حضرت مولانامحمدحیاتؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
الشریعہ اکادمی، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
۴ نومبر ۲۰۱۶ء

(الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں منعقدہ ایک نشست سے خطاب جسے تحریری شکل دی گئی۔)

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ ہماری آج کی گفتگو کا موضوع فاتحِ قادیان استاذ المناظرین حضرت مولانا محمد حیاتؒ ہیں۔ مولانا محمد حیاتؒ شکرگڑھ کے قریب ایک گاؤں کے رہنے والے تھے اور درویش صفت عالمِ دین تھے۔ اللہ تبارک و تعالٰی نے ان کو علم و تکلم، تقویٰ و عمل کی بڑی خصوصیات سے نوازا تھا۔ مولانا کی ڈاڑھی قدرتی طور پر نہیں تھی اور ان کا طرزِ زندگی بہت سادہ تھا، جس طرح زمیندار اور کاشتکار ہوتے ہیں کہ سادہ وضع قطع اور سادہ طور طریقے۔ اس لیے کوئی آدمی بظاہر انہیں دیکھ کر یہ اندازہ نہیں کر سکتا تھا کہ وہ عالم دین اور دینی بزرگ ہیں۔ دیکھنے میں سادہ سے دیہاتی لگتے تھے لیکن اپنے دور میں مناظرین کے استاد تھے اور قادیانیت کے محاذ پر سب سے مضبوط مناظر تھے کہ انہیں فاتحِ قادیان کہا جاتا ہے۔

حضرت مولانا محمد حیاتؒ میرے استادِ محترم ہیں، میں نے قادیانیت ان سے باضابطہ سبقاً سبقاً پڑھی ہے۔ ۱۹۶۴ء کی بات ہے، یہ میرا کافیہ کاسال تھا۔ حضرتؒ مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ کے دفتر میں تشریف لائے اور انہوں نے مسئلہ ختمِ نبوتؐ، صدق و کذبِ مرزا، حیاتِ عیسٰیؑ، نزولِ عیسٰیؑ وغیرہ موضوعات پر ہمیں پندرہ دن کا کورس پڑھایا۔ مجھے حضرتؒ سے استفادے کا اور ان کی خدمت کا موقع ملا، وہ میرے انتہائی شفیق استاد تھے۔ اللہ تعالٰی نے انہیں یہ خصوصیت دی تھی کہ بڑی خوبصورت گفتگو کرتے تھے، بڑی دھیمی اور ٹھنڈی لیکن بڑی مضبوط۔ الفاظ میں سختی نہیں ہوتی تھی، لہجہ ملائم ہوتا تھا لیکن گرفت ایسی مضبوط ہوتی تھی کہ بڑے بڑے مناظر بھی سامنے آنے سے ڈرتے تھے۔

پہلی دفعہ حضرت مولانا حیاتؒ کی زیارت اس طرح ہوئی کہ مجھے پتہ چلا حضرتؒ دفتر ختم نبوت گوجرانوالہ میں تشریف لائے ہوئے ہیں۔ مولانا محمد خان صاحب ختم نبوت کے بزرگ مبلغ تھے، انہوں نے بتایا کہ استاد آئے ہوئے ہیں۔ اگلے دن شاید جمعہ تھا، سردیوں کا موسم تھا، میں زیارت کے لیے گیا تو مولانا محمد خان صاحب دفتر کی سیڑھیاں اتر کر ناشتہ وغیرہ لینے جا رہے تھے جبکہ مولانا محمد حیاتؒ لحاف اوڑھے لیٹے ہوئے تھے۔ ان کا چہرہ باہر تھا، باقی سارا جسم لحاف کے اندر تھا۔ مجھے علم نہیں تھا کہ ان کی داڑھی نہیں ہے، میں نےجب دروازہ کھول کر اندر دیکھا تو سمجھا کہ کوئی خاتون لیٹی ہوئی ہیں اور سوچا کہ شاید مولانا محمد خان صاحب کے گھر کی کوئی خاتون ہیں۔ میں دروازہ بند کر کے باہر کھڑا ہو گیا۔ تھوڑی دیر بعد مولانا محمد خان صاحب تشریف لائے اور مجھ سے پوچھا کہ باہر کیوں کھڑے ہیں؟ میں نے کہا اندر تو کوئی خاتون لیٹی ہوئی ہے۔ فرمانے لگے خاتون نہیں ہے وہ مولانا محمد حیات صاحب ہیں۔ مجھے بہت حیرانی ہوئی، بہرحال اندر گیا تو انہوں نے مولاناؒ سے میرا تعارف کرایا۔ حضرت والدصاحبؒ کے حوالے سے سارے بزرگ علماء ہی شفقت فرماتے تھے، اس وقت میرا اپنا تعارف کچھ بھی نہیں تھا، پھر اس کے بعد مجھے ان کی خدمت میں مسلسل حاضری کا موقع ملتا رہا ۔

حضرت مولانا محمد حیاتؒ کا اسلوب یہ تھا کہ وہ پہلے بتاتے کہ مخالف کے دلائل یہ ہیں اور ہمارا جواب یہ ہے، ان کا موقف یہ ہے اور ہمارا یہ ہے، ان کا اعتراض یہ ہے اور ہمارا جواب یہ ہے۔ پھر وہ ہم سے تقریر کرواتے کہ اٹھو اور ابھی جو پڑھا ہے اس پر تقریر کرو۔ ایک دن حیات و نزولِ عیسٰیؑ کے مسئلے پر انہوں نے ہمیں تقریباً دو گھنٹے تک دلائل سمجھائے، پھر مجھ سے کہا کہ اٹھ کر تقریرکرو۔ میں بالکل نو عمر لڑکا تھا، میں نے تقریر میں یہ کہہ دیا کہ ہماراعقیدہ یہ ہے اور مرزا یوں بھونکتا ہے۔ اس پر مولانا نے مجھے ٹوک دیا کہ نہیں بیٹا یوں نہیں کہتے، وہ بھی ایک قوم کا لیڈر ہے، یہ غلط بات ہے۔ یوں کہو کہ مرزا صاحب یوں کہتے ہیں اور مجھے ان سے اختلاف ہے۔ یہ میری زندگی کا ایک اہم سبق ہے جو مولانا محمد حیاتؒ نے مجھے سکھایا۔ حضرتؒ قادیانیت کے محاذ پر سب سے بڑے مناظر تھے، وہ مولانا منظور احمدؒ چنیوٹی کے بھی استاذ ہیں، مولانا لال حسین اخترؒ، مولانا عبد الرحیم اشعر کے بھی استاذ ہیں اور اس ساری کھیپ کے استاذ ہیں۔

اور حضرتؒ کی ہمت، حوصلہ اور جرأت کی داد دیجیے کہ ۱۹۳۱ء / ۱۹۳۲ء میں مجلس احرار اسلام نے قادیان میں دفتر کھولا تھا جب قادیان میں داخلہ ہی بڑا مسئلہ ہوتا تھا ۔ یہ احرار کی ہمت ہے کہ انہوں نے قادیان میں احرار کانفرنس کی جس میں حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی اور مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ وغیرہ اکابر تشریف لائے۔ اور یہ پہلا موقع تھا کہ قادیان میں قادیانیوں کےعلاوہ کسی نے جلسہ کیا تھا۔ پھر جب احرار نے دفتر بنایا تو اب سوال یہ پیدا ہوا کہ دفترمیں بیٹھے گا کون؟ یہ بڑا مسئلہ تھا کیونکہ قادیان میں مسلمانوں کے دفتر میں بیٹھنا تو موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا ۔ چنانچہ دو آدمی وہاں بیٹھنے کے لیے تیار ہوئے۔ ایک مولانا عنایت اللہ چشتی مرحوم جو میانوالی کے تھے، اور دوسرے مولانا محمد حیاتؒ تھے۔ یہ دو نوجوان حضرات تیار ہوئے کہ ہم بیٹھیں گے اور جو ہوگا دیکھا جائے گا۔ مولانا عنایت اللہ چشتی مرحوم تو اس لیے بیٹھے کہ یہ ہمارا مورچہ ہے، جبکہ حضرت مولانا محمد حیاتؒ مناظر اور عالم تھے، وہ وہاں چھیڑ چھاڑ کرتے بھی تھے اور ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ہوتی بھی تھی۔ قادیانی ان کے ہاں آتے، ان سے مناظرہ کرتے،گفتگو کرتے لیکن ان کی گرفت سے کوئی نہیں بچتا تھا ۔اور حضرتؒ خود کسی کی گرفت میں نہیں آتے تھے۔ وہاں بیٹھ کر انہوں نے ایک عرصہ کام کیا اور قادیانی بڑی کوشش کے باوجود نہ انہیں وہاں سے ہٹا سکے اور نہ ان انہیں کسی بات پر لاجواب کرسکے۔ اس پر حضرتؐ کو فاتحِ قادیان کا خطاب ملا اور یہ آپ کا مخصوص لقب ہے۔

پاکستان بننے کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تشکیل پائی۔ اللہ تبارک وتعالیٰ جزائے خیر دیں حضرت امیرِ شریعت مولانا عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور مولانا محمد علی جالندھریؒ کو، انہوں نے ایک مستقل مورچہ قائم کردیا کہ یہ جماعت اسی کام کے لیے وقف ہے ۔ مولانا محمد حیاتؒ نے مجلس کے مبلغ کے طور پر اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ مبلغین کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ مختلف علاقوں میں جا کر درس دیتے ہیں اور جہاں قادیانیت ہو وہاں اس کا تعاقب کرتے ہیں۔ اب بھی مجلس یہ کام کررہی ہے۔ مولانا حیاتؒ کا شمارمجلس کے مرکزی مبلغین میں ہوتا تھا، سال کے مختلف حصوں میں مختلف شہروں میں دس دن، پندرہ دن، ایک مہینے کا کورس کراتے تھے۔ اور ملتان میں شعبان و رمضان میں باقاعدہ سالانہ کلاس لگتی جس میں مولانا محمد حیاتؒ اور مولانا لال حسین اخترؒ اس محاذ پر علماء کے استاذ ہوتے تھے۔ اب تو قادیانیوں نے مناظرے چھوڑ دیے ہیں اور طے کر لیا ہے کہ مناظرہ نہیں کریں گے۔ اس زمانے میں قادیانیوں کے مناظر بھی بڑے مضبوط مناظر ہوتے تھے۔ ابو العطا جالندھری، مولوی اللہ دتہ اور قاضی نذیر ان کے بڑے زبردست اور پہلی صف کے مناظرین تھے۔ عام مولوی ان کے سامنے نہیں ٹھہر سکتا تھا۔ ان کی چالوں کو یہی حضرات سمجھتے تھے جن میں سب سے پہلا نام مولانا محمد حیاتؒ کا ہوتا تھا۔ ان کے بعد دوسرا نام تھا رئیس المناظرین مولانا لال حسین اخترؒ کا جو پہلے قادیانی رہے ہیں، قادیانیوں کے پاس ہی پڑھا ہے، پھر اللہ تعالٰی کے فضل مسلمان ہوئے اور قادیانیوں کے خلاف بڑے مناظر بنے۔ سنا ہے کہ ایک مناظرے میں قاضی نذیر نے مولانا لال حسین اخترؒ پرگرفت کی کہ آپ نے تو قرآن کی آیت صحیح نہیں پڑھی۔ مولانا نے جواب دیا ہاں جیسی آپ نے پڑھائی تھی میں نے ویسے ہی پڑھ لی، میں نے تو قرآن آپ سے ہی پڑھا ہے۔

مولانا محمد حیاتؒ نے مرکز اور تعلیم و تربیت کا سارا نظام سنبھال لیا۔ وہ مولانا لال حسین اخترؒ کے ساتھ مل کر علماء کی تربیت کرتے اور انہیں مناظرہ سکھاتے۔ حضرت علامہ خالد محمود صاحب مدظلہ بھی اسی صف کےمناظر تھے۔ پھر ان کے ساتھ مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ اور مولانا عبد الرحیم اشعر بھی شامل ہوگئے۔

میں مولانا محمد حیاتؒ کی خدمت میں ایک عرصہ تک رہاہوں۔ ان کی سادگی کی حالت دیکھیے کہ ایک دفعہ گکھڑ تشریف لائے، مسجد میں بیان تھا اور ہمارے گھر کھانا تھا۔ میں خدمت پر مامور تھا،کھانا بیٹھک میں لے کر آیا تو دو قسم کا سالن تھا۔ غالباً ایک دال کا سالن تھا اور دوسرا گوشت کا۔ دیکھ کر فرمانے لگے کہ مولوی صاحب! اتنی فضول خرچی،دو سالن مولوی کے دستر خوان پر۔ ایک اٹھا لو ورنہ میں اٹھا دوں گا۔ میں نے جلدی سے دال اٹھا کر ایک طرف رکھ دی۔ حضرت استاد العلماء تھے اور قادیانیت کے محاذ پر شاید ہی کوئی عالم ایسا ہو جو ان کا شاگرد نہ ہو لیکن ان کی سادگی دیکھیں۔ اب ایسے بزرگ نہیں رہے اور فی الواقع نہیں رہے۔ جبکہ ہم جو کچھ بھی ہیں ان بزرگوں کی ہی کمائی ہیں۔ پچھلے دنوں تبلیغی سہ روزہ کے سلسلہ میں ہماری تشکیل سرگودھا میں تھی۔ سرگودھا کےقریب چوکیرہ میں ہمارے ایک بزرگ ہیں مولانا عبد الجبار دامت برکاتہم، درویش آدمی ہیں اور سادگی ان کا شعار ہے۔ میں ان کے سامنے کارکن کی حیثیت سے تھا اور بعض ساتھی حیران ہو رہے تھے کہ ان کا اس قدر اکرام کیسے کر رہا ہوں۔ بھئی ہم جو کچھ بھی ہیں ان بزرگوں کی قربانیوں اور ایثار کی وجہ سے ہیں۔

مولانا محمد حیاتؒ کے مزاج اور ذوق کا ایک اور واقعہ سناتا ہوں۔ مولانا محمد علی جالندھریؒ ختم نبوت کے ناظم اعلٰی تھے۔ وہ مبلغین کو تنخواہ بھی دیتے تھے، نگرانی بھی کرتے تھے اور رسید بک بھی تھما دیتے تھے کہ آپ نے چندہ بھی کرنا ہے۔ مبلغ کا ایک کام چندہ اکٹھا کرنا بھی ہوتا ہے۔ مولانا محمد حیاتؒ ایک دفعہ مجھ سے ٹھیٹھ پنجابی میں فرمانے لگے کہ مولانا محمد علی کا کام دیکھو مجھے رسید بک پکڑا دی ہے، میں کہاں سے چندہ مانگوں گا۔ خالی رسید بک واپس دیتے ہوئے بھی اچھا نہیں لگتا اور چندہ مجھ سے ہوتا نہیں۔ میں نے کہا حضرت! رسید بک مجھے دے دیں۔ فرمایا تم کیا کرو گے۔ میں نےکہا دیں تو سہی۔ میں نے وہ رسید بک لی اور ساتھیوں سے کہہ کر اکیس یا بائیس روپے اکٹھے کر لیے، یہ اس زمانے میں مناسب رقم ہوتی تھی ۔ میں نے لا کر پیش کیے تو حضرتؒ بہت خوش ہوئے۔ فرمایا تم نے تو کمال کر دیا، اب میں بھی محمد علی کو کہوں گا کہ میں چندہ کر کے لے آیا ہوں۔ یہ ان کی سادہ مزاجی تھی لیکن علم میں وہ انتہاء پر تھے۔

ہر بزرگ کا اپنا ذوق ہوتا ہے، حضرت والد صاحبؒ بہت بڑے محقق اور مصنف تھے لیکن مناظر نہیں تھے اور مناظرہ سے حتی الوسع بچتے تھے۔ فرماتے کہ میرا کام قلم سے لکھناہے، مناظرہ ایک فن ہے اور یہ ہر آدمی کے بس کی بات نہیں ہے۔ ۱۹۷۰ء سے پہلے کی بات ہے والدصاحبؒ نے خود ہمیں یہ قصہ سنایا کہ قادیانیوں سے چک چٹھہ کےعلاقے میں مناظرہ طے ہوگیا۔ وہاں کے لوگ چاہتے تھے کہ مناظرہ ہو لیکن اگر مولانا محمد حیات صاحب کو لائے تو قادیانی مناظر بھاگ جائے گا کہ عموماً ایسا ہوتا تھا۔ قادیانی کہتے تھے کہ مولوی حیات سے مناظرہ ہم نہیں کرتے۔ حضرتؐ کا مناظرے میں عجیب طرز ہوتا تھا، اور وہ طرز پھر میں نے مولانا امین صفدرؒ اوکاڑوی میں دیکھا ہے۔ مولانا محمد حیاتؒ ٹھنڈی ٹھنڈی باتوں میں مکڑی کے جالے کی طرح ایسا جالا تنتے تھے کہ مخالف پھڑپھڑا کر رہ جاتا تھا اور اسے نکلنےکا راستہ نہیں ملتا تھا کہ کیاکروں۔ جبکہ مولانا لال حسین اخترؒ گرم مناظر تھے، بازو چڑھا لیتے اور پھر ٹھیک ٹھاک چڑھائی کرتے تھے اور مخالف مناظر بے چارہ ششدررہ جاتا کہ یہ میرے ساتھ کیا ہوا۔ مولانا محمد حیاتؒ ٹھنڈی ٹھنڈی باتوں میں مناظرہ کرتےکہ مولانا ایسےنہیں ایسے، یہ جو بات آپ کر رہے ہیں ایسے نہیں ہے بات اس طرح ہے۔ یہ انداز تھا ان کا۔

چک چٹھہ کے لوگ حضرت والد صاحبؒ کے پاس آئے کہ مناظرہ آپ نےکرنا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ میں مناظرہ کرتا ہی نہیں ہوں، یہ میرا میدان نہیں ہے۔ انہوں نے کہا نہیں حضرت اب تو مجبوری ہے، ہم وعدہ کر آئے ہیں، اب تو آپ کو جانا ہوگا ورنہ ہماری شکست ہوگی اور بڑی بےعزتی ہوگی۔ وہ لوگ والدصاحبؒ کو مجبور کر کے لےگئے۔ والد صاحبؒ پریشان تھے کہ یہ میرافن نہیں ہے کیابنےگا اور سامنے قاضی نذیر بیٹھا ہوا تھا جو قادیانیوں کا چوٹی کا مناظر تھا۔ والد صاحبؒ کو قاضی صاحب کے سامنے بٹھا دیا گیا۔ وہ دل میں سوچ رہے تھے کہ یہ بات کروں گا، یہ کہوں گا۔ فرماتے ہیں جونہی مخالف مناظر نے بات ختم کی اور میری باری آئی تو سٹیج کے نیچے سے مولانا محمد حیات صاحبؒ نکلے اور آکر سامنے سٹیج پر بیٹھ گئے۔ فرمایا اچھا مولوی صاحب!کیا کہا ہے آپ نے؟ یہ پہلے سے پلاننگ تھی جس کے بارے میں والدصاحبؒ کو پہلے نہیں بتایا گیا تھا۔ والدصاحبؒ کہتے ہیں کہ پہلے جو میرا حال تھا اب وہ مخالف مناظر کا ہوگیا کہ یہ مولوی حیاتؒ کدھر سے آگئے۔

مولانا محمد حیاتؒ نے اپنے کام کا آغاز کیا تھا قادیان دفتر سے اور مناظروں سے۔ پھر ایک وقت آیا کہ آپ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی امیر بنے۔ بعد میں مولانا لال حسین اخترؒ اور مولانا احسان احمد شجاع آبادیؒ بھی امیر رہے ہیں۔ سچی بات ہے کہ آج سے باون سال پہلے کی حضرتؒ کی باتیں اب بھی مجھے یاد ہیں۔ ایک دن یوں ہوا کہ مولانا محمد حیاتؒ ختم نبوت کے دفتر میں بیٹھے ہوئے تھے، اردگرد قادیانیوں کی کتابیں حوالوں کے لیے رکھی تھیں۔ یہ کام ویسے ہی نہیں ہو جاتا، محنت کرنا پڑتی ہے، جگر مارنا پڑتا ہے، پتہ مارنا پڑتا ہے تب جا کر دلائل اور جواب تیار ہوتے ہیں۔ اب تو پورے کیمپ میں اس طرز کا کوئی آدمی نہیں رہا سوائے مولانا اللہ وسایا صاحب مدظلہ کے، اللہ تعالٰی انہیں سلامت رکھیں۔ میں حضرتؒ کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ میرا مزاج ہلکی پھلکی دل لگی کرنے کا ہے۔ میں نےکہا، استاد جی! آپ بھی عجیب عالم ہیں، باقی علماء کو ہم دیکھتے ہیں کوئی رات کو سونے سے پہلے آیۃ الکرسی پڑھتا ہے کوئی درود شریف پڑھتا ہے، صبح اٹھ کر تلاوت کرتےہیں، یٰسین پڑھتے ہیں۔ آپ رات کو مرزا کی کتاب پڑھتے پڑھتے سوجاتے ہیں اور صبح اٹھ کر پھر مرزا کی کتاب ہاتھ میں لے لیتے ہیں، یہ کیابات ہوئی؟ فرمانے لگے بیبا! مجھے مرزا کی کتابیں پڑھنے پر بھی اتنا ہی ثواب ہوتا ہے جتنا تجھے ہدایہ پڑھنے پر ہوتا ہے۔ العبرۃ للمقاصد کہ اعتبار مقصد کا ہوتا ہے۔ سچی بات ہے کہ ہماری زندگی کا رخ اور لہجہ متعین کرنے میں جن لوگوں کا ہاتھ ہے ان میں ایک بڑا نام مولانا محمد حیاتؒ کا بھی ہے۔ یہ بتانا کہ بات نرمی سے کی جائے، ادب و شرافت سےکی جائے، بد اخلاقی سے گریز کیا جائے، مخالف کا بھی اس درجے میں احترام کیا جائے۔ یہ ان کا پڑھایا ہوا میرا پہلا سبق ہے، ورنہ ہم تو مرزا کو نہ معلوم کیا کیا کہتے ہیں۔

آج حضرت مولانا محمد حیاتؒ بہت یاد آتے ہیں، ان کی مجلسیں یاد آتی ہیں اور ان کی باتیں یاد آتی ہیں۔ اللہ رب العزت ان کے درجات جنت میں بلند سے بلند تر فرمائیں اور ان کا گلشن ختم نبوت کی مجلس اور محاذ آباد رکھے اور ہمیں بھی اس میں کچھ نہ کچھ حصہ ڈالتے رہنےکی توفیق عطا فرمائے، آمین یا رب العالمین۔

(الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ ۔ ۴ نومبر ۲۰۱۶ء)

غالباً ۱۹۶۴ء کی بات ہے کہ فاتح قادیان استاذ العلماء حضرت مولانا محمد حیاتؒ گوجرانوالہ تشریف لائے اور دفتر ختم نبوت میں علماءکرام اور طلباء کے لیے ’’رد قادیانیت کورس‘‘ کا اہتمام کیا جس میں ایک طالب علم کے طور پر مجھے بھی شرکت کی سعادت حاصل ہوئی۔ حضرت مولانا محمدحیاتؒ قادیانیوں کے خلاف سب سے بڑے مناظر تھے اور قادیان میں بیٹھ کر قادیانیوں کے خلاف کام کرنے کی وجہ سے انہیں ’’فاتح قادیان‘‘ کہا جاتا تھا۔ ہر وقت مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابوں کا مطالعہ کرتے رہتے اور قادیانی لٹریچر میں ڈوبے رہتے۔ ایک بار ان سے دل لگی کے طور پر عرض کیا گیا کہ باقی علماءکرام قرآن کریم پڑھتے ہیں، حدیث پڑھتے ہیں، ذکر اذکار کرتے ہیں اور اسلامی لٹریچر کا مطالعہ کرتے ہیں، مگر آپ ہر وقت مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابوں میں محو رہتے ہیں۔ ہنس کر فرمانے لگے کہ بھئی! مجھے مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابیں پڑھنے پر اتنا ہی ثواب ملتا ہے جتنا تم لوگوں کو ہدایہ اور مشکوٰۃ پڑھنے پر ثواب ملتا ہے۔

(روزنامہ اسلام ۔ ۲۱ مارچ ۲۰۰۵ء)

ایک واقعہ میرے استاذ محترم مولانا محمد حیاتؒ کا ہے جو ’’قادیانیت‘‘ کے خلاف اہل اسلام کے بہت بڑے اور کامیاب مناظر تھے اور اسی وجہ سے انہیں ’’فاتح قادیان‘‘ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ گزشتہ صدی عیسوی کی چھٹی دہائی کا قصہ ہے کہ وہ گوجرانوالہ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر میں علماء اور طلبہ کو قادیانیت کے سلسلے میں تربیتی کورس کرانے کی غرض سے چند روز کے لیے تشریف لائے۔ میں ان دنوں مدرسہ نصرۃ العلوم میں زیر تعلیم تھا اور قادیانیت کے عقائد کے بارے میں ابتدائی تیاری میں نے انہی دنوں حضرت مولانا محمد حیاتؒ کے اس تربیتی کورس میں شامل ہو کر کی۔ کورس کے دوران ایک روز ’’حیات عیسیٰ علیہ السلام‘‘ کا موضوع زیر بحث تھا۔ مولانا مرحوم نے قادیانیوں کے چند دلائل کا ذکر کیا اور ان کے جوابات سمجھائے اور مجھے کہا کہ میں اٹھ کر تقریر کی شکل میں ان کی گفتگو کا خلاصہ بیان کرو۔ میرا نوجوانی کا دور تھا اور ایک دینی مدرسے کا طالب علم تھا اس لیے گفتگو کا انداز فطری طور پر جذباتی اور جارحانہ تھا۔ چنانچہ جب مرزا غلام احمد قادیانی کی کسی بات کا حوالہ دینے کا موقع آیا تو میں نے ان الفاظ سے ذکر کیا کہ ”مرزا بھونکتا ہے‘‘۔ اس پر مولانا محمد حیاتؒ نے فوراً یہ کہہ کر مجھے ٹوک دیا کہ

’’ناں بیٹا ناں، ایسا نہیں کہتے۔ وہ بھی ایک قوم کا لیڈر ہے اس لیے بات یوں کرو کہ مرزا صاحب یوں کہتے ہیں لیکن ان کی یہ بات اس وجہ سے غلط ہے۔‘‘

استاذ محترم کا یہ جملہ ذہن کے ساتھ کچھ اس طرح چپک گیا کہ اس نے سوچ کا زاویہ اور گفتگو کا انداز بدل کر رکھ دیا۔ اس لیے آج بھی جب اس واقعہ کی یاد ذہن میں تازہ ہوتی ہے تو مولانا محمد حیاتؒ کے لیے دل کی گہرائی سے بے ساختہ دعا نکلتی ہے۔

(روزنامہ اوصاف ۔ ۱۲ مئی ۲۰۰۰ء)