الیکشن اور خان عبد القیوم خان

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۷ دسمبر ۱۹۷۶ء

وفاقی وزیرداخلہ خان عبد القیوم خان ان دنوں جس انداز سے چہچہا رہے ہیں اس سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ آئندہ انتخابات کے لیے ’’ڈمی اپوزیشن‘‘ کو سامنے لانے کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں ورنہ خان عبد القیوم خان اور حکومت پر تنقید! لا حول ولا قوۃ الا باللہ۔ بہرحال خان موصوف اور حکمران گروہ کے درمیان اس ’’نورا کشتی‘‘ میں بسا اوقات کچھ راز کی باتیں بھی منظر عام پر آجاتی ہیں۔

انتخابات کے بارے میں اپوزیشن کافی عرصہ سے اس خدشہ کا اظہار کر رہی ہے کہ بھٹو صاحب الیکشن کا اچانک اعلان کریں گے اور اپوزیشن کو اتنا وقت بھی نہیں دیں گے کہ وہ انتخابات کے لیے اپنی صفوں کو منظم کر سکے۔ بھٹو صاحب نے متعدد بار اپوزیشن کے اس خدشہ کی پھبتی اڑائی لیکن اب ان کے گھر کے بھیدی خان عبد القیوم خان وزیرداخلہ حکومت پاکستان نے تحصیل صوابی میں ٹوپی کے مقام پر مسلم لیگی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے یوں ارشاد فرمایا ہے:

’’لیگی کارکنوں کو اپنی تنظیم تیز سے تیز کر دینا چاہیے، وہ اس بات پر وقت ضائع نہ کریں کہ انتخابات کب ہوں گے، میں کارکنوں سے کہتا ہوں کہ وہ یہ سمجھ لیں کہ رات کو سو کر جب صبح اٹھیں تو الیکشن کا اعلان ہوگا۔ آپ کو اس طرح تیاری کرنی چاہیے تاکہ حالات کے چیلنج کا صحیح جواب دے سکیں۔‘‘ روزنامہ جنگ راولپنڈی ۔ ۲۳ نومبر)

ہم گھر کی گواہی پر خان صاحب موصوف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپوزیشن پارٹیوں اور خصوصاً جمعیۃ علماء اسلام کے کارکنوں سے یہ گزارش کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ خان صاحب کے تھوڑے کہے کو بہت سمجھیں اور ابھی سے اپنے آپ کو ذہنی اور انتظامی لحاظ سے انتخابات کے لیے تیار کر لیں تاکہ ہم بگل بجتے ہی الیکشن کے میدان میں کود سکیں۔