ملتان میں مزدوروں پر فائرنگ ‒ قبائلی علاقوں سے انصاف

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۴ جنوری ۱۹۷۸ء

کالونی ٹیکسٹائل ملز ملتان میں مزدوروں پر پولیس کی وحشیانہ فائرنگ کی تحقیقات شروع ہوگئی ہے اور یہ سطور شائع ہونے تک اس کے نتائج سامنے آچکے ہوں گے۔ اس وقت تک جو تفصیلات مختلف اخبارات کے ذریعے سامنے آئی ہیں ان کے مطابق واقعہ کے دیگر پہلوؤں کے ساتھ ساتھ یہ پہلو انتہائی سنگین اور توجہ طلب ہے کہ پولیس نے یہ فائرنگ کسی باضابطہ آرڈر کے بغیر کی ہے جس کے نتیجہ میں کم از کم چودہ مزدور شہید ہوئے ہیں۔ اور یہ پہلو بھی محل نظر ہے کہ یہ واقعہ اس وقت ہوا جب پیپلز پارٹی نام نہاد ’’یوم جمہوریت‘‘ منانے کی تیاریاں کر رہی تھی۔

پیپلز پارٹی نے طبقاتی کشمکش کو جس طرح منظم طور پر پروان چڑھایا اور ۵ جولائی کے انقلاب کے بعد نئی حکومت کو اس ضمن میں بدنام کر کے مزدوروں، کسانوں اور محنت کشوں کو اس سے بدظن کرنے کی جو مہم اس نے چلا رکھی ہے اس کو سامنے رکھتے ہوئے کالونی ٹیکسٹائل ملز کے المناک واقعہ کا پس منظر اور بھی زیادہ توجہ طلب ہو جاتا ہے اور ذہن میں یہ سوال بار بار ابھرتا ہے کہ یہ واقعہ کہیں انتظامیہ میں پیپلز پارٹی کے پروردہ عنصر کی سازش تو نہیں ہے؟ تحقیقات کے ضمن میں مزید کچھ کہے بغیر ہم اتنی گزارش ضرور کریں گے کہ اس سنگین اور افسوسناک واقعہ کے اس پہلو کو بھی مدنظر رکھا جائے اور اس کے محرکات و اسباب کی صحیح طور پر نشاندہی ہو اور مجرم کیفر کردار تک پہنچیں۔

قبائلی علاقوں سے انصاف

قبائلی علاقوں سے قومی اسمبلی کے سابق رکن ملک جہانگیر نے ایک بیان میں مطالبہ کیا ہے کہ بھٹو حکومت کے دور میں قبائلیوں کے ساتھ کی گئی نا انصافیوں کی تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کی جائے۔

اگرچہ قبائلی سیاست میں خود ملک صاحب کا کردار بعض حلقوں میں موضوع بحث ہے مگر ان کا یہ مطالبہ ہمارے نزدیک بالکل درست اور بجا ہے اس لیے کہ بھٹو حکومت نے جہاں ملک کے دوسرے حصوں میں وحشت و بربریت کے شرمناک مظاہرے کیے وہاں قبائل بھی اس کی وحشیانہ کارروائیوں کا نشانہ بنا ہے۔ حتیٰ کہ جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا کے بازار کو بلڈوزروں سے مسمار کر دیا گیا اور علاقہ کے مذہبی راہنما مولانا نو رمحمد اور ان کے رفقاء کو گرفتار کر لیا گیا جو اب تک جیل میں ہیں۔ اور وانا تباہی کے بعد ابھی تک دوبارہ آباد نہیں ہو سکا جبکہ ہزاروں قبائلی بے گھر اور روزگار سے محروم ہیں۔

ہم حکومت سے گزارش کریں گے کہ ملک کے دوسرے حصوں کی طرح قبائلی عوام کے ساتھ بھٹو حکومت کے سلوک کا بھی جائزہ لے بالخصوص جنوبی وزیرستان کے مذکورہ واقعہ کی تحقیقات کرا کے گرفتار شدگان کو رہا کیا جائے اور جن لوگوں کے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے انہیں فوری اور مناسب انصاف مہیا کیا جائے۔