پاکستان کے لیے امریکی امداد کی شرائط یا ریموٹ کنٹرول غلامی کا منصوبہ؟

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۶ جون ۱۹۸۷ء

پہلی اور دوسری جنگِ عظیم کے بعد جب استعماری قوتوں کے قویٰ مضمحل ہونے لگے اور نوآبادیاتی مقبوضات پر ان کی گرفت قائم رہنے کے امکانات کم ہوگئے تو ان غلام ملکوں کے رہنے والے عوام کی اس دیرینہ خواہش کی تکمیل کے آثار پیدا ہوگئے کہ وہ آزاد قوم کی حیثیت سے آزاد فضا میں سانس لے سکیں اور استعماری قوتوں کے مقبوضہ ممالک یکے بعد دیگرے آزاد ہونے لگے۔ لیکن سامراجی طاقتوں نے نوآبادیاتی مقبوضات پر تسلط سے مکمل طور پر دستبردار ہونے کی بجائے ایسی حکمتِ عملی اختیار کی کہ یہ ممالک اور اقوام بظاہر آزاد ہو جائیں مگر ان کی اقتصادی، سیاسی اور فوجی پالیسیوں پر سامراجی آقاؤں کی چھاپ اور کنٹرول بدستور قائم رہے۔ چنانچہ آزاد ہونے والے بیشتر ممالک ظاہری غلامی سے نجات حاصل کرنے کے باوجود اپنی پالیسیوں کے لحاظ سے ’’ریموٹ کنٹرول غلامی‘‘ کا شکار ہیں اور آج تیسری دنیا اور عالمِ اسلام کے بیشتر ممالک کا حال یہ ہے کہ آزاد اور خودمختار ریاستیں کہلانے کے باوجود وہ

  • دفاعی خودمختاری اور خودکفالت کے تصور تک سے نا آشنا ہیں۔
  • کسی نہ کسی عالمی استعماری قوت کے زیرِ اثر رہنے پر مجبور ہیں۔
  • اقتصادی امداد کے خوشنما عنوان کے تحت ان کی معاشی پالیسیاں امداد دینے والی عالمی طاقتوں کے مفادات کے دائرہ میں محصور ہیں۔
  • جدید ٹیکنالوجی اور توانائی کے اعلیٰ ترین وسائل ان کے لیے شجرِ ممنوعہ ہیں۔

کم و بیش یہی حال پاکستان کا بھی ہے۔ پاکستان جو برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش کی اکائی کا ایک حصہ تھا ۱۹۴۷ء میں تقسیمِ ہند کے نتیجہ میں وجود میں آیا اور ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کو ایک آزاد اور خودمختار مملکت کی حیثیت سے عالمی نقشہ پر ابھرا۔ پاکستان نے آزادی برٹش استعمار سے حاصل کی تھی لیکن اس وقت تک برطانوی استعمار عالمی جنگوں کے نتیجہ میں سمٹ سمٹا کر جزائر برطانیہ تک محصور ہو چکا تھا اور اس کے لیے ممکن نہیں رہا تھا کہ وہ پوری دنیا میں مغرب کے سیاسی اور اقتصادی مفادات کے تحفظ کے لیے کوئی رول ادا کر سکے۔ اس لیے وہ اپنی یہ ذمہ داریاں تازہ دم اور توانا امریکی استعمار کے سپرد کر کے عالمی کردار سے ریٹائر ہوگیا۔

پاکستان بننے کے فورًا بعد طے شدہ منصوبہ کے مطابق پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے نازک منصب پر چودھری ظفر اللہ خان جیسے شخص کو لایا گیا جو مرزا غلام احمد قادیانی کے مخلص پیروکار کی حیثیت سے اور اپنے ذاتی کردار کے لحاظ سے بھی برطانوی استعمار کا مکمل وفادار تھا۔ اور صحیح بات یہ ہے کہ اس نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو برطانوی استعمار کے جانشین امریکی استعمار کے مفادات کے سانچے میں ڈھالنے کے لیے جس محنت، لگن اور خلوص سے کام کیا ہے نتائج و ثمرات کو دیکھتے ہوئے اس کی داد نہ دینا نا انصافی کی بات ہوگی۔ جس وقت پاکستان کی خارجہ پالیسی تشکیل کے ابتدائی مراحل میں تھی دوسری جنگِ عظیم کے بعد ہونے والی نئی عالمی صف بندی کے نتیجہ میں امریکہ اور روس نئی عالمی قوتوں کی حیثیت سے ایک دوسرے کے سامنے آچکے تھے۔ اس وقت پاکستان کی نظریاتی اساس، جنوبی ایشیا کے مخصوص حالات اور عالمِ اسلام کے مجموعی مفادات کا تقاضا تھا کہ پاکستان عزیمت کا راستہ اختیار کرتے ہوئے ان دونوں عالمی طاقتوں کی کشمکش اور باہمی محاذ آرائی میں فریق بننے کی بجائے مکمل طو رپر غیرجانبدارانہ خارجہ پالیسی اختیار کر کے عالمِ اسلام کو متحد کرنے اور ملتِ اسلامیہ کو ایک مضبوط نظریاتی قوت کے طور پر سامنے لانے کی حکمتِ عملی اختیار کرتا۔ لیکن ظفر اللہ خان کی وزارتِ خارجہ نے اس نوتشکیل شدہ ملک کو خارجہ پالیسی کا جو ڈھانچہ مہیا کیا اس نے پاکستان کو بہت جلد امریکی لابی کے ایک وفادار ملک کی حیثیت دے دی اور بالآخر اسے سیٹو اور سینٹو کے معاہدات میں باقاعدہ شریک ہو کر اپنی اس جانبدارانہ حیثیت کا اعلان کرنا پڑا۔

اس خارجہ پالیسی کا منطقی نتیجہ یہ تھا کہ پاکستان کی سیاسی اور اقتصادی پالیسیوں پر امریکی چھاپ گہری ہوگئی۔ چنانچہ ایسا ہوا اور اس حد تک ہوا کہ قومی اسمبلی جیسے ذمہ دار ادارے کے ریکارڈ میں ایک اہم ملکی شخصیت کے یہ ریمارکس آج بھی کسی تردید کے بغیر موجود ہیں کہ پاکستان میں حکومت کی کوئی تبدیلی امریکہ کی مرضی کے بغیر نہیں ہوتی۔ یہ بات اب کسی دلیل کی محتاج نہیں رہی کہ پاکستان کے سیاسی مستقبل کو امریکہ کی دو بڑی پارٹیوں ری پبلکن پارٹی اور ڈیمو کریٹک پارٹی کے درمیان اقتدار اور طاقت کے توازن کے پیمانے میں ماپا جاتا ہے اور اقتدار کی سیاست کرنے والے بڑے بڑے پاکستانی سیاستدانوں کو بھی اپنی قسمت کا حال امریکی وزارتِ خارجہ کے جنوبی ایشیا کے ڈیسک کے حکام سے معلوم کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی اور دفاعی و اقتصادی شعبوں پر اس حد تک کنٹرول کے صلہ میں امریکہ نے پاکستان کو کیا دیا ہے؟ وہ آزمائش کے دو سنگین مراحل ۱۹۶۵ء کی جنگ اور ۱۹۷۱ء کی جنگ میں امریکہ کے کردار کی صورت میں سب کے سامنے ہے۔

ہماری ان گزارشات کا مقصد یہ تاثر دینا نہیں ہے کہ امریکہ کی بجائے دوسری عالمی طاقت روس کے ساتھ وابستگی کی صورت میں شاید صورتِ حال کچھ مختلف ہوتی کیونکہ مشرقِ وسطیٰ اور افغانستان میں ہم روس کا کردار بخوبی دیکھ چکے ہیں کہ وابستہ ممالک کے ساتھ اس کی وفاداری بھی یک طرفہ مفادات تک محدود ہے۔ اور چونکہ امریکہ اور روس دونوں استعماری قوتیں ہیں اس لیے مفادات کے ٹکراؤ کے باوجود ان کے مزاج، ذہنیت اور طریقِ واردات میں کسی قسم کے فرق اور تفاوت کا تصور کرنا قطعی طور پر ایک غیر منطقی بات ہوگی۔

ہماری یہ سوچی سمجھی رائے ہے کہ برصغیر کی تقسیم کے وقت پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کا جھگڑا طے شدہ منصوبہ کے مطابق صرف اس لیے کھڑا کیا گیا تھا کہ یہ دونوں ملک اپنے وسائل اور توانائیوں کو ترقی پر خرچ کرنے کی بجائے ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی اور نفرت انگیزی کے لیے وقف کیے رکھیں اور عالمی قوتوں کا دستِ نگر بننے پر مجبور ہو جائیں۔ چنانچہ اقوامِ متحدہ کی واضح قراردادوں اور فیصلوں کے باوجود اس مسئلہ کے حل میں عالمی طاقتوں کی عدم دلچسپی ان کی اس خواہش کی آئینہ دار ہے کہ مسئلہ کشمیر کا وجود قائم رہے تاکہ ان دونوں ملکوں کی عالمی قوتوں کے ساتھ وابستگی میں کوئی کمزور نہ آنے پائے۔ سابق صدر ایوب خان کے دور میں پاکستان کی سرزمین سے امریکی اڈوں کے خاتمہ، پھر اس کے بعد سیٹو سے پاکستان کی علیحدگی اور اب غیر جانبدار تحریک کے ساتھ عملی وابستگی کے باعث بظاہر یہ محسوس ہونے لگا تھا کہ پاکستان شاید مکمل غیرجانبداری کی شاہراہ پر گامزن ہو رہا ہے مگر ایرانی انقلاب کے بعد جنوبی ایشیا میں امریکی مفادات کے مخدوش مستقبل اور افغانستان میں روس کی مسلح مداخلت سے پاکستان کی سالمیت کو درپیش خدشات نے غیرجانبداری کی طرف پاکستان کی خارجہ پالیسی کی پیش رفت کو نہ صرف بریک لگا دی ہے بلکہ گاڑی ریورس گیئر میں آچکی ہے اور ایکسیلیریٹر پر باہمی مفادات کے پاؤں کا دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

اس وقت امریکہ پاکستان کی سیاسی، اقتصادی اور فوجی امداد میں بظاہر خاصی فراخدلی کا مظاہرہ کر رہا ہے اور مبینہ طور پر بعض ناگزیر تحفظات اور مصلحتوں کو بھی نظر انداز کر رہا ہے جس کا مقصد شاید یہ ہے کہ پاکستانی عوام کو اس سلسلہ میں گزشتہ کوتاہیوں کی تلافی کا احساس دلایا جائے۔ پروپیگنڈا کے عالمی اور قومی محاذ پر اس تاثر کو اجاگر کرنے میں امریکہ اور اس کے حواریوں کو ایک حد تک کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے لیکن صورتِ حال کا حقائق اور واقعات کی بنیاد پر تجزیہ کیا جائے تو امریکہ کی اس بظاہر فراخدلی اور پاکستان دوستی کے پسِ منظر میں باہمی مفادات کے مساویانہ اشتراک یا ایک آزاد اور خودمختار قوم کو اس کی آزادی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے باوقار طور پر مدد دینے کا جذبہ کارفرما دکھائی نہیں دیتا۔ بلکہ اس ظاہری فراخدلی کی بنیاد بھی اسی مخصوص استعماری ذہنیت اور سامراجی مزاج پر کھڑی نظر آتی ہے جس کا مقصد ضرورت مند ممالک کے گرد اپنے مخصوص استعماری مفادات کے شکنجے کو تنگ سے تنگ کرتے چلے جانا ہے۔

مشروط امداد کا تصور

اس وقت امریکہ کی سینٹ اور کانگریس میں پاکستان کی فوجی و اقتصادی امداد کے لیے شرائط کا سلسلہ زیرِ بحث ہے اور امریکی سینٹ کی سترہ رکنی خارجہ تعلقات کمیٹی کی ایک قرارداد پر امریکہ کے قومی حلقے غور کر رہے ہیں جس میں ان شرائط کا تعین کیا گیا ہے جس کے تحت پاکستان کو اواکس طیارے اور دیگر فوجی و اقتصادی امداد دی جانے والی ہے۔

قرارداد کے مندرجات اور شرائط پر گفتگو سے پہلے ہم اس اصولی مسئلہ کا ذکر ضروری سمجھتے ہیں کہ آخر پاکستان کو دی جانے والی امداد شرائط کے ساتھ کیوں مشروط ہے؟ شرائط خواہ کچھ بھی ہوں جب اس امداد کا تعلق پاکستان کے یک طرفہ مفادات سے نہیں ہے اور جنوبی ایشیا میں خود امریکی مفادات کا پلڑا اس سودے میں واضح طور پر جھکا ہوا ہے تو پھر یک طرفہ شرائط کا کیا جواز ہے؟ یہ درست ہے کہ افغانستان میں مسلح روسی مداخلت اور فوج کشی اور بھارت کی جنونی قیادت کے پاکستان دشمن عزائم سے پیدا شدہ صورتِ حال میں پاکستان کے لیے اس کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں ہے کہ وہ جنوبی ایشیا میں امریکی مفادات کا سہارا لے کر علاقہ میں دفاعی توازن قائم کرنے کے لیے اس سے امداد حاصل کرے۔ لیکن یہ بات بھی بالکل اسی طرح درست ہے کہ ایران سے رضا شاہ پہلوی کی رخصتی کے بعد جنوبی ایشیا میں اپنے مفادات کی حفاظت کے لیے امریکہ کے پاس بھی کوئی ’’ گن مین‘‘ باقی نہیں رہا اور یہ ایک ایسا خلا ہے جسے پر کیے بغیر اس خطہ میں اپنی موجودگی کا تسلسل برقرار رکھنا امریکہ کے لیے ممکن ہی نہیں ہے۔ اس لیے مفادات صرف پاکستان کے نہیں امریکہ کے بھی ہیں، اور جب مفادات دو طرفہ ہیں تو باہمی مشترکہ مفادات کے تحفظ کا معاملہ طے کرتے ہوئے یک طرفہ شڑائط کی بات نہ صرف اصولوں کے منافی ہے بلکہ اس سے خود امریکہ کے خلوص اور ذہنیت کا بھی آسانی کے ساتھ اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

ہمارے نزدیک پاکستان کی امداد کے لیے امریکہ کی طرف سے لگائی جانے والی شرائط سے جو تاثر ابھرتا ہے وہ یہ نہیں ہے کہ دو آزاد اور خودمختار ملک ایک علاقہ میں باہمی مشترکہ مفادات کی بنیاد پر کوئی آزادانہ معاملہ کر رہے ہیں، بلکہ اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ ایک آقا اپنے نوکر کو کچھ بخشش دے کر ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ یہ کہہ رہا ہے کہ یہ پیسے تمہیں اس لیے دے رہا ہوں تاکہ تم فلاں فلاں کام سے باز رہو۔ اور یہ تاثر ایک آزاد اور نظریاتی مملکت کی حیثیت سے پاکستان کے لیے کسی طرح بھی عزت و وقار کا باعث نہیں ہے۔

امریکی سینٹ کی قرارداد

ان گزارشات کے بعد امریکی سینٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کی اس قرارداد پر ایک نظر ڈال لینا بھی مناسب ہوگا جسے پاکستان میں امریکی لابی پاکستان کی بہت بڑی فتح قرار دینے پر مصر ہے اور اسے امریکہ کی پرخلوص پاکستان دوستی سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ اس قرارداد کی خبر روزنامہ نوائے وقت لاہور نے ۲۵ اپریل ۱۹۸۷ء کو ’’امریکی امداد کو جمہوری عمل، انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کے ساتھ مشروط کر دیا گیا‘‘ کی شہ سرخی کے ساتھ شائع کیا جس کا متن یہ ہے:

’’امریکی سینٹ کی خارجہ تعلقات کی کمیٹی نے پاکستان کو چھ سال کے عرصے کے دوران چار ارب دو کروڑ ڈالر کی امداد کی فراہمی کے سلسلہ میں قرارداد کی آٹھ کے مقابلے میں گیارہ ووٹوں سے منظوری دے دی ہے۔ وائس آف امریکہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس قرارداد کے مسودہ میں یہ شرائط بھی شامل ہیں کہ امریکی حکومت کو ہر برس یہ تصدیق کرنا ہوگی کہ پاکستان نہ تو ایٹم بم بنا رہا ہے اور نہ ہی دوسری اقوام کو ایٹم بنانے کی تیاری میں کوئی مدد دے رہا ہے۔ وائس آف امریکہ نے مزید بتایا کہ قرارداد کے مسودہ میں امداد کی فراہمی کے ضمن میں پاکستان میں جمہوری عمل کے مسلسل جاری رہنے، انسانی حقوق کے احترام اور مذہبی آزادیوں کی شرائط بھی شامل ہیں۔ اب سینٹ اور ایوان نمائندگان میں علیحدہ علیحدہ پاکستان کو امداد کی فراہمی کی قراردادوں پر رائے شماری ہوگی اور یہ عمل جون تک مکمل ہو جائے گا۔‘‘

جبکہ روزنامہ جنگ کے خصوصی مضمون نگار جناب ارشاد احمد حقانی نے جنگ لاہور کی ۵ مئی ۱۹۸۷ء کی اشاعت میں ’’مشروط امریکی امداد اور پاکستان کا ردِعمل‘‘ کے عنوان سے اپنے مضمون میں امریکی سینٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کی مذکورہ قرارداد کے کچھ حصوں کا ترجمہ شامل کیا ہے جو ان کے الفاظ میں یوں ہے کہ

  1. صدرِ امریکہ ہر سال اس مفہوم کا ایک سرٹیفکیٹ جاری کریں گے کہ حکومتِ پاکستان ارادہ رکھتی ہے کہ پاکستان کے دستور کے مطابق ایسے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات جماعتی بنیادوں پر کرائے گی جن میں تمام اہل ووٹروں کو رائے دینے کا حق ہوگا۔ اگر کسی سال ایسا سرٹیفکیٹ جاری کرنے سے پہلے مذکورہ نوعیت کے انتخابات منعقد کرائے جا چکے ہوں گے تو سرٹیفکیٹ میں ان کا ذکر کیا جائے گا۔
  2. امریکی صدر یہ سرٹیفکیٹ بھی جاری کریں گے کہ حکومتِ پاکستان نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے ازالہ کرنے میں نمایاں اور مشہور ترقی کی ہے، خاص طور سے شہریوں کو اذیت دینے، غیر متحارب شہریوں پر مسلح حملے کرنے، طویل عرصے تک من مانے طور پر لوگوں کو نظربند رکھنے اور سیاسی بنیادوں پر قید و بند کے احکامات جاری کرنے کا عمل نمایاں طور پر کم کر دیا گیا ہے۔
  3. حکومتِ پاکستان نے پر امن اجتماعات کے انعقاد اور تمام شہریوں کے اس حق کا احترام کرنے میں نمایاں ترقی کی ہے کہ وہ سیاسی سرگرمیوں میں آزادانہ حصہ لے سکیں۔
  4. اقلیتی گروہوں مثلاً احمدیوں کو مکمل شہری اور مذہبی آزادیاں نہ دینے کی روش سے باز آرہی ہے اور ایسی تمام سرگرمیاں ختم کر رہی ہے جو مذہبی آزادیوں پر قدغن عائد کرتی ہیں۔
  5. پیرا نمبر ۹۲۷ میں منشیات کی تیاری، فروخت اور استعمال وغیرہ سے متعلق بعض شرائط عائد کی گئی ہیں جبکہ پیرا نمبر ۹۲۴ میں کہا گیا ہے کہ اگر بھارت اپنی جوہری سہولتوں اور ساز و سامان پر جامع تحفظات قبول کرے تو پاکستان کو ملنے والا استثناء ختم ہو جائے گا۔ ہاں اگر صدرِ امریکہ یہ تصدیق کر دیں کہ پاکستان نے بھی ویسے ہی تحفظات قبول کر لیے ہیں تو اس کی امداد جاری رہ سکے گی۔

یہ شرائط ہیں جو اس وقت سینٹ کی ۱۹ رکنی خارجہ تعلقات کمیٹی کے منظور کردہ مسودہ میں موجود ہیں۔ ایوانِ نمائندگان کی ۴۵ رکنی کمیٹی نے بھی کم و بیش انہی خطوط پر اپنی سفارشات تیار کی ہیں۔ دونوں کمیٹیوں کی سفارشات اب مکمل ایوانوں کے سامنے جائیں گی اور توقع یہی ہے کہ اسی شکل میں منظور ہو جائیں گی۔

یہ ہیں پاکستان کی امداد کے لیے امریکہ کی طرف سے عائد کی جانے والی وہ شرائط جو دو قومی روزناموں جنگ اور نوائے وقت کی ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی صورت میں سامنے آئی ہیں۔ ان کے علاوہ امریکہ کی طرف سے دیے جانے والے اواکس طیاروں کے لیے امریکی عملہ کو قبول کرنے کی شرط بھی عالمی پریس اور قومی اخبارات کے ذریعے سامنے آئی ہے اور اس پر قومی حلقوں میں بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے۔

ہم اپنا اصولی موقف اس سے قبل وضاحت کے ساتھ ذکر کر چکے ہیں کہ پاکستان کے لیے امریکی امداد کا مشروط ہونا ہی سرے سے محل نظر ہے اور پاکستان کے قومی وقار کا تقاضا یہ ہے کہ یہ امداد دو طرفہ مفادات کی بنیاد پر غیر مشروط ہو۔ لیکن اس اصولی موقف سے تھوڑی دیر کے لیے صرفِ نظر کر کے اگر ان شرائط کا قدرے تفصیل سے تجزیہ کیا جائے تو ہمارے نزدیک ان میں سے چار شرائط بطور خاص ایسی ہیں جن کو قبول کرنا پاکستان کی نظریاتی اساس، قومی وقار، دفاعی خودمختاری اور ملتِ اسلامیہ کے دینی تشخص کی کلیتاً نفی کر دینے کے مترادف ہوگا۔ وہ چار شرائط یہ ہیں:

  1. پاکستان ایٹم بم نہ بنائے اور نہ ہی کسی دوسرے ملک کو ایٹم بم بنانے میں مدد دے۔
  2. امریکہ اور اس کے حواریوں کے تصورات کے مطابق انسانی حقوق کی ضمانت دی جائے۔
  3. قادیانیوں کے خلاف گزشتہ آئینی و قانونی اقدامات واپس لیے جائیں اور آئندہ کوئی کارروائی نہ کرنے کا یقین دلایا جائے۔
  4. اواکس طیاروں کے لیے امریکی عملہ قبول کیا جائے۔

ایٹم بم کا مسئلہ

جہاں تک پاکستان کو ایٹم بم بنانے سے روکنے کا مسئلہ ہے یہ عالمی قوتوں کی اس طے شدہ پالیسی کا حصہ ہے کہ عالمِ اسلام کے کسی ملک کو ایٹمی قوت کے قریب نہ پھٹکنے دیا جائے کیونکہ وہ اپنے طور پر یہ سمجھے بیٹھی ہیں کہ مسلمانوں کے اندر جہاد کا جو جذبہ ہے اگر وہ منظم ہوگیا اور اسے ایٹمی قوت کا سہارا بھی مل گیا تو جذبے اور قوت کا یہ امتزاج مسلمانوں میں عظمتِ رفتہ کی بحالی کے تصور کو اجاگر کر دے گا۔ اور ملتِ اسلامیہ کی عظمتِ رفتہ کی بحالی کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں کہ ملتِ اسلامیہ ایک بار پھر عالمی قوت کی حیثیت سے ابھرے اور اپنے دورِ زوال کے عرصے میں جنم لینے والے سیاسی، نظریاتی اور معاشی نظاموں کو میدانِ عمل میں شکست دے کر دنیا میں ایک بار پھر اسلام کی بالادستی کا پرچم بلند کر دے۔ یہی وہ خوف ہے جو عالمی قوتوں کو مسلم ممالک کے اندرونی معاملات میں زیادہ سے زیادہ دخیل ہونے پر مجبور کر رہا ہے اور اس خوف کی ایک ہلکی سی جھلک امریکہ کے سابق صدر مسٹر نکسن کی طرف سے روسی دانشوروں کو دی جانے والی اس دعوت میں دیکھی جا سکتی ہے جس میں انہوں نے عالمِ اسلام کے مختلف ممالک میں ابھرنے والی دینی بیداری کی تحریکات کو امریکہ اور روس کے لیے مشترکہ خطرہ قرار دیتے ہوئے روسی دانشوروں کو یہ دعوت دی ہے کہ وہ اس خطرہ کا احساس کریں اور امریکہ کے ساتھ اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر عالمِ اسلام کی دینی بیداری کی تحریکات کو غیر مؤثر بنانے کے لیے امریکی دانشوروں کے ساتھ مل کر مشترکہ حکمتِ عملی وضع کریں۔

سامراجی قوتوں کا یہ خوف بجا ہے لیکن اس خطرہ کو روکنے کے لیے مسلمانوں کو ایٹمی قوت اور نظریاتی بیداری سے محروم رکھنے کی سازشیں کرنا ایسا طریقِ کا رنہیں ہے جسے جرأت مندانہ یا اخلاقی طرزِ عمل قرار دیا جا سکے۔ مقابل کو ہتھیاروں اور مقابلہ کے مساویانہ ذرائع سے محروم رکھنے کی سوچ بنیادی طور پر خود اعتمادی کے فقدان کی دلیل ہے۔ امریکہ، روس اور دیگر بڑی قوتوں میں اپنے نظریات اور نظاموں کے بارے میں خود اعتمادی کا یہ فقدان ہی ان قوتوں کی ایسی پالیسیوں کا باعث بن رہا ہے جن کا مقصد عالمِ اسلام کو جدید ترین ٹیکنالوجی، ایٹم بم کی دفاعی قوت اور نظریاتی بیداری سے ہر حالت میں اور ہر قیمت پر روکنا ہے۔ ہمیں عالمی قوتوں کی اس اجارہ دارانہ روش کے بارے میں بہرحال کوئی دوٹوک موقف اختیار کرنا ہوگا۔ مسلمان دنیا میں ایک ارب کے قریب ہیں اور ان کے آزاد ممالک کی تعداد نصف صد کے لگ بھگ ہے لیکن وہ ایٹم بم جیسے ضروری ہتھیار سے محروم ہیں۔ عراق کا ایٹمی مرکز تباہ کر دیا گیا ہے جبکہ پاکستان کی ایٹمی تنصیبات ہر وقت دشمن کے حملے کی زد میں ہیں اور عالمی قوتوں کی مسلسل سازشوں کے حصار میں ہیں۔ آخر ایسا کیوں ہے؟ اگر امریکہ، روس، برطانیہ، فرانس اور چین ایٹم بم بنا سکتے ہیں تو پاکستان کو اس کا حق کیوں نہیں ہے؟ اور اگر ان اجارہ دار قوتوں کو بھارت اور اسرائیل کا ایٹمی قوت ہونا گوارا ہے تو پاکستان کے ایٹمی قوت ہونے کے تصور سے ان کی نیندیں کیوں حرام ہو جاتی ہیں۔ ایٹم بم پاکستان کا بلکہ عالمِ اسلام کا حق ہے، اور صرف حق نہیں بلکہ قرآنِ کریم کی زبان میں یہ ان کا مذہبی فریضہ ہے کہ وہ وقت کی جدید ترین قوت کو اس حد تک حاصل کریں جس سے وہ اپنے دشمن کو خوفزدہ کر سکیں اور طاقت کا توازن ان کے حق میں ہو۔ آخر امریکہ اور روس کی فوجی پالیسوں کا محور بھی تو یہی ہے کہ مخالف پر رعب اور خوف کی کیفیت طاری کر کے طاقت کے توازن کو اپنے حق میں رکھا جائے۔ اس لیے اگر یہی بات قرآن کریم نے مسلمانوں سے کہہ دی ہے اور مسلمان اس مذہبی فریضہ کی تکمیل کے لیے ایٹم بم بنانے کے خواہاں ہیں تو اس پر پیشانیوں کو شکن آلود کر لینے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

ہمارے نقطۂ نظر سے ایٹم بم پاکستان کی ضرورت اور اس کا جائز حق ہے اور اسے اس حق سے محروم رکھنے کی کوئی بھی کوشش پاکستان کے ساتھ دوستی کا عنوان اختیار نہیں کر سکتی۔ اس پسِ منظر میں ہم یہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ کی طرف سے پاکستان کی امداد کے لیے ایٹم بم نہ بنانے کی شرط سراسر غیر منصفانہ ہے جس کے بارے میں حکومتِ پاکستان کو دوٹوک اور جرأت مندانہ موقف اختیار کرتے ہوئے اسے یکسر مسترد کر دینا چاہیے۔

انسانی حقوق کے نام پر

حکومتِ پاکستان کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ازالہ کرنے کا پابند بنانے کی امریکی شرط بظاہر ایک بے ضرر بلکہ انسانی ہمدردی پر مبنی شرط دکھائی دیتی ہے لیکن اس شرط کے منظرِ عام پر آتے ہی پاکستان میں ایک منظم مہم کے ذریعے اسے جو مفہوم اور معنی پہنایا جا رہا ہے اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

۲۵ اپریل ۱۹۸۷ء کو پاکستانی اخبارات نے وائس آف امریکہ کے حوالہ سے ان امریکی شرائط کی خبر شائع کی ہے اور ۲۵ اپریل کو ہی لاہور میں ’’انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان‘‘ کے نام سے ایک تنظیم نے جنم لیا ہے جس کے سربراہ سابق جسٹس جناب دراب پٹیل چنے گئے ہیں اور سیکرٹری جنرل کا منصب بیگم عاصمہ جہانگیر کے حصہ میں آیا ہے۔ سابق جسٹس دراب پٹیل کا تعلق پارسی مذہب سے ہے اور بیگم عاصمہ جہانگیر ایک قادیانی جہانگیر ایڈووکیٹ کی اہلیہ ہیں۔ جناب دراب پٹیل نے انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کے پہلے عام اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انسانی حقوق کے بارے میں کمیشن کے تصورات کی وضاحت کی ہے اور اس ضمن میں یہ صراحت بھی کر دی ہے کہ

’’انہوں نے کہا کہ کمیشن کو بہت سے ایسے قوانین منسوخ کرانے کی کوشش بھی کرنا ہوگی جو یکطرفہ ہیں اور جن سے قانون کی خلاف ورزی کا راستہ کھلتا ہے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں حدود آرڈیننس، قانونِ شہادت میں مرد و عورت کی حیثیت، غیر مسلموں کو مسلمانوں کی شہادت اور عورت کو مرد کی گواہی پر سزا، قادیانیوں اور احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے والا قانون، جداگانہ انتخابات کا قانون اور سیاسی جماعتوں کا قانون جیسے قوانین کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان قوانین کو باقی رکھنے سے ملک کی یک جہتی کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔‘‘ (روزنامہ نوائے وقت، لاہور ۔ ۲۵ اپریل ۱۹۸۷ء)

اس کے بعد اس نام نہاد انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان نے انسانی حقوق کا ایک باضابطہ ڈیکلیریشن تیار کیا ہے جو کمیشن کی سیکرٹری جنرل بیگم عاصمہ جہانگیر کی طرف سے جاری کیا گیا ہے۔ اس ڈیکلیریشن کے بارے میں روزنامہ نوائے وقت لاہور کی ۲۷ اپریل کی اشاعت میں شائع ہونے والی رپورٹ کے اہم حصے یہ ہیں:

’’انسانی حقوق کے نوتشکیل شدہ انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کی جنرل باڈی کے اجلاس میں مختلف قراردادوں پر مشتمل جو ڈیکلیریشن تیار کیا گیا ہے اس میں درج ایک قرارداد میں تعزیراتِ پاکستان اور حدود آرڈیننس کے تحت بعض سزاؤں کو ظالمانہ اور غیر انسانی قرار دیا گیا ہے اور مطالبہ کیا گیا ہے کہ سنگسار کرنے اور پھانسی پر لٹکانے سے متعلق موت کی سزا فوری طور پر ختم کر دی جائے۔ قرارداد میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ کوڑے لگانے، ہاتھ کاٹنے اور قید تنہائی میں رکھنے کی سزائیں ختم کی جائیں۔ ڈیکلیریشن میں تمام مذہبی اقلیتوں کے حقوق کی تائید کی گئی اور اس ضرورت پر زور دیا گیا کہ حکومت یا کسی بھی شخص کو براہِ راست یا بالواسطہ دوسرے مذہب یا فرقے کے معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔‘‘

امریکی سینٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کی طرف سے پاکستان کی امداد کے سلسلہ میں عائد کی جانے والی شرائط میں انسانی حقوق کی ضمانت کے ذکر کے ساتھ ہی پاکستان میں انسانی حقوق کی تشکیل اور اس کی طرف سے حدود آرڈیننس، قانونِ شہادت، قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے، ہاتھ کاٹنے، کوڑے مارنے، سنگسار کرنے اور جداگانہ انتخابات جیسے قوانین کو انسانی حقوق کے منافی اور ظالمانہ قوانین قرار دے کر ان کی منسوخی کی مہم کا مقصد اور مطلب اس کے سوا کیا لیا جا سکتا ہے کہ امریکی شرائط میں انسانی حقوق کا ذکر بھی دراصل پاکستان میں اسلامی قوانین کے نفاذ کو روکنے اور قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے والا قانون منسوخ کرانے کے لیے ہے۔ اس لیے ہمارے نزدیک یہ شرط اسلامی نظامِ عدل پر ایک شرمناک حملہ ہے جسے نہ صرف حکومتِ پاکستان کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کر دینا چاہیے بلکہ اسلامی قوانین کی بالواسطہ مخالفت پر حکومتِ امریکہ سے باضابطہ احتجاج بھی کرنا چاہیے۔

قادیانیوں کی مذہبی آزادی

امریکی سینٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی نے قادیانیوں کو وفاداری کا باضابطہ سرٹیفکیٹ جاری کرنا بھی مناسب خیال کیا ہے جس کا فائدہ قادیانیوں کو تو سرِدست یہ ہوگا کہ وہ اپنے مذہب کے پیروکاروں کے تیزی کے ساتھ گرتے ہوئے مورال کو یہ کہہ کر بحال کرنے کی کوشش کر سکیں گے کہ اب کوئی فکر کی بات نہیں، امریکہ نے ہماری حمایت میں حکومتِ پاکستان کو ڈانٹ دیا ہے۔ لیکن اس نقصان کی تلافی شاید اب قادیانی قیادت کے بس میں کبھی نہیں ہوگی کہ امریکی سینٹ کی اس قرارداد نے سامراجی گروہ کے سامراجی ایجنٹ ہونے پر ہمیشہ کے لیے ناقابلِ تردید مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے۔ لیکن اس سے قطع نظر امریکی قرارداد کے اس پہلو کا حقیقت پسندانہ تجزیہ کیا جائے تو یہ امریکی راہنماؤں کی جانبداری، مسلمانوں کے خلاف عصبیت اور اجارہ دارانہ ذہنیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کیونکہ قادیانی مسلم تنازعہ کو مذہبی معتقدات کے مباحث سے الگ کر کے بھی دیکھا جائے تو صورتحال یہ نہیں ہے کہ مسلمانوں کے ہاتھوں قادیانیوں کے حقوق مجروح ہو رہے ہیں بلکہ درحقیقت قادیانی اقلیت اپنے سامراجی آقاؤں کی شہ پر مسلمانوں کے جائز حقوق کو غصب کر رہی ہے اور امریکہ جیسی عالمی قوتیں انصاف کے تمام تقاضوں کو نظر انداز کرتے ہوئے قادیانیوں کی پشت پناہی کر رہی ہیں۔

قادیانی مسلم تنازعہ کا ایک سادہ سا منظر یہ ہے کہ قادیانی گروہ مسلمانوں سے الگ ایک نئی مذہبی امت ہے اور اس وقت دنیا میں موجود ایک ارب کے قریب مسلمانوں کے وجود کا حصہ نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے خود قادیانی بھی انکار نہیں کرتے لیکن اس کھلم کھلا اور واضح حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے بھی وہ خود کو مسلمان کہلانے اور اسلام کا نام اور مسلمانوں کے مخصوص مذہبی شعائر، علامات اور امتیازات استعمال کرنے پر ہٹ دھرمی کی حد تک مصر ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب قادیانی حضرات مسلمانوں کے وجود کا حصہ نہیں ہیں تو جو نام، اصطلاحات اور علامات پندرہ سو برس سے مسلمانوں کے ساتھ مخصوص چلی آرہی ہیں ان کے استعمال پر قادیانیوں کو اصرار کیوں ہے؟

مسلمانوں کا موقف یہ ہے کہ قادیانیوں کی طرف سے اسلام کا نام اور مسلمانوں کی مذہبی علامات کے استعمال سے یہ نظر آتا ہے کہ دونوں ایک مذہب کے پیروکار ہیں جبکہ حقیقتاً ایسا نہیں ہے۔ اس سے اشتباہ پیدا ہوتا ہے اور مسلمانوں کا دینی تشخص اور مذہبی امتیاز مجروح ہوتا ہے۔ اور قادیانی خود بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ان کا اور مسلمانوں کا مذہب الگ الگ ہے۔ اپنے دینی تشخص اور مذہبی امتیاز کا تحفظ دنیا کے دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کی طرح مسلمانوں کا بھی جائز، قانونی اور اخلاقی حق ہے۔ قادیانی اس حق کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور مسلمانوں کے حق کو غصب اور مجروح کرنے پر بضد ہیں۔ اس لیے پاکستان کے دستور میں انہیں غیر مسلم قرار دیا گیا ہے اور انہیں اسلامی اصطلاحات و علامات کے استعمال سے روکنے کے لیے صدارتی آرڈیننس نافذ کیا گیا ہے۔ لیکن امریکہ کے نام نہاد دانشور مسلمانوں کو ان کے دینی تشخص کے تحفظ کا حق دلوانے کی بجائے قادیانیوں کو دنیا کے سامنے دھوکہ اور اشتباہ کی فضا قائم رکھنے کا خودساختہ حق دلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر حق اسی کا نام ہے تو پھر امریکی سینٹ کے ارکان کو امریکہ کی جیلوں میں پڑے ہوئے ان لوگوں کو بھی یہ حق دلانے کی مہم چلانی چاہیے جو دھوکہ اور فراڈ کے کیسوں میں سزائیں بھگت رہے ہیں، یا جن پر دوسرے لوگوں کی فرموں اور اداروں کا نام اور ٹریڈ مارک غلط طور پر استعمال کر دھوکہ دینے کے الزام میں مقدمات چل رہے ہیں۔ آخر ان کا قصور قادیانیوں سے مختلف تو نہیں ہے، وہ بھی تو یہی کچھ کر رہے ہیں جو قادیانی گروہ کر رہا ہے۔ اپنے وطن سے ہزاروں میل دور ایک گروہ کی دھوکہ دہی کو تحفظ دینے والے امریکی سینیٹرز اپنے ملک کے دھوکہ بازوں کے حقوق کے تحفظ کا پرچم بھی بلند کریں تاکہ دنیا یہ سمجھ سکے کہ امریکی دانشوروں کا انصاف کا اصول سب کے لیے یکساں ہے۔

الغرض پاکستان کی امداد کے لیے امریکی شرائط میں قادیانیت کے تحفظ کی صراحت مسلمانوں کے دینی تشخص کے تحفظ کے جائز حق کی نفی کے مترادف ہے جسے حکومتِ پاکستان کو کسی تامل اور تاخیر کے بغیر مسترد کر دینا چاہیے۔

امریکی عملہ قبول کرنے کی شرط

اواکس طیاروں کے لیے امریکی عملہ کو قبول کرنے کی شرط اپنے فنی تقاضوں کے لحاظ سے جس قدر بھی پیچیدہ ہو ہمارے لیے اس کے نتائج کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہے۔ حکومتِ پاکستان اب تک امریکہ کو پاکستان میں اڈے نہ دینے کے موقف کا کھلم کھلا اظہار کرتی رہی ہے اور اب انہی اڈوں پر امریکی عملہ کے براہ راست عمل دخل سے اس موقف میں کوئی وزن باقی نہیں رہ جائے گا۔ اور اس سے نہ صرف پاکستان کی دفاعی خودمختاری کا تصور مجروح ہوگا بلکہ علاقائی کشمکش میں روس کے براہِ راست ملوٹ ہونے کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اس لیے ہمارے نزدیک اس شرط کو قبول کرنا بہرصورت پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے۔

پاکستان کی امداد کے لیے امریکی شرائط پر اس گفتگو کا مقصد جہاں حکومتِ پاکستان کو اس سلسسلہ میں ملک کے دینی و عوامی حلقوں کے جذبات کی طرف توجہ دلا کر اسے اس ضمن میں عوامی جذبات سے ہم آہنگ موقف اختیار کرنے پر آمادہ کرنا ہے، وہاں اس سے ہماری غرض پاکستان کے قومی اور دینی حلقوں کو بھی اس طرف متوجہ کرنا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں اور پاکستان کو امریکی سامراج کی پالیسیوں کی ’’ریموٹ کنٹرول غلامی‘‘ سے نجات دلانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ پاکستان ایک آزاد اور خودمختار ملک ہے جس سے عالمِ اسلام کی بہت سی توقعات وابستہ ہیں۔ اگر پاکستان خود اپنی آزادی اور خودمختاری کو ہی قائم نہ رکھ سکا تو وہ عالمی مسلم برادری کی توقعات اور آرزوؤں پر کیسے پورا اتر سکے گا؟

ہمیں یقین ہے کہ پاکستان کے دینی و قومی حلقے باہمی اختلافات کو بالائے طاقت رکھتے ہوئے اگر اس سلسلہ میں مشترکہ لائحہ عمل کی راہ اختیار کریں اور امریکی دانشوروں پر یہ بات کھل کر واضح کر دیں کہ پاکستان کی رائے عامہ امریکی شرائط کو اپنی آزادی، خودمختاری، مذہبی معتقدات اور دینی تشخص کے منافی سمجھتی ہے تو امریکہ کے لیے ان شرائط پر نظرِ ثانی کے سوا کوئی چارہ کار نہیں ہوگا۔ لیکن اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ پاکستان کے دینی اور قومی حلقے اس سلسلہ میں کس حد تک سنجیدگی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔