مولانا محمد اعظم طارق کی نظر بندی

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۱ جولائی ۲۰۰۲ء

انسدادِ دہشت گردی کی عدالت سے مولانا محمد اعظم طارق کی ضمانت منظور ہوجانے کے باوجود انہیں حکومت پنجاب نے مزید تین ماہ کے لیے نظربندی کے عنوان سے زیرحراست رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ این این آئی کی ایک رپورٹ کے مطابق مولانا محمد اعظم طارق کو حکومتی حلقوں کی طرف سے یہ پیشکش کی گئی ہے کہ اگر وہ جلاوطنی قبول کر لیں تو انہیں رہا کیا جا سکتا ہے ورنہ حکومت اس بات پر مجبور ہے کہ انہیں مسلسل زیرحراست رکھے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مولانا موصوف نے یہ پیشکش قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ملک سے باہر جانے کی بجائے ملک کے اندر جیل میں رہنے کو ترجیح دیں گے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ مولانا محمد اعظم طارق کی رہائی کا اب بظاہر کوئی امکان باقی نہیں رہا اور موجودہ حکومت کے دور میں انہیں اپنا وقت جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہی گزارنا ہوگا۔ مولانا محمد اعظم طارق نوجوان عالم دین ہیں، کالعدم سپاہ صحابہ کے سربراہ رہے ہیں، جھنگ سے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے منتخب رکن رہے ہیں اور انہیں ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کے بعد افغانستان پر امریکی حملے کے خلاف ’’دفاع پاکستان و افغانستان کونسل‘‘ کے زیراہتمام احتجاجی تحریک میں سرگرم کردار ادا کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔ تب سے وہ مسلسل حراست میں ہیں اور اس ’’جرم‘‘ میں گرفتار ہونے والے بعض دیگر سرکردہ رہنماؤں کی رہائی کے باوجود ان کی رہائی کے امکانات دن بدن معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔ اس دوران سپاہ صحابہ پاکستان کو بعض دیگر مذہبی تنظیموں کے ہمراہ خلاف قانون قرار دے دیا گیا ہے اور اس پر فرقہ وارانہ اور انتہاپسندانہ سرگرمیوں کا الزام ہے۔ اس لیے بادی النظر میں یہ تاثر ابھرتا ہے کہ فرقہ وارانہ سرگرمیوں اور انتہاپسندانہ رجحانات کو کنٹرول کرنے کے لیے کچھ عرصہ تک انہیں جیل میں رکھنا ضروری سمجھا جا رہا ہے۔ لیکن ان کے بہی خواہ حلقے اس بات کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہی ہے تو فرقہ وارانہ انتہاپسندی کے جرم میں سپاہ صحابہ کے بالمقابل جس حریف تنظیم کو خلاف قانون قرار دیا گیا ہے اس کے سربراہ کو بھی اسی طرح جیل میں رکھا جانا چاہیے تاکہ یہ بات واضح ہو کہ حکومت فی الواقع فرقہ وارانہ سرگرمیوں کو کنٹرول کرنے میں سنجیدہ ہے اور اس حوالے سے سب کے ساتھ یکساں سلوک روا رکھے ہوئے ہے۔ مگر صورتحال اس کے برعکس ہے اور کالعدم سپاہ صحابہ کی حریف کالعدم تنظیم کے سربراہ نہ صرف جیل سے باہر ہیں بلکہ مذہبی اور سیاسی سرگرمیوں میں پوری طرح آزادی کے ساتھ حصہ لے رہے ہیں۔ اس لیے اس پس منظر میں مولانا محمد اعظم طارق کی مسلسل گرفتاری نہ صرف ان کے بہی خواہوں بلکہ غیر جانبدار حلقوں کو بھی انصاف اور دیانت کے تقاضوں کے منافی محسوس ہو رہی ہے۔

جہاں تک سپاہ صحابہ اور مولانا محمد اعظم طارق کے فرقہ وارانہ کردار کا تعلق ہے تو ان کی پالیسیوں سے خود ہم بھی کبھی متفق نہیں رہے۔ مولانا حق نواز جھنگویؒ سے لے کر مولانا محمد اعظم طارقؒ تک کالعدم سپاہ صحابہ کے ہر سربراہ سے ہم نے ان کی پالیسیوں اور طریق کار پر دوبدو گفتگو میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور متعدد مضامین کے ذریعے اس اختلاف کا قومی پریس میں بھی تذکرہ کیا ہے۔ لیکن کسی جماعت یا رہنما کی پالیسی اور طریق کار سے اختلاف اور چیز ہے اور اسے انصاف سے بالکل محروم کر دینے پر خاموشی اختیار کرنا بالکل مختلف امر ہے۔ اس لیے ہم یہ گزارش ضروری سمجھتے ہیں کہ نہ صرف یہ کہ اس معاملے میں حکومت کو اپنے طرزعمل پر نظرثانی کرنی چاہیے بلکہ ملک کی دینی و سیاسی جماعتوں کو بھی اس پر سنجیدہ توجہ دینی چاہیے۔ کیونکہ انصاف کے تقاضوں کو کسی بھی طبقہ یا گروہ یا فرد کے حوالے سے نظرانداز کر دینے کے اثرات کبھی محدود نہیں رہتے اور اس روایت کو قائم رہنے دیا جائے تو کوئی بھی اور کسی بھی وقت اس طرزعمل کی زد میں آسکتا ہے۔

اس سلسلہ میں کالعدم سپاہ صحابہ کے نائب صدر شیخ حاکم علی کا ایک خط جو انہوں نے ۱۲ جون ۲۰۰۲ء کو مختلف دینی، سیاسی اور صحافتی شخصیات کے نام لکھا ہے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

’’۱۲ جنوری ۲۰۰۲ء کو حکومت کی طرف سے بعض جہادی اور مذہبی جماعتوں پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد کالعدم سپاہ صحابہ پر بھی پابندی عائد کر دی گئی اور اب تک پانچ گرینڈ آپریشنز کیے جا چکے ہیں جن میں بڑی تعداد میں ہمارے قائدین اور کارکنوں کو گرفتار کر کے بارہا نظربند کیا گیا ہے اور جیلوں میں ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ حکومت کے ریاستی مظالم پر حقوق انسانی کے نام نہاد ادارے خاموش ہیں۔

جناب والا! کالعدم سپاہ صحابہ کے قائدین ہر دور میں امن و امان کے قیام اور ملکی سلامتی اور قومی یکجہتی کے حوالے سے ہر فورم پر اپنی خدمات پیش کرتے رہے ہیں اور کبھی بھی ہماری قیادت کی پالیسی مذہبی کشیدگی یا دہشت گردی کا باعث نہیں بنی۔ ہماری جدوجہد اصولوں پر مبنی ہے۔ وہ یہ کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم و اہل بیت رضی اللہ عنہم کی تکفیر اور گستاخی کرنے والوں کے لیے سزا کا قانون بنایا جائے۔ اسی مقصد کے لیے مولانا محمد اعظم طارق نے قومی اسمبلی میں ناموس صحابہ بل پیش کیا تھا۔

جناب والا! کالعدم سپاہ صحابہ نے ۱۹۹۲ء میں مولانا عبدالستار نیازی کی سربراہی میں مذہبی کشیدگی کے خاتمے کے لیے حکومتی فورم سے لے کر متحدہ علماء بورڈ اور ملی یکجہتی کونسل، یہاں تک کہ قاضی حسین احمد امیر جماعت اسلامی پاکستان، مولانا شاہ احمد نورانی امیر جمعیۃ علماء پاکستان اور بزرگ سیاستدان نوابزادہ نصر اللہ صاحب کو امن فارمولا کے لیے ثالثی کی پیشکش کی اور عملی طور پر امن کے لیے ہر دور میں کوشاں رہے۔ لیکن ہر آنے والی حکومت نے ریاستی جبر و تشدد سے ہمارے اصولی موقف کو سنے بغیر لاٹھی اور گولی سے اس کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں پولیس کی زیادتیوں سے تنگ آکر اور انصاف کی راہیں مسدود کیے جانے پر بعض عناصر نے لاقانونیت پھیلانے کی کوشش کی، ایسے عناصر کو پارٹی سے نکال باہر کیا گیا۔

جناب والا! اب تک پرویز مشرف کی حکومت بھی پہلی حکومتوں کی طرح ریاستی جبر و تشدد اور طاقت کے ذریعے بے گناہ علماء اور کارکنوں کو جیلوں میں بند کر چکی ہے اور پانچ سو کے قریب ہمارے علماء اور کارکنوں کو یکطرفہ طور پر ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہم نے وسیع تر ملکی مفاد اور امن عامہ کے لیے مزاحمت کا راستہ اختیار کرنے کا اعلان نہیں کیا اور پرامن رہنے کی پالیسی اختیار کی ہے جس کے نتیجے میں اتنے مظالم کیے گئے کہ انگریزوں نے بھی علماء حق پر نہیں کیے تھے۔ آج پاکستان میں قید مذہبی کارکنوں پر اتنا ظلم و ستم کیا گیا جتنا کیوبا میں امریکہ کی قید میں مسلمانوں پر بھی نہیں کیا گیا۔

جناب والا! مولانا محمد اعظم طارق کو مسلسل ۸ ماہ سے نظربند کیا جا رہا تھا۔ گزشتہ دنوں لاہور ہائیکورٹ کے ریویو بورڈ سے نظربندی کے خاتمے کے بعد انہیں جیل سے پھر حراست میں لے لیا گیا اور حکومت ان پر نیا مقدمہ قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ آنجناب سے التماس ہے کہ مولانا محمد اعظم طارق سمیت سینکڑوں بے گناہوں کی رہائی کے لیے عملی جدوجہد کریں اور ہمارے خلاف حکومت کے مظالم کا نوٹس لیتے ہوئے ہمیں انصاف دلانے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں اور پریس میں بھی آواز حق بلند کر کے ملی یکجہتی اور رواداری کا ثبوت دیں۔‘‘

ہمیں اس خط کے مندرجات کی صحت پر اصرار نہیں ہے لیکن ایک متاثرہ فریق کے موقف کے طور پر اس پر سنجیدہ غوروخوض کو ہم عدل وا نصاف کا ایک ناگزیر تقاضا تصور کرتے ہیں اور اسی لیے اسے پیش کیا جا رہا ہے تاکہ حکومت، اہل دین، سیاسی حلقے اور انسانی حقوق کی علمبرداری کا دعویٰ کرنے والے ادارے اس کا جائزہ لیں اور انصاف کے تقاضوں کی بحالی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ ہمارے نزدیک یہ معاملہ صرف کالعدم سپاہ صحابہ اور مولانا محمد اعظم طارق تک محدود نہیں بلکہ کالعدم تحریک جعفریہ، کالعدم جیش محمد اور کالعدم لشکر طیبہ یعنی خلاف قانون قرار پانے والی تمام تنظیموں نیز پروفیسر حافظ محمد سعید اور مولانا مسعود اظہر سمیت ان جماعتوں کے تمام اسیر رہنماؤں اور کارکنوں کا یہ جائز اور ناگزیر حق ہے کہ انہیں انتظامی احکامات کے تحت زیرحراست رکھنے اور ان کی تنظیموں کو خلاف قانون قرار دینے کے عمل کو یکطرفہ نہ رکھا جائے بلکہ اس کے عدالتی تقاضے پورے کیے جائیں۔ اس کی سب سے بہتر صورت یہ ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں ان تنظیموں اور رہنماؤں کے خلاف باقاعدہ ریفرنس دائر کر کے انہیں ملک کے سب سے بڑے عدالتی فورم میں اپنے پوزیشن واضح کرنے کا موقع دیا جائے اور کالعدم قرار دی جانے والی تنظیموں اور ان کے گرفتار رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف الزامات کی کھلی تحقیقات کا اہتمام کیا جائے تاکہ ملکی اور بین الاقوامی رائے عامہ کے سامنے یہ بات واضح ہو کہ ان تنظیموں پر پابندی اور ان کے رہنماؤ اور کارکنوں کی مسلسل گرفتاری کے حکومتی اقدامات بلاجواز نہیں ہیں۔ اگر حکومت اس کے لیے تیار نہیں تو ان جماعتوں اور رہنماؤں کے خلاف کاروائیاں بہرحال یکطرفہ ہی تصور کی جائیں گی۔ (بشکریہ روزنامہ پاکستان)