جمعیۃ علماء اسلام، تاریخ کے پس منظر میں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۳ فروری ۱۹۷۸ء

جمعیۃ علماء اسلام حق پرست علماء اور دین دار کارکنوں کی ایسی تنظیم ہے جس کی فکری بنیاد علماء کے شاندار ماضی اور اہل حق کے مجاہدانہ کردار پر ہے۔ جمعیۃ علماء اسلام اپنی موجودہ ہیئت و حیثیت میں دراصل اسی قافلۂ حق و صداقت اور کاروانِ عزمِ وفا کا ایک حصہ ہے جس نے برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش میں فرنگی حکومت و نظام کے خلاف جرأت مندانہ جنگ لڑی، اور اب فرنگی حکومت سے آزادی حاصل کر لینے کے بعد فرنگی نظام سے چھٹکارا حاصل کرنے اور اس کی جگہ اسلام کا عادلانہ نظام نافذ و رائج کرنے کی مقدس جدوجہد میں مصروف ہے۔

جمعیۃ علماء اسلام کو صحیح طور پر پہچاننے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے تاریخی پس منظر پر ایک نگاہ ڈالی جائے کیونکہ یہ دراصل اسی تحریک اور اسی جدوجہد کی ایک کڑی ہے جسے برصغیر میں ولی اللہی تحریک کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور اس پس منظر کو پیش نظر رکھے بغیر جمعیۃ علماء اسلام کی حقیقت و ماہیت او رمقصد و پروگرام سے آگاہی حاصل نہیں ہو سکتی۔ برصغیر پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کی یہ عظیم تحریک جس کا آغاز حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہ سے ہوتا ہے، اس کے مؤسسِ ثانی اور عصرِ حاضر کے امام حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے جب شعور کی آنکھ کھولی تو مغل شہنشاہیت کے تیزی کے ساتھ بڑھتے ہوئے زوال کے ساتھ ساتھ جنوبی ہند کے ابھرتے ہوئے مرہٹوں کے خطرناک عزائم اور تجارت کے بہانے برصغیر میں گھسے ہوئے انگریزوں کی چالوں کو خداداد نگاہِ بصیرت سے دیکھ لیا۔ سب سے پہلے مرہٹوں کا زور توڑنے کے لیے افغانستان کے بادشاہ احمد شاہ ابدالی کو تحریری دعوت دے کر پانی پت کا وہ تاریخی معرکہ برپا کرایا جس نے مرہٹوں کی قوت ہمیشہ ہمیشہ کے لیے توڑ دی۔ اور اس کے بعد فرنگی کی چالوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک فکری اور نظریاتی تحریک کی بنیاد رکھی۔ قرآن کریم کا فارسی میں ترجمہ کیا اور آنے والے زمانہ کے مسائل و ضروریات کو بھانپ کر قرآن و سنت کی روشنی میں اسلام کے سیاسی و معاشی نظام کی وضاحت کی۔ مسلمانوں کے سیاسی و معاشی مسائل پر روشنی ڈالی اور انسانی برادری کے جمہوری، معاشی اور معاشرتی حقوق کا تعین فرما کر آئندہ آنے والی نسلوں کو قومی جدوجہد کے لیے ایک مضبوط فکری اساس مہیا کر دی۔

حضرت امام ولی اللہ دہلویؒ کی وفات کے بعد ان کے فرزند حضرت شاہ عبد العزیز دہلویؒ ان کے جانشین بنے۔ انہی کے دور میں انگریزوں نے اپنا قانون و نظام نافذ کرنے کا اعلان کیا اور انہوں نے ہی فرنگی سامراج کے خلاف جہاد کا وہ تاریخی فتویٰ صادر کیا جس کی بنیاد پر آئندہ آزادی کی تمام تحریکات منظم ہوئیں۔

حضرت شاہ عبد العزیزؒ کی وفات کے بعد ان کے بھائی شاہ محمد اسحاقؒ نے تحریک کی قیادت سنبھالی اور اپنے بھتیجے حضرت شاہ اسماعیل شہیدؒ اور امیر المومنین سید احمد شہیدؒ کی قیادت میں مجاہدوں کی فوج منظم کی جس نے انگریزوں اور سکھوں سے لڑ کر پشاور کا صوبہ فتح کیا اور وہاں اسلامی قانون نافذ کیا، مگر بالآخر دشمنوں کا مقابلہ کرتے ہوئے بالاکوٹ میں شہید ہوگئے۔

ان کے بعد ولی اللہی خاندان کے تربیت یافتہ حضرات نے تحریک کی کمان سنبھالی اور حضرت مولوی سرفراز علیؒ، حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی، جنرل بخت خان اور ان کے رفقاء کی سرکردگی میں ۱۸۵۷ء کی وہ تاریخی جنگ آزادی لڑی گئی جس میں مجاہدین نے دہلی تک کو انگریزوں سے چھڑا لیا تھا۔ مگر بعض اپنوں کی غداری کے باعث انگریزوں کا تسلط دوبارہ قائم ہوگیا۔ اس دوران حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی اور حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ بانی دارالعلوم دیوبند نے تحصیل شاملی پر قبضہ کر کے وہاں اسلامی قوانین نافذ کیے لیکن انگریزوں کے دوبارہ تسلط کی وجہ سے برصغیر کے عوام بالخصوص علماء کرام کو بے پناہ نقصان اٹھانا پڑا۔ ہزاروں علماء کو بے دردی سے شہید کر دیا گیا اور ہزاروں کو عمر قید کر کے کالاپانی کے جزیرہ میں بھیج دیا گیا۔ علماء کے مدارس بند کر دیے گئے اور مسلمانوں کا نظام تعلیم ختم کر کے انگریزی نظام تعلیم رائج کیا گیا۔

انگریزوں کا خیال تھا کہ جو علماء موجود ہیں وہ یا تو سولی پر لٹکا دیے گئے ہیں یا کالاپانی بھیج دیے گئے ہیں اور جن مدارس میں تربیت حاصل کر کے علماء بنتے ہیں وہ تباہ کر دیے گئے ہیں اس لیے نہ تو کوئی عالم بنے گا اور نہ آزادی کے جہاد کی آواز اٹھے گی۔ لیکن حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ اور ان کے رفقاء نے دیوبند کے قصبہ میں امداد باہمی کی بنیاد پر ایک دینی مدرسہ کی بنیاد رکھی جس کے اخراجات مسلمان آپس میں چندہ کر کے پورے کرتے آرہے ہیں اور آج یہ مدرسہ مصر کے جامعہ ازہر کی طرح دنیائے اسلام کی بڑی اسلامی یونیورسٹی کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔

انگریزوں نے صرف علماء ہی کو ختم کرنے کی سازش نہیں کی بلکہ مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لیے بھی طرح طرح کے فتنے پھیلائے۔ انگریزوں کے پروردہ مفکرین نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا انکار کر کے نئی نبوت کا کھڑاگ رچایا، جہاد کی منسوخی کا عقیدہ گھڑا، انگریزی حکومت اور فرنگی قانون کے باوجود ہندوستان کو دارالسلام قرار دیا، انگریزوں کے خلاف جہاد کو ممنوع قرار دیا، صحابہ کرامؓ و سلف صالحینؒ اور بزرگان دین کے خلاف پروپیگنڈا کر کے ان پر مسلمانوں کا اعتماد ختم کرنے کی سازش کی، عیسائی مشنریوں اور ہسپتالوں کے ذریعے نوجوانوں کو عیسائی بنانے کی کوشش کی گئی۔ غرضیکہ ہر ممکن طریقہ سے مسلمانوں کو اسلام کے حقیقی تصور سے بیگانہ رکھنے اور گمراہ کرنے کی سعی ہوئی۔ لیکن دارالعلوم دیوبند اور اس کے خوشہ چینوں نے نہ صرف ان تمام فتنوں کا کامیاب مقابلہ کیا بلکہ خود انگریز کے خلاف تحریک آزادی کی جرأت مندانہ قیادت کر کے اسے یہاں سے بوریا بستر سمیٹنے پر مجبور کر دیا۔

دارالعلوم دیوبند میں فیض حاصل کرنے والوں میں شیخ الہند حضرت مولانا محمود الحسنؒ، شیخ العرب والعجم حضرت مولانا حسین احمدؒ مدنی، امام انقلاب حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ، مفتی اعظم مفتی کفایت اللہ دہلویؒ، شیخ المشائخ حضرت مولانا شاہ عبد الرحیم رائے پوریؒ، مجاہد اعظم حضرت مولانا حفظ الرحمان سیوہارویؒ، قطب المشائخ حضرت مولانا تاج محمودؒ امروٹی، شیخ العلماء حضرت مولانا غلام محمد دین پوریؒ، امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، رئیس الاحرار حضرت مولانا حبیب الرحمان لدھیانوی، قطب الاقطاب حضرت مولانا احمد علی لاہوری، اور دیگر مجاہدین نے تحریک آزادی میں، اور حکیم الامت حضرت شاہ اشرف علی تھانویؒ، شیخ الاسلام حضرت علامہ شبیر احمدؒ عثمانی، محدث جلیل حضرت مولانا ظفر احمدؒ عثمانی اور مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی محمد شفیع نے تحریک پاکستان میں نمایاں خدمات سرانجام دیں۔

برصغیر کی تاریخ ان بزرگوں کے کارناموں سے بھری پڑی ہے۔ اور جب انگریز ان بزرگوں اور ان کے بے شمار رفقاء کی مسلسل جدوجہد کے نتیجہ میں یہاں سے رخصت ہوگیا اور دنیا کے جغرافیے پر پاکستان کے نام سے ایک عظیم الشان نئی سلطنت ابھری تو پاکستان میں اس قافلہ کے افراد نے اسلامی نظام و قوانین کے نفاذ پر اپنی تمام تر توجہات مرکوز کر دیں۔ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی میں جمعیۃ علماء اسلام کے بزرگ رہنما حضرت علامہ شبیر احمدؒ عثمانی نے ’’قراردادِ مقاصد‘‘ منظور کرا کے پاکستان کو ہمیشہ کے لیے اسلامی نظام کے لیے ایک دستوری بنیاد فراہم کر دی۔ اس کے بعد جمعیۃ کے رہنماؤں نے تمام مکاتب فکر کے ۳۱ سرکردہ علماء کرام کو جمع کر کے ۲۲ دستوری نکات پر اتفاق کا اعلان کرایا اورا س جھوٹ کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیا کہ علماء اسلامی نظام کے بارے میں متفق نہیں ہیں۔

پاکستان میں جب انگریزوں کے خودکاشتہ پودے قادیانیت کی گمراہ کن سرگرمیوں اور سازشوں میں اضافہ ہوا تو علماء کرام نے ۱۹۵۳ء میں عظیم الشان تحریک چلائی جس میں ہزاروں مسلمانوں نے خون کی قربانی دی۔ اس تحریک میں جمعیۃ علماء اسلام کے رہنماؤں نے بھی قائدانہ کردار ادا کیا اور گرفتار ہوئے۔ ۱۹۵۷ء حضرت مولانا مفتی محمود صاحب کی تحریک پر ملتان میں پورے ملک کے علماء کرام کا ایک نمائندہ اجتماع ہوا جس میں جمعیۃ علماء اسلام کو ازسرنو منظم کرنے اور ملکی سالمیت میں فعال اور مؤثر کردار ادا کرنے کا فیصلہ ہوا۔ چنانچہ امام الاولیاء حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کو جمعیۃ کا سربراہ چنا گیا اور ان کی سربراہی میں اس قافلہ نے سفر نو کا آغاز کیا۔

اس وقت ملک میں ۱۹۵۶ء کا دستور نافذ تھا، جمعیۃ علماء اسلام کی دستوری کمیٹی نے مولانا مفتی محمود کی سرکردگی میں اس دستور کی غیر اسلامی شقوں کی نشاندہی کر کے اسلامی دستور و نظام کے لیے جدوجہد کا آغاز کیا اور آئندہ انتخابات میں بھرپور حصہ لینے کا اعلان کر دیا۔ مگر ۱۹۵۸ء میں جنرل محمد ایوب خان کے مارشل لاء کی وجہ سے یہ انتخابات نہ ہو سکے اور دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ جمعیۃ علماء اسلام کو بھی خلافِ قانون قرار دے دیا گیا۔ علماء حق کے اس قافلہ نے حضرت اقدس حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کی سربراہی میں ’’نظام العلماء‘‘ کے نام سے ایک مذہبی پلیٹ فارم قائم کر لیا اور اس پلیٹ فارم سے خلافِ اسلام حرکات کے خلاف جدوجہد جاری رکھی۔ چنانچہ جب ایوب خان نے عائلی قوانین نافذ کیے تو نظام العلماء نے انہیں خلافِ اسلام قرار دے دیا۔ مارشل لاء کے دوران دہلی دروازے لاہور میں جلسہ عام کر کے حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ نے ان قوانین کو کھلم کھلا چیلنج کیا۔ اسی طرح جب ایوب خان نے نئے دستور کی تیاری کا اعلان کیا تو نظام العلماء نے اسلامی دستور کا خاکہ مرتب کر کے پیش کیا اور اس کے لیے ملک بھر میں دستخطوں کی مہم چلائی۔

جب ایوب خان نے اسمبلیوں کے انتخابات کرائے تو نظام العلماء کے سرگرم رہنما حضرت مولانا مفتی محمود اپنے آبائی حلقہ ڈیرہ اسماعیل خان سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ اسی دوران سیاسی جماعتوں کی بحالی کے باعث جمعیۃ علماء اسلام بھی دوبارہ میدانِ عمل میں آگئی اور حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی اور حضرت مولانا مفتی محمود کی سرکردگی میں دورِ نو کا آغاز کیا۔ اس طرح حضرت علامہ شبیر احمدؒ عثمانی کے بعد آپ جمعیۃ کے دوسرے مرکزی رہنما تھے جنہوں نے مرکزی اسمبلی میں جمعیۃ علماء اسلام کے موقف اور مشن کی ترجمانی کی۔

مولانا مفتی محمود نے خداداد صلاحیتوں کی بنا پر جمعیۃ علماء اسلام کی سیاسی حیثیت کو دوسری سیاسی قوتوں سے تسلیم کروایا۔ جمعیۃ نے ایوب خان مرحوم کی آمریت کے خلاف لاہور میں علماء کی آل پاکستان کانفرنس منعقد کی اور ہزاروں علماء پر مشتمل ایک احتجاجی جلوس نکال کر آمریت کے خلاف جرأت مندانہ پیش قدمی کی۔ حتیٰ کہ ایوب خان مرحوم کی آمریت کے خلاف منظم ہونے والی آٹھ پارٹیوں پر مشتمل جمہوری مجلس عمل میں جمعیۃ بھی شامل ہوئی۔ جمعیۃ علماء اسلام کے کارکنوں اور رہنماؤں نے بحالیٔ جمہوریت کی تحریک میں نمایاں کردار ادا کیا اور جمعیۃ کے مرکزی رہنما حضرت مولانا عبید اللہ انور مدظلہ لاہور میں ایک احتجاجی جلوس کی قیادت کرتے ہوئے پولیس کے شدید لاٹھی چارج سے زخمی ہوگئے اور کافی عرصہ میو ہسپتال میں زیر علاج رہے۔

صدر ایوب خان مرحوم کے ساتھ اپوزیشن جماعتوں کی گول میز کانفرنس میں قائد جمعیۃ علماء اسلام مولانا مفتی محمود جمعیۃ علماء اسلام کے نمائندہ کی حیثیت سے شریک ہوئے اور مشترکہ مطالبات کے علاوہ جمعیۃ علماء اسلام کی طرف سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ تمام مکاتب فکر کے ۳۱ دستوری نکات کو دستور میں شامل کیا جائے اور دستور میں مسلمان کی تعریف متعین کی جائے۔

ایوب خان مرحوم کے اقتدار سے دستبردار ہوجانے کے بعد جنرل محمد یحییٰ خان برسرِ اقتدار آئے اور انہوں نے ملک میں بالغ رائے دہی کی بنیاد پر پہلے عام انتخابات کا اہتمام کیا۔ جمعیۃ علماء اسلام نے ۱۹۷۰ء کے انتخابات میں اپنا منشور پیش کر کے بھرپور حصہ لیا جس کے نتیجے میں اسے صوبہ سرحد اسمبلی میں ۵، بلوچستان اسمبلی میں ۳، پنجاب اسمبلی میں ۲ اور قومی اسمبلی میں ۷ نشستیں حاصل ہوئیں۔ جبکہ سرحد و بلوچستان میں بلینس پاور جمعیۃ کے حصہ میں آئی۔ ان انتخابات میں مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ کو فیصلہ کن اکثریت حاصل ہوئی لیکن جنرل یحییٰ خان نے انتقالِ اقتدار میں ٹال مٹول کی پالیسی اختیار کی اور حالات دگرگوں ہوتے گئے۔

چنانچہ جب یحییٰ خان نے ڈھاکہ میں قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کیا اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو نے لاہور میں تقریر کرتے ہوئے ’’ادھر تم ادھر ہم‘‘ کا نعرہ لگا کر اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا اور دھمکی دی کہ جو ممبر ڈھاکہ جائے گا اس کی ٹانگیں توڑ دی جائیں گی، اس نازک مرحلہ پر جمعیۃ علماء اسلام کے قائد مولانا مفتی محمود نے اعلان کیا کہ جمعیۃ کے ارکان اسمبلی ڈھاکہ سیشن میں شرکت کے لیے جائیں گے کیونکہ ان کے خیال میں ڈھاکہ سیشن کا بائیکاٹ ملک کو تقسیم کرنے کی طرف ایک قدم ہے۔ پھر مولانا مفتی محمود نے اسمبلی کے چھوٹے گروپوں کی کانفرنس لاہور میں بلائی اور بحران کو سیاسی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس کے ساتھ ہی مولانا مفتی محمود نے جنرل یحییٰ خان، شیخ مجیب الرحمان اور ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ متعدد ملاقاتیں کر کے معاملات کو سلجھانے کی مسلسل کوشش کی لیکن ملک کو توڑنے کی منظم سازش کامیاب ہو کر رہی اور بالآخر ایک طویل سازشی عمل کے بعد ملک دولخت ہوگیا۔

سقوطِ ڈھاکہ کے بعد بچے کھچے پاکستان میں مسٹر بھٹو کی حکومت قائم ہوئی تو باقی ماندہ ملک کی سلامتی کے تحفظ کے لیے جمعیۃ علماء اسلام نے مسٹر بھٹو کی حمایت کی اور ان سے بھرپور تعاون کیا، حتیٰ کہ نیشنل عوامی پارٹی کی معیت میں پیپلز پارٹی کے ساتھ سہ فریقی معاہدہ میں شریک ہوگئی۔ لیکن جمعیۃ اور نیپ کی طرف سے مارشل لاء کو ختم کرنے کے مسلسل مطالبہ پر یہ معاہدہ توڑ دیا گیا اور صوبہ سرحد و بلوچستان میں جمعیۃ علماء اسلام اور نیشنل عوامی پارٹی کی مخلوط حکومتیں قائم ہوگئیں۔ صوبہ سرحد میں وزیراعلیٰ مولانا مفتی محمود منتخب ہوئے جنہوں نے دس ماہ کے مختصر دور حکومت میں شراب پر پابندی، جواء پر پابندی، اردو کو سرکاری زبان قرار دینے، شلوار قمیض کو سرکاری لباس قرار دینے، تقاوی قرضوں پر سود کے خاتمہ اور کالجوں میں اسلامی تعلیمات کے اہتمام جیسی درجنوں اصلاحات کیں۔ اور دفعہ ۱۴۴ و دیگر امتناعی قوانین کے استعمال کے بغیر کامیابی کے ساتھ حکومت چلا کر یہ ثابت کر دیا کہ علماء کرام زیادہ کامیابی کے ساتھ حکومت چلا سکتے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی مولانا مفتی محمود نے دستور ساز اسمبلی میں نئے دستور کی ترتیب و تدوین میں بھرپور کردار ادا کیا اور دستور کو اسلامی سانچہ میں ڈھالنے کے لیے اپنی علمی و فقہی بصیرت اور خداداد صلاحیتوں سے دستور ساز اسمبلی کو بھرپور فائدہ پہنچایا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلوچستان اسمبلی میں اکثریت ہونے کے باوجود نیپ اور جمعیۃ کی مخلوط حکومت کو برطرف کر دیا۔ اس ظلم اور جبر کے خلاف احتجاج کے طور پر مولانا مفتی محمود نے بھی صوبہ سرحد کی وزارت اعلیٰ سے استعفیٰ دے دیا۔ اور اس کے بعد ملک کی دیگر جماعتوں کے ساتھ ’’متحدہ جمہوری محاذ‘‘ تشکیل دیا جو سالہا سال تک بھٹو آمریت کے خلاف جمہوریت کی سربلندی کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم کا کردار ادا کرتا رہا۔

۱۹۷۴ء میں قادیانیت کے خلاف شیخ الاسلام علامہ سید محمد یوسف بنوریؒ کی قیادت میں فیصلہ کن تحریک چلی تو قومی اسمبلی میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کی ترجمانی کرنے والے گروپ کی قیادت مولانا مفتی محمود نے کی اور قادیانی مسئلہ کے تمام پہلوؤں پر روشنی ڈالی، حتیٰ کہ قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا آئینی مطالبہ تسلیم کر لیا۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خان عبد الولی خان کی گرفتاری کے بعد حزب اختلاف نے جمعیۃ علماء اسلام کے قائد مولانا مفتی محمود کو اپنا لیڈر چن لیا اور وہ اسمبلی کے اختتام تک یہ فرائض سرانجام دیتے رہے۔

بھٹو حکومت نے ۱۹۷۷ء میں ملک میں عام انتخابات کا اعلان کیا تو ملک کی ۹ سیاسی جماعتوں نے ’’پاکستان قومی اتحاد‘‘ کے نام سے ایک مشترکہ محاذ تشکیل دیا جس کا سربراہ جمعیۃ کے قائد مولانا مفتی محمود کو چنا گیا۔ مولانا مفتی محمود کی قیادت میں پاکستان قومی اتحاد نے شاندار انتخابی مہم چلائی جس سے بوکھلا کر مسٹر بھٹو کو وسیع تر دھاندلیوں کا سہارا لینا پڑا۔ لیکن ۷ مارچ کے انتخابی نتائج کو، جن کی بنیاد ہمہ گیر دھاندلیوں پر تھی، قوم نے مسترد کر دیا اور پاکستان قومی اتحاد کی اپیل پر نہ صرف ۱۰ مارچ کے صوبائی انتخابات کا بے مثال بائیکاٹ کیا بلکہ ملک گیر ہڑتال کر کے یہ ثابت کر دیا کہ پوری قوم پاکستان قومی اتحاد کے ساتھ ہے۔ اس کے بعد پاکستان قومی اتحاد کی اپیل پر تاریخ ساز عوامی تحریک چلی جس میں لاکھوں افراد نے خود کو گرفتاری کے لیے پیش کیا۔ ہزاروں افراد بھٹو حکومت کے تشدد کا نشانہ بن کر جمہوریت کی بحالی اور نظامِ مصطفیٰ کے نفاذ کے جذبوں کے ساتھ شہید ہوئے۔ مولانا مفتی محمود اور دیگر قائدین گرفتار کر لیے گئے لیکن تشدد کے تمام تر ہتھکنڈوں کے باوجود بھٹو حکومت مولانا مفتی محمود اور ان کے رفقاء کو رہا کر کے مذاکرات پر مجبور ہوگئی۔

مذاکرات کی میز پر بھی مولانا مفتی محمود اور ان کے رفقاء نوابزادہ نصر اللہ خان اور پروفیسر غفور احمد نے خداداد صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا اور قومی اتحاد کے ۳۳ مطالبات میں سے ۳۱ مطالبات تسلیم کرانے میں کامیاب ہوگئے لیکن مسٹر بھٹو نے ان مطالبات کو دستوری تحفظ فراہم کرنے سے انکار کر دیا جس کے نتیجہ میں ملک ایک بار پھر مارشل لاء کی نذر ہوگیا۔

پاکستان قومی اتحاد نے مولانا مفتی محمود کی قیادت پر ایک بار پھر اعتماد کا اظہار کر کے انہیں آئندہ سال کے لیے بھی اپنا سربراہ چن لیا ہے اور مفتی صاحب کی قیادت میں جمعیۃ علماء اسلام ملک میں اسلام کے عادلانہ نظام کے نفاذ کے لیے پاکستان قومی اتحاد کے پلیٹ فارم پر اپنا کردار مؤثر اور مثبت طور پر سرانجام دے رہی ہے۔

آئیے اور اس تاریخی جدوجہد میں جمعیۃ علماء اسلام کے قافلہ میں شامل ہو کر حق و صداقت کی سربلندی اور اسلام کے عادلانہ نظام کے نفاذ کے لیے مفید اور مؤثر کردار ادا کیجئے۔