قصہ حضرت الامیر کی گرفتاری کا

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۳ مئی ۱۹۷۴ء

۲۸ اپریل کو روزنامہ جنگ راولپنڈی نے خبر دی کہ حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی دامت برکاتہم امیر مرکزی جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کو نوشہرہ ضلع پشاور پولیس نے تحفظ امن عامہ کی دفعہ ۱۶ کے تحت گرفتار کر لیا ہے۔ اس سے قبل یہ خبر موصول ہو چکی تھی کہ حضرت مولانا عبد الحق صاحب مدظلہ، مولانا سمیع الحق اور دیگر سیاسی کارکنوں کے وارنٹ گرفتاری مذکورہ دفعہ کے تحت جاری کر دیے گئے ہیں۔ اسی روز خانپور فون پر رابطہ قائم کیا گیا تو معوم ہوا کہ حضرت الامیر مدظلہ گھر میں تشریف فرما ہیں اور گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

بعض دیگر ذرائع سے معلوم ہوا کہ نوشہرہ پولیس نے دیگر راہنماؤں کے ساتھ حضرت درخواستی مدظلہ کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا ہے، چنانچہ پنجاب جمعیۃ کی طرف سے حضرت مولانا عبید اللہ انور مدظلہ امیر صوبائی جمعیۃ، جناب مولانا سید نیاز احمد گیلانی جنرل سیکرٹری صوبائی جمعیۃ، اور راقم الحروف کا ایک مشترکہ بیان ان وارنٹوں کی مذمت اور مقدمہ واپس لینے کے مطالبہ پر مشتمل پریس کو جاری کیا گیا۔

لیکن ۲۹ اپریل کو اخبارات دیکھے تو معلوم ہوا کہ ایک خبر رساں ایجنسی نے غلط فہمی سے وارنٹوں کی مذمت کو گرفتاری کی مذمت کا عنوان دے دیا ہے۔ چنانچہ اس روز بیشتر اخبارات میں حضرت درخواستی، حضرت مولانا عبد الحق، اور مولانا سمیع الحق کی گرفتاری کی خبر جمعیۃ علماء اسلام کے حوالہ سے شائع ہوئی اور امروز لاہور نے جنگ کراچی کے حوالہ سے گرفتاری کی خبر شائع کر دی۔ اس کے ساتھ مذمت کے بیانات بھی پریس میں آگئے جس سے ملک بھر میں جمعیۃ کے ارکان، دیندار حلقوں اور حضرت درخواستی دامت برکاتہم کے عقیدت مندوں میں غم و غصہ اور احتجاج و اضطراب کی لہر دوڑ گئی۔ متعدد مقامات پر احتجاجی اجتماعات اور جلوسوں کے پروگرام ترتیب دیے گئے اور ہر جگہ سے جمعیۃ کی شاخوں اور کارکنوں نے مرکزی دفتر سے بذریعہ فون و ٹیلی گرام رابطہ قائم کر کے صحیح صورتحال معلوم کی اور اس طرح قومی پریس کی ایک بظاہر معمولی سی غلطی ملک بھر میں دینی و سیاسی حلقوں کے لیے ازحد پریشانی کا باعث بن گئی۔

اس وضاحت کے بعد ہم ان راہنماؤں کی گرفتاری کی خاطر جاری کیے جانے والے احکامات کو پولیس کی ناعاقبت اندیشی اور آئینی و جمہوری حقوق کے منافی قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ احکامات واپس لیے جائیں کیونکہ اس قسم کے اقدامات ملک کے سیاسی حلقوں میں اضطراب کے ساتھ ساتھ حکومت کی بدنامی کا بھی باعث بنتے ہیں۔