نسل انسانی کو درپیش اجتماعی مسائل ۔ خوش آمدید جناب بل کلنٹن!

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۲۴ مارچ ۲۰۰۰ء
اصل عنوان: 
خوش آمدید جناب بل کلنٹن

ریاستہائے متحدہ امریکہ کے صدر جناب بل کلنٹن کے جنوبی ایشیا کے دورے کا آغاز ہو چکا ہے اور وہ اس دورے کے اختتام پر چند گھنٹوں کے لیے پاکستان بھی تشریف لانے والے ہیں۔ ان کے اس مختصر دورۂ پاکستان اور پاکستانی لیڈروں کے ساتھ گفت و شنید میں ان کے ایجنڈے اور ترجیحات کے حوالے سے قومی پریس میں مثبت اور منفی پہلوؤں پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور دورۂ کے بعد بھی بہت کچھ لکھا جائے گا۔ لیکن اس ساری بحث سے قطع نظر ایک محترم مہمان کے طور پر جنوبی ایشیا اور پاکستان میں تشریف آوری پر ہم جناب بل کلنٹن کو خوش آمدید کہتے ہیں اور تہہ دل سے ان کا خیرمقدم کرتے ہوئے ایک اہم گزارش کے لیے اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔

ہم ان امور کے بارے میں کچھ عرض نہیں کریں گے جو جنوبی ایشیا اور پاکستان سے متعلقہ مسائل کے حوالے سے پاکستانی لیڈروں کے ساتھ جناب بل کلنٹن کے مذاکرات میں زیربحث آنے والے ہیں کیونکہ جناب محمد رفیق تارڑ اور جنرل پرویز مشرف اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر اور چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے ہمارے قومی نمائندے ہیں اور ہمیں اس سلسلہ میں ان پر اعتماد ہے وہ پاکستانی عوام کے جذبات و احساسات اور قومی مفادات سے بخوبی آگاہ ہیں۔ اس لیے وہ ان جذبات کی ترجمانی اور مفادات کے تحفظ میں کسی قسم کی کوتاہی روا نہیں رکھیں گے۔ البتہ جنوبی ایشیا کے محدود علاقائی تناظر سے ہٹ کر دنیا کی عمومی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے نسل انسانی کے مجموعی مفاد کے پیش نظر یہ گزارش کرنا چاہتے ہیں کہ ہمارے نزدیک اس وقت دنیا کا سب سے بڑا غور طلب مسئلہ یہ ہے کہ چھ ارب کے لگ بھگ انسانی آبادی معاشرتی امن، معاشی ترقی و خوشحالی اور ذہنی سکون و اطمینان کے حوالہ سے انتہائی گھمبیر حالات سے دوچار ہے اور اسے ان معاملات میں انتہائی تکلیف دہ ماحول او رخوفناک کرب و اذیت کا سامنا ہے۔ اس لیے نسل انسانی کو اس تکلیف و اضطراب کی دلدل سے نکالنا اس وقت دنیائے انسانیت کی قیادت کا دعویٰ رکھنے والی کسی بھی قوم کی اولین ذمہ داری ہے۔

آج دنیا کا کوئی خطہ ایسا نہیں جو باقی دنیا کی نگاہوں سے اوجھل ہو، انسانی آبادی کا کوئی حصہ ایسا نہیں ہے جس کے مسائل و مشکلات سے دوسرے لوگ بے خبر ہوں، اور نسل انسانی کا کوئی طبقہ یا گروہ ایسا نہیں ہے جو دیگر طبقات اور گروہوں سے الگ تھلگ رہ کر اپنے لیے زندگی کا کوئی راستہ متعین کر سکتا ہو۔ اس طرح ’’گلوبلائزیشن‘‘ کے اس ماحول نے پوری دنیا کو ایک اسکرین پر سب کے سامنے کر دیا ہے اور انسانی آبادی کو ایک خاندان اور یونٹ تصور کرتے ہوئے اس کے مسائل اور مصائب کے اجتماعی تجزیہ اور ان کے مشترکہ اسباب و عوامل کے تعین میں اب کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہی۔ اس لیے اگر ہم پوری نسل انسانی کو درپیش اہم مسائل و مشکلات کو چند نکات میں بیان کرنا چاہیں تو ان میں سے اہم ترین نکات درج ذیل شکل میں سامنے آتے ہیں:

  • اقتصادی ناہمواری اور معاشی تفاوت نے انسانی آبادی کو طبقات در طبقات میں تقسیم کیا ہوا ہے۔ اقوام، طبقات اور افراد سمیت ہر سطح پر امیر اور غریب کے درمیان پائے جانے والے ہوشربا فرق نے نسل انسانی کی غالب اکثریت کو زندگی کی بنیادی سہولتوں، تعلیم و صحت کے ضروری وسائل اور حقوق و مفادات کے تحفظ کے مناسب ماحول سے محروم کر رکھا ہے۔
  • نسلی، لسانی، علاقائی، مذہبی اور طبقاتی تعصبات نے انسان کو انسان کا دشمن بنا دیا ہے اور اس دشمنی اور عناد میں کوئی کمی آنے کی بجائے دن بدن اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔
  • سائنسی علوم اور ٹیکنالوجی کا استعمال انسانی آبادی کی فلاح و بہبود کے لیے کم اور تباہی و بربادی کے لیے اس سے کہیں زیادہ ہو رہا ہے۔
  • انسانی معاشرہ قلبی اطمینان اور ذہنی سکون سے مجموعی طور پر محروم ہے اور انسانی آبادی کا بہت بڑا حصہ وقتی سکون کی تلاش میں جرائم، منشیات، نمود و نمائش، عریانی و فحاشی اور بے جا باہمی تفاخر کے مصنوعی سہاروں کی آڑ میں خود کو مزید تباہی اور بربادی کی طرف دھکیل رہا ہے۔

ہم تھوڑی دیر کے لیے یہ بات بھول سکتے ہیں کہ انسانی آبادی کو اس مقام تک پہنچانے میں کس کس نے کیا کیا کردار ادا کیا ہے۔ لیکن اس کے اسباب و عوامل کے اصولی تعین سے کوئی مفر نہیں ہے اور اسے گفتگو کا ناگزیر حصہ تصور کرتے ہوئے یہ عرض کرنے پر مجبور ہیں کہ جن اسباب نے نسل انسانی کو تباہی اور ہلاکت کے اس دروازے پر لاکھڑا کیا ہے وہ ہمارے خیال میں مندرجہ ذیل ہیں:

  • سودی معیشت اور ہر قسم کی قدغن سے آزاد کاروبار کے تصور نے قدرتی وسائل اور دولت کی ناہموار تقسیم کی راہ ہموار کی ہے۔ اور اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے ہوشربا معاشی تفاوت نے امیر و غریب کے فرق کو خوفناک انتہا تک پہنچا دیا ہے۔
  • نسل، زبان اور علاقہ کے نام پر تقسیم (نیشنلزم) کے جاہلی فلسفہ کے دوبارہ احیا نے نسل انسانی کو تقسیم در تقسیم کے المناک بحران سے دوچار کر دیا ہے۔
  • ایک دوسرے پر غلبہ اور بالادستی کے جنون نے سائنسی علوم اور ٹیکنالوجی کا رخ نسل انسانی کی فلاح و بہبود کے بجائے ہلاکت خیز ہتھیاروں کی طرف موڑ رکھا ہے۔
  • اور باہمی اخلاق و آداب کے مذہبی احکام سے بے گانگی نے انسانوں کو باہمی احترام اور رشتوں کے تقدس سے نا آشنا کر کے خود غرضی اور مفادات کو رشتوں اور تعلقات کی واحد بنیاد بنا کر رکھ دیا ہے۔

اور اگر ان سب اسباب کے پیچھے کارفرما اصل علت کا کھوج لگایا جائے تو وہ ایک ہی ہے کہ ’’انسان پر انسان کی حکمرانی‘‘ کا فلسفہ جو ہر دور میں رنگ بدل بدل کر سامنے آتا رہا ہے لیکن اپنی تمام تر ممکنہ شکلوں کو آزمانے کے بعد اب تاریخ کی تجربہ گاہ میں قطعی طور پر ایک ناکام فلسفہ ثابت ہو چکا ہے۔ ایک انسان دوسرے انسان پر شخصی برتری کے عنوان سے حکومت کرے، انسانوں کا کوئی گروہ گروہی یا طبقاتی بالادستی اور امتیاز کے نام پر اقتدار کا سکہ جمائے، یا سوسائٹی کی نمائندگی اور اعتماد کے حوالہ سے کوئی ٹولہ حکمرانی کو اپنے نام الاٹ کرا لے، تاریخ گواہ ہے کہ ان میں سے کسی ایک صورت میں بھی حاکم اور محکوموں کے مفادات میں کبھی یکسانیت پیدا نہیں ہوئی۔ اور حکمران بادشاہ ہو، طبقہ ہو، پارٹی ہو یا پارلیمنٹ، جس کے ہاتھ میں اقتدار کی کنجی آگئی ہے وہ کسی دور میں بھی شخصی، گروہی اور طبقاتی مفادات و ترجیحات کے چکر سے نہیں نکل سکا اور انسان پر انسان کی حکمرانی کی کسی بھی شکل نے انسانی آبادی کی مشکلات و مسائل میں اضافہ کے سوا کچھ نہیں کیا۔

یہی وجہ ہے کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب نجران کے مسیحی علماء اور سرداروں کا وفد آیا اور باہمی بحث و مکالمہ کسی نتیجہ پر نہ پہنچا تو آنحضرت نے انہیں دعوت دی کہ آؤ ہم اپنے مشترکہ اصولوں اور قدروں پر جمع ہو جائیں۔ اسلام اور مسیحیت بلکہ تمام آسمانی مذاہب کی وہ مشترکہ قدریں کیا ہیں؟ انہیں قرآن کریم نے سورہ آل عمران کی آیت ۶۴ میں نجران کے اسی مسیحی وفد کی مدینہ منورہ آمد کے حوالہ سے یوں بیان کیا ہے:

’’اے محمدؐ! کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب! آؤ اس بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں، اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں اور اس سے ہٹ کر ہم میں سے بعض لوگ دوسرے کو رب نہ بنائیں۔ اور اگر اہل کتاب اس بات کو قبول کرنے سے گریز کریں تو اے مسلمانو! تم کہہ دو کہ تم گواہ رہو کہ ہم تو اسی بات کو قبول کرنے والے ہیں۔‘‘

سیاسی زبان میں اس پیغام کا مفہوم یہ ہے کہ دو اصول تمام آسمانی مذاہب کے درمیان قدرِ مشترک کی حیثیت رکھتے ہیں:

  1. ایک یہ کہ تمام انسانوں کی اطاعت اور وفاداری کا مرکز ایک ہے اور وہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات گرامی ہے۔
  2. اور دوسرا یہ کہ اس اصول سے ہٹ کر انسانوں میں حکومت کا جو تصور بھی پایا جاتا ہے وہ انسان پر انسان کی حکمرانی کی شکل میں ہے اور وہ کسی بھی آسمانی مذہب کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔

ہمارے معزز مہمان جناب بل کلنٹن اس وقت دنیا کی سب سے بالادست اور طاقتور قوم کے لیڈر ہیں اور ان کی قوم ’’نیو ورلڈ آرڈر‘‘ کے ذریعے نسل انسانی کی قیادت اور اس پر حکمرانی کا عزم بھی رکھتی ہے، اس لیے اس دعوت کے اولین مخاطب بھی وہی ہیں کہ انسانی آبادی کو معاشی ناہمواری، اخلاقی انارکی، نسلی و علاقائی تقسیم در تقسیم اور باہمی غلبہ کے جنون سے نجات دلانے کے لیے ’’انسان پر انسان کی حکمرانی‘‘ کے تصور کا خاتمہ ضروری ہے۔ اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب تمام انسانی اقوام، گروہوں، طبقات اور افراد کو یکساں اور برابر تصور کرتے ہوئے انہیں ایک ایسی بالادست قوت کے احکام کا تابع کر دیا جائے جو فی الواقع بالادست ہے اور جس کی حقیقی بالادستی پر نسل انسانی کی غالب اکثریت ایمان رکھتی ہے۔

اس پس منظر میں ہم جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک گنہگار امتی کی حیثیت سے آپؐ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے آپؐ کے پیغام کو اپنے محترم مہمان جناب بل کلنٹن تک پہنچانا چاہتے ہیں کہ انسانی خواہشات، افکار اور فلسفوں کا تجربہ تو ہم کئی بار کر چکے اور اس کے تلخ نتائج بھی بھگت چکے جو آج بھی انسانی آبادی میں ہر طرف پھیلی ہوئی بھوک، غربت، جہالت، تعصب، عناد، نفرت، لوٹ مار، استحصال، ذلت، اخلاق باختگی اور درندگی کی شکل میں ہمارے سامنے ہیں۔ اس لیے آئیں ہم اسلام اور مسیحیت کی مشترکہ اقدار کی طرف واپس لوٹ جائیں اور اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہوئے آسمانی مذاہب کی مشترکہ اور محفوظ تعلیمات کی بنیاد پر ایک نیا عالمی نظام تشکیل دیں جو نسل انسانی کو ایک دوسرے کی حکمرانی، بالاتری اور باہمی غلبہ کے جنون سے نجات دلا کر ایک اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں برابری کی بنیاد پر ایک صف میں کھڑا کر دے، اور انسانی اخلاق و آداب کی خداوندی تعلیمات کا شعور بیدار کر کے انسانی برادری کو ایک دوسرے کے احترام اور باہمی حقوق کے ادراک سے بہرہ ور کر دے۔ جناب کلنٹن اگر تاریخ کا شعور رکھتے ہیں تو انہیں اس حقیقت کو سمجھنے میں کوئی دقت نہیں ہونی چاہیے کہ اب نسل انسانی کے پاس اس کے سوا کوئی ’’چوائس‘‘ باقی نہیں رہی اس لیے مستقبل صرف اور صرف آسمانی تعلیمات کا ہے، بات صرف ہمت کرنے اور آگے بڑھنے کی ہے۔

درجہ بندی: