تحریک انسداد سود پاکستان

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۵ نومبر ۲۰۱۳ء

مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام اور دانش وروں نے پاکستانی معیشت کو اسلامی اصولوں پر استوار کرنے اور سودی نظام کے خاتمہ کے لیے ’’تحریک انسداد سود پاکستان‘‘ کے نام سے ایک مستقل فورم قائم کر لیا ہے اور نومبر کے تیسرے عشرہ سے عوامی بیداری کی مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ گزشتہ روز (2 نومبر) کو قرآن اکیڈمی ماڈل ٹاؤن لاہور میں منعقدہ ایک مشترکہ اجلاس میں کیا گیا جو راقم الحروف کی صدارت میں منعقد ہوا اور اس میں مولانا عبد الرؤف فاروقی، مولانا امیر حمزہ، جناب اوریا مقبول جان، مولانا حافظ عبد الغفار روپڑی، علامہ خلیل الرحمن قادری، حافظ عاکف سعید، سید مظفر شاہ، پروفیسر ڈاکٹر محمد امین، جناب عمر ابراہیم اڈیلو، محترمہ حمیرا شاہد، جناب فرید احمد پراچہ، قاری محمد یعقوب شیخ، فرحت عباس شاہ، فہد احمد صدیقی اور حافظ عاطف وحید نے شرکت کی۔

اجلاس میں وفاقی شرعی عدالت میں بینک انٹرسٹ کو ربا (سود) قرار دینے کے حوالہ سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظر ثانی کے کیس کا جائزہ لیا گیا اور طے پایا کہ اس کیس میں جو حضرات یا ادارے دینی حلقوں کی طرف سے فریق ہیں ان کے درمیان رابطہ و مشاورت کا اہتمام کیا جائے گا تاکہ سب کا موقف مشترکہ طور پر سامنے آئے۔ اس مقصد کے لیے جناب اوریا مقبول جان اور حافظ عاطف وحید پر مشتمل دو رکنی کمیٹی قائم کی گئی جو اس کو عملی شکل دے گی۔ وفاقی شرعی عدالت کی طرف سے جاری کردہ چودہ نکاتی سوال نامہ کے بارے میں اجلاس نے فیصلہ کیا کہ مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام اور ماہرین کا مشترکہ اجلاس بلا کر متفقہ جواب تیار کرنے کی ذمہ داری ’’ملی مجلس شرعی پاکستان‘‘ پر ہوگی اور وہ اس موقف کے متفقہ اظہار کے لیے تمام مکاتب فکر کے علماء کرام اور ماہرین کے ’’قومی علماء کنونشن‘‘ کا بھی اہتمام کرے گی۔ ملی مجلس شرعی کے سیکرٹری جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد امین نے اس موقع پر کہا کہ ملی مجلس شرعی تمام مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام کا مشترکہ فورم ہے جس کا دائرہ کار پیش آمدہ امور و مسائل پر علمی اور فقہی رائے قائم کرنے اور اس کے اظہار تک محدود ہے اور کونسل اس دائرہ میں رہتے ہوئے انسدادِ سود کی جدوجہد میں بھرپور کردار ادا کرے گی۔

اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ سودی نظام و قوانین کے بارے میں دینی حلقوں کے ساتھ ساتھ رائے عامہ کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے اور اس میں سب سے زیادہ کردار دینی جماعتوں، علماء کرام، اساتذہ اور میڈیا کو ادا کرنا چاہیے۔ چنانچہ میڈیا میں اس مہم کو منظم کرنے کے لیے مولانا امیر حمزہ اور جناب فرید پراچہ پر مشتمل کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اجلاس میں عوامی سطح پر مہم چلانے کے لیے ’’تحریک انسداد سود پاکستان‘‘ کے نام سے باضابطہ فورم قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور شرکائے اجلاس پر مشتمل رابطہ کمیٹی قائم کی گئی جس کا کنوینر راقم الحروف کو بنایا گیا اور طے پایا کہ عشرۂ محرم گزرنے کے بعد عوامی رابطہ مہم کا آغاز کیا جائے گا اور اس سلسلہ میں پہلا سیمینار جامعہ القادسیہ لاہور میں ہوگا جس کی تاریخ کا اعلان چند روز تک کر دیا جائے گا۔

اجلاس میں طے پایا کہ تحریک کا یک نکاتی ایجنڈا پاکستان میں سودی نظام کا خاتمہ ہوگا تاکہ ملکی معیشت کو اسلامی اصولوں پر استوار کیا جا سکے جس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سودی قوانین ہیں۔ جبکہ اس سے ہٹ کر اس تحریک کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہوگا۔ اس مقصد کے لیے ملک کے تمام مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام، بڑی دینی جماعتوں اور علمی مراکز کے ساتھ ساتھ تاجروں، اساتذہ، ذرائع ابلاغ، دانش وروں اور معیشت و اقتصاد کے ماہرین کو اعتماد میں لیا جائے گا اور اسے ایک قومی تحریک کی صورت میں منظم کیا جائے گا۔ اور یہ جدوجہد مکمل طور پر پُر امن اور دستور و قوانین کے دائرہ میں ہوگی۔ اجلاس میں ملک بھر کے تمام علماء کرام، دینی راہ نماؤں، تاجر تنظیموں، اساتذہ اور علمی مراکز سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ملکی معیشت کو سود کی لعنت سے پاک کرنے کے لیے بھرپور کردار ادا کریں اور ’’تحریک انسدادِ سود پاکستان‘‘ کے ساتھ تعاون کر کے اس قومی فورم کو مضبوط بنائیں تاکہ سود کی لعنت سے نجات حاصل کر کے قوم و ملک کو اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف حالت جنگ سے نکالا جا سکے۔

اجلاس میں اس امور کو انتہائی افسوسناک قرار دیا گیا کہ حکومتی سطح پر ہر دور میں سودی قوانین کو تحفظ فراہم کرنے اور سودی نظام کا تسلسل جاری رکھنے کے لیے منافقانہ طرز عمل اختیار کیا گیا، حالانکہ تمام مکاتب فکر کے علماء کرام اس بات پر متفق ہیں کہ سود مکمل طور پر حرام ہے اور بینک انٹرسٹ سود ہے، جبکہ وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ آف پاکستان بھی اس سلسلہ میں واضح فیصلہ دے چکی ہیں۔ لیکن ہمارے حکمران طبقات ان شرعی اور عدالتی فیصلوں کے باوجود سودی قوانین کے تسلسل کو قائم رکھے ہوئے ہیں اور سودی نظام کے خاتمہ میں ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں۔ اجلاس میں وفاقی حکومت اور یو بی ایل سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ بینک انٹرسٹ کو ربا قرار دینے کے بارے میں نظر ثانی کے لیے سپریم کورٹ میں دائر کردہ اپیل کو فوری طور پر واپس لیں اور سودی نظام کو تحفظ دینے کی بجائے قومی معیشت کو قرآن و سنت کی روشنی میں از سرِ نو استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

اجلاس میں اس پروپیگنڈے کو بے بنیاد قرار دیا گیا کہ سود کے بغیر معاشی نظام نہیں چل سکتا، کیونکہ خود مغربی ممالک سودی نظام کی تباہ کاریوں سے تنگ آکر اسلامی معیشت کی طرف آنے کے راستے تلاش کر رہے ہیں مگر ہمارے نام نہاد ماہرینِ معیشت اور دانش ور غیر سودی معیشت کے ناقابل عمل ہونے کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں۔