آکسفورڈ سنٹر فار اسلامک اسٹڈیز

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۳ ستمبر ۱۹۹۷ء

گزشتہ ہفتے کے دوران برطانیہ کے دو مسلم اداروں میں جانے کا اتفاق ہوا۔ ایک لیسٹر کی اسلامک فاؤنڈیشن اور دوسرا آکسفورڈ کا اسلامک سنٹر۔ اسلامک فاؤنڈیشن لیسٹر کے قریب مارک فیلڈ کے مقام پر پاکستان کے معروف دانشور پروفیسر خورشید احمد کی سربراہی میں مصروف کار ہے اور ڈاکٹر مناظر حسن ڈائریکٹر کی حیثیت سے اس کے انتظامی معاملات چلا رہے ہیں۔ فاؤنڈیشن مختلف اسلامی موضوعات پر یورپی زبانوں میں لٹریچر کی اشاعت کے ساتھ ساتھ یہاں کے لوگوں کے لیے اسلامی عنوانات پر تربیتی کورسز کا اہتمام کرتی ہے اور علمی و تحقیقی کاموں میں پیش پیش ہے۔ اسلام آباد میں پروفیسر خورشید احمد صاحب کے ادارے ’’انسٹیٹیوٹ فار اسلامک اسٹڈیز‘‘ کے ساتھ ’’اسلامک فاؤنڈیشن کے تعلقات کار قائم ہیں اور دونوں ادارے اپنے مقاصد کے لیے ایک نیٹ ورک کے طور پر کام کرتے نظر آتے ہیں۔

گزشتہ دنوں معلوم ہوا کہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے نائب صدر پروفیسر ڈاکٹر محمود احمد غازی اسلامک فاؤنڈیشن آئے ہوئے ہیں، رابطہ کرنے پر پتہ چلا کہ وہ ’’آکسفورڈ سنٹر فار اسلامک اسٹڈیز‘‘ دیکھنے کے لیے آکسفورڈ جانا چاہ رہے ہیں۔ چنانچہ اکٹھے وہاں جانے کا پروگرام بن گیا۔ راقم الحروف ورلڈ اسلامک فورم کے سیکرٹری جنرل اور جامعہ الہدیٰ نوٹنگھم کے پرنسپل مولانا ضیاء الحق سیاکھوی کے ہمراہ اسلامک فاؤنڈیشن پہنچا اور ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب کو لے کر ہم آکسفورڈ روانہ ہوگئے۔

آکسفورڈ سنٹر فار اسلامک اسٹڈیز، آکسفورڈ کے وسط میں سینٹ کراس کالج میں قائم ہے۔ کچھ عرصہ تک یہ سنٹر کرایہ کی بلڈنگ میں کام کرتا رہا، اب وہیں ایک ایکڑ کے لگ بھگ جگہ خرید کر باقاعدہ سنٹر تعمیر کرنے کا پروگرام بن گیا ہے اور مجوزہ تعمیری پروگرام کا نقشہ منظوری کے لیے متعلقہ محکمہ میں اجازت کا منتظر ہے۔ گزشتہ دنوں اخبارات میں آکسفورڈ میں ایک اسلامی مرکز اور نقشہ پر یہاں کے کچھ حلقوں کے اعتراض کا ذکر ہوا تھا کہ بعض حلقے آکسفورڈ میں اسلامی طرز تعمیر کی اس نمایاں بلڈنگ کا بننا پسند نہیں کرتے، وہ اسی سنٹر کے بارے میں ہے اور محسوس ہو رہا ہے کہ کوئی خفیہ ہاتھ اس سنٹر کی تعمیر میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اسلامک اسٹڈیز کا آکسفورڈ سنٹر عالم اسلام کی معروف علمی شخصیت مفکر اسلام مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کی سربراہی میں کام کر رہا ہے اور وہ اس کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے سربراہ ہیں۔ جبکہ انتظامی سربراہ ڈاکٹر فرحان احمد نظامی ہیں جو بھارت کے ممتاز محقق اور مصنف پروفیسر خلیق احمد نظامی کے فرزند ہیں اور خود بھی ایک معروف استاد اور دانشور ہیں۔ سنٹر کے سرپرستوں میں سلطان آف برونائی اور برطانیہ کے ولی عہد پرنس چارلس شامل ہیں اور اسلام کے بارے میں پرنس چارلس کے جس خطاب پر کچھ عرصہ سے مغربی حلقوں میں لے دے ہو رہی ہے، وہ انہوں نے اسی سنٹر کے ایک پروگرام میں کیا تھا۔ جبکہ ان کے علاوہ جنوبی افریقہ کے وزیراعظم نیلسن منڈیلا اور ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد جیسی عالمی شخصیات بھی اس سنٹر کے اجتماعات میں شریک ہو چکی ہیں۔

آکسفورڈ سنٹر میں پہلے بھی کئی بار جانے کا موقع ملا ہے اور مولانا سید ابوالحسن علی ندوی اور پروفیسر خلیق احمد نظامی سے اس مقام پر زیارت و ملاقات کا شرف حاصل ہوا ہے۔ اس دور میں بھی جبکہ یہ سنٹر کرایہ کی ایک عمارت میں تھا اور اب سنٹر کی خرید کردہ نئی بلڈنگ میں بھی جو کہ شہر کے وسط میں جارج اسٹریٹ میں ہے اور جہاں ان دنوں کام ہو رہا ہے۔ آکسفورڈ سنٹر کا بنیادی کام علمی و تحقیقی ہے اور یہ سنٹر آکسفورڈ کے مختلف کالجوں میں تعلیم پانے والے دنیا بھر کے ہزاروں طلبہ کے لیے اسلام کے بارے میں معلومات اور بریفنگ کی سہولت فراہم کرتا ہے، اسلامیات پر کام کرنے والے طلبہ کی راہنمائی اور حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، مختلف کورسز کا اہتمام کیا جاتا ہے اور وقتاً فوقتاً اعلیٰ سطح پر اجتماعات منعقد کیے جاتے ہیں جن میں عالمی شخصیات کو اسلام کے بارے میں اظہار خیال کی دعوت دی جاتی ہے۔

آکسفورڈ سنٹر میں ان دنوں ’’اٹلس پراجیکٹ‘‘ کے نام سے ایک تحقیقی پروگرام پر کام جاری ہے جس کا مقصد چودہ سو سال کے دوران عالم اسلام کی علمی، دینی اور روحانی شخصیات کے بارے میں بنیادی معلومات کا ایک مستند ذخیرہ جمع کرنا ہے۔ پراجیکٹ کے انچارج مولانا محمد اکرم ندوی نے بتایا کہ یہ معلومات چھ جلدوں میں مکمل ہوں گی جن میں معروف شخصیات کے علمی و روحانی شجروں کے ساتھ ساتھ ان کی جدوجہد کے اثرات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ ان دنوں جنوبی ایشیا کے ممالک پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کی شخصیات پر کام ہو رہا ہے اور ایک مستقل جلد ان کے بارے میں ہوگی۔ اسلامی شخصیات کے بارے میں یہ معلومات کتابی شکل میں سامنے لانے کے علاوہ کمپیوٹرائزڈ بھی کی جا رہی ہے تاکہ ان سے استفادہ کا دائرہ زیادہ سے زیادہ وسیع کیا جا سکے۔

کچھ عرصہ قبل وسطی ایشیا کی ریاستیں آزاد ہونے کے بعد آکسفورڈ سنٹر فار اسلامک اسٹڈیز نے سمرقند کے قریب امام بخاری رحمہ اللہ کے مزار کے ساتھ مسجد و مدرسہ کو ایک جدید علمی مرکز کی حیثیت دینے کا فیصلہ کیا تھا اور اس سلسلہ میں وہاں ایک بین الاقوامی سیمینار بھی منعقد کیا گیا تھا لیکن سرکاری سطح پر وہاں کسی بڑے دینی و علمی مرکز کے قیام کی حوصلہ افزائی نہ ہونے کے باعث یہ منصوبہ معرض التواء میں چلا گیا ہے۔

ڈاکٹر محمود احمد غازی، مولانا رضاء الحق سیاکھوی اور راقم الحروف آکسفورڈ سنٹر پہنچے تو ڈاکٹر فرحان احمد نظامی ہمارے منتظر تھے۔ نستعلیق آدمی ہیں، ان کی گفتگو اور مزاج میں لکھنؤ اور آکسفورڈ کا امتزاج جھلکتا ہے۔ کلین شیو اور سوٹڈ بوٹڈ حلیے سے اس خوش پوش نوجوان کو دیکھ کر پہلی نظر میں کسی بین الاقوامی بینک یا فرم کے نمائندے کا گمان ہوتا ہے۔ ڈاکٹر نظامی کے ساتھ مختلف معاملات پر گفتگو ہوئی، وہ علمی و تحقیقی کاموں میں مسلمان حکومتوں کی طرف سے مناسب حوصلہ افزائی اور تعاون نہ ملنے پر شکوہ کر رہے تھے اور پاکستان کے دفتری طریق کار اور تعلیمی پالیسیوں کے حوالہ سے کچھ زیادہ ہی شکوہ کناں تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بار بار حکومتوں کے بدلنے اور ان کے ساتھ ہی پالیسیاں بدل جانے سے بعض ضروری اور انتہائی مفید کام بھی رک جاتے ہیں جن کا بہت زیادہ نقصان ہوتا ہے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں بعض واقعات کا حوالہ بھی دیا۔

ڈاکٹر فرحان احمد نظامی ہمیں سنٹر کی آخری منزل پر لے گئے جہاں سے آکسفورڈ شہر کا منظر واضح دکھائی دیتا ہے۔ آکسفورڈ کالجوں کا شہر ہے اور وہ ہمیں ہاتھ کے اشارے سے ان کالجوں کے بارے میں بتا رہے تھے جہاں مولانا محمد علی جوہرؒ ، لیاقت علی خان مرحوم اور ذوالفقار علی بھٹو مرحوم تعلیم حاصل کرتے رہے۔ انہوں نے متعدد تاریخی عمارتوں کے بارے میں بتایا مگر آکسفورڈ تو خود ایک تاریخ ہے اور اس کا ایک ایک چپہ تاریخ ہے جس نے اپنے علم اور فلسفہ کی بدولت ایک عرصہ سے دنیا کے ایک بڑے حصے کے دل و دماغ پر قبضہ جما رکھا ہے۔ آکسفورڈ اور کیمبرج آج بھی علم و فلسفہ کی دنیا کے دو پایۂ تخت ہیں۔ یہ درست ہے کہ انہیں علم و فلسفہ کی یہ وراثت غرناطہ اور قرطبہ سے حاصل ہوئی تھی بلکہ اس منتقلی کو وراثت کی بجائے ’’غصب‘‘ کہنا شاید زیادہ قرین انصاف ہو لیکن جب تک اصل وارث بیدار نہیں ہوتے اور اپنے ’’علم و فلسفہ‘‘ کا سکہ مارکیٹ میں نہیں لاتے قبضہ گروپ کا تسلط بہرحال قائم رہے گا۔ اس قبضے کو محض گالیوں اور نعروں سے ختم نہیں کیا جا سکتا، اس کے لیے تو علم و حکمت اور فلسفہ و دانش کی ’’دستاویزات‘‘ ہی کام آئیں گی۔ خدا جانے مسلم دنیا یہ راستہ اختیار کرنے کے لیے کب تیار ہوگی؟