ایک نئے ’’حقوق نسواں بل‘‘ کی تیاریاں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جنوری ۲۰۰۷ء

’’تحفظ حقوق نسواں بل‘‘ پارلیمنٹ کی منظوری اور صدر کے دستخط کے بعد اب ایکٹ کی صورت اختیار کر چکا ہے اور قانون کے طور پر ملک میں نافذ ہوگیا ہے۔ مگر حکمران طبقے اس ’’دھکا شاہی‘‘ میں کامیاب ہوجانے کے بعد بھی اندر سے مطمئن نہیں ہیں اور ان کے ضمیر کی ملامت ان بیانات کی صورت میں مسلسل سامنے آرہی ہے جو وہ حدود شرعیہ اور دینی حلقوں کے بارے میں دے رہے ہیں۔

  • کبھی یہ کہا جا رہا ہے کہ اس بل کے بارے میں چند علماء نے رائے دی تھی جو قبول نہیں کی گئی۔ حالانکہ یہ رائے نہیں تھی بلکہ مسلسل مذاکرات اور گفت و شنید کے نتیجے میں طے پانے والا ’’متفقہ معاہدہ‘‘ تھا جس پر علماء کمیٹی کے ارکان کے ساتھ پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین، پنجاب کے وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی اور قومی اسمبلی میں حقوق نسواں بل کے حوالہ سے قائم کی جانے والی سلیکیٹ کمیٹی کے سربراہ سردار نصر اللہ خان دریشک نے بھی دستخط کیے تھے۔ اس لیے اس کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ چند علماء کی رائے تھی جسے قبول نہیں کیا گیا، قطعی طور پر درست نہیں ہے بلکہ یہ علماء کرام کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ تھا جس سے انحراف کیا گیا ہے اور حکمران جماعت اس سے منحرف ہوگئی ہے۔
  • اس کے ساتھ ہی یہ شوشہ بھی چھوڑا جا رہا ہے کہ علماء کرام نے حقوق نسواں کے تحفظ کے سلسلہ میں جو تجاویز پیش کی تھیں انہیں ایک نئے بل کی صورت میں قومی اسمبلی میں لایا جا رہا ہے جس کے لیے چوہدری شجاعت حسین نے بل کا مسودہ قومی اسمبلی میں جمع کرا دیا ہے اور یہ بل علماء کرام کی سفارشات کے مطابق منظور کیا جائے گا۔ اس سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اس طرح حقوق نسواں ایکٹ کی وہ خرابیاں دور ہوجائیں گی جن کی دینی حلقوں کی طرف سے نشاندہی کی جا رہی ہے۔ مگر یہ بات بھی مغالطہ آفرینی اور فریب کاری سے زیادہ کوئی حقیقت نہیں رکھتی، اس لیے کہ اگر یہ نیا بل پورے کا پورا علماء کرام کی سفارشات اور تجاویز کی روشنی میں صحیح صورت میں منظور بھی ہوجائے تو اس سے منظور شدہ حقوق نسواں ایکٹ کی خرابیاں دور نہیں ہوں گی اور اس ایکٹ میں حدود شرعیہ میں جو ردوبدل کیا گیا ہے اور قرآن و سنت کے صریح تقاضوں سے انحراف کی جو صورت اختیار کی گئی ہے وہ جوں کی توں موجود رہے گی اور اس میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوگی۔

ہمارے خیال میں نیا بل صرف اس مقصد کے لیے لایا جا رہا ہے کہ اسے منظور کرا کے یہ کہہ دیا جائے کہ ہم نے علماء کی تجاویز بھی منظور کر لی ہیں اس لیے اب دینی حلقوں کو اس سلسلہ میں خاموشی اختیار کر لینی چاہیے۔ اس وجہ سے ہم نے اکابر علماء کرام سے گزارش کی ہے کہ وہ اس چال کو سمجھیں اور اس وقت تک نئے بل کے بارے میں حکومت سے کوئی بات نہ کریں جب تک منظور شدہ حقوق نسواں ایکٹ کی اصلاح کے بارے میں حکومت کی طرف سے کوئی واضح بات سامنے نہیں آتی، اس لیے کہ حقوق نسواں ایکٹ کی خرابیاں جزوی اور معمولی نوعیت کی نہیں بلکہ اصولی اور بنیادی ہیں۔ مثلاً:

  • اس ایکٹ میں ’’زنا بالجبر‘‘ کی صورت میں حد شرعی کے نفاذ کو ساقط کرکے اسے تعزیری جرائم میں شامل کر دیا گیا ہے، جو کہ حد شرعی میں ترمیم ہے۔
  • ’’زنا بالرضا‘‘ کا اس ایکٹ میں دو جگہ ذکر ہے۔ ایک جگہ اس میں شرعی حد یعنی رجم یا سو کوڑوں کو سزا بتایا گیا ہے، جبکہ دوسری جگہ ’’زنا بالرضا‘‘ پر پانچ سال قید اور دس ہزار روپے جرمانہ کی سزا تحریر کی گئی ہے۔ یہ تضاد صراحتاً دھوکہ دہی اور فریب کاری کے مترادف ہے اور اس طرح ’’زنا بالجبر‘‘ کی طرح ’’زنا بالرضا‘‘ کو بھی حد شرعی کے دائرہ سے نکال کر تعزیری جرم قرار دیا گیا اور زنا کے حوالے سے حد شرعی کا عملاً مکمل خاتمہ کر دیا گیا ہے۔
  • زنا کے جرم کو تمام صورتوں میں ’’ناقابل دست اندازی پولیس‘‘ قرار دے دیا گیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ جرم اب ہمارے قانون کے مطابق ریاست کی نظر میں جرم نہیں رہا اور اس کے ارتکاب پر ریاست اور حکومت کو کوئی شکایت نہیں ہے، اسی لیے اب اس جرم کی کسی کیس میں حکومت مدعی نہیں ہوگی اور زنا کے کھلم کھلا ارتکاب پر بھی پولیس کوئی کاروائی نہیں کر سکے گی، ہاں اگر متاثرہ فریق کو کوئی شکایت ہے تو وہ عدالت سے رجوع کر سکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ’’زنا بالرضا ‘‘ کی صورت میں کون عدالت کی طرف جائے گا؟ عدالت سے رجوع ’’زنا بالجبر‘‘ کی صورت میں ہی کیا جا سکے گا، اس طرح مغربی ملکوں کا یہ قانون ہمارے ہاں بھی عملاً نافذ ہوگیا ہے کہ اصل جرم زنا نہیں بلکہ جبر ہے اور جبر میں بھی ریاست مدعی نہیں ہوگی، متاثرہ فریق اگر چاہے تو شکایت کر سکے گا۔
  • اس ایکٹ میں قذف کے ۸۰ کوڑوں کو قید کی سزا میں تبدیل کر دیا گیا ہے جو حد شرعی کو تبدیل کر دینے کے مترادف ہے۔
  • اس کے علاوہ اور بھی متعدد خرابیاں ہیں جن کی موجودگی میں ’’تحفظ حقوق نسواں ایکٹ‘‘ کو شرعی طور پر کسی طرح قابل قبول قرار نہیں دیا جا سکتا۔

دوسری طرف اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں ’’مجلس تحفظ حدود اللہ پاکستان‘‘ کے عنوان سے ملک کے مختلف مکاتب فکر کے ہزاروں علماء کرام جمع ہو کر دینی حلقوں کے متفقہ موقف کا اظہار کر چکے ہیں جو ’’اتمام حجت‘‘ کے طور پر بہت اچھی بات ہے مگر صرف اتنا کافی نہیں ہے بلکہ اس موقف کے حق میں رائے عامہ کو منظم کرنا اور قوم کے تمام طبقات تک اسے مؤثر طریقے سے پہنچا کر عوامی بیداری پیدا کرنا بھی انتہائی ضروری ہے اور اس کے لیے یہ بات ناگزیر ہے کہ ’’مجلس تحفظ حدود اللہ پاکستان‘‘ کو ’’کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان‘‘ کی طرح باقاعدہ ایک ملک گیر فورم کی صورت میں تشکیل دیا جائے جس میں تمام مکاتب فکر کی مسلمہ قیادت کی بھرپور نمائندگی ہو اور جو عملی سیاسی کشمکش سے بالاتر رہتے ہوئے خالصتاً علمی اور دینی بنیادوں پر اس جدوجہد کی قیادت کرے، اس کے بغیر ہم اس مہم کو مؤثر طور پر آگے نہیں بڑھا سکیں گے۔