دینی مدارس اور آج کے سوالات

(۱۰ اگست ۲۰۰۲ء کو جامعہ اسلامیہ محمودیہ گلشن رحمان سرگودھا کے سالانہ جلسہ تقسیم اسناد سے خطاب)

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ یہ جلسہ ایک دینی درس گاہ کا سالانہ جلسہ ہے، دینی درس گاہ کی چار دیواری میں ہو رہا ہے اور اس کا موضوع بھی ’’عظمت مدارس دینیہ‘‘ تجویز کیا گیا ہے۔ اصل خطاب تو ہمارے مخدوم ومحترم بزرگ حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی دامت برکاتہم کا ہوگا۔ ان سے قبل برادر محترم مولانا اشرف علی کے حکم پر آپ کے سامنے حاضر ہوا ہوں اور دینی مدارس کی عظمت اور ان کی ضرورت واہمیت کے حوالے سے کچھ گزارشات آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہوں گا۔ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ کچھ مقصد کی باتیں کہنے سننے کی توفیق دیں اور دین حق کی جو بات علم میں آئے، سمجھ میں آئے، اللہ تبارک وتعالیٰ اس پر عمل کی توفیق سے بھی نوازیں۔ آمین یا رب العالمین۔

کسی تمہید کے بغیر دینی مدارس کے حوالے سے عام طور پر ذہنوں میں پائے جانے والے تین سوالات کا جائزہ لینا چاہوں گا جو آج کی دنیا میں بہت زیادہ اہمیت اختیار کر چکے ہیں اور یقیناًآپ حضرات کے ذہنوں میں بھی یہ سوال کسی نہ کسی گوشے میں ضرور گھوم رہے ہوں گے۔

پہلا سوال یہ ہے کہ دینی مدارس اپنے نصاب میں جدید علوم کو کیوں شامل نہیں کر رہے؟ انگریزی زبان، سائنس، ٹیکنالوجی اور دیگر جدید علوم کو اپنے نصاب کا حصہ کیوں نہیں بنا رہے؟ انہیں کیا شکایت ہے؟ کیا تکلیف ہے اور اس معاملے میں کیا رکاوٹ ہے؟

دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر دینی مدارس سرکاری انتظامات کے تحت آجائیں اور حکومت ان کو چلانے کی ذمہ داری قبول کر لے تو انہیں کیا اشکال ہے؟ اور وہ اسے قبول کرنے کو کیوں تیار نہیں ہیں؟

تیسرا سوال ہے کہ جس طرح آج کا عالمی نظام اور ورلڈ اسٹیبلشمنٹ اس بات پر تل گئی ہے کہ دینی مدارس کو کنٹرول کیا جائے، ان کے جداگانہ تشخص کو ختم کیا جائے اور معاشرہ میں ان کے آزادانہ کردار کو باقی نہ رہنے دیا جائے تو اگر خدانخواستہ یہ حملہ کام یاب ہو جاتا ہے اور یہ قوتیں دینی مدارس کو ختم کر دیتی ہیں تو دینی تعلیم کا مستقبل کیا ہوگا اور دینی مدارس کے ارباب حل وعقد کا آئندہ لائحہ عمل کیا ہوگا؟

یہ دینی مدارس کے بارے میں آج کی دنیا کے بڑے سوالات ہیں جو یقیناًاہم ہیں اور یقیناًآپ کے ذہنوں میں بھی ہوں گے اس لیے میں تھوڑے سے وقت میں ان کا جائزہ لینا چاہوں گا۔

پہلا سوال یہ ہے کہ دینی مدارس اپنے نصاب میں جدید علوم کو، سائنس کو، ٹیکنالوجی کو اور دیگر ضروریات کو کیوں شامل نہیں کرتے؟ اس کے جواب میں تین باتیں عرض کروں گا۔

پہلی بات یہ کہ حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی تشریف فرما ہیں جو اس امر کے گواہ ہیں کہ دینی مدارس کے تمام مکاتب فکر کے وفاقوں کے قائدین وفاقی وزرا کے ساتھ متعدد ملاقاتوں میں یہ بات واضح کر چکے ہیں کہ انگریزی، سائنس اور ٹیکنالوجی وغیرہ کو بنیادی تعلیم کی جائز حد تک دینی مدارس کے نصاب میں شامل کرنے پر انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے اور وہ میٹرک تک ان مضامین کو نصاب میں شامل کرنے کے لیے نہ صرف تیار ہیں بلکہ اس سلسلے میں بہت سے عملی اقدامات ہو چکے ہیں اور ان مضامین کو دینی مدارس کے نصاب میں شامل کیا جا چکا ہے لیکن اس کی جائز حد میٹرک تک ہے۔

دوسری بات یہ کہ میٹرک کے بعد اگلے مرحلے کی تعلیم میں ہم سائنس اور ٹیکنالوجی کو دینی مدارس کے نصاب میں شامل کرنا ضروری نہیں سمجھتے بلکہ غلط تصور کرتے ہیں اس لیے اس کے لیے ہم تیار نہیں ہیں اس لیے کہ اس کے بعد تعلیم کے دائرے تقسیم ہو جاتے ہیں۔ میں آپ حضرات سے دریافت کرتا ہوں کہ کیا میڈیکل کالج کے نصاب میں قانون پڑھایا جاتا ہے؟ کسی لا کالج میں میڈیکل کے مضامین پڑھائے جاتے ہیں؟ انجینئرنگ کالج میں طب کی تعلیم دی جاتی ہے؟ سرگودھا بڑا شہر ہے۔ یہاں میڈیکل کالج بھی ہوگا، لا کالج بھی ہوگا اور ٹیکنیکل کالج بھی ہوگا۔ آپ خود معلوم کر لیں اور جا کر دیکھیں کہ ان کالجوں میں دوسرے مضامین پڑھائے جاتے ہیں؟ یقیناًنہیں پڑھائے جاتے اور نہیں پڑھائے جا سکتے بلکہ میں یہ عرض کروں گا کہ یہ مطالبہ کرنا کہ میڈیکل کالج میں لا پڑھایا جائے، لا کالج میں انجینئرنگ پڑھائی جائے اور انجینئرنگ کالج میں میڈیسن کی تعلیم دی جائے، فطرت کے خلاف بات ہوگی اور حماقت کی بات ہوگی۔ اسی طرح ہم یہ سمجھتے ہیں کہ دینی مدارس کے نصاب میں میٹرک کے بعد اگلے درجات میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے مضامین شامل کرنے کا مطالبہ بھی حماقت ہے اور کسی طرح بھی قابل قبول نہیں ہے۔

تیسری بات ذرا تلخ سی ہے لیکن عرض کرنا ضروری ہے۔ وہ یہ کہ ایک اور حوالے سے اس مسئلے کا جائزہ لے لیں۔ کچھ عرصہ قبل پنجاب کی مقتدر ترین شخصیت لاہور کے ایک بڑے دینی مدرسے میں تشریف لے گئی۔ گورنر پنجاب جامعہ اشرفیہ میں تشریف لے گئے، طلبہ اور اساتذہ کے سامنے وعظ فرمایا اور وہاں یہ کہا کہ دینی مدارس اپنے نصاب میں سائنس اور ٹیکنالوجی کو کیوں شامل نہیں کرتے؟ ہم اس میدان میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں اور دینی مدارس کو اس سلسلے میں اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے۔ میں نے ایک مضمون میں اس کے جواب میں گورنر صاحب سے عرض کیا کہ مجھے آپ کی اس بات سے سو فی صد اتفاق ہے کہ ہم سائنس اور ٹیکنالوجی میں باقی دنیا سے پیچھے رہ گئے ہیں۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ ہم آج کی سائنس اور آج کی ٹیکنالوجی میں دنیا کی دوسری قوموں سے کم از کم سو برس پیچھے ہیں اور اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ ہم آج اسی بات کی مار کھا رہے ہیں۔

میں اس سے اگلی بات عرض کروں گا کہ اس محرومی کا احساس ہمیں زیادہ ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں پیچھے رہ جانے کی وجہ سے آج ہم دنیا میں اپنے جائز مقام سے محروم ہیں اور ہمارے مصائب وآلام کی ایک بڑی وجہ یہ ہے۔ صرف ایک مثال سے بات سمجھئے کہ اللہ تعالیٰ نے آج سے پون صدی یا ایک صدی قبل ہم مسلمانوں کو بہت بڑی دولت سے نوازا۔ خلیج میں تیل کی دولت دی۔ یہ ہمارا ادبار کا دور تھا، زوال کا دور تھا مگر اس دور میں بھی اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے وقت کی سب سے بڑی دولت عطا فرمائی لیکن ہماری حالت یہ تھی کہ ہم تیل زمین سے نکالنے کی صلاحیت سے محروم تھے، چشمے کھودنے کی تکنیک سے بے بہرہ تھے، تیل نکال کر اسے ریفائن کرنے کی صلاحیت سے ہم کورے تھے اور تیل کو ریفائن کرنے کے بعد دنیا کی مارکیٹ میں بیچنے کے لیے مارکیٹنگ کی صلاحیت بھی ہم میں موجود نہیں تھی جس کی وجہ سے ہم مغربی ماہرین کو بلانے پر مجبور ہوئے۔ مغربی ماہرین آئے، پھر مغربی کمپنیاں آئیں، ان کے بعد بینک آئے، پھر سیاست کار آئے اور ان کے ساتھ مغرب کی فوجیں بھی آ گئیں جو آج تیل کے چشموں کا گھیرا ڈالے بیٹھی ہیں۔

ذرا خیال کیجیے کہ تیل ہمارا، چشمے ہمارے، کنویں ہمارے، زمین ہماری لیکن ان پر قبضہ کس کا ہے؟ اور کس وجہ سے ہے؟ یہ ہماری نااہلی تھی کہ ہم تیل نکالنے، صاف کرنے اور عالمی مارکیٹ میں اسے بیچنے کی صلاحیت سے محروم تھے جس کی وجہ سے مغرب سے ماہرین آئے اور آج ماہرین، کمپنیاں، بینک اور پھر فوجیں خلیج میں تسلط قائم کیے ہوئے ہیں۔ اس سے بڑا ظلم یہ ہے کہ تیل نکالنے، صاف کرنے اور مارکیٹنگ کی صلاحیت آج بھی ہم میں موجود نہیں ہے اور مغرب کے ارادے یہ ہیں کہ ابھی امریکی وزارت دفاع پینٹاگون میں یہ دھمکی دی گئی ہے کہ اگر سعودی عرب نے امریکی احکامات کی من وعن تابع داری نہ کی تو اس کے تیل کے چشموں پر قبضہ کر لیا جائے گا اور مغربی ملکوں میں اس کے اثاثے اور مغربی بینکوں میں اس کے اکاؤنٹس ضبط کر لیے جائیں گے۔

اس لیے ہمیں اس کی تکلیف زیادہ ہے اور ہم اس کا درد زیادہ محسوس کر رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس کی ذمہ داری کس پر ہے؟ اس پر ٹھنڈے دل ودماغ سے غور کرنا چاہیے اور میں ہر اس شخص کو جس کے دل میں انصاف کی ایک رتی بھی موجود ہے اور ضمیر نام کی کوئی چیز وہ اپنے پاس رکھتا ہے، دعوت دیتا ہوں کہ وہ سنجیدگی کے ساتھ اس بات کا جائزہ لے کہ امت کی سائنس اور ٹیکنالوجی میں محرومی کا ذمہ دار کون ہے؟

میں تاریخ کے حوالے سے بات کروں گا۔ جب ۱۸۵۷ء کے بعد انگریز حکمرانوں نے ہمارا پورا نظام تلپٹ کر دیا تھا، دینی مدارس ختم کر دیے تھے، نظام تعلیم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا تھا اور ہر چیز الٹ پلٹ کر رکھ دی تھی تب دو طبقے سامنے آئے تھے اور انہوں نے ملت کو سہارا دیا تھا۔ دونوں نے الگ الگ شعبوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ علماء کرام نے قرآن وسنت کی تعلیم کو باقی رکھنے کی ذمہ داری اپنے سر لی تھی اور اسلامی ثقافت اور تہذیب کے تحفظ کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے عوام سے تعاون کے لیے رجوع کیا، چندے مانگے، گھر گھر دستک دے کر روٹیاں مانگیں، زکوٰۃ وصدقہ کے لیے دست سوال دراز کیا اور سرکاری تعاون سے بے نیاز ہو کر عوامی تعاون کے ساتھ قرآن وسنت کی تعلیم کو باقی رکھنے اور اسلامی تہذیب وثقافت کے آثار کو بچانے کے لیے کردار ادا کیا۔ انہوں نے ایک ایک دروازے پر دستک دی، سر پر چنگیر رکھ کر گھر گھر سے روٹیاں مانگیں، ہاں ہاں میں نے خود روٹیاں مانگی ہیں، اور مجھے اس پر فخر ہے۔ میں نے اپنی طالب علمی کے دور میں گوجرانوالہ کے کئی محلوں میں سر پر چھابہ رکھ کر روٹیاں مانگی ہیں۔ ہم نے اپنی عزت نفس کی پروا نہیں کی، طعنے سنے ہیں، بے عزتی برداشت کی ہے لیکن قرآن وسنت کی تعلیم کو باقی رکھا ہے جس کی گواہی آج دشمن بھی دے رہا ہے۔

اس کے ساتھ ہی ایک اور طبقہ سامنے آیا جس نے قوم کو جدید علوم سے بہرہ ور کرنے کی ذمہ داری قبول کی، سائنس اور ٹیکنالوجی پڑھانے کا وعدہ کیا، انگریزی اور جدید زبانوں کی تعلیم اپنے ذمے لی۔ انہیں اس کام کے لیے ریاستی مشینری کی مکمل پشت پناہی حاصل تھی اور انہوں نے قومی خزانے کے کھربوں روپے خرچ کر ڈالے۔ انہیں سرکاری وسائل میسر تھے، ریاستی پشت پناہی حاصل تھی لیکن وہ قوم کو سائنس اور ٹیکنالوجی میں آج کی قوموں کے برابر نہ لا سکے اور آج اپنی ناکامی کی ذمہ داری مولوی کے سرتھوپ کر اپنی نااہلی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میں آج کی اجتماعی دانش سے سوال کرتا ہوں کہ وہ انصاف سے کام لے اور یہ فیصلہ کرے کہ نااہل کون ثابت ہوا اور اپنی ذمہ داری کس نے پوری نہیں کی؟ آج اگر ملک کے کسی گوشے میں دینی تعلیم کا انتظام نہیں ہے، قرآن وسنت کی راہ نمائی لوگوں کو میسر نہیں ہے اور اسلام کی آواز نہیں لگ رہی تو ہم مجرم ہیں لیکن سائنس اور ٹیکنالوجی میں دوسری قوموں سے پیچھے رہنے کی ذمہ داری ہم پر نہ ڈالیے۔ یہ نا انصافی ہے، اس کے بارے میں ان سے پوچھیے جنہوں نے اس کی ذمہ داری قبول کی تھی اور اس کے لیے سرکاری خزانے کے کھربوں روپے اب تک انہوں نے خرچ کر ڈالے ہیں۔

میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ کیا آپ کو مساجد میں نماز پڑھانے کے لیے امام میسر ہیں؟ قرآن کریم کی تعلیم کے لیے قاری مل رہے ہیں؟ رمضان میں قرآن سنانے کے لیے حافظ مل جاتے ہیں؟ جمعہ پڑھانے کے لیے خطیب موجود ہیں؟ مسئلہ بتانے والے مفتی صاحبان کی کمی تو نہیں؟ دینی راہ نمائی دینے کے لیے علماء کرام سے ملک کا کوئی گوشہ خالی تو نہیں؟ اس سے اگلی بات کہ میدان جنگ میں کفر کے خلاف صف آرا ہونے والے مجاہدین بھی ان مدارس سے آپ کو مل رہے ہیں یا نہیں؟ اگر یہ سب کچھ ہو رہا ہے تو دینی مدارس پر اعتراض کس بات کا ہے؟

حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی آج ہی ایک محفل میں فرما رہے تھے کہ انہوں نے وفاقی وزرا سے کہا کہ سرکاری نصاب تعلیم اور نظام کی اصلاح کی ضرورت ہے۔ میں کہتا ہوں کہ قومی کمیشن قائم کیجیے اور ہمیں اور سرکاری تعلیم کے ذمہ داروں کو اس کے سامنے پیش کیجیے۔ ساری حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی اور دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ اس لیے میں نے اپنے مضمون میں گورنر پنجاب سے عرض کیا تھا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے مجھے آپ کے ارشادات سے سوفی صد اتفاق ہے لیکن اس سلسلے میں باز پرس اور تلقین کی جگہ جامعہ اشرفیہ نہیں بلکہ پنجاب یونیورسٹی ہے۔ وہاں یہ وعظ کیجیے اور ان سے پوچھیے کہ قوم سائنس اور ٹیکنالوجی میں دنیا کی دوسری قوموں سے پیچھے کیوں رہ گئی ہے؟

دوسرا سوال یہ تھا کہ دینی مدراس کو سرکاری انتظام قبول کرنے اور حکومت کے کنٹرول میں آنے پر کیا اعتراض ہے؟ اور وہ دینی مدارس کو حکومتی کنٹرول کے تحت چلانے کے لیے کیوں تیار نہیں ہیں؟

اس کے جواب میں عرض کروں گا کہ کسی فلسفیانہ بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ صرف واقعات کے حوالے سے یہ عرض کرنا کافی ہوگا کہ ہم اس کا تجربہ کر چکے ہیں اور بہت پہلے کر چکے ہیں جس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ صدر محمد ایوب خان مرحوم کے دور میں ریاست بہاول پور پاکستان میں ضم ہوئی تو بہاول پور کا سب سے بڑا دینی مدرسہ جامعہ عباسیہ تھا جس کے بارے میں محکمہ تعلیم کے ذمہ داروں نے منصوبہ بنایا کہ اسے ’’ماڈل اسلامی یونیورسٹی‘‘ بنایا جائے گا۔ دینی علوم اور جدید تعلیم کے مضامین کو یکجا کر کے مشترکہ کورس تشکیل دیا گیا، جامعہ عباسیہ کو اسلامی یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا اور اس کا نظام محکمہ تعلیم نے سنبھال لیا۔اس کے لیے علامہ شمس الحق افغانی، علامہ سید احمد سعید کاظمی، مولانا عبد الرشید نعمانی اور دیگر سرکردہ علماء کرام کو ملک کے مختلف حصوں سے اٹھا کر بہاول پور یونیورسٹی میں بٹھایا گیا اور دنیا کو نوید دی گئی کہ ہم نے اسلامی اور جدید علوم کے امتزاج سے ایک آئیڈیل درس گاہ قائم کر دی ہے، ایک ’’ماڈل دار العلوم‘‘ بنا دیا ہے لیکن بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں اس کا حشر کیا ہوا؟ یہ ایک تلخ داستان ہے اور آج آپ خود دیکھ سکتے ہیں کہ آج بھی اس کا نام ’’اسلامی یونیورسٹی‘‘ ہے مگر دینی تعلیم اس کے نصاب سے خارج ہو چکی ہے۔ وہاں وہی سرکاری نصاب پڑھایا جاتا ہے جو ملک کی دیگر یونیورسٹیوں میں رائج ہے اور اس کے تعلیمی معیار کا حال یہ ہے کہ جس طالب علم کو ملک کے دوسرے کسی کالج یا یونیورسٹی میں داخلہ نہیں ملتا، اس کے لیے بہاول پور اسلامی یونیورسٹی کے دروازے کھلے رہتے ہیں۔

دوسرا تجربہ محکمہ اوقاف نے کیا کہ اس نے ملک کے بیسیوں مدارس اپنی تحویل میں لیے اور کہا کہ ہم تم سے بہتر نظام چلائیں گے۔ تمہارے ہاں تعلیم کی درجہ بندی نہیں ہے، مدارس میں صفائی نہیں ہے، رہائش اور خوراک کا نظام بہتر نہیں ہے اور نظم ونسق کی صورت حال ٹھیک نہیں اس لیے محکمہ اوقاف ان مدارس کا تم سے بہتر انتظام کرے گا۔ ان میں سے صرف ایک مدرسہ کا حوالہ دینا چاہوں گا جسے آپ خود بھی کسی وقت جاکر دیکھ سکتے ہیں۔ اوکاڑہ کے گول چوک میں جامعہ عثمانیہ محکمہ اوقاف کی تحویل میں آنے سے قبل ملک کے بڑے دینی مدارس میں شمار ہوتا تھا۔ سینکڑوں طالب علم ہاسٹل میں رہتے تھے اور معیاری تعلیم ہوتی تھی مگر آج اس مدرسہ کے کمرے محکمہ اوقاف نے تجارتی کمپنیوں اور وکلا کو کرایے پر دے رکھے ہیں اور وقف کمروں کا کرایہ محکمہ اوقاف کھا رہا ہے۔

ایک مدرسہ کا حشر محکمہ تعلیم نے کیا، دوسرے کا محکمہ اوقاف نے اور آج یہ دونوں محکمے تقاضا کر رہے ہیں کہ ملک کے باقی مدارس بھی ان کے کنٹرول میں دے دیے جائیں۔ میں عرض کرتا ہوں کہ جناب! مومن ایک سوراخ سے دوبار نہیں ڈسا جاتا اس لیے دوسرا تجربہ کرنے کے لیے ہم تیار نہیں ہیں۔ میرا سوال وفاقی وزیر تعلیم محترمہ زبیدہ جلال صاحبہ سے ہے کہ وہ جامعہ اسلامیہ بہاول پور کی فائل کا مطالعہ کریں۔ اس فائل کی گرد جھاڑیں اور قوم کو بتائیں کہ اس اچھی خاصی دینی درس گاہ کا محکمہ تعلیم نے کیا حشر کیا ہے اور کیوں کیا ہے؟ اس کے بعد باقی مدارس کے حوالے سے بات کریں۔

تیسرا سوال میں نے گفتگو کے آغاز میں اٹھایا تھا کہ آج کی اسٹیبلشمنٹ دینی مدارس کو کنٹرول میں لینے پر تلی بیٹھی ہے۔ میں ملک کی اسٹیبلشمنٹ کی بات نہیں کر رہا کہ وہ تو ایک چھوٹا سا یونٹ ہے بلکہ ورلڈ اسٹیبلشمنٹ کی بات کر رہا ہوں جو آج عملاً دنیا کے نظام کو کنٹرول کر رہی ہے۔ اگر خدا نخواستہ وہ اپنے مقصد میں کام یاب ہو جاتی ہے اور دینی مدارس کے نظام کو تہہ وبالا کر دیتی ہے تو دینی تعلیم کا مستقبل کیا ہوگا؟ اور دینی مدارس والے پھر کیا کریں گے؟

اس کے جواب میں ایک تو سادہ سی بات ہے کہ جناب! منہ دھو رکھو۔ یہ کام آپ سے نہیں ہوگا۔ یہ آپ کے بس کی بات نہیں ہے۔ آج کے ورلڈ سسٹم کا لیڈر امریکہ بم بر سا سکتا ہے‘ ہزاروں انسانوں کو بے گناہ قتل کر سکتا ہے اور ڈیزی کٹر کی بارش کر سکتا ہے لیکن دینی تعلیم کو ختم کرنا اس کے بس میں نہیں ہے لیکن میں تاریخی حقائق کے حوالے سے بات کروں گا کہ اس سے پہلے بھی ایسا نہیں ہو سکا اور اب بھی ایسا ہونا ممکن نہیں ہے۔

ابھی حال ہی میں امریکہ کے وزیر خارجہ کولن پاول پاکستان آئے اور دورہ سے قبل وہیں سے یہ اعلان کر کے آئے کہ میں پاکستان کے معاشرے کو سیکولر بنانے کے ایجنڈے پر بات کرنے پاکستان جا رہا ہوں۔ میں نے ایک مضمون میں ان سے گزارش کی کہ جناب اس پر اپنا وقت ضائع نہ کریں۔ اب سے دو سو برس پہلے برطانیہ بھی اس ایجنڈے پر جنوبی ایشیا میں آیا تھا۔ اس نے بھی مدارس کو بند کر دیا تھا‘ مدارس کی جائیدادیں ضبط کر لی تھیں‘ بلڈنگوں پر قبضہ کر لیا تھا‘ علماء کرام کی بڑی تعداد کو شہید کر دیا تھا‘ ہزاروں کو جیلوں میں ڈال دیا تھا‘ بہت سے علما کو کالا پانی بھیج دیا تھا‘ توپ کے منہ پر باندھ کر علما کے پرخچے اڑا دیے تھے‘ زندہ انسانوں کو درختوں سے لٹکا کر زندہ حالت میں ان کی کھالیں کھینچ لی تھیں۔ وہ تم سے بڑا درندہ تھا‘ تم سے بڑا بھیڑیا تھا‘ اس نے دو صدیوں تک اپنا پورا زور صرف کیا کہ جنوبی ایشیا کے مسلم معاشرے کو سیکولر بنا دے۔ ہاں‘ دو صدیاں‘ پوری دو صدیاں۔ ۱۷۵۷ء میں سراج الدولہ شہیدؒ کی شکست کے بعد سے ۱۹۴۷ء میں قیام پاکستان تک ایک سو نوے سال بنتے ہیں جن میں برطانوی حکومت نے پورا زور لگا دیا‘ جیلیں آباد کیں‘ پھانسی کے پھندوں پر لٹکایا اور ظلم وجبر کا ہر حربہ آزمایا مگر میں سوال کرتا ہوں کہ کیا ان کارروائیوں سے ہم ختم ہو گئے؟ نہیں‘ ہم آج بھی موجود ہیں‘ زندہ ہیں اور نہ صرف زندہ ہیں بلکہ تمہارے سامنے کھڑے ہیں۔ یہ مدارس کل بھی زندہ تھے‘ آج بھی زندہ ہیں اور قیامت تک زندہ رہیں گے۔ تم جو چاہو کر لو‘ ان مدارس کے آزادانہ کردار کو ختم نہیں کر سکتے اس لیے کہ ان مدارس میں قرآن وسنت کی تعلیم ہوتی ہے جس کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے خود اٹھائی ہے اس لیے ہمارا ایمان ہے اور تاریخ وتجربہ اس پر گواہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم کی حفاظت بھی قیامت تک فرمائیں گے اور اس کی حفاظت کے ذرائع واسباب کی بھی حفاظت فرمائیں گے۔ اس لیے ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہے۔ آزمائش آئے گی‘ مشکل حالات پیدا ہوں گے اور جس طرح پہلے وقت گزر گیا ہے‘ اب بھی گزر جائے گا۔ قرآن وسنت کی تعلیم کا یہ نظام کل بھی تمام تر جبر وتشدد کے باوجود زندہ رہا ہے اور اب بھی ظلم وجبر کا کوئی وار دینی تعلیم کے اس تسلسل کو ختم کرنے میں کام یاب نہیں ہوگا۔

میں نے وقت زیادہ لے لیا ہے۔ حضرت مفتی صاحب نے ابھی خطاب کرنا ہے اس لیے میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
تاریخ اشاعت: 
ستمبر ۲۰۰۲ء