افغان صدر محمد داؤد کا دورۂ پاکستان

ہمارے برادر ہمسایہ ملک افغانستان کے سربراہ سردار محمد داؤد پاکستان کا چار روزہ دورہ مکمل کر کے اپنے وطن واپس روانہ ہوگئے ہیں۔ افغان سربراہ کا پاکستان میں جس گرمجوشی اور محبت کے ساتھ خیر مقدم ہوا ہے اس سے ان عناصر کو بہت دکھ ہوا ہوگا جو ایک طویل عرصہ سے ان دو عظیم برادر ملکوں کے درمیان برادرانہ تعلقات کو پھلتا پھولتا نہیں دیکھنا چاہتے، اور جنہوں نے قیام پاکستان کے بعد تیس برس تک ان تعلقات میں رخنے ڈالنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ دراصل ہماری بدقسمتی سے پاکستان بننے کے فورًا بعد وزارت خارجہ کا قلمدان سر ظفر اللہ خان کے سپرد ہوا جن کے پیشوا مرزا غلام احمد قادیانی کے قاصدوں کو غیور افغان حکمران کیفر کردار تک پہنچا چکے تھے اور اس کی یاد ظفر اللہ خان اور ان کے رفقاء کے دلوں میں بھڑک رہی تھی۔اس لیے افغانستان کے ساتھ تعلقات کا آغاز ہی غلط ہاتھوں سے ہوا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ

خشت اول چوں نہد معمار کج
تاثر یا می رود دیوار کج

کے مصداق پاکستان اور افغانستان کے باہمی تعلقات میں بھارئی چارے اور بے تکلفی کا وہ رنگ پیدا نہ ہو سکا جو دو پڑوسی اور مسلمان ملکوں کے تعلقات میں ہونا چاہیے۔ مفاد پرست لوگوں نے دونوں ملکوں کے درمیان غلط فہمیوں کی دیوار کھڑی کر دی اور اسے بلند سے بلند تر کر دینے کی مساعی جاری رہیں۔ عبوری حکومت کے سربراہ جنرل محمد ضیاء الحق مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے خارجہ پالیسی کی گھسی پٹی لائنوں پر چلنے کی بجائے افغانستان کے ساتھ تعلقات کو حقیقت پسندی کی نگاہ سے دیکھا جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج دونوں ملکوں کے سربراہ بھائیوں کی طرح مل بیٹھ کر اپنے تعلقات اور تنازعات پر گفت و شنید کر رہے ہیں اور یہ امید ہو چلی ہے کہ غلط فہمیوں کی مصنوعی دیوار رفتہ رفتہ اپنے منطقی انجام کو پہنچ رہی ہے۔
افغانستان صرف ہمارا پڑوسی اور مسلمان ملک ہی نہیں بلکہ مذہب کے ساتھ والہانہ محبت اور ناموس رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر کٹ مرنے کے مثالی جذبہ میں بھی وہ اپنے پاکستانی بھائیوں کے ساتھ شریک ہے۔ اس لیے باہمی تعلقات کے باب میں اس مثبت پیش رفت پر ہر پاکستانی نے اطمینان کا سانس لیا ہے اور اپنے دل میں مسرت کی لہر محسوس کی ہے۔ اللہ تعالیٰ راہ محبت کے ان دو راہروؤں کو نظر بد سے بچائے، آمین یا رب العالمین۔

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
تاریخ اشاعت: 
۱۷ مارچ ۱۹۷۸ء
درجہ بندی: