سالانہ تعطیلات ۱۴۳۸ھ کا آخری سفر

سالانہ تعطیلات مکمل ہونے کے بعد بحمد اللہ تعالیٰ ۲۰ شوال المکرم کو جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں اسباق کا آغاز ہوگیا ہے۔ چھٹیوں کے آخری چند ایام مسلسل سفر میں گزرے، ۱۰ جولائی کو مولانا قاری جمیل الرحمان اختر، مولانا قاری عبید اللہ عامر اور حافظ محمد زبیر جمیل کے ہمراہ صبح نماز فجر کے بعد گوجرانوالہ سے روانگی ہوئی۔ لالہ موسیٰ کہ قریب گنجہ موڑ کے مدرسہ قاسمیہ میں ہلکا پھلکا ناشتہ کیا، اس مدرسہ میں ہمارے ایک عزیز دوست قاری محمد سمیع اللہ قرآن کریم کی تعلیم دیتے ہیں اور آتے جاتے عام طور پر میرا وہاں مختصر سا قیام ہوتا ہے۔ وہاں سے ماڈل ٹاؤن ہمک اسلام آباد پہنچے اور مولانا ثناء اللہ غالب کے ہاں ایک بار پھر ناشتہ کرنا پڑا جس میں مولانا حافظ سید علی محی الدین بھی شریک تھے۔

اسلام آباد سے پلندری آزاد کشمیر جانا ہوا۔ جمعیۃ علماء اسلام آزاد جموں و کشمیر کے امیر مولانا سعید یوسف خان کے فرزند عزیزم حماد سعید سلمہ کے ولیمہ میں شرکت کا وعدہ کر رکھا تھا۔ ولیمہ کیا تھا سرکردہ علماء کرام، سیاسی زعماء اور اعلیٰ حکام کا بھرپور اجتماع تھا۔ مولانا عبد الغفور حیدری اور جناب محمد اکرم درانی کے ہمراہ مولانا فضل الرحمان رونق افروز تھے اور جنرل (ر) محمد عزیز بھی تشریف فرما تھے، جبکہ آزاد کشمیر کے علماء کرام کی بڑی تعداد موجود تھی۔ ولیمہ کے بعد جمعیۃ علماء اسلام آزاد کشمیر کے راہنما مولانا امتیاز عباسی کے ہمراہ مغرب تک دھیر کوٹ پہنچے، رات مدرسہ انوار العلوم میں قیام کیا، مولانا سلیم اعجاز نے دوستوں کا اکٹھ رکھا ہوا تھا جس میں دینی مدارس کے تعلیمی سال کے آغاز کے حوالہ سے گفتگو ہوئی۔ ۱۱ جولائی کو جگلڑی حاضری ہوئی، علاقہ کے علماء خاصی تعداد میں جمع تھے جن کے سامنے مولانا قاری جمیل الرحمان اختر اور میں نے عصر حاضر کے بعض دینی تقاضوں کے حوالہ سے گفتگو کی۔

وہاں سے ہم مری کی طرف روانہ ہوگئے، رات کا قیام سنی بینک میں مولانا محمد قاسم عباسی کے ہاں تھا، اگلے روز صبح مولانا جمیل الرحمان اختر اور قاری عبید اللہ عامر کا قافلہ ایبٹ آباد کی طرف نکل گیا اور میں مولانا قاسم عباسی کے ساتھ اسلام آباد آگیا۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے خطیب مولانا احمد الرحمان کے ساتھ ان کے علاقہ جنڈ جانے کا وعدہ تھا، ظہر کی نماز ہم نے ملہو والی میں پڑھی جو حضرت مولانا گل شیر شہیدؒ اور حضرت مولانا نور محمدؒ کے حوالہ سے دینی حلقوں میں ایک تعلیمی اور تحریکی مرکز کے طور پر تاریخی شہرت رکھتا ہے۔ شیعہ راہنما علامہ ساجد نقوی اسی قصبہ سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کا وہاں تعلیمی مرکز بھی ہے۔ مجھے جماعت اسلامی کے حلقہ کے ایک دینی مدرسہ میں ’’وحدت امت کے تقاضوں‘‘ پر گفتگو کرنا تھی۔ اس علاقہ کی مسلکی فضا کے پیش نظر میں وحدت امت پر گفتگو کے لیے تمہید سوچ رہا تھا کہ جس مسجد میں پروگرام تھا اس میں داخل ہوتے ہوئے نظر گیٹ پر لکھے ہوئے ’’مسجد ذوالنورین‘‘ پر پڑ گئی اور مجھے عنوان مل گیا۔

میں نے گزارشات کا آغاز اس سے کیا کہ امیر المومنین حضرت عثمان ذوالنورینؓ کی حیات مبارکہ کا آخری سبق یہ ہے کہ انہوں نے باغیوں اور فسادیوں کا یہ مطالبہ ماننے سے انکار کر دیا کہ وہ خلافت سے دست بردار ہو جائیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی تمام تر حکومتی و عسکری قوت اور اس کے استعمال کا حق رکھنے کے باوجود صرف اس وجہ سے ان کے خلاف ہتھیار نہیں اٹھائے کہ وہ کسی کلمہ گو کے خون کی ذمہ داری اپنے سر نہیں لینا چاہتے تھے۔ حتیٰ کہ اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیا اور شہادت قبول کرتے ہوئے بھی ان کلمہ گو فسادیوں کے خلاف ہتھیار نہیں اٹھائے۔ جبکہ ان کے جانشین امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا بطور خلیفہ پہلے فیصلہ یہ تھا کہ انہوں نے حرم مدینہ کو باہمی خونریزی سے محفوظ رکھنے کے لیے دارالخلافہ تبدیل کیا اور مدینہ منورہ سے اپنی حکومت کا مرکز کوفہ میں منتقل کر لیا۔ میرے خیال میں ان دونوں بزرگوں کی طرف نسبت کا دعویٰ کرنے والوں کے لیے وحدت امت اور حرمین شریفین کے تقدس و احترام کے حوالہ سے یہ بہت بڑا سبق ہے۔

مغرب کے بعد پنڈی گھیپ اور جھمٹ کے مراکز میں حاضری ہوئی، مولانا احمد الرحمان اس علاقہ سے تعلق رکھتے ہیں، انہی مراکز میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے دورۂ حدیث جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں کیا اور ایک عرصہ سے پارلیمنٹ ہاؤس کی مسجد میں خطابت و امامت کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ ان سے مل کر حکومتی حلقوں کے ’’ملاء اعلیٰ‘‘ کے بارے میں بہت سی مفید معلومات حاصل ہو جاتی ہیں۔ چند روز قبل وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے پاکستان کی نظریاتی اسلامی شناخت اور سیکولرازم کے بارے میں کچھ واضح بیانات دیے تو ان کے خاندانی پس منظر کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی خواہش ہوئی کہ اس طرح کی دوٹوک بات خاندانی طور پر دینی پس منظر رکھنے والے حضرات ہی کر سکتے ہیں۔ مولانا احمد الرحمان اور ٹیکسلا کے محترم صلاح الدین فاروقی سے یہ معلوم کر کے اطمینان ہوا کہ چودھری نثار علی خان ملک کے معروف علمی اشاعتی ادارہ ’’فیروز سنز‘‘ کے بانی مولانا فیروز الدین مرحوم کے تعلق داروں میں سے ہیں۔ مولوی فیروز دینؒ صاحب علم او رباذوق بزرگ تھے، شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ سے قریبی تعلق تھا، حضرت لاہوریؒ کی سوانح پر معروف کتاب ’’مرد مومن‘‘ مولوی فیروز الدین صاحب مرحوم کے فرزند عبد الحمید خان مرحوم کی تحریر کردہ ہے جو شیرانوالہ لاہور کے حلقوں میں خاصی مقبول ہے۔ جبکہ چودھری نثار علی خان پہلی بار سیاست کے میدان میں آئے تو ان کے انتخابی سپورٹروں میں مولانا قاری سعید الرحمانؒ، مولانا محمد عبد اللہ شہیدؒ اور مولانا عبد الستار توحیدیؒ بھی ایک مرحلہ میں شامل تھے۔ یہ باتیں معلوم کر کے اطمینان ہوا کہ پاکستان کی اسلامی شناخت کے ساتھ ساتھ اسلامی تہذیب و ثقافت کے تحفظ اور سیکولر یلغار کے مقابلہ کی جو باتیں چودھری نثار علی خان کی طرف سے سامنے آتی رہتی ہیں وہ محض رسمی اور ڈپلومیٹک نہیں ہیں بلکہ ان کا دینی خاندانی پس منظر اس حوالہ سے ان کی پشت پر ہے اور قومی سیاست میں ایسے راہنماؤں کا وجود بسا غنیمت ہے۔

رات ٹیکسلا میں برادرم صلاح الدین فاروقی کے ہاں قیام کیا، ۱۳ جولائی کو مرکز حافظ الحدیث درخواستیؒ حسن ابدال میں پاکستان شریعت کونسل کی مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس تھا جس میں شرکت کے بعد مولانا قاری جمیل الرحمان اختر اور مولانا قاری عبید اللہ عامر کے ہمراہ گوجرانوالہ کی طرف واپسی ہوئی۔ مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس کی رپورٹ اگلے کالم میں پیش کی جائے گی، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
تاریخ اشاعت: 
۱۸ جولائی ۲۰۱۷ء