اسلام وکالت کا مخالف نہیں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۶ جنوری ۲۰۰۸ء

روزنامہ پاکستان میں ۱۷ جنوری ۲۰۰۸ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق پشاور ہائی کورٹ کے صدر جناب لطیف آفریدی اور بعض دیگر سرکردہ وکلاء کو مبینہ طور پر القاعدہ اور طالبان کی طرف سے دھمکی آمیز خطوط موصول ہوئے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ ’’وکالت یہودیوں کا پیشہ ہے، چھوڑ دو ورنہ مار دیں گے‘‘۔ اس پر رد عمل کے اظہار کے طور پر خبر میں بتایا گیا ہے کہ وکالت کا پیشہ یہودیوں کی میراث نہیں ہے اور اسلام میں وکالت کا پیشہ جائز ہے۔

یہ خبر یا خط عین اس وقت منظر عام پر آیا ہے جب ملک بھر کے وکلاء دستور کی بالادستی اور اعلیٰ عدالتوں کے معزول کیے جانے والے ججوں کی بحالی کے لیے تحریک کو منظم کر رہے ہیں۔ یوں محسوس ہو رہا ہے کہ ۱۸ فروری کو ملک میں عام انتخابات منعقد ہونے یا خدانخواستہ نہ ہونے کے بعد دونوں صورتوں میں وکلاء کی یہ تحریک ملک کے سیاسی مستقبل کی راہیں متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی، اور قوم کو اب دستور و قانون کی بالادستی یا شخصی اور طبقاتی حکمرانی میں سے ایک کا بہرحال انتخاب کرنا ہوگا۔ اس لیے ایسے موقع پر وکلاء کو اس انداز میں دھمکیاں دینا اور وکالت کے شرعی جواز اور عدم جواز کی بحث کا ماحول پیدا کرنا ہمارے خیال میں ایسے عناصر ہی کی کارروائی ہو سکتی ہے جو وکلاء کی اس تحریک کو سبوتاژ کرنے اور اس کا رخ حکمرانوں کی بجائے دینی عناصر کی طرف پھیر دینے کے خواہشمند ہیں۔ اور شاید ان کا خیال ہے کہ ایسا کر کے وہ نہ صرف یہ کہ وکلاء کی تحریک کی پیش رفت میں کوئی رکاوٹ کھڑی کر لیں گے بلکہ دینی حلقوں کی طرف سے اس تحریک کی متوقع حمایت کا راستہ بھی روک سکیں گے۔

جہاں تک بات القاعدہ یا طالبان کی ہے، ہمارے ہاں یہ نام مختلف مقاصد کے لیے اس کثرت کے ساتھ استعمال ہونے لگے ہیں کہ ان کی طرف سے کوئی بات آنے پر یہ طے کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ یہ بات ان میں سے کسی نے کہی ہے یا ان کی آڑ میں کوئی اور گروہ اپنے مقاصد کو آگے بڑھانا چاہتا ہے۔ باقی رہی بات ’’وکالت‘‘ کی تو یہ کہنا اسلامی تعلیمات سے مطابقت نہیں رکھتا کہ اسلام میں وکالت کی گنجائش نہیں ہے، اس لیے کہ حدیث و فقہ کی کتابوں میں وکالت کے عنوان سے مستقل ابواب موجود ہیں جن میں وکالت کی شرعی حدود اور اس سے متعلقہ احکام تفصیل کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں۔

حدیث نبویؐ کی سب سے مستند کتاب بخاری شریف میں وکالت کے بارے میں ایک مستقل باب موجود ہے جس میں امام بخاریؒ نے وکالت کے مختلف پہلوؤں پر پندرہ سے زائد احادیث نبویہؐ پیش فرمائی ہیں۔ البتہ ان میں وکالت کا وسیع تر مفہوم میں ذکر کیا گیا ہے، تجارت میں نمائندہ مقرر کرنے کو بھی وکالت کہا گیا ہے، معاملات کے دیگر شعبوں میں نمائندگی کو بھی وکالت سے تعبیر کیا گیا ہے اور نکاح وغیرہ میں نمائندگی کو بھی وکالت قرار دیا گیا ہے۔ ان میں سے چند روایات درج کی جا رہی ہیں۔

  • حجۃ الوداع میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے قربانی کے جانور ذبح کرنے کے لیے حضرت علیؓ کو وکیل بنایا اور ہدایت فرمائی کہ قربانی کے جانوروں کو ذبح کر کے ان کے چمڑوں وغیرہ کو صدقہ کر دیں۔
  • حضرت بلالؓ جناب نبی کریمؐ کے گھر کے معاملات یعنی اخراجات وغیرہ کے نگران اور آپؐ کی طرف سے وکیل تھے۔ انہوں نے ایک بار آنحضرتؐ کی خدمت میں عمدہ کھجوریں پیش کیں، آپؐ نے پوچھا یہ کہاں سے آئی ہیں؟ حضرت بلالؓ نے جواب دیا کہ میرے پاس عام کھجوریں تھیں میں نے وہ دو صاع دے کر ان کے بدلے میں ایک صاع عمدہ کھجوریں لی ہیں تاکہ آپ کو اچھی کھجوریں کھلا سکوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تو تم نے سود کا سودا کیا ہے۔ ایسی سودی تجارت نہ کیا کرو، اگر ایسا تبادلہ ضروری ہو تو نقدی کے عوض بیچ کر اس کے عوض دوسری چیز لے لیا کرو۔
  • نبی کریمؐ کی خدمت میں زنا کا ایک مقدمہ پیش ہوا جس میں مرد نے اعتراف کر لیا جبکہ عورت سے دریافت کرنے کے لیے آپؐ نے اس کے قبیلے کے سردار حضرت انیسؓ کو نمائندہ بنایا کہ اس سے جا کر پوچھو، اگر وہ جرم کا اعتراف کر لے تو میری طرف سے اسے سنگسار کر دو۔
  • حضرت عمرؓ نے اپنی طرف سے صدقات کی تقسیم کے لیے جن لوگوں کو اپنا وکیل مقرر کر رکھا تھا، ان میں ان کے بیٹے حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بھی تھے۔
  • مسند احمدؒ میں حضرت عروۃ البارقیؓ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہؐ نے انہیں قربانی کے لیے بکری خریدنے کی غرض سے ایک دینار دے کر بھیجا۔ انہوں نے ایک دینار میں دو بکریاں خریدیں، ایک بکری پھر ایک دینار میں بیچ دی۔ اور پھر بکری اور دینار لا کر آپؐ کی خدمت میں پیش کر دیے۔ آنحضرتؐ نے بکری کو ذبح کرنے اور دینار کو صدقہ کرنے کا حکم دیا۔
  • نبی کریمؐ نے ام المؤمنین حضرت ام حبیبہؓ کے ساتھ نکاح کے لیے عمرو بن امیہ کو اپنا وکیل مقرر کیا، ابوداؤد شریف کی روایت کے مطابق یہ نکاح ان کی وکالت سے ہوا۔ حضرت میمونہؓ سے نکاح کے لیے حضورؐ نے ابو رافعؓ کو وکیل بنایا، جبکہ حضرت ام سلمہؓ کے ساتھ آپؐ کے نکاح میں ام المؤمنین ام سلمہؓ کی وکالت ان کے فرزند عمر بن ابی سلمہؓ نے فرمائی۔

چنانچہ اسلامی تعلیمات میں وکالت کا لفظ وسیع تر مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ اس میں نکاح، تجارت اور دیگر معاملات میں نمائندگی کو بھی وکالت ہی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ہمارے خیال میں کسی کی نمائندگی کے دیگر بہت سے پہلوؤں کے ساتھ ساتھ مختار عام یا مختار خاص کی جو صورتیں ہمارے مروجہ قانونی نظام میں پائی جاتی ہیں، اسلام نے انہیں بھی وکالت ہی کے ضمن میں شمار کیا ہے۔

وکالت کی جو صورت ایک باقاعدہ پیشے کے طور پر ہمارے ہاں مروج ہے اور ہمارے عدالتی نظام کا حصہ ہے، اسے فقہ اسلامی کی اصطلاح میں ’’وکیل خصومت‘‘ کہا جاتا ہے۔ یعنی کسی تنازع یا مقدمہ میں کسی فریق کی نمائندگی کر کے اس کے موقف کو بہتر انداز میں پیش کرنا، فقہ کی کم و بیش تمام بڑی کتابوں میں وکالت کی اس شکل کے جواز کا ذکر کیا گیا ہے، اس کی مختلف صورتوں کے احکام و ضوابط بیان کیے گئے ہیں اور اس وکالت پر اجرت لینے کو بھی جائز قرار دیا گیا ہے۔ جبکہ وکالت کے اس قسم کے جواز کے لیے بہت سے فقہائے کرامؓ نے بخاری شریف کی یہ روایت پیش کی ہے کہ جب نبوت کا جھوٹا دعوے دار مسیلمہ کذاب اپنے قبیلے کا ایک وفد لے کر مدینہ منورہ آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیشکش کی کہ اگر وہ اپنے بعد اسے اپنا جانشین نامزد کر دیں تو وہ یعنی مسیلمہ جناب نبی کریمؓ کی اطاعت قبول کرنے کے لیے تیار ہے۔ جناب نبی کریمؐ اپنی قیام گاہ تشریف لائے اور کھڑے کھڑے یہ فرمایا کہ وہ اگر ان سے کھجور کی ایک ٹہنی کا مطالبہ کرے گا تو میں اسے وہ بھی دینے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ یہ فرما کر آپؐ نے حضرت ثابت بن قیس انصاریؓ کو، جو خطیب رسول اللہؐ کہلاتے تھے، فرمایا کہ مسیلمہ کے ساتھ باقی گفتگو میری طرف سے یہ کریں گے۔ گویا آنحضرتؐ نے مسیلمہ کے سامنے اپنے موقف کی وضاحت کے لیے حضرت ثابت بن قیسؓ کو اپنا نمائندہ اور وکیل بنایا۔

امام بیہقیؒ نے السنن الکبریٰ میں بیان کیا ہے کہ حضرت علیؓ مختلف تنازعات میں اپنی طرف سے وکالت کے لیے اپنے بھائی حضرت عقیلؓ کو بھیجا کرتے تھے۔ اور جب وہ زیادہ بوڑھے ہوگئے تو پھر حضرت علیؓ نے ان کی جگہ اپنے ایک بھتیجے عبد اللہ بن جعفرؓ کو اپنا وکیل مقرر کر دیا۔

اس قسم کی روایات کی بنیاد پر فقہائے کرام نے ’’وکیل خصومت‘‘ کے جواز کا فتویٰ دیا ہے اور اس کے لیے اجرت لینے کو بھی درست قرار دیا ہے۔ البتہ جس طرح دوسرے شعبہ ہائے زندگی میں اسلام کی اخلاقیات کا ایک امتیازی دائرہ ہے اور حلال و حرام کے اصول و ضوابط ہیں جن کا لحاظ کیے بغیرکسی بھی شعبے کی مروجہ صورتوں کو مکمل طور پر اسلامی قرار نہیں دیا جا سکتا، اسی طرح وکالت کے باب میں بھی اسلامی اخلاقیات کا دائرہ دوسرے نظاموں سے مختلف اور ممتاز ہے۔ اس شعبے کو مکمل طور پر اسلامی شکل دینے کے لیے ان اخلاقیات کی پابندی کا اہتمام بہرحال ضروری قرار پائے گا۔ مثال کے طور پر ایک پہلو کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں، وہ یہ کہ کسی مقدمے میں ایک وکیل کسی بھی فریق کی طرف سے اس کے موقف کی وضاحت کے لیے پیش ہو سکتا ہے اور اسے اس پر معروف طریقے سے فیس لینے کا بھی حق حاصل ہے۔ لیکن جس شخص یا فریق کے بارے میں وکیل کو خود یقین ہو جائے کہ اس نے فی الواقع جرم کیا ہے تو کیا اسے اس جرم کی سزا سے بچانے کے لیے اس کا نمائندہ بننا اور اسے سزا سے بچنے کے لیے از خود مختلف حیلے اور طریقے سکھانا جرم میں معاونت نہیں ہے؟ قرآن کریم نے سورۃ المائدہ کی آیت نمبر ۲ میں ہدایت کی ہے کہ بر و تقویٰ (نیکی اور پرہیزگاری) میں ایک دوسرے کی معاونت کرو لیکن اثم و عدوان (گناہ اور ظلم) میں ایک دوسرے کے معاون نہ بنو۔ اس لیے ایک شخص کے مجرم ہونے کا یقین ہوجانے کے بعد اسے بچانے کی کوشش کیا جرم میں اس کے ساتھ تعاون نہیں ہے اور کیا یہ طرز عمل سوسائٹی میں جرائم میں اضافے کا سبب نہیں ہے؟

اس ایک پہلو پر اپنے تحفظات کے واضح اظہار کے ساتھ ہم اصولی طور پر وکالت کے پیشے کو اسلامی نقطۂ نظر سے ایک جائز پیشہ سمجھتے ہیں اور اگر القاعدہ اور طالبان کے نام پر کسی نے اسے غیر اسلامی قرار دیا ہے تو اس کی حمایت کے لیے ہم تیار نہیں ہیں۔