صدر محمد داؤد کا کامیاب دورہ / نوائے وقت اور اسلامی جمہوریہ / گھر بیٹھے تنخواہ / موت ہی موت

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۷ مارچ ۱۹۷۸ء

ہمارے برادر ہمسایہ ملک افغانستان کے سربراہ سردار محمد داؤد پاکستان کا چار روزہ دورہ مکمل کر کے اپنے وطن واپس روانہ ہوگئے ہیں۔ افغان سربراہ کا پاکستان میں جس گرمجوشی اور محبت کے ساتھ خیر مقدم ہوا ہے اس سے ان عناصر کو بہت دکھ ہوا ہوگا جو ایک طویل عرصہ سے ان دو عظیم برادر ملکوں کے درمیان برادرانہ تعلقات کو پھلتا پھولتا نہیں دیکھنا چاہتے، اور جنہوں نے قیام پاکستان کے بعد تیس برس تک ان تعلقات میں رخنے ڈالنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ دراصل ہماری بدقسمتی سے پاکستان بننے کے فورًا بعد وزارت خارجہ کا قلمدان سر ظفر اللہ خان کے سپرد ہوا جن کے پیشوا مرزا غلام احمد قادیانی کے قاصدوں کو غیور افغان حکمران کیفر کردار تک پہنچا چکے تھے اور اس کی یاد ظفر اللہ خان اور ان کے رفقاء کے دلوں میں بھڑک رہی تھی۔اس لیے افغانستان کے ساتھ تعلقات کا آغاز ہی غلط ہاتھوں سے ہوا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ

خشت اول چوں نہد معمار کج
تاثر یا می رود دیوار کج

کے مصداق پاکستان اور افغانستان کے باہمی تعلقات میں بھارئی چارے اور بے تکلفی کا وہ رنگ پیدا نہ ہو سکا جو دو پڑوسی اور مسلمان ملکوں کے تعلقات میں ہونا چاہیے۔ مفاد پرست لوگوں نے دونوں ملکوں کے درمیان غلط فہمیوں کی دیوار کھڑی کر دی اور اسے بلند سے بلند تر کر دینے کی مساعی جاری رہیں۔ عبوری حکومت کے سربراہ جنرل محمد ضیاء الحق مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے خارجہ پالیسی کی گھسی پٹی لائنوں پر چلنے کی بجائے افغانستان کے ساتھ تعلقات کو حقیقت پسندی کی نگاہ سے دیکھا جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج دونوں ملکوں کے سربراہ بھائیوں کی طرح مل بیٹھ کر اپنے تعلقات اور تنازعات پر گفت و شنید کر رہے ہیں اور یہ امید ہو چلی ہے کہ غلط فہمیوں کی مصنوعی دیوار رفتہ رفتہ اپنے منطقی انجام کو پہنچ رہی ہے۔

افغانستان صرف ہمارا پڑوسی اور مسلمان ملک ہی نہیں بلکہ مذہب کے ساتھ والہانہ محبت اور ناموس رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر کٹ مرنے کے مثالی جذبہ میں بھی وہ اپنے پاکستانی بھائیوں کے ساتھ شریک ہے۔ اس لیے باہمی تعلقات کے باب میں اس مثبت پیش رفت پر ہر پاکستانی نے اطمینان کا سانس لیا ہے اور اپنے دل میں مسرت کی لہر محسوس کی ہے۔ اللہ تعالیٰ راہ محبت کے ان دو راہروؤں کو نظر بد سے بچائے، آمین یا رب العالمین۔

’’نوائے وقت‘‘ اور ’’اسلامی جمہوریہ‘‘

لاہور کے مؤقر ہفت روزہ ’’اسلامی جمہوریہ‘‘ میں شائع ہونے والی ایک ہندو مصنف ایم او متھائی کی کتاب آج کل صحافتی حلقوں میں زیربحث ہے جس میں مولانا ابوالکلام آزادؒ پر شراب نوشی اور شراب کے نشے میں ’’انڈیا ونز فریڈم‘‘ لکھنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ مولانا ابوالکلام آزادؒ کے کردار کے بارے میں کوئی منفی بات کہی گئی ہے ورنہ اس سے قبل مولانا آزادؒ کے سیاسی نظریات و افکار اور طرزعمل سے شدید ترین اختلاف رکھنے والوں نے بھی ان کی علم و ذہانت او پختگی کردار کا اعتراف کیا ہے۔ مولانا آزادؒ نہ تو فرشتہ ہیں اور نہ نبی کہ انہیں انسانی کمزوریوں سے مبرا اور معصوم قرار دے دیا جائے۔ ایک انسان کی حیثیت سے بلاشبہ وہ بھی اپنے دامن میں فطری کمزوریوں اور کوتاہیوں کو سمیٹے ہوئے تھے مگر ان کی بے پناہ خوبیوں نے کمزوریوں کو ڈھانپ رکھا تھا اور وہ کمزوریاں ایسی نہیں تھیں جو ان کی خوبیوں کا چہرہ داغدار کر سکیں۔ مولانا آزادؒ نے اپنی زندگی اسی معاشرہ میں گزاری ہے اور کسی خلوت کدے میں نہیں رہے، بلکہ ہزاروں لاکھوں لوگوں نے انہیں اٹھتے بیٹھتے، کھاتے پیتے، چلتے پھرتے اور زندگی کے معمولات ادا کرتے دیکھا ہے۔ ان میں سے کسی نے بھی انہیں جام و سبو سے کھیلتے اور نشہ سے لڑکھڑاتے نہیں دیکھا۔ پھر ایم او متھائی نے اپنی کتاب میں مولانا آزادؒ کے عزم و استقلال اور کردار کی مضبوطی کا جو نقشہ کھینچا ہے وہ خود متھائی کے الزام کی تردید کرتا ہے۔ متھائی کا کہنا ہے کہ:

  1. مولانا آزادؒ کابینہ کے واحد وزیر تھے جو نہرو کی ہر بات نہیں مانتے تھے،
  2. اسرائیل کو تسلیم کرنے سے نہرو کو مولانا آزادؒ ہی نے باز رکھا اور عربوں کے ساتھ برادرانہ تعلقات کی نیو رکھی،
  3. ان کی کوشش ہمیشہ زیادہ سے زیادہ نشستوں سے مسلمانوں کو کامیاب کرانے کی رہتی۔

متھائی کے ان اعتراضات کو سامنے رکھ کر اسی کسوٹی پر شراب نوشی کے الزام کو پرکھ لیجئے کہ ہندو وزیراعظم سے ہندو اکثریت والی کابینہ میں اپنے فیصلے تسلیم کروانے والا شخص شراب نوشی میں کس طرح دھت رہتا ہوگا کہ شراب تو عزم و کردار کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔ بہرحال کروڑوں انسانوں، اپنوں اور پرایوں میں کھلی کتاب کی طرح زندگی گزارنے والے اس عظیم المرتبت امام کے بارے میں ایک اور صرف ایک متھائی کی شہادت ناقابل قبول ہے جسے عقل و نقل کا کوئی معیار اور کوئی کسوٹی قبول کرنے کو تیار نہیں۔

اس ضمن میں ہم اپنے معاصر اہل قلم کے ردعمل کے بالکل برعکس ’’اسلامی جمہوریہ‘‘ کے ایڈیٹر جناب مجیب الرحمان شامی کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے امام الہند مولانا ابوالکلام آزادؒ کی عظمتِ کردار اور عزم و استقامت کے بار بار تذکرہ کے لیے ایک اور بہانہ فراہم کر دیا کہ

یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے

اس کے ساتھ ہی ہم معاصر روزنامہ نوائے وقت کا ذکر بھی مناسب سمجھتے ہیں کہ اس نے پاکستان کے حامیوں اور مخالفوں کے درمیان تفریق کو قائم رکھنے کی قسم کھا رکھی ہے۔ پاکستان بن گیا، اس کے بنانے والی نسل اپنی ذمہ داریاں دوسری نسل کے سپرد کرنے میں مصروف ہے اور مخالفت کرنے والے بھی اب دنیا میں خال خال موجود رہ گئے ہیں۔ نئی نسل ماضی کے حامیوں اور مخالفوں سے بے نیاز ہو کر مشترک طور پر اپنی منزل کی طرف بڑھ رہی ہے مگر نوائے وقت ہے کہ اس کا کام تیس سال پہلی تفریق کو زندہ رکھنے اور نئی نسل میں اس کے جراثیم چھوڑنے کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔

نوائے وقت کو ایک قومی اور آزاد اخبار ہونے کا دعویٰ ہے مگر اسے یہ علم نہیں کہ قومی اخبار کا کام گڑے مردوں کو اکھاڑنا اور ماضی کی تلخیوں کو کریدنا نہیں ہوتا بلکہ معاشرہ میں اس کی ذمہ داری تلخیوں اور نفرتوں کو لپیٹ کر قومی وحدت اور یکجہتی کو فروغ دینا ہوتی ہے۔ مگر یوں محسوس ہوتا ہے کہ نوائے وقت میں ایک اچھا خاصا عنصر افتراق انگیزی اور نفرت کو ہی ’’نور بصیرت‘‘ قرار دیے ہوئے ہے۔

ابھی حال ہی میں نوائے وقت کے صفحات پر شیخ العرب والعجم حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی نور اللہ مرقدہ کے ایک مقالہ ’’متحدہ قومیت اور اسلام‘‘ کا جواب قسط وار شائع ہوا ہے جو چوہدری غلام احمد پرویز کے معروف جریدہ ’’طلوع اسلام‘‘ کے کسی سابق قلمکار نے تحریر کیا ہے۔ اگر اس جواب کی اشاعت کا مقصد علمی تحقیق ہے تو دیانت داری کا تقاضہ یہ تھا کہ جواب شائع کرنے سے پہلے اصل مقالہ انہی صفحات پر شائع کیا جاتا تاکہ اہل علم دونوں کو سامنے رکھ کر موازنہ کر سکتے۔ مگر یہاں تو مقصد ہی کچھ اور ہے۔ اور اس ’’کچھ اور‘‘ کے لیے نوائے وقت نے اپنے تمام تر وسائل وقف کر رکھے ہیں۔

ہم نوائے وقت کے کارپردازان سے صرف یہ گزارش کریں گے کہ اگر وہ نوائے وقت کو واقعی ایک قومی اور آزاد اخبار سمجھتے ہیں تو پھر نئی نسل کو ماضی کی تلخیوں میں دھکیلنے کی بجائے اسے باہمی رواداری اور قومی جذبے کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے دیں بلکہ اس کی حوصلہ افزائی اور رہنمائی کریں کہ قومی اور آزاد اخباروں کا یہی شیوہ ہوتا ہے۔

گھر بیٹھے تنخواہ

ایک اخباری اطلاع کے مطابق میلسی ضلع وہاڑی کے نواحی گاؤں چھتانی کی دو استانیاں جو ان ٹرینڈ ہیں کسی ڈیوٹی کے بغیر کافی عرصہ سے گھر بیٹھے تنخواہ وصول کر رہی ہیں، اور اب محکمہ نے لوگوں کی شکایت پر انکوائری شروع کی ہے۔

واللہ اعلم یہ خبر کہاں تک مبنی برحقیقت ہے مگر گزشتہ ’’عوامی دور‘‘ میں اکثر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ حکمران پارٹی نے اپنے ورکروں کو ’’از راہِ شفقت‘‘ کسی ڈیوٹی کے بغیر مختلف محکموں (زیادہ تر محکمہ تعلیم) میں کھپا رکھا تھا جو تنخواہ سرکاری خزانے سے وصول کرتے اور کام شب و روز پارٹی کا کرتے رہے۔ ممکن ہے مذکورہ بالا خبر کا پس منظر بھی یہی ہو اور اگر وسیع پیمانے پر تحقیقات کی جائیں تو ہر ضلع میں اس قسم کی درجنوں مثالیں دیکھنے میں آئیں گی۔

اس لیے ہم عبوری حکومت سے گزارش کرتے ہیں کہ عمومی احتساب کے دوران زندگی کے مختلف شعبوں اور متعدد قومی اداروں میں بھٹو حکومت کی بدعنوانیوں اور دھاندلیوں کی انکوائری کے ساتھ ساتھ مسئلہ کے اس رخ پر بھی غور کیا جائے اور مناسب چھان بین کے بعد گھر بیٹھے تنخواہ وصول کرنے والے کارکنوں کو نہ صرف برخواست کر دیا جائے بلکہ انہیں اس مقام تک پہنچانے والوں کے خلاف بھی سرکاری خزانہ کو ضائع کرنے کے سلسلہ میں مؤثر کارروائی کی جائے۔

موت ہی موت

روزانہ اخبارات کو اٹھائیں تو آپ کو موت ہی موت کی خبریں نظر آئیں گی۔ گاڑیوں کی ٹکریں، ٹرک بس کی ٹکر، کار ٹرک کی ٹکر، ریل بس کی ٹکر، الغرض ٹکر ہی ٹکر۔ آدمی مرتے ہیں زخمی ہوتے ہیں، کسی کا بازو کٹتا ہے، کسی کی ٹانگ کٹتی ہے، بہرحال مرنے والوں کے علاوہ زندہ رہنے والے بھی مر ہی جاتے ہیں۔ اس سلسلہ کا سنگین حادثہ حال ہی میں شاہدرہ میں پیش آیا، ریل کار بس سے ٹکرائی اور جو ہوا اس کو عوام نے دیکھ لیا سن لیا۔ زوال پذیر معاشرہ کے ٹیکسی اور رکشا ڈرائیوروں نے زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے کے لیے منہ مانگے دام وصول کیے اور بعض بدبختوں نے کراہتے اور سسکتے لوگوں کی جیبوں سے رقمیں نکالیں۔

ہم اس اور باقی حوادث میں مرنے والوں کے لیے رنجیدہ خاطر ہیں۔ رب العزت کے حضور دعا گو ہیں کہ وہ انہیں اپنی رحمتوں سے نوازے اور ان کے درجات بلند کرے۔ نیز زخمیوں کی صحت کے لیے دعا گو ہیں کہ اللہ انہیں جلد از جلد شفا دے۔ رہ گیا مسئلہ مجرموں کا تو محض ریلوے پھاٹک اور بس ڈرائیور تک مسئلہ محدود نہ رہنا چاہیے بلکہ اصل اسباب کی تہہ تک جا کر ان کے ذمہ دار عناصر کو کڑی سزا ملنی چاہیے۔