دہلی میں تین روزہ قیام کا احوال

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۷ دسمبر ۲۰۱۳ء

دہلی میں تین روز تک ہمارا قافلہ اکٹھا رہا۔ شیخ الہند امن عالم کانفرنس میں شرکت کے لیے مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں ہم تیس افراد دیوبند اور دہلی گئے تھے۔ دو روز دیوبند میں قیام اور کانفرنس کی چار نشستوں میں شرکت کے بعد ہفتہ کی شام کو ہم دہلی پہنچے، جمعیۃ علماء ہند ہماری میزبان اور داعی تھی، کچھ حضرات کا قیام جمعیۃ کے دفتر میں رہا اور باقی دوستوں کو ترکمان گیٹ کے قریب دو ہوٹلوں میں ٹھہرایا گیا۔ ۱۵ دسمبر کا دن رام لیلا میدان میں ’’شیخ الہند امن عالم کانفرنس‘‘ کی عمومی نشست میں گزر گیا جو صبح ساڑھے نو بجے سے اڑھائی بجے تک مسلسل جاری رہی اور بھارت کے طول و عرض سے ہزاروں علماء کرام اور کارکنوں نے اس میں شرکت کی جبکہ شام کو جمعیۃ کے سیکرٹری جنرل مولانا سید محمود مدنی نے مہمانوں کو عشائیہ دیا۔

۱۶ دسمبر کا دن دہلی کے تاریخی مقامات میں حاضری کے لیے مخصوص کیا گیا تھا جس کے لیے ہمارے میزبان نے ایک بس کا اہتمام کر رکھا تھا۔ قافلہ کی صورت میں ان مراکز میں حاضر ہوئے، حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ ، حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءؒ ، حضرت خواجہ غلام علیؒ ، حضرت مرزا مظہر جان جاناںؒ ، حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ اور دیگر بہت سے بزرگوں کی قبروں پر فاتحہ خوانی کی سعادت حاصل کی، قطب مینار دیکھا، بستی نظام الدینؒ کے تبلیغی مرکز میں نماز ظہر ادا کی اور قریب ہی حضرت خواجہ ابو سعیدؒ اور خواجہ غلام علیؒ کی خانقاہ میں حاضر ہوئے۔ خانقاہ کے سجادہ نشین مولانا محمد انس مدظلہ موجود تھے۔ ان سے ملاقات اور مختصر سی مجلس ہوئی، میں نے عرض کیا کہ موسیٰ زئی کی وساطت سے ہماری نسبت اس خانقاہ کے ساتھ ہے، اس پر وہ خوش ہوئے اور تفصیل دریافت کی۔ میں نے عرض کیا کہ میرے والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ رئیس الموحدین حضرت مولانا حسین علی نقشبندیؒ کے خلیفہ مجاز تھے اور ان کا بیعت و اجازت کا تعلق خانقاہ موسیٰ زئی شریف سے تھا۔ جبکہ حضرت والد محترمؒ نے مجھے اپنے خلفاء مجازین میں شمار کیا ہوا ہے۔ اسی طرح کندیاں شریف کی وساطت سے بھی ہمارا تعلق اس عظیم خانقاہ سے ہے، مولانا محمد انس مدظلہ نے ہمیں دعاؤں سے نوازا۔

وہاں قریب سے گزرتے ہوئے اچانک میری نظر مرزا غالب مرحوم کے مزار پر پڑی تو قدم خودبخود رک گئے۔ طالب علمی کے دور میں مجھ پر بھی ایک دور ایسا گزرا ہے کہ مرزا غالب مرحوم اور حافظ شیرازیؒ کے دیوان ہر وقت میرے سرہانے کے نیچے پڑے رہتے تھے۔ وہاں رک کر فاتحہ خوانی کی، ساتھ ہی فروغ اردو کے ایک ادارے کا دفتر ہے، وہاں جانے اور کچھ وقت گزارنے کو بہت جی چاہامگر وقت کی کمی نے اجازت نہ دی۔ قریب زمانہ کے بزرگوں میں سے مولانا مفتی کفایت اللہ دہلویؒ ، مولانا حفظ الرحمن سیوھارویؒ ، مولانا ابوالکلام آزادؒ اور مولانا احمد سعید دہلویؒ کی قبر پر فاتحہ خوانی کا موقع بھی مل گیا۔

بہادر شاہ ظفرؒ کا محل دیکھا جو کھنڈرات کی صورت اختیار کیے ہوئے ہے اور ہمارے میزبانوں نے ہمیں وہ قدیم عمارت بھی دکھائی جہاں ۱۸۵۷ء کی ناکام بغاوت کے بعد آخری مغل تاجدار بہادر شاہ ظفرؒ کو گرفتار کر کے لایا گیا تھا اور دوسرے دن ناشتہ کی ٹرے میں ان کے بیٹوں کے سر ان کے سامنے پیش کیے گئے تھے۔

عصر کی نماز شاہی مسجد میں ادا کی اور بہت سے ساتھی قریب ہی چاندنی چوک میں گھومنے پھرنے اور شاپنگ کے لیے نکل گئے۔ مجھے بیرونی اسفار میں شاپنگ کا شوق کبھی نہیں رہا، ضرورت کی کوئی چیز ہو تو لے لیتا ہوں ورنہ شاپنگ میرے کسی پروگرام کا باقاعدہ حصہ نہیں ہوتی۔ پھر جامع مسجد کی سیڑھیوں پر بار بار اترنا چڑھنا بھی مسئلہ ہے، اس لیے میں نے نماز عصر ادا کرنے کے بعد مغرب تک مسجد میں ہی رہنے کو ترجیح دی۔ مگر مغرب ادا کرنے کے بعد مسجد سے نکلنا چاہا تو جوتے غائب تھے، خدا جانے میں جگہ بھول گیا تھا یا کوئی مغالطہ میں لے گیا۔ بہرحال مجھے جوتے تلاش کے باوجود نہ مل سکے، میں نے چمڑے کے موزے پہن رکھے تھے، اس لیے کچھ سہولت رہی اور کافی دور تک انہی کے ساتھ چل کر ایک جگہ سے کپڑے کے بوٹ خریدے اور انہی میں گھر واپسی تک کا سفر کیا۔

قبرستان مہندیاں دہلی ہماری عقیدتوں کا سب سے بڑا مرکز تھا جہاں حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ اور ان کے والد گرامی حضرت شاہ عبد الرحیمؒ کے ساتھ اس عظیم خاندان کے دیگر بزرگوں خاص طور پر حضرت شاہ عبد العزیزؒ ، حضرت شاہ عبد القادرؒ ، حضرت شاہ عبد الغنیؒ اور حضرت شاہ رفیع الدینؒ کی قبریں ہیں۔ مگر میری دل چسپی ان سے زیادہ اس درسگاہ کے کھنڈرات سے تھی جو کئی نسلوں تک اس خاندان کی تعلیمی اور روحانی سرگرمیوں کا مرکز رہی ہے۔ ۱۹۸۰ء میں دارالعلوم دیوبند کے صد سالہ اجلاس کے موقع پر حاضری ہوئی تو اس وقت اس جگہ میں دوبارہ آبادی کے آثار نہیں تھے۔ مگر اب کچھ سالوں سے مدرسہ رحیمیہ کے نام سے درسگاہ کا آغاز ہوگیا ہے۔ کچھ عمارت کی تعمیر و مرمت کے ساتھ مدرسہ کا سلسلہ چل رہا ہے۔ یہ دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی اور دل سے اس کی آبادی اور دن بدن ترقی کے لیے دعائیں نکلتی رہیں، اللّٰہم ربنا آمین۔

۱۷ دسمبر کو قافلہ کے اٹھارہ افراد کی واپسی کا پروگرام تھا جن میں مولانا عبد الغفور حیدری، مولانا محمد خان شیرانی، مولانا گل نصیب خان، مولانا محمد امجد خان، مولانا محمد شریف ہزاروی، مولانا مفتی غلام الرحمن اور دیگر حضرات کے ساتھ راقم الحروف بھی شامل تھا۔ جمعیۃ علماء ہند کے مرکزی دفتر نے دہلی سے امرتسر تک جیٹ ایئرویز کی پرواز سے ہماری سیٹیں بک کرا رکھی تھیں۔ پونے نو بجے فلائیٹ کا ٹائم تھا اس لیے فجر کی نماز کے فورًا بعد ہم ہوٹلوں سے روانہ ہوئے اور مولانا سید محمود اسعد مدنی نے علی الصبح وہاں آکر ہمیں رخصت کیا، مگر ایئرپورٹ پر بورڈنگ وغیرہ کے مراحل سے گزر کر خاصا وقت گزر گیا تو معلوم ہوا کہ شدید دھند کی وجہ سے فلائیٹ کینسل ہوگئی ہے۔ ہمارے میزبانوں نے دوبارہ محنت کر کے ساڑھے بارہ بجے والی فلائیٹ پر سیٹیں حاصل کیں اور اس کے بورڈنگ وغیرہ کے مراحل سے ہم فارغ ہوئے تھے کہ اس کے کینسل ہونے کا بھی اعلان ہوگیا۔ اس طرح تقریبًا سارا دن دہلی ایئرپورٹ پر گزر گیا۔ ہم بھارت میں کوئی ہوائی سفر تو نہ کر سکے لیکن دہلی ایئرپورٹ کو اچھی طرح گھوم پھر کر دیکھنے کا خوب موقع مل گیا۔

وہاں سے واپس جمعیۃ علماء ہند کے دفتر میں آئے، اب ہمارے میزبانوں نے رات کو ایک سلیپر بس بک کرا لی جس کے ذریعہ ہم نے واہگہ بارڈر تک سفر کیا۔ اس قسم کی سلیپر بس میں نے زندگی میں پہلی بار دیکھی ہے، ایک بڑی بس کے اندر چوبیس کیبن تھے اور ہر کیبن ایک سنگل بیڈ کے برابر تھا جو چاروں طرف سے بند ہو کر باقاعدہ کمرے کی شکل اختیار کیے ہوئے تھا۔ اس میں گدے اور تکیے وغیرہ رکھ کر اسے باقاعدہ بستر کی شکل دے دی گئی تھی۔ آدمی آسانی کے ساتھ اس میں لیٹ اور بیٹھ سکتا ہے گویا اپنے بیڈ پر ہی وہ سفر کر رہا ہوتا ہے۔ اس طرح کی بسیں انڈیا میں عام بتائی جاتی ہیں اور لمبے روٹوں پر لوگ زیادہ تر ایسی بسوں میں ہی سفر کرتے ہیں۔ مجھے یہ بس بہت اچھی لگی ہے اس لیے پاکستان کے ٹرانسپورٹر حضرات سے گزارش کروں گا کہ وہ بھی لمبے سفر میں مسافروں کو یہ سہولت فراہم کرنے کا کوئی راستہ نکالیں، اس سے لمبا سفر بہت آسان ہو جائے گا۔

دہلی سے اٹاری تک مسلسل دھند تھی جس کی وجہ سے ہم نے یہ سفر کم و بیش پندرہ گھنٹوں میں طے کیا اور ۱۸ دسمبر کو بارڈر بند ہونے سے بمشکل نصف گھنٹہ پہلے وہاں پہنچ پائے ورنہ شاید وہ رات ہمیں امرتسر میں گزارنا پڑتی۔

اس موقع پر جمعیۃ علماء ہند کی میزبانی کا تذکرہ اور میزبانوں کا شکریہ ادا کرنا بھی ضروری ہے۔ جمعیۃ کے متعدد راہ نما بالخصوص مولانا سید مودود مدنی، مولانا حکیم الدین قاسمی، مولانا طاہر مظاہری اور مولانا اسرائیل سہارنپوری قدم قدم پر ہمارے ساتھ رہے اور واہگہ بارڈر کراس کرانے تک ان کی رفاقت ہمیں مسلسل حاصل رہی۔ جبکہ ہمارے قافلہ میں انتظامات اور سہولتوں کی فراہمی میں مولانا عبد الغفور حیدری کے سیکرٹری جناب نور احمد کاکڑ، مفتی سید محمد زاہد شاہ اور مولانا محمد طیب پیش پیش رہے۔ واپسی پر بعض دوستوں نے اس حوالہ سے بات کی تو میں نے عرض کیا کہ اس سارے سفر کے دوران بہترین انتظامات اور ساتھیوں کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کرانے میں ہماری طرف سے نور احمد کاکڑ اور میزبانوں کی طرف سے مولانا حکیم الدین قاسمی میرے نزدیک ’’مین آف دی میچ‘‘ قرار پانے کے مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ سب کو جزائے خیر سے نوازیں اور اس سفر کو ہمارے لیے سعادت دارین کا ذریعہ بنائیں، آمین یا رب العالمین۔