خان محمد حنیف خان کا ارشاد / مذہب سے چڑ کیوں؟ / الیکشن اور خان عبد القیوم خان

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۷ دسمبر ۱۹۷۶ء
اصل عنوان: 
اے روسیاہ تجھ سے تو یہ بھی نہ ہو سکا / مذہب سے چڑ کیوں؟ / الیکشن اور خان عبد القیوم خان

روزنامہ جنگ راولپنڈی ۲۹ نومبر ۱۹۷۶ء کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات خان محمد حنیف خان صاحب نے ہری پور میں پارٹی ورکرز سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ:

’’جمعیۃ علماء اسلام نے اپنے دورِ اقتدار میں شریعت کے نفاذ کے لیے کوئی مثبت اقدام نہیں کیا۔‘‘

معلوم نہیں صوبہ سرحد میں جمعیۃ علماء اسلام اور نیشنل عوامی پارٹی کی دس ماہ کی حکومت کے دوران خان صاحب موصوف ملک سے باہر تھے یا بستر استراحت پر محوِ خواب تھے۔ کیونکہ ملک کے باقی شہریوں نے تو اپنی آنکھوں سے یہ منظر دیکھا کہ مولانا مفتی محمود نے صوبہ سرحد کی وزارت اعلیٰ سنبھالنے کے بعد سب سے پہلا اعلان صوبہ میں شراب پر مکمل پابندی کے بارے میں کیا تھا جسے ملکی و بین الاقوامی اسلامی حلقوں نے گرم جوشی کے ساتھ سراہا تھا۔ اور اس کے بعد مفتی صاحب کی حکومت نے صوبہ میں

  • اردو کو سرکاری زبان قرار دیا،
  • شلوار قمیض کو سرکاری لباس قرار دیا،
  • تقاویٰ قرضوں پر سود معاف کیا،
  • احترام رمضان المبارک کا آرڈیننس نافذ کیا،
  • اسکولوں اور کالجوں میں قرآن کریم کی تعلیم کے لیے الگ اساتذہ مقرر کیے اور داخلے کے لیے نماز اور قرآن کریم کی بنیادی تعلیم کو شرط قرار دیا،
  • صوبہ کے تمام قوانین کو اسلام کے مطابق بنانے کے لیے تین جید علماء اور دو قانون دانوں پر مشتمل بورڈ قائم کیا۔

اور ان جیسی درجنوں اسلامی اصلاحات کی طرف قدم اٹھایا اور یہ سب کچھ اس حالت میں ہوا کہ وفاقی حکومت کی مداخلت اور ناراضگی کی تلوار ہر وقت سر پر لٹکی رہی۔ صرف ایک شراب کے مسئلہ پر مرکزی حکومت نے جس طرح بار بار بازپرس کی اگر خان محمد حنیف خان صاحب کو علم نہ ہو تو متعلقہ ریکارڈ ان دسترس سے باہر نہیں ہے۔

سوال یہ ہے کہ صوبہ سرحد میں جمعیۃ اور نیپ کی مشترکہ حکومت نے ساڑھے نو ماہ کے قلیل عرصہ میں اختیارات کے محدود اور ناکافی ہوتے ہوئے بھی جتنی اسلامی اصلاحات نافذ کی ہیں، پیپلز پارٹی کی حکومت کلی اختیارات کے باوجود پانچ سال میں ان جیسی ایک اصلاح بھی کیوں نہ لا سکی؟ اس موقع پر مجھے سودا کی رباعی یاد آرہی ہے جو میں بصد احترام خان محمد حنیف خان صاحب موصوف کی خدمت میں پیش کرتا ہوں:

سودا قمارِ عشق میں شیریں سے کوہکن
بازی اگرچہ لے نہ سکا سر تو دے سکا
کس منہ سے اپنے آپ کو کہتا ہے عشق باز
اے روسیاہ! تجھ سے تو یہ بھی نہ ہو سکا

مذہب سے چڑ کیوں؟

روزنامہ نوائے وقت راولپنڈی ۲۹ نومبر ۱۹۷۶ء کے مطابق وفاقی وزیر قانون و پارلیمانی امور جناب ملک محمد اختر نے ارشاد فرمایا ہے کہ عوامی نمائندگی کے بل کے تحت برادری سسٹم، ذات پات، علاقائی عصبیت اور مذہب کے نام پر ووٹ مانگنے کو جرم قرار دے دیا جائے گا جس کی سزا تین سال تک قید ہو سکتی ہے۔

جہاں تک برادری سسٹم، ذات پات اور علاقائی عصبیت کا سوال ہے ملک صاحب کی بات سمجھ میں آتی ہے لیکن ان ناپسندیدہ امور کی فہرست میں مذہب کا اضافہ کس منطق کی رو سے کیا جا رہا ہے جبکہ اس ملک کی بنیاد ہی مذہب پر ہے۔ قیام پاکستان سے قبل جن صوبوں میں ریفرنڈم کرانے کی ضرورت محسوس ہوئی تھی ان میں تحریک پاکستان کے قائدین نے مذہب ہی کے نام پر عوام سے ووٹ مانگے تھے۔ پھر آئین میں اسلام کو مملکت کا سرکاری مذہب قرار دیا گیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ جب ملک کے بنیادی نظریہ اور آئین کی بنیاد مذہب پر ہے تو مذہب کو انتخابی ممنوعات کی فہرست میں کیسے شامل کیا جا سکتا ہے؟ اور کیا ایسا کرنا نظریۂ پاکستان اور آئین کی اسلامی دفعات کے منافی نہیں ہوگا؟

اصل بات یہ ہے کہ حکمران گروہ نے اسلام کے نام پر عوام سے جو وعدے کیے تھے انہیں پورا کرنے میں وہ ناکام رہا ہے اور اس سلسلہ میں عوام کے شدید انتخابی ردعمل سے بچنے کے لیے مذہب کو انتخابی ممنوعات کی فہرست میں شامل کرنا چاہتا ہے۔ لیکن ملک صاحب کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ مذہب کو چڑ بنا کر وہ عوام کے شدید انتخابی ردعمل سے نہیں بچ سکتے۔ عوامی محاسبہ کا دن قریب آرہا ہے اس لیے پناہ گاہیں ڈھونڈنے کی بجائے عوام کے سامنے آنے کا حوصلہ کیجئے۔

الیکشن او رخان عبد القیوم خان

وفاقی وزیرداخلہ خان عبد القیوم خان ان دنوں جس انداز سے چہچہا رہے ہیں اس سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ آئندہ انتخابات کے لیے ’’ڈمی اپوزیشن‘‘ کو سامنے لانے کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں ورنہ خان عبد القیوم خان اور حکومت پر تنقید! لا حول ولا قوۃ الا باللہ۔ بہرحال خان موصوف اور حکمران گروہ کے درمیان اس ’’نورا کشتی‘‘ میں بسا اوقات کچھ راز کی باتیں بھی منظر عام پر آجاتی ہیں۔

انتخابات کے بارے میں اپوزیشن کافی عرصہ سے اس خدشہ کا اظہار کر رہی ہے کہ بھٹو صاحب الیکشن کا اچانک اعلان کریں گے اور اپوزیشن کو اتنا وقت بھی نہیں دیں گے کہ وہ انتخابات کے لیے اپنی صفوں کو منظم کر سکے۔ بھٹو صاحب نے متعدد بار اپوزیشن کے اس خدشہ کی پھبتی اڑائی لیکن اب ان کے گھر کے بھیدی خان عبد القیوم خان وزیرداخلہ حکومت پاکستان نے تحصیل صوابی میں ٹوپی کے مقام پر مسلم لیگی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے یوں ارشاد فرمایا ہے:

’’لیگی کارکنوں کو اپنی تنظیم تیز سے تیز کر دینا چاہیے، وہ اس بات پر وقت ضائع نہ کریں کہ انتخابات کب ہوں گے، میں کارکنوں سے کہتا ہوں کہ وہ یہ سمجھ لیں کہ رات کو سو کر جب صبح اٹھیں تو الیکشن کا اعلان ہوگا۔ آپ کو اس طرح تیاری کرنی چاہیے تاکہ حالات کے چیلنج کا صحیح جواب دے سکیں۔‘‘ روزنامہ جنگ راولپنڈی ۔ ۲۳ نومبر)

ہم گھر کی گواہی پر خان صاحب موصوف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپوزیشن پارٹیوں اور خصوصاً جمعیۃ علماء اسلام کے کارکنوں سے یہ گزارش کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ خان صاحب کے تھوڑے کہے کو بہت سمجھیں اور ابھی سے اپنے آپ کو ذہنی اور انتظامی لحاظ سے انتخابات کے لیے تیار کر لیں تاکہ ہم بگل بجتے ہی الیکشن کے میدان میں کود سکیں۔