بلوچستان امن و انصاف مانگتا ہے

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۵ اپریل ۱۹۷۴ء

بلوچستان نیشنل عوامی پارٹی کے راہنما جناب احمد نواز بگتی گزشتہ روز لاہور تشریف لائے اور پارٹی ورکروں کے اجتماع سے خطاب کے علاوہ ایک مقامی روزنامہ کو انٹرویو بھی دیا جس میں انہوں نے بلوچستان کے سیاسی حل کے بارے میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی طرف سے متوقع اعلان، بلوچستان کی سیاسی صورتحال اور مسئلہ بلوچستان کے صحیح حل کے سلسلہ میں چند فکر انگیز باتیں کی ہیں۔ بلوچستان کی نازک صورتحال اور وزیراعظم بھٹو کے متوقع اعلان کے پیش نظر بگتی صاحب کے ان خیالات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اس لیے ان کے خطاب اور انٹرویو کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

  1. وزیراعظم بھٹو بلوچستان کے اسیر راہنماؤں کو پیغامات بھجوا رہے ہیں اور کوئی سمجھوتہ کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن ہمارے ساتھی سمجھتے ہیں کہ یہ سمجھوتہ پاکستان کے مفاد کے منافی ہوگا اس لیے بھٹو صاحب کی اس پیشکش کو مسترد کر دیا گیا ہے۔
  2. ہم نے ہتھیار اٹھا کر پہاڑوں کا رخ اس لیے کیا ہے کہ ہم پر اظہار خیال اور رابطہ عوام کے تمام دروازے بند کر دیے گئے ہیں۔ اگر آج ہمیں کوئی بتا دے کہ مسلح جدوجہد کے سوا کوئی دوسرا راستہ کھلا ہے تو ہم ہتھیار پھینک دیں گے۔ بلوچستان کی حالت یہ ہے کہ عوام کے منتخب نمائندوں کو عوام کی نمائندگی سے روک دیا گیا ہے اور ہر جمہوری طریقہ کار کو ختم کر کے بے بس کر دیا گیا ہے۔
  3. بلوچستان کے سیاسی مسئلہ کا حل صرف سیاسی ہو سکتا ہے۔ اور ضروری ہے کہ کسی قسم کی مصالحت اور سمجھوتے سے قبل (۱) نیشنل عوامی پارٹی کے اسیر راہنماؤں کو رہا کیا جائے، (۲) ان کی حکومت کو جوں کا توں بحال کیا جائے اور (۳) فوج کو واپس بلا لیا جائے۔ اگر سیاسی حل تلاش نہ کیا گیا تو ہم ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔
  4. پنجاب کے عوام حالات کی نزاکت کا احساس کریں کیونکہ مسٹر بھٹو کہتے ہیں کہ جب تک پنجاب میرے ساتھ ہے، سرحد ، سندھ اور بلوچستان میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ ہم اہل پنجاب کو ہتھیار اٹھانے کو نہیں کہتے لیکن وہ ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لیے تو جدوجہد کریں۔ پنجاب کے اس رویہ کی وجہ سے مسٹر بھٹو اپنے بنائے ہوئے آئین کی بھی پرواہ نہیں کرتے۔
  5. نیشنل عوامی پارٹی پر سرداری نظام کے تحفظ کا الزام قطعاً بے بنیاد ہے۔ کیونکہ صرف دو سردار عطاء اللہ خان مینگل اور خیر بخش مری نیپ میں ہیں، باقی ماندہ سردار تو پیپلز پارٹی کے حامی ہیں۔ اگر ہماری جدوجہد کا مقصد اپنی سرداریوں کا تحفظ ہوتا تو ہم یقیناً پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرتے، اس طرح کوئی ہمیں ہاتھ بھی نہ لگا سکتا تھا۔
  6. سرداروں پر سڑکوں کی تعمیر کا مخالف ہونے کا الزام بھی غلط ہے، وہ کیسے سڑک کی تعمیر کے مخالف ہو سکتے ہیں، کیا انہیں سفر کرنا نہیں ہوتا؟
  7. بلوچستان میں نئے انتخابات کی بات کی جاتی ہے لیکن ایسا صرف بلوچستان میں کیوں؟ پورے ملک میں نئے انتخابات ہو سکتے ہیں۔ اگر ہم ۱۹۷۰ء کے انتخابات کو قبول کرتے ہیں تو وزیراعظم ایسا کیوں نہیں کرتے؟
  8. میری رائے میں افغانستان کے صدر داؤد خان جیسے ہی اپنا اقتدار مستحکم کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے وہ پاکستان کے خلاف اپنی مہم تیز کر دیں گے۔ اس ضمن میں وہ سرحد پار بلوچستان میں انتہا پسند عناصر کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ انہیں یہ کامیابی اس لیے حاصل ہوگی کہ بلوچستان اب ایک ایسا صوبہ ہے جہاں کے عوام کے سیاسی حقوق غصب کیے جا چکے ہیں اور جنہیں ظلم اور متشددانہ کاروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ وزیراعظم بھٹو نے خود کہا ہے کہ بلوچستان میں فوج ملک کے دشمنوں کے خلاف لڑ رہی ہے۔ ایسے ماحول میں وہاں کے عوام کا کابل کا حامی اور ایران کا مخالف ہونا قدرتی امر ہے۔ افغانستان کے اس پروپیگنڈا میں شدت آجائے گی کہ بلوچ عوام کو گزشتہ چھبیس برس کے دوران ان کے سیاسی حقوق نہیں ملے، بلوچ عوام اگر افغانستان کے ساتھ ہاتھ ملالیں تو پٹھان اور بلوچوں کو برابر کے حقوق ملیں گے۔ افغانستان کا یہ پراپیگنڈا کارگر ثابت ہوگا۔

    بلوچستان نیشنل عوامی پارٹی کی قیادت کا جیلوں میں بند ہونا اس ملک کے لیے سب سے بڑا المیہ ہے۔ ان راہنماؤں کی عدم موجودگی میں قیادت لازمی طور پر نوجوان اور انتہا پسند عناصر کے ہاتھوں میں چلی جائے گی جن سے سمجھوتہ کرنا یا انہیں راہ راست پر لانا تقریباً ناممکن ہوگا۔

  9. ہم اس اسمبلی کو تسلیم نہیں کرتے جس میں ہماری اکثریت ڈنڈے کے زور اور دیگر ذرائع استعمال کر کے ختم کی گئی ہے۔ مولوی شمس الدین کو شہید کر دیا گیا ہے۔ گل خان نصیر، عطاء اللہ مینگل، خیر بخش مری اور دوست محمد جیل میں ہیں۔ مسٹر عبد الرحمان کو مفرور قرار دیا جا چکا ہے۔ ڈنڈے کے زور اور ڈرا دھمکا کر قائم کی گئی اکثریت کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔ اگر وزیراعظم بھٹو ۱۹۷۰ء کے عام انتخابات کی بنیاد پر مرکز، پنجاب اور سندھ میں اپنی اکثریت کے بل بوتے پر حکومت کے حق کو جتاتے ہیں تو انہیں ان انتخابات کے نتیجہ میں قائم شدہ ہماری اکثریت کو بھی تسلیم کرنا چاہیے۔
  10. افغانستان کے ساتھ بلوچستان نیشنل عوامی پارٹی کے رابطے کی افواہیں بھی بے سروپا ہیں۔ ہمارا افغانستان کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ ہمارا مستقبل تو پاکستان اور اس کی سالمیت کے ساتھ وابستہ ہے، اس کے سوا ہمارا کوئی مستقبل نہیں۔ (بحوالہ نوائے وقت لاہور ۔ ۶ اپریل ۱۹۷۴ء)

احمد نواز بگتی صاحب کے ان واضح ارشادات کے بعد بلوچستان کی صورتحال کے بارے میں اور کسی وضاحت کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔ ہم وزیراعظم بھٹو سے گزارش کریں گے کہ بلوچستان امن و انصاف کا طلبگار ہے۔ بلوچستان کے عوام کو الزامات کے تیروں، تشدد کی ضربوں اور گولیوں سے چھلنی کرنے کی بجائے ان کے زخموں پر مرہم رکھیے۔ انہیں انصاف اور امن دیجئے، اپنے متوقع اعلان میں بلوچستان کے مظلوم عوام کو محبت اور اعتماد کے ساتھ ان کے انسانی، جمہوری و آئینی حقوق کی بحالی کا مژدہ سنائیے۔ اس میں آپ کی نیک نامی ہے اور یہی ملکی سالمیت کے تحفظ اور قومی استحکام کی واحد بنیاد ہے۔

اب دیکھیے وزیراعظم کا ’’اعلان بلوچستان‘‘ بلوچ عوام کو امن و انصاف کی نوید دیتا ہے یا بھٹو صاحب کی مخصوص سیاسی حکمت عملی پر نیا خوشنما لیبل ثابت ہوتا ہے۔