دینی مدارس کے حوالے سے چار اہم خبریں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲ ستمبر ۲۰۰۵ء

دینی مدارس کے حوالے سے اس ہفتے کے دوران کی چار اہم خبریں اس وقت ہمارے پیش نظر ہیں:

  1. پہلی خبر یہ ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے اسلام آباد میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دینی مدارس پر چھاپوں کا سلسلہ جاری رہے گا اور دہشت گردوں کی تلاش میں اب شہروں میں بھی دینی مدارس پر چھاپے مارے جائیں گے۔
  2. دوسری خبر یہ ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے دینی مدارس کی اسناد کے بارے میں تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے جس میں یہ بات واضح طور پر کہہ دی گئی ہے کہ چونکہ دینی مدارس کی اسناد کو یونیورسٹی گرانٹس کمیشن نے صرف تعلیمی مقاصد کے لیے کالج اور یونیورسٹی کی اسناد کے برابر قرار دیا ہے، اس لیے تعلیمی مقاصد سے ہٹ کر کسی اور شعبہ بالخصوص انتخابات کے لیے ان اسناد کو کارآمد قرار نہیں دیا جا سکتا۔
  3. تیسری خبر یہ ہے کہ تنظیم المدارس نے اسلام آباد کے کنونشن سنٹر میں منعقدہ دینی مدارس کے عالمی کنونشن میں دینی مدارس کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا ہے اور اس سلسلہ میں حکومتی دباؤ کو مسترد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
  4. جبکہ چوتھی خبر ’’آن لائن‘‘ کے حوالے سے ایک قومی اخبار نے یہ نشر کی ہے کہ ملائشیا سے تعلق رکھنے والے دو سو طلبہ جو پاکستان کے دینی مدارس میں تعلیم حاصل کر رہے تھے اور اب وہ پاکستانی حکومت کے فیصلے کے مطابق وطن واپس جا رہے ہیں، ملائیشیا کی حکومت نے اپنے ملک کی یونیورسٹیوں میں ان کے داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

یہ چاروں خبریں ایک ہفتے بلکہ دو تین روز کے دوران کی ہیں اور ان سے بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے دینی مدارس اس وقت کس سطح پر قومی اور عالمی حلقوں میں گفتگو اور بحث و مباحثہ کا موضوع بنے ہوئے ہیں اور اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے دینی مدارس کے وفاقوں کی قیادت کو کس درجے کے تدبر، حوصلہ اور فہم و فراست سے کام لینے کی ضرورت ہے۔

جہاں تک صدر پرویز مشرف کے اس اعلان کا تعلق ہے کہ دہشت گردوں کی تلاش میں دینی مدارس پر چھاپوں کا سلسلہ جاری رہے گا اور اب شہروں میں بھی دینی مدارس پر چھاپے مارے جائیں گے، ہمارے نزدیک یہ بات خود صدر پرویز مشرف کی حکومت کے ذمہ دار افراد کے ان اعلانات کی نفی کے مترادف ہے کہ دینی مدارس میں دہشت گردی کی ٹریننگ نہیں دی جاتی اور اس سلسلے میں اب تک کی تمام تحقیقات سے دینی مدارس پر لگائے گئے اس الزام کی نفی ہوئی ہے۔

  • سابق وزیر اعظم اور وزیر داخلہ اور موجودہ حکمران مسلم لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین نے اسلام آباد میں ہزاروں علماء کرام کے کنونشن میں کھلے بندوں اعلان کیا کہ انہوں نے اپنے دور حکومت میں دینی مدارس کے حوالے سے ملک گیر سطح پر تحقیقات کرائی تھیں اور کوئی مدرسہ دہشت گردی میں ملوث نہیں پایا گیا تھا۔
  • وفاقی وزیر مذہبی امور اعجاز الحق نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اگر کوئی دینی مدرسہ دہشت گردی کی ٹریننگ میں ملوث پایا گیا تو وہ اپنے منصب سے مستعفی ہوجائیں گے۔
  • سندھ کے گورنر عشرت العباد کا یہ بیان قومی پریس کے ریکارڈ میں موجود ہے کہ صوبہ سندھ میں اب تک دہشت گردی کے الزام میں جتنے لوگ پکڑے گئے ہیں، ان میں ستر فیصد وہ ہیں جنہوں نے دینی مدرسہ دیکھا تک نہیں۔
  • موجودہ وفاقی وزیر تعلیم جاوید اشرف قاضی متعدد بار اعلان کر چکے ہیں کہ پاکستان کے دینی مدارس میں دہشت گردی کی ٹریننگ کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

اس سب کچھ کے باوجود صدر پرویز مشرف کے نزدیک دینی مدارس ہی دہشت گردی کے مراکز ہیں اور وہ دہشت گردوں کی تلاش میں دینی مدارس پر چھاپے مارنا چاہتے ہیں تو یہ بات دینی مدارس کے قائدین کے لیے تو یقیناً قابل غور ہے ہی مگر ان سے کہیں زیادہ مذکورہ بالا حضرات کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ صدر پرویز مشرف کے اس اعلان کے بعد ان حضرات کے مذکورہ بیانات کی کیا اہمیت رہ جاتی ہے؟ اور جس عالمی برادری کو مطمئن کرنے کے لیے وہ دینی مدارس کی صفائی پیش کر رہے ہیں، اس برادری کے نزدیک صدر پرویز مشرف کے اپنے بیان کے سامنے ان کی اس صفائی کا کیا وزن باقی رہ جاتا ہے؟

جہاں تک دینی مدارس میں دہشت گردی کی ٹریننگ یا دہشت گردوں کی موجودگی کا تعلق ہے، اس سلسلہ میں دینی مدارس کے تمام وفاقوں کے اس واضح موقف کے بعد اس الزام کو دہرانے کا کوئی قانونی اور اخلاقی جواز باقی نہیں رہ جاتا کہ جن مدارس میں بعض حکومتی حلقوں کے نزدیک دہشت گردی کی تربیت دی جاتی ہے، ان کی نشاندہی کی جائے۔ ان کے خلاف کارروائی میں دینی مدارس کی قیادت حکومت کے ساتھ ہوگی، مگر کسی ثبوت اور نشاندہی کے بغیر مدارس پر چھاپے مارنے کا سلسلہ درست نہیں کیونکہ یہ دینی مدارس کے تعلیمی سلسلے میں رکاوٹ ڈالنے اور انہیں ہراساں کرنے کے مترادف ہے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بارے میں ہم اس کالم میں اس سے قبل اظہار کر چکے ہیں کہ اس کیس میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے سامنے حقائق نہیں لائے گئے، خصوصاً دینی مدارس کے وفاقوں نے اپنے نصاب میں تبدیلی اور میٹرک کی سطح تک عصری مضامین کو شامل کرنے کے بارے میں جو فیصلے کیے ہیں اور ان پر عملدرآمد بھی ہو رہا ہے، اس لیے عدالت عظمیٰ سے اسی فیصلے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ ہمارے خیال میں وفاقوں کی قیادت اس سلسلے میں صرف عوامی دباؤ اور سیاسی جدوجہد پر انحصار کیے ہوئے ہے اور عدالت عظمیٰ میں سنجیدگی کے ساتھ اس کیس کی پیروی کی ضرورت محسوس نہیں کر رہی، ہمیں اس سے اختلاف ہے۔ ہم سیاسی دباؤ اور عوامی ردعمل کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں اور اس کو منظم طریقے سے آگے بڑھانے کے حق میں ہیں لیکن عدالت میں کیس کو سنجیدگی کے ساتھ نہ لڑنے اور اسے صحیح توجہ نہ دینے کے طرز عمل کو ہم درست نہیں سمجھتے۔ ابھی عدالت عظمیٰ کے حتمی فیصلے کا ایک مرحلہ باقی ہے جس کا حوالہ اس تفصیلی فیصلے میں بھی موجود ہے۔ ہماری رائے میں وفاقوں کی قیادت کو اس مقدمہ میں فریق بننا چاہیے، پوری توجہ کے ساتھ یہ کیس لڑنا چاہیے اور اس سلسلہ میں تمام حقائق عدالت عظمیٰ کے فورم پر قوم کے سامنے لانے چاہئیں۔ اگر خدانخواستہ عدالت عظمیٰ کا حتمی فیصلہ مدارس کے خلاف بھی ہوا تو کم از کم حقائق اور اصل صورتحال تو عوام کے سامنے ہوگی اور عدالت عظمیٰ میں مقدمہ خدانخواستہ ہار جانے کی صورت میں بھی دینی مدارس کی قیادت عوامی محاذ پر سرخرو رہے گی۔

تنظیم المدارس کے عالمی کنونشن میں جس جرأت اور حوصلہ کے ساتھ دینی مدارس کے بارے میں وفاقوں کے اجتماعی موقف کا اعادہ کیا گیا ہے، وہ انتہائی خوش آئند ہے اور بالخصوص مولانا مفتی منیب الرحمن نے دینی مدارس کی ترجمانی کا حق ادا کیا ہے جس پر وہ مبارکباد اور شکریہ کے مستحق ہیں۔ اس سے قبل وفاق المدارس العربیہ پاکستان نے اسی کنونشن سنٹر میں دینی مدارس کے موقف اور پالیسی کے قومی سطح پر اظہار کا اہتمام کیا تھا جس کے مثبت اثرات مرتب ہوئے تھے۔ اب تنظیم المدارس کے کنونشن سے بات مزید آگے بڑھی ہے اور نہ صرف پاکستان کے عوام کے سامنے بلکہ عالمی سطح پر بھی دینی مدارس کی صحیح پوزیشن کی وضاحت میں اس سے مدد ملی ہے۔ اگر دیگر وفاق بھی اس طرح کے اجتماعات کا اہتمام کریں تو اس سے نہ صرف مدارس کی باہمی ہم آہنگی میں اضافہ ہوگا بلکہ دینی مدارس کی آزادی اور خودمختاری کے تحفظ کی جدوجہد بھی مزید مضبوط ہوگی۔

پاکستان کے دینی مدارس سے نکالے گئے ملائشین طلبہ کو ملائشیا کے تعلیمی اداروں میں داخلہ دینے پر پابندی کی خبر بھی اس لحاظ سے توجہ طلب ہے کہ اس سے نہ صرف دو سو طلبہ کا تعلیمی مستقبل تاریک ہوجائے گا بلکہ دینی تعلیم کے حصول کے رجحانات کی بھی حوصلہ شکنی ہوگی، جو شاید ایسا کرنے والوں کا اصل مقصد ہے، مگر عالمی سطح پر دینی مدارس کا مقدمہ لڑنے کے لیے سرے سے کوئی فورم ہی موجود نہیں ہے تو ان غریب طلبہ کے تعلیمی مستقبل کے تحفظ کی فکر آخر کیسے ہوگی؟