دینی مدارس اور نظامِ تعلیم کا اجتماعی دھارا

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۳۰ اپریل ۲۰۰۰ء

چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف نے اپنے حالیہ غیر ملکی دورہ کے دوران قاہرہ میں پاکستانیوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے دینی مدارس کے بارے میں بھی کچھ باتیں کی ہیں اور فرمایا ہے کہ ان کی حکومت دینی مدارس کے نظام میں اصلاح کا رادہ رکھتی ہے اور ان کا پروگرام ہے کہ دینی مدارس کو ملک کے اجتماعی نظام تعلیم کے دھارے میں لایا جائے۔

دینی مدارس اور انہیں اجتماعی نظام تعلیم کے دھارے میں لانے کی خواہش کا ایک عرصہ سے قومی حلقوں میں اظہار کیا جا رہا ہے اور نظام و نصاب کی اصلاح کی حد تک ہم بھی وقتاً فوقتاً اپنی خواہشات ضبط تحریر میں لاتے رہتے ہیں جس سے ذہنوں میں خلجان سا پیدا ہو جاتا ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہوگیا ہے کہ اس مسئلہ کا اس پس منظر میں ایک مختصر جائزہ لے لیا جائے۔

جہاں تک دینی مدارس کے نظام و نصاب پر نظرثانی اور اسے بہتر بنانے کے لیے ہماری اور ہمارے دیگر ہم خیال دوستوں کی خواہش اور تجاویز کا تعلق ہے ان کا مقصد صرف یہ ہے کہ دینی مدارس کا یہ نظام جن مقاصد کے لیے وجود میں لایا گیا تھا ان کے حوالہ سے آج کے دور کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے جو کمزوریاں محسوس ہو رہی ہیں ان کو دور کیا جائے، اور جدید دور نے جو چیلنج علمی اور ثقافتی طور پر ہمارے سامنے رکھ دیا ہے اس کا سامنا کرنے کے لیے دینی مدارس کے فضلاء کو علمی، فکری اور سائنٹیفک بنیادوں پر تیار کیا جائے۔ مثلاً ایک نوجوان عالم دین کا انگریزی زبان سے واقف ہونا ضروری ہے، کمپیوٹر سے استفادہ کی اہلیت لازمی ہے، تاریخ عالم کے مختلف ادوار، مذاہب عالم کی تقابلی صورتحال، اسلامی تاریخ، مسلمانوں کے زوال کے اسباب، موجودہ عالمی ثقافتی کشمکش کے شعور و ادراک اور عالمی فکری تحریکات کے تصادم اور ٹکراؤ کی معروضی صورتحال کے ساتھ ساتھ اجتماعی نفسیات کے اصولوں پر پبلک ڈیلنگ کے تقاضوں سے آگاہی ناگزیر ہے۔

ہم درس نظامی کے نصاب اور تربیتی نظام میں ان امور کا اضافہ ضروری سمجھتے ہیں لیکن دینی مدارس کے جداگانہ تشخص، آزادانہ کردار اور روایتی تسلسل کے تحفظ کو اس سے بھی زیادہ ضروری خیال کرتے ہیں۔ اس لیے دینی مدارس کو اجتماعی نظام تعلیم کے دھارے میں شامل کرنے کی بات ہمارے نزدیک ان مدارس کے قیام کے بنیادی مقاصد اور اہداف سے متصادم ہے۔ چنانچہ ہم دینی مدارس کے نظام تعلیم میں اصلاح کے خواہشمند ان دانشوروں کی رائے سے اتفاق نہیں کر سکتے جو دینی مدارس کو اجتماعی دھارے میں شامل کر کے انہیں قومی نظام تعلیم کے روایتی سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کی سطح پر لانا چاہتے ہیں۔ کیونکہ ان مدارس نے بھی اگر وہی کام کرنا ہے جو سکول، کالج اور یونیورسٹی کر رہے ہیں تو پھر سرے سے ان دینی مدارس کے الگ قیام کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی، اور اس ضرورت سے انکار دراصل ان دینی مدارس کے اس معاشرتی کردار کی نفی ہے جو وہ گزشتہ ڈیڑ سو برس سے مسلمانوں کے عقائد و ایمان کے تحفظ، اسلامی تہذیب و ثقافت کے فروغ، قرآن و سنت کی تعلیمات کی ترویج اور ماضی کے ساتھ مسلمانوں کا علمی و فکری رشتہ قائم رکھنے کے لیے سرانجام دے رہے ہیں۔ اور آج اگر جنوبی ایشیا میں اسلام اور اس کی تعلیمات کے اثرات باقی ساری دنیا سے زیادہ نظر آرہے ہیں تو عالم اسباب میں اس کی سب سے بڑی وجہ یہی دینی مدارس ہیں۔

ہمیں سکول، کالج اور یونیورسٹی کی ضرورت و افادیت، ان کےمعاشرتی کردار اور قومی تعمیر نو میں ان کے حصہ سے قطعاً انکار نہیں ہے اور ہم اس کے پوری طرح معترف ہیں۔ لیکن اس فرق کو ملحوظ رکھنا ضروری سمجھتے ہیں کہ ان کے کردار کی نوعیت الگ اور دائرہ مختلف ہے جبکہ دینی مدارس کے کردار کی نوعیت اور دائرہ اس سے بالکل جدا ہے۔ اس لیے جب دینی مدارس کو اجتماعی تعلیمی نظام کے دھارے میں شامل کرنے کی بات ہوتی ہے تو اس سے یہی سمجھا جاتا ہے کہ ان مدارس کو بھی سکول اور کالج میں تبدیل کیا جا رہا ہے جس سے دینی مدارس کے جداگانہ تشخص اور کردار کا دائرہ بالکل خالی ہو جائے گا اور اس خلا کو پر کرنے کے لیے اس وقت کوئی متبادل ادارہ موجود نہیں ہے۔ اور یہ بات محض قیاس آرائی نہیں بلکہ اس کا عملی تجربہ ہمارے سامنے آچکا ہے کہ صدر محمد ایوب خان مرحوم کے دور میں ریاست بہاولپور کے سب سے بڑے دینی ادارہ جامعہ عباسیہ کو اجتماعی دھارے میں شامل کرنے کے اسی عنوان کے ساتھ یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا، اسے سرکاری طور پر تسلیم کیا گیا، اس میں عصری علوم اور درس نظامی کے امتزاج سے ایک مشترکہ نصاب رائج کیا گیا اور ملک بھر سے جید علمائے کرام وہاں لا کر بٹھائے گئے۔ لیکن رفتہ رفتہ نصاب میں دینی تعلیم کا عنصر اور تدریسی عملہ میں علمائے دین کا تناسب کم ہوتا چلا گیا اور اب بہاولپور کی اسلامی یونیورسٹی ملک کی دیگر یونیورسٹیوں سے اپنے نصاب و نظام کے حوالہ سے کسی معاملہ میں بھی مختلف نہیں ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جب دینی مدارس کو اجتماعی دھارے میں لانے کی بات ہوتی ہے تو جامعہ عباسیہ سے اسلامی یونیورسٹی تک یہ سفر ذہن کی اسکرین پر گھومنے لگتا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ دینی مدارس کو سرے سے ختم کرنے اور دینی تعلیم کے جداگانہ نظام کو اس کے معاشرتی کردار سے محروم کرنے کے لیے کوئی پروگرام بنایا جا رہا ہے۔ اس لیے ہم جنرل پرویز مشرف سے اس سلسلہ میں دو گزارشات ضروری سمجھتے ہیں:

  1. ایک یہ کہ دینی مدارس کے بارے میں اپنے اس پروگرام پر عمل شروع کرنے سے پہلے جامعہ عباسیہ بہاولپور کی فائل کا ایک بار ضرور مطالعہ کریں تاکہ ان پر یہ بات پوری طرح واضح ہو جائے کہ وہ کیا کرنے جا رہے ہیں اور اس کے اثرات کیا ہو سکتے ہیں۔
  2. دوسری گزارش ایک کہاوت کے حوالہ سے ان کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے جو عربی ادب کی کسی کتاب میں ہم نے پڑھی تھی کہ کسی بادشاہ کا شاہی باز ایک بار کسی بڑھیا کی کٹیا میں جا اترا۔ بڑھیا نے باز کو اٹھا کر دیکھا تو بے حد متعجب ہوئی کہ اتنا چھوٹا سا پرندہ ہے اور اس کے پر اتنے لمبے ہیں۔ اسے خیال ہوا کہ اسے اتنے بڑے بڑے پروں کے ساتھ اڑنے میں دشواری ہو رہی ہوگی اور شاید اسی وجہ سے یہ میرے ہاں گر پڑا ہے۔ یہ سوچ کر بڑھیا نے قینچی لی اور اس باز کے پر کاٹ دیے۔ پھر دیکھا کہ اس کی چونچ بہت زیادہ ٹیڑھی ہے، خیال ہوا کہ اس کو دانہ چگتے ہوئے دشواری ہوتی ہوگی چنانچہ چونچ بھی کاٹ کر سیدھی کر دی۔ اس کے بعد نظر ناخنوں پر جا پڑی جو بہت لمبے تھے، بڑھیا نے یہ سوچ کر کہ یہ اسے تکلیف دیتے ہوں گے، ناخن بھی کاٹ دیے۔ بڑھیا کا یہ عمل اس غریب پرندے کی ہمدردی میں تھا لیکن اس ہمدردی میں اس نے باز کا بیڑا غرق کر دیا۔ جنرل پرویز مشرف سے گزارش ہے کہ دینی مدارس کا حسن اور ان کا دینی و تہذیبی تشخص ان کے جداگانہ اور آزادانہ کردار میں ہی ہے۔ انہیں اسی حال میں رہنے دیں، ان کے پر، چونچ اور ناخن کاٹ کر انہیں ممولا نہ بنائیں۔