گلگت بلتستان کا اصل مسئلہ کیا ہے؟

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۳۱ اکتوبر ۲۰۰۹ء

ستمبر کے آخر میں بلتستان کے پانچ روزہ سفر کے دوران مجھے گلگت بلتستان کو داخلی خودمختاری کے پیکیج کے تحت صوبائی درجہ دینے کے بارے میں مختلف طبقات کے لوگوں سے گفت و شنید کا موقع ملا، ان میں علماء کرام بھی ہیں، سیاسی جماعتوں کے رہنما بھی ہیں، صحافی حضرات بھی ہیں اور انتظامیہ و عدلیہ کے بعض اعلیٰ افسران بھی شامل ہیں۔ ان حضرات کے تاثرات ملے جلے ہیں، حمایت کرنے والے لوگ بھی موجود ہیں اور مخالفت کرنے والوں کی کمی بھی نہیں، جبکہ حمایت کے باوجود تحفظات رکھنے والے حضرات بھی اچھی خاصی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔

گلگت بلتستان کے نام سے کم و بیش ساڑھے ۷۲ ہزار مربع کلو میٹر پر مشتمل اس علاقہ کی آبادی ۲۲ لاکھ کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔ یہ دنیا کے تین بلند ترین پہاڑی سلسلوں ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش پر پھیلا ہوا ہے اور عوامی جمہوریہ چین اور جنوبی ایشیا کے درمیان رابطے کا ذریعہ ہے۔ اس کی سرحدیں افغانستان، مقبوضە کشمیر، آزاد کشمیر اور وسطی ایشیا کی ریاستوں تک وسیع ہیں اور اس کا ایک حصہ لداخ کے ساتھ اور دوسرا حصہ چین کے صوبہ سنکیانگ سے ملا ہوا ہے۔ کسی زمانے میں اس خطہ میں بلورستان، دردستان اور بوشال کی آزاد ریاستیں قائم تھیں اور انہی میں سے ایک کی یاد میں ’’بلورستان نیشنل فرنٹ‘‘ کے نام سے جناب نواز ناجی کی قیادت میں آج بھی ایک سیاسی گروپ کام کر رہا ہے جس کا مقصد اس علاقہ کو ازسرنو ایک آزاد ریاست کی شکل دینا ظاہر کیا جاتا ہے۔ انیسویں صدی میں اس خطہ پر سکھوں کا قبضہ ہوا، پھر اسے جموں و کشمیر کی ڈوگرہ ریاست کا حصہ بنا لیا گیا اور تقریباً ایک سو سال گلگت بلتستان کا یہ علاقہ ڈوگرہ حکومت کے زیرتسلط رہا۔

برطانوی حکومت نے کشمیر کا صوبہ جموں کو ڈوگرہ مہاراجہ کے ہاتھ فروخت کر دیا لیکن ۱۹۳۵ء میں اسی ڈوگرہ مہاراجہ سے گلگت کا علاقہ ۶۰ سال کے لیے پٹہ پر حاصل کر لیا۔ جس کے بعد تقسیم ہند اور قیام پاکستان تک یہ صورتحال رہی کہ گلگت پر انگریز ریزیڈنٹ کی حکومت تھی جبکہ سکردو میں ڈوگرہ حکومت کی طرف سے مقرر کردہ گورنر حکومت کرتا تھا۔ ۱۹۴۷ء سے کچھ عرصہ پہلے برطانوی حکومت نے یہ پٹہ منسوخ کر کے گلگت کا علاقہ ڈوگرہ حکومت کو واپس کر دیا اور ڈوگرہ کی طرف سے بریگیڈیئر گھنسارہ سنگھ کو گلگت کا گورنر مقرر کیا گیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد گلگت کے عوام نے گھنسارہ سنگھ کے خلاف ہتھیار اٹھا لیے اور شاہ رئیس خان نامی ایک راجہ نے ’’جمہوریہ گلگت‘‘ کے نام سے آزاد ریاست کے قیام کا اعلان کر دیا۔ یکم نومبر ۱۹۴۷ء کو جمہوریہ گلگت کے قیام کا اعلان کیا گیا اور گھنسارہ سنگھ کو گرفتار کر کے اقتدار سے محروم کر دیا گیا۔ مگر یہ آزاد ریاست دو ہفتے سے زیادہ نہ چل سکی۔ ایک روایت یہ بھی سننے میں آئی ہے کہ معروف کشمیری رہنما چودھری غلام عباس مرحوم اس موقع پر حرکت میں آئے اور انہوں نے گلگت کے بعض ذمہ دار حضرات سے رابطہ کیا جن میں مرکزی جامع مسجد گلگت کے خطیب مولانا قاضی عبد الرزاق فاضل دیوبند بھی شامل تھے، ان لوگوں نے ڈوگرہ حکومت کے خلاف گلگت کے عوام کی جنگ آزادی کی قیادت کی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ چودھری غلام عباس مرحوم کی تحریک پر ان رہنماؤں نے ’’آزاد جمہوریہ گلگت‘‘ کی مخالفت کی جس پر حکومت پاکستان کے ساتھ رابطہ کر کے ’’معاہدۂ کراچی‘‘ کے تحت اس خطہ پر حکومتِ پاکستان کی عملداری کو قبول کر لیا گیا اور ۱۶ نومبر ۱۹۴۷ء کو حکومتِ پاکستان کے پولیٹیکل ایجنٹ سردار محمد عالم خان نے گلگت کا انتظام سنبھال لیا۔

دوسری طرف بلتستان کے عوام نے بھی ڈوگرہ گورنر کے خلاف ہتھیار اٹھا لیے اور پاک فوج کے ایک کرنل محمد اسلم خان مرحوم نے، جو ایئرمارشل (ر) اصغر خان کے بھائی تھے، اس مسلح بغاوت میں بلتستان کے عوام کی قیادت کی۔ علاقہ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ بلتستان کے لوگوں کو ڈوگرہ راج سے آزادی ۱۴ اگست ۱۹۴۸ء کو حاصل ہوئی، پھر اسے بھی گلگت کے ساتھ معاہدۂ کراچی میں شامل کر لیا گیا۔ سکردو کے بعض حضرات نے یہ بھی بتایا کہ کرنل محمد اسلم خان مرحوم کی سربراہی میں عوامی فوج لداخ کے راستے سری نگر کے قریب پہنچ چکی تھی، وہ سری نگر میں داخل ہونے کی تیاری کر رہے تھے کہ پاک فوج کے انگریز کمانڈر انچیف کے حکم پر انہیں واپس آنا پڑا اور وہ پیش قدمی کی بجائے پسپائی پر مجبور ہوگئے۔ کرنل محمد اسلم خان مرحوم نے، جو بعد میں بریگیڈیئر بنے، بلتستان میں ہی مستقل قیام اختیار کر لیا۔ میں نے سکردو کے قریب ایک خوبصورت جھیل کے کنارے ان کی رہائش دیکھی ہے۔

گلگت بلتستان کو اس کے بعد وفاق کے زیرانتظام علاقوں میں شامل کر لیا گیا اور چونکہ یہ خطہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جموں و کشمیر کا تنازع کھڑا ہونے سے قبل ریاست جموں و کشمیر کا ایک صدی سے حصہ چلا آرہا تھا اس لیے بین الاقوامی نقشوں میں یہ خطہ بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان متنازعہ علاقہ شمار ہونے لگا۔ اسے اگر آزاد ریاست جموں و کشمیر کا حصہ قرار دے کر اسی طرح کے سیاسی حقوق دے دیے جاتے جیسے آزاد جموں و کشمیر کی ریاست کے عوام کو دیے گئے تو شاید کوئی مسئلہ پیدا نہ ہوتا۔ لیکن ایک طرف آزاد جموں و کشمیر کی ریاست کی جداگانہ حیثیت تسلیم کر کے وہاں کے عوام کو سیاسی و شہری حقوق دیے گئے، دوسری طرف گلگت بلتستان کے عوام ان حقوق سے مسلسل محروم رہے جس کی وجہ سے احساس محرومی نے جنم لیا اور اس خطہ کے عوام نے اپنے لیے سیاسی حقوق کے مطالبات شروع کر دیے جو ان کا جائز حق تھا۔ مگر گلگت بلتستان کے عوام کے سیاسی و شہری حقوق کا مسئلہ دو طرفہ تحفظات کے دائرے میں محصور رہا:

  1. ایک طرف کشمیری رہنماؤں کے یہ تحفظات تھے کہ چونکہ گلگت بلتستان کا علاقہ بین الاقوامی طور پر متنازعہ ہے اور اس کے مستقبل کا فیصلہ جموں و کشمیر کے ساتھ ہونا ہے اس لیے اسے پاکستان کا حصہ قرار دینے سے بین الاقوامی فورم پر مسئلہ کشمیر کو نقصان پہنچے گا اور پاکستان کا موقف کمزور ہو جائے گا۔
  2. دوسری طرف گلگت بلتستان کے عوام کا یہ مطالبہ تھا کہ انہیں سیاسی و شہری حقوق سے محروم رکھنا ان کے ساتھ نا انصافی ہے۔

چنانچہ اس سلسلہ میں سب سے پہلے وزیراعظم محمد خان جونیجو مرحوم کے دور حکومت میں اس طرف پیش رفت ہوئی کہ انہوں نے سکردو کے دورے کا اعلان کیا کہ وہ وفاقی کابینہ میں شمالی علاقہ جات سے ایک مشیر لے کر اس خطہ کو حکومت میں نمائندگی دے رہے ہیں۔ اس اعلان کا کشمیری قیادت کی طرف سے نوٹس لیا گیا۔ اس موقع پر راقم الحروف نے جمعیۃ علماء اسلام (درخواستی گروپ) کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے کشمیری و قومی رہنماؤں کو ایک عرضداشت ارسال کی تھی جس کا ایک حصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے:

’’گزشتہ دنوں پاکستان کے وزیراعظم جناب محمد خان جونیجو نے شمالی علاقہ جات کے دورے کے موقع پر سکردو میں اعلان کیا کہ وہ شمالی علاقہ جات کو پاکستان کی وفاقی کابینہ میں نمائندگی دینے پر غور کر رہے ہیں اور اس خطہ سے ایک مشیر لے رہے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان کے اس اعلان کا کشمیری رہنماؤں نے بروقت نوٹس لیا اور اپنے بیانات میں واضح کر دیا ہے کہ یہ اعلان شمالی علاقہ جات کو پاکستان کا باقاعدہ حصہ قرار دینے اور صوبہ بنانے کی اسکیم کا آغاز ہے جس سے مسئلہ کشمیر کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔

آزادکشمیر کے کم و بیش تمام قابل ذکر رہنماؤں کے علاوہ پاکستان کی ایک اہم سیاسی جماعت جمعیۃ علماء اسلام پاکستان نے بھی وزیراعظم پاکستان کے اس اعلان کو مسترد کر دیا اور جمعیۃ کے مرکزی رہنما علامہ ڈاکٹر خالد محمود نے پلندری میں جمعیۃ علماء اسلام آزاد جموں و کشمیر کے سربراہ شیخ الحدیث مولانا محمد یوسف خان سے ملاقات کر کے انہیں مرکزی مجلس شوریٰ کے فیصلے سے آگاہ کرنے کے علاوہ اس سلسلہ میں مشترکہ جدوجہد کے پروگرام پر گفتگو کی ہے۔ اس کے علاوہ سینیٹر مولانا قاضی عبد اللطیف، مولانا عبد الحکیم ہزارویؒ، مولانا زاہد الراشدی اور مولانا قاری عزیز الرحمان ہزاروی پر مشتمل جمعیۃ کے ایک وفد نے صدر آزاد کشمیر سردار محمد عبد القیوم خان سے ملاقات کر کے انہی امور پر ان سے تبادلۂ خیال کیا ہے۔‘‘

اس وقت سردار محمد عبد القیوم خان حکومتِ آزاد جموں و کشمیر کے صدر تھے اور پاکستان کی قومی سیاست میں بھی ان کی آواز خاصی مؤثر تھی، اس لیے یہ احتجاج کارگر ہوا اور جونیجو مرحوم نے اس طرف مزید پیش رفت نہ کی۔

اس کے بعد ۱۹۹۴ء میں بے نظیر بھٹو مرحومہ کے دور حکومت میں اس طرف پیش رفت ہوئی اور شمالی علاقہ جات میں ناردرن ایریا کونسل قائم کر کے وہاں کے عوام کو ووٹ کا حق دیا گیا اور اس نوعیت کی دیگر اصلاحات کا اعلان کیا گیا۔ کشمیری رہنماؤں کی طرف سے اس موقع پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو سیاسی حقوق اور شہری سہولتوں سے بہرہ ور کرنا ضروری ہے لیکن اس خطہ کو پاکستان کا حصہ ظاہر کرنے کی بجائے آزادکشمیر کا انتظامی حصہ بنا دیا جائے، یا آزاد کشمیر کی طرز پر عارضی طور پر الگ انتظامی بندوبست کر دیا جائے، لیکن اس کے بارے میں ایسا تاثر نہ دیا جائے کہ اسے پاکستان کا حصہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ اس سے بہرحال مسئلہ کشمیر کو نقصان پہنچے گا۔ اس مرحلہ میں کشمیری قیادت کے تاثرات کیا تھے؟ اس کے بارے میں اس وقت کے آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم سردار محمد عبد القیوم خان کے ایک بیان کا حوالہ دینا چاہوں گا جو لندن کے روزنامہ جنگ میں ۲۹ اپریل ۱۹۹۴ء کو شائع ہوا تھا:

’’آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم سردار محمد عبد القیوم خان نے وزیراعظم بے نظیر بھٹو سے کہا کہ وہ اس بات کا اعلان کریں کہ گلگت اور بلتستان ریاست جموں و کشمیر کا جزو لاینفک ہیں اور تمام ریاست کی حیثیت اس وقت تک متنازعہ اور غیر طے شدہ ہے جب تک ریاست کے لوگوں کو اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کا موقع میسر نہیں آتا۔ انہوں نے صدر مملکت سردار فاروق خان لغاری کو ارسال کردہ خط میں کہا ہے کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ آخر گلگت بلتستان کے عوام کو قانون ساز کونسل منتخب کرنے کے لیے ووٹ دینے کا حق مل گیا ہے لیکن وفاقی وزیراطلاعات نے اصلاحات کے جس پیکج کا اعلان کیا ہے ہم اس کے مفہوم اور مضمرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان ریکارڈ درست رکھنے کے لیے اس بات کا اعلان کریں کہ اصلاحات کا پیکیج ایک عبوری اقدام ہے جس کا مقصد ان علاقوں کے عوام کی روزمرہ انتظامی اور دوسری مشکلات کا ازالہ کرنا ہے۔‘‘

آزادکشمیر کے وزیراعظم کی حیثیت سے سردار محمد عبد القیوم خان کے اس خط اور بیان نے یہ بات واضح کر دی کہ کشمیری رہنماؤں کو اس بات سے اختلاف نہیں کہ گلگت بلتستان کے عوام کو سیاسی اور شہری حقوق دیے جائیں، البتہ وہ اس کی کسی ایسی عملی صورت کے بارے میں تحفظات رکھتے ہیں جس سے بین الاقوامی فورم پر مسئلہ کشمیر کو اور اس کے بارے میں پاکستان کے موقف کو نقصان پہنچ سکتا ہو۔ اس پس منظر میں جب میں نے بلتستان کے مختلف رہنماؤں سے بات کی تو ملے جلے خیالات سننے کو ملے:

  1. بعض حضرات نے اس خطہ کے ماضی بعید کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس علاقہ کا جموں و کشمیر کے ساتھ تعلق صرف ڈوگرہ حکومت کے دور میں رہا ہے اس کے علاوہ یہ خطہ کبھی ریاست جموں و کشمیر کا حصہ نہیں رہا۔ اس کے علاوہ گلگت بلتستان کے عوام نے ڈوگرہ حکومت اور انگریز ریزیڈنسی سے نجات کے لیے الگ طور پر جنگ لڑی ہے اور پاکستان کے ساتھ اس کا براہ راست الحاق کیا ہے، اس لیے اسے پاکستان کا حصہ ہی ہونا چاہیے اور پاکستان کے صوبے کے طور پر یہاں کے عوام کو حقوق ملنے چاہئیں۔
  2. ایک حلقے کی سوچ اس سے بھی آگے کی ہے کہ ماضی بعید کی طرح اسے ایک خودمختار ریاست کا درجہ ملنا چاہیے جس کے لیے ’’بلورستان نیشنل فرنٹ‘‘ کام کر رہا ہے۔ ان حضرات کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کو حکومت پاکستان نے اس مصلحت کے تحت جموں و کشمیر کے بین الاقوامی طور پر متنازعہ علاقہ میں شمار کیا تھا کہ کشمیری عوام حقِ خود ارادیت ملنے کی صورت میں گلگت بلتستان کے عوام کے ووٹ لازما پاکستان کے حق میں جائیں گے اور پاکستان کو اس سے سیاسی فائدہ ہوگا۔
  3. مگر دوسری طرف کے حضرات کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کو جموں و کشمیر ریاست کا حصہ ہونے کی وجہ سے متنازعہ علاقہ شمار کیا گیا ہو یا مصلحتاً ایسا ہوا ہو، دونوں صورتوں میں معروضی حقیقت یہی ہے کہ بین الاقوامی دستاویزات میں یہ جموں و کشمیر کا حصہ ہے۔ اس لیے اسے اگر پاکستان کا صوبہ بنایا جاتا ہے تو اس سے نہ صرف ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کی راہ ہموار ہوگی بلکہ بین الاقوامی فورم پر بھارت کا موقف مضبوط ہوگا، اور اسے مقبوضہ جموں و کشمیر کو بھارت کا دستوری حصہ قرار دینے کے متنازعہ عمل میں ایک طرح سے جواز کی سند مل جائے گی۔

بعض واقفانِ حال کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کو مزید سیاسی حقوق دینے کے موجودہ اقدامات سے پہلے ان خدشات کے باعث اصل تجویز یہ تھی کہ گلگت بلتستان کو آزاد جموں و کشمیر کا انتظامی یونٹ قرار دے کر آزادکشمیر سپریم کورٹ کا دائرہ وہاں تک وسیع کیا جائے اور ہائیکورٹ کا مستقل بینچ قائم کر دیا جائے، اسی کے مطابق سمری تیار ہوئی تھی مگر عین وقت پر کوئی خفیہ ہاتھ حرکت میں آیا اور اس تجویز کو ایک طرف رکھتے ہوئے گلگت بلتستان کو الگ صوبے کی حیثیت دینے کا اعلان کر دیا گیا۔

عدلیہ سے تعلق رکھنے والی ایک اعلیٰ شخصیت نے موجودہ پیکیج کے اس تضاد کی نشاندہی کی ہے۔ ایک طرف قانون ساز اسمبلی، گورنر، الیکشن کمشنر، پبلک سروس کمیشن اور دیگر صوبائی اداروں کے اعلان کے ساتھ گلگت بلتستان کو ایک مستقل صوبے کا عنوان دیا گیا ہے لیکن دوسری طرف ہائیکورٹ کو پاکستان کے سپریم کورٹ کے تحت کرنے کی بجائے اس کے لیے الگ چیف کورٹ قائم کیا جا رہا ہے۔ اس شخصیت کا کہنا ہے کہ اس خطہ کے لیے گورنر، وزیراعلیٰ اور قانون ساز اسمبلی کی اصلاحات کے استعمال کے لیے پاکستان کے دستور میں ترامیم کرنا ہوں گی کیونکہ موجودہ دستوری پوزیشن میں یہ عہدے ان ناموں کے ساتھ گلگت بلتستان میں قائم نہیں کیے جا سکتے۔

بہرحال گلگت بلتستان کے لیے داخلی خودمختاری کے اس پیکیج کے بارے میں اس حوالہ سے مثبت جذبات و تاثرات پائے جاتے ہیں کہ اس سے خطہ کے عوام کو مزید سیاسی حقوق حاصل ہوئے ہیں اور حکومت سازی میں ان کی شرکت کا تناسب بڑھا ہے جس سے ان کی سیاسی خوداعتمادی میں اضافہ ہوگا۔ وہاں واضح طور پر یہ خدشات بھی عام سطح پر لوگوں کے ذہنوں میں موجود ہیں کہ اس سے عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کو نقصان پہنچے گا، اقوام متحدہ میں پاکستان کا موقف کمزور ہوگا، ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کی راہ ہموار ہوگی اور ان قوتوں کو فائدہ ہوگا جو عالمی استعماری مفادات کے لیے اس علاقہ کو آزاد ریاست کے طور پر دیکھنے کے خواہشمند ہیں۔ اور عوامی جمہوریہ چین کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی عالمی اسٹریٹیجی کے پس منظر میں اس امکان اور اس سے پیدا ہونے والے خطرات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

اس لیے ہمارے خیال میں گلگت بلتستان کے عوام کو سیاسی حقوق دینے اور حکومت سازی میں شریک کرنے کا عمل تو ضرور جاری رہنا چاہیے لیکن جیسا کہ سردار محمد عبد القیوم خان نے محترمہ بے نظیر بھٹو مرحومہ سے کہا تھا کہ وہ گلگت بلتستان کو جموں و کشیر کا لاینفک حصہ قرار دینے اور موجودہ اقدامات کو عبوری حیثیت دینے کا اعلان کریں، موجودہ حکومت کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے اورا س کے ساتھ ساتھ ایسی اصلاحات استعمال کرنے سے قطعی طور پر گریز کرنا چاہیے جس سے گلگت بلتستان کو پاکستان کا حصہ قرار دینے کا تاثر ملتا ہو۔ اس لیے کہ یہ بہرحال مسئلہ کشمیر کے لیے خطرناک ہوگا۔