچاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ویڈیو پر ایک نظر ڈالی اور طارق صاحب سے ضروری معلومات لیں۔ یہ سارا منظر دیکھ کر میری آنکھوں کے سامنے اپنے ہاں کی پولیس کی کارروائی کا ’’پراسیس‘‘ گھوم گیا کہ اب طارق صاحب پولیس اسٹیشن جائیں گے، ایف آئی آر کٹے گی، طارق صاحب سے لمبا چوڑا انٹرویو ہو گا، ان سے گاڑی مسجد کے مین گیٹ پر کھڑی کرنے بلکہ خریدنے اور چلانے تک کی وجوہات پوچھی جائیں گی، طارق صاحب اور ان کی گاڑی دونوں کا نسب نامہ تیار ہو گا اور اس بات کی اچھی طرح تسلی کر لینے کے بعد کہ گاڑی واقعی چوری ہوئی ہے اور وہ فی الواقع طارق صاحب ہی کی ملکیت تھی اور ان کی معاشرتی حیثیت ایسی ہے کہ اگر ان کی گاڑی برآمد نہ ہوئی تو افسران بالا یا کسی ایم این اے یا وزیر کی طرف سے بازپرس کا خطرہ ہے تو پھر اس کی بازیابی کے لیے پولیس کی باضابطہ کارروائی کا ’’آغاز‘‘ ہو جائے گا۔

مگر میں ابھی اسی ادھیڑبن میں تھا کہ پتہ چلا کہ گاڑی پکڑ لی گئی ہے اور وہ ساؤتھ آل سے دو تین میل کے فاصلے پر ’’ہیز‘‘ کی ایک سڑک پر کھڑی تھی اور اس کے قریب دو گورے بھی مشکوک حالت میں پکڑے گئے ہیں جو غالباً اسے کھڑی کر کے بھاگنے کی کوشش میں تھے۔ یہ سارا کام بیس سے پچیس منٹ کے دوران مکمل ہو گیا۔ پولیس اسٹیشن نے فون پر اطلاع ملتے ہی گاڑی کے نمبر وغیرہ سے وائرلس کے ذریعے اردگرد پولیس اہلکاروں کو خبردار کر دیا تھا اور ان کی عقابی نظروں نے سڑکوں پر بھاگتی گاڑیوں کا جائزہ لینا شروع کر دیا تھا جس کا اندازہ گاڑی چوری کرنے والوں کو بھی ہو گیا اور وہ گاڑی ایک طرف کھڑی کر کے بھاگنے کی فکر میں تھے کہ دھر لیے گئے، اور اس طرح وہ گاڑی جو طارق صاحب کے سامنے چوری ہوئی تھی نصف گھنٹہ گزرنے سے بھی پہلے ان کے سامنے کھڑی تھی۔

پہلے تو مجھے گمان ہوا کہ شاید خواب دیکھ رہا ہوں، لیکن اپنے گردوپیش جیتے جاگتے لوگوں کو حرکت کرتے دیکھ کر اس واقعہ پر یقین کرنا ہی پڑا۔ برطانوی پولیس کی کارکردگی اور مستعدی کے بارے میں جو کچھ سنتے آ رہے تھے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔ پھر اس واقعہ کے حوالہ سے پولیس کی کارکردگی پر تبصرہ کرنے والے دوستوں نے کچھ اور واقعات بھی سنانا شروع کر دیے جو مجھے تو افسانوی ہی لگ رہے تھے، لیکن دوستوں کا کہنا ہے کہ یہ واقعات ان کے سامنے ہوئے ہیں اس لیے تسلیم کیے بغیر کوئی چارہ نظر نہیں آتا۔ ان میں سے دو واقعات قارئین کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔

کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے کہ لندن کے بریکسٹن کے علاقہ میں بم پھٹا جس سے بہت سے افراد زخمی ہوئے اور غالباً چند مارے بھی گئے۔ یہ بم ایک سفید فام نے رکھا تھا جس کا فوٹو موقع واردات کے قریب نصب ایک کیمرے نے محفوظ کر لیا، لیکن وہ اتنا صاف نہیں تھا کہ اس شخص کا حلیہ پوری طرح پہچانا جاتا، چنانچہ وہ فوٹو سرکاری اہتمام کے ساتھ خلائی تحقیقات کے ادارے ’’ناسا‘‘ میں بھجوا کر صاف کرایا گیا جس سے چہرہ کی شناخت آسان ہو گئی اور اس کے بعد تھوڑی ہی دیر میں اسے گرفتار کر لیا گیا۔

اسی طرح دوست بتاتے ہیں کہ چند سال قبل اسٹیو لارنس نامی ایک سیاہ فام قتل ہو گیا۔ جس کے قتل کی تفتیش میں یہ سامنے آیا کہ اسے کسی سفید فام نے ہلاک کیا ہے، مگر پولیس نے کیس کی کارروائی مکمل کرنے میں ڈھیل کر دی جس سے یہ سوال کھڑا ہو گیا کہ پولیس سفید فام قاتل کو بچانے کے لیے نسل پرستانہ کردار اختیار کیے ہوئے ہے۔ پریس میں لے دے ہوئی اور یہ مطالبہ باقاعدہ طور پر پیش ہو گیا کہ پولیس کے نسل پرستانہ کردار کی تحقیقات کرائی جائے۔ چنانچہ تحقیقات کا باب کھل گیا اور کم و بیش دس ماہ تک انکوائری ہوتی رہی جس کے نتیجے میں برطانوی پولیس پر یہ الزام ثابت ہو گیا کہ بحیثیت ادارہ اس کے اجتماعی طرز عمل میں نسلی امتیاز کا رجحان پایا جاتا ہے۔ اس پر پولیس کے چیف کمشنر کو سرعام اس بات کا اعتراف کر کے عوام سے معافی مانگنا پڑی اور اس صورتحال کی اصلاح کے لیے یہ تجویز سامنے لائی گئی کہ رنگدار قوموں کے افراد کو ترغیب دے کر ان کے نوجوانوں کو پولیس میں بھرتی کیا جائے تاکہ توازن قائم ہو۔

اس پر مجھے یاد آیا کہ اسی سال مئی کے آخر میں جب میں لندن میں آیا تو انہی دنوں برطانوی پولیس کے چیف کمشنر نے ساؤتھ آل کی مرکزی جامع مسجد کا دورہ کر کے نوجوانوں کو ترغیب دی تھی کہ وہ پولیس میں بھرتی ہوں۔ اور اس ترغیب کی اثرانگیزی کا عالم یہ ہے کہ خود ہماری ابوبکرؓ مسجد کے امام مولانا ریحان صاحب، جو بنگلہ دیش کے علاقہ سلہٹ سے تعلق رکھتے ہیں اور ڈیوزبری کے تبلیغی مرکز کے مدرسہ سے فارغ التحصیل ہیں، پولیس میں بھرتی ہونے کے لیے باقاعدہ درخواست دے چکے ہیں۔ اس پر کچھ پرجوش نوجوانوں نے یہ سوال کھڑا کر دیا کہ کیا برطانوی پولیس میں بھرتی ہونا شرعاً جائز ہے؟ مجھ سے پوچھا گیا تو میں نے عرض کیا کہ اس کے لیے پہلے ہمیں برطانیہ کی شرعی حیثیت کا تعین کرنا ہوگا۔ اگر یہ ’’دارالحرب‘‘ قرار پاتا ہے تو سرے سے یہاں آ کر رہنا اور اس کے سسٹم کی دی ہوئی مراعات حاصل کرنا بھی جائز نہیں ہو گا بلکہ یہاں سے ہجرت کرنا شرعاً واجب ہو جائے گا۔ اور اگر اس پر ’’دارالحرب‘‘ کا اطلاق نہیں ہوتا تو یہاں رہنے والے مسلمانوں کے حقوق و مفادات کے تحفظ کے لیے مختلف اداروں میں ملازمت اختیار کرنے کی گنجائش شرعاً موجود ہے اور اس سے فائدہ اٹھانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

خیر اس بات سے قطع نظر برطانوی پولیس کی استعداد کار اور کارکردگی کے حوالہ سے پاکستان کی وزارت داخلہ کے متعلقہ حکام اور پولیس کے ذمہ دار افسران سے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ کیا اس سے ہم کوئی سبق حاصل نہیں کر سکتے؟ پولیس اہل کاروں کی ضروریات کی کفالت اور وسائل کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ان کی ذہنی و اخلاقی تربیت اور پیشہ وارانہ تربیت کا معیار بہتر بنانے کے لیے اس سسٹم سے استفادہ کرنے میں کیا حرج ہے؟ اور کیا ہم نے اس بات کی قسم کھا رکھی ہے کہ ہم نے مغربی قوموں کی پیروی صرف شراب، زنا، سود اور جوئے کے شعبوں میں ہی کرنی ہے اور کسی اچھے کام میں ان کے کسی اچھے طرز عمل کو قبول نہیں کرنا؟

درجہ بندی: