مولانا مفتی محمود کے خلاف وائٹ پیپر

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۲ اکتوبر ۱۹۷۳ء
اصل عنوان: 
وائٹ پیپر کا فسانہ

سرحد کے وزیراعلیٰ جناب عنایت اللہ گنڈاپور کو جب سے وزارت اعلیٰ کی کرسی پر ٹکایا گیا ہے وہ کچھ عجیب سے احساس کا شکار ہو کر رہ گئے ہیں۔ ان کے لیے مصیبت یہ ہے کہ جس مسند پر وہ حضرت مولانا مفتی محمود صاحب جیسی قدآور سیاسی شخصیت کو دیکھ چکے ہیں اس پر خود بیٹھتے ہوئے انہیں اردگرد خلا سا محسوس ہو رہا ہے۔ اور شاید اسی خلاء کو پر کرنے کے لیے وہ ’’مفتی صاحب کی بدعنوانیوں کے قرطاس ابیض‘‘ کا سہارا لینے پر مجبور ہوئے ہیں۔ اس قرطاس ابیض کا ڈھنڈورا کئی ماہ سے اس انداز سے پیٹا جا رہا تھا کہ گویا یہ وائٹ پیپر کوئی شعلہ ہوگا جو پشاور سے اٹھے گا اور دیکھتے ہی دیکھتے مفتی محمود کے سیاسی کردار کی صاف و شفاف سفید چادر کو سیاہ دھوئیں کی لپیٹ میں لے لے گا۔ لیکن جن حضرات نے اس قرطاس ابیض کا بنظر انصاف مطالعہ کیا ہے، ان کے لیے اس کا اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں کہ اس میں سرحد کی جمہوری حکومت کو بدنام کرنے کے لیے حقائق کو توڑ موڑ کر انتہائی فریب کاری کے ساتھ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی ناکام کوشش کی گئی ہے۔ حتیٰ کہ مفتی صاحب کے عظیم کارناموں کو بھی بدعنوانی کا نام دے کر اخلاقی دیوالیہ پن کا ثبوت فراہم کیا گیا ہے۔

مثلاً قرطاس ابیض میں سب سے بڑا الزام یہ لگایا گیا ہے کہ مفتی صاحب کے حکم پر سرحد کی مختلف عدالتوں سے قتل کے چھ سو سے زائد مقدمات واپس لیے گئے۔ مگر گنڈاپور صاحب اپنے مطلب کی بات بیان کر کے باقی حصہ ہضم کر گئے ہیں۔ جبکہ اصل قصہ یہ ہے کہ حضرت مفتی صاحب نے عدالتوں کو ہدایت کی تھی کہ قتل کے جن مقدمات میں شرعی قوانین کے مطابق فریقین آپس میں صلح کر لیں وہ مقدمات واپس لے لیے جائین۔ یہ مقدمات اسی حکم کے تحت واپس لیے گئے اور اس طرح حضرت مفتی صاحب کے حکم پر سرکاری طور پر چھ سو سے زائد مقدمات کا فیصلہ شرعی قانون کے مطابق ہوا۔

اسی طرح دوسرا بڑا الزام یہ ہے کہ مفتی صاحب نے اسلحہ کے چھیالیس ہزار لائسنس جاری کیے۔ یہ الزام بھی محض فریب کاری ہے۔ اسلحہ کے مذکورہ لائسنس ضرور جاری ہوئے لیکن یہ بدعنوانی کیسے بن گئی؟ صوبائی حکومت نے دیکھا کہ صوبہ میں اسلحہ کم و بیش ہر شخص کے پاس موجود ہے اور زیادہ تر بغیر لائسنس کے ہے۔ اس پر صوبائی حکومت نے یہ پالیسی اختیار کی کہ اسلحہ کے لائسنس فراخدلی سے دیے جائیں تاکہ لوگ غیرقانونی اسلحہ رکھنے کی بجائے لائسنس حاصل کریں اور اس طرح جرائم کی تفتیش میں بھی آسانی رہے۔

کم و بیش یہی حال دیگر الزامات کا ہے جو گنڈاپور صاحب نے اس وائٹ پیپر میں درج کیے ہیں۔ الغرض یہ قرطاس ابیض جھوٹ، مکر و فریب اور بے بنیاد الزامات کا ایسا مجموعہ ہے جو گنڈاپور وزارت کی سیاسی کورفہمی اور اخلاقی دیوالیہ پن کا زندہ ثبوت ہے۔