پاکستان میں نفاذ اسلام کی ترجیحات ۔ مجلس فکر و نظر کے زیراہتمام سیمینار

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۹ جنوری ۲۰۰۳ء

گزشتہ دنوں لاہور کے ہمدرد سنٹر میں ایک سیمینار میں شرکت کا موقع ملا۔ اس سیمینار کا اہتمام مجلس فکر و نظر نے کیا تھا جو پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ علوم اسلامی کے اساتذہ نے اگست ۲۰۰۰ء سے قائم کر رکھی ہے اور اس کے تحت عصری مسائل پر اسلامی تناظر میں غوروفکر کے لیے سہ ماہی علمی مجالس کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ سیمینار کا موضوع ’’پاکستان میں نفاذ اسلام کی ترجیحات‘‘ تھا۔ اس میں متحدہ مجلس عمل کے رہنما حافظ حسین احمد ایم این اے اور صوبہ سرحد کی متحدہ مجلس عمل کے نائب صدر پروفیسر محمد ابراہیم مہمانان خصوصی تھے جبکہ مجھے شاید اس خیال سے صدارت کی کرسی پر بٹھا دیا گیا کہ کہیں درمیان میں اٹھ کر نہ چلا جاؤں جیسا کہ عام طور پر ایسا ہو جاتا ہے۔ سیمینار میں ’’مجلس فکر و نظر‘‘ کے سیکرٹری پروفیسر ڈاکٹر محمد امین نے مجلس کے اغراض و مقاصد اور سرگرمیوں پر روشنی ڈالی اور سیمینار کے سیکرٹری کے فرائض سرانجام دیے۔ ڈاکٹر صاحب موصوف پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ دائرہ معارف اسلامیہ (اسلامی انسائیکلو پیڈیا) کے اردو سیکشن کے سینئر ایڈیٹر ہیں اور علمی و ادبی حلقوں میں نمایاں تعارف رکھتے ہیں۔ تحریک اسلامی پاکستان کے امیر حکیم سید محمود احمد سرو، ریٹائرڈ جسٹس عبد الحفیظ چیمہ، بادشاہی مسجد لاہور کے خطیب پروفیسر ڈاکٹر محمود الحسن عارف، پروفیسر عبد الجبار شاکر، جناب کے ایم عظیم، پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات کے ڈاکٹر مغیث الدین شیخ اور دیگر ارباب دانش نے نفاذ اسلام کی اہمیت اور اس کی حکمت عملی کے حوالہ سے مختلف امور پر اظہار خیال کیا۔ اور حافظ حسین احمد اور پروفیسر محمد ابراہیم نے اس سلسلہ میں متحدہ مجلس عمل کی حکمت عملی، صوبہ سرحد و بلوچستان کی تازہ ترین صورتحال اور دونوں صوبائی حکومتوں کے عزائم پر روشنی ڈالی۔

حافظ حسین احمد صاحب نے تفصیل کے ساتھ گفتگو کی اور شرکاء مجلس نے گہری توجہ کے ساتھ ان کی باتوں کو سنا جو متحدہ مجلس عمل کی پالیسیوں اور طریق کار کی وضاحت پر مشتمل تھی۔ مجھے کافی عرصہ کے بعد حافظ صاحب کی تفصیلی اور سنجیدہ گفتگو سننے کا موقع ملا اور یہ جان کر خوشی ہوئی کہ وہ پہلے کی نسبت زیادہ متانت اور استدلال کے ساتھ گفتگو کرتے ہیں اور جدید تعلیم یافتہ طبقہ کی اعلیٰ ذہانت کے سامنے غور و فکر کے نئے پہلو رکھنے کی صلاحیت سے بھی پوری طرح بہرہ ور ہیں۔ ان کی گفتگو کے اختتام پر ایک ممتاز دانشور اور فاضل دوست نے اس بات پر زور دیا کہ اس قسم کی مجالس کا اہتمام ملک کے ہر بڑے شہر میں ہونا چاہیے۔ متحدہ مجلس عمل کے قائدین کو حافظ حسین احمد کی طرح ایسی مجالس میں ارباب علم و دانش کے درمیان بیٹھ کر انہیں اپنی پالیسی اور طریق کار کے بارے میں بریف کرنا چاہیے اور چاروں طرف پھیلے ہوئے شکوک و شبہات کے ازالہ کے لیے محنت کرنی چاہیے۔

خود میں اس حوالہ سے کافی دنوں سے کنفیوژن کا شکار تھا کہ دستور پاکستان کی ترمیم شدہ اور بحال کی جانے والی دفعات کی روشنی میں اس وقت وفاق اور صوبوں کے تعلقات کار کی نوعیت کیا ہے اور صوبائی حکومتیں دستور میں دیے گئے کون سے اختیارات کو استعمال کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ حافظ حسین احمد کی گفتگو سے بات صاف ہوئی اور معلوم ہوا کہ جس طرح وفاق میں پارلیمنٹ اور کابینہ دونوں اپنے دستوری اختیارات کے استعمال کے لیے ’’فرد واحد‘‘ کے اشاروں کی محتاج ہیں اسی طرح صوبائی حکومتوں اور اسمبلیوں کا حال بھی ان سے مختلف نہیں ہے۔ اور جس طرح آج کے عالمی نظام اور ورلڈ سسٹم میں دنیا کے کسی کونے میں کوئی اہم کام امریکہ کی مرضی کے بغیر نہیں ہو پاتا اسی طرح پاکستان کے داخلی نظام میں بھی قومی زندگی کے کسی شعبے کا کوئی اہم کام ایوان صدر کے این او سی کے بغیر نہیں ہو سکے گا۔

مجھے تو یہ بات اسی دن کھٹک گئی تھی جس روز پی سی او کے تحت عدالت عظمیٰ کے جج صاحبان سے نیا حلف لینا ضروری سمجھا گیا تھا اور میں نے اپنے ایک مضمون میں عرض کر دیا تھا کہ یہ شخصی وفاداری کا حلف ہے جس کے بعد پاکستان ایک طرح کی بادشاہت کے دور میں داخل ہوگیا ہے۔ مگر ہمارے بہت سے دانشوروں کا اصرار تھا کہ اس کے بغیر کوئی چارۂ کار نہیں ہے اور ملک کے نظام کی ’’اصلاح‘‘ کے لیے اس کڑوی گولی کو وقتی طور پر نگل لینا ہماری مجبوری ہے۔ مگر آج وہی دانشور اور کالم نگار عدالت عظمیٰ کے جج صاحبان کو دستور کے تحت نیا حلف دلانے پر زور دے رہے ہیں اور اس کے لیے اپنا پورا زور قلم صرف کر رہے ہیں۔ جبکہ مجھے اس پر پنجابی کا ایک مشہور محاورہ یاد آرہا ہے کہ ’’ویلے دی نماز تے کویلے دیاں ٹکراں‘‘۔ یعنی نماز کو وقت پر اہتمام کے ساتھ پڑھا جائے تو وہ نماز ہوتی ہے لیکن اگر اس کا وقت گزر جائے اور اس کے بعد نماز کو جلدی جلدی نمٹانے کی کوشش کی جائے تو وہ ’’ٹکریں‘‘ بن جاتی ہے۔

حافظ صاحب نے ’’ترجیحات‘‘ کے لفظ سے اختلاف کیا اور کہا کہ دین مکمل ہوجانے کے بعد اس کے نفاذ کے لیے ترجیحات کی بات کرنا درست نہیں ہے اور پھر یہ ترجیحات تو ہم گزشتہ پچپن برس میں بھی نہیں طے کر پائے۔ اس لیے وہ اس کے لیے ترجیحات کی بجائے ’’حکمت عملی‘‘ کی اصطلاح کو ترجیح دیتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ دین کو مکمل طور پر نافذ کیا جائے گا تو وہی دین ہوگا، کسی نامکمل کام پر نفاذ اسلام کا اطلاق کرنا ٹھیک نہیں ہوگا۔ البتہ اس کے لیے ہمیں صحیح حکمت عملی اور طریق کار کا ضرو رجائزہ لینا چاہیے اور ہم اس کے لیے قدم قدم پر اہل علم و دانش کے مشورہ اور راہنمائی کے محتاج ہیں۔

پروفیسر محمد ابراہیم نے سرحد کی صوبائی حکومت کے عزائم اور اس کی راہ میں حائل مشکلات کا جائزہ پیش کیا اور کہا کہ ہم پوری احتیاط کے ساتھ پھونک پھونک کر قدم اٹھا رہے ہیں اور ہمیں ان مشکلات اور رکاوٹوں کا پوری طرح ادراک و احساس ہے جو نفاذ اسلام کی طرف عملی پیش رفت میں حائل ہو سکتی ہیں لیکن دینی جماعتوں کے اتحاد اور رائے عامہ کی بھرپور حمایت کی وجہ سے ہمیں یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ ان مشکلات سے ہمیں ضرور نجات دلائیں گے اور ہم اپنے منشور اور اعلانات کے مطابق اپنی استطاعت اور اختیارات کے دائرے میں رہتے ہوئے صوبہ سرحد میں نفاذ اسلام کے لیے کچھ نہ کچھ کام ضرور کر سکیں گے۔

سیمینار کے مقررین کا زیادہ زور اس بات پر رہا کہ متحدہ مجلس عمل کی صوبائی حکومت کو عوام کی مشکلات میں کمی اور ان کے روز مرہ مسائل کے حل کی طرف زیادہ توجہ دینی چاہیے، وی آئی پی اور پروٹوکول کلچر کے جال سے نکلتے ہوئے سول سروس کو عوام کا خادم بنانا چاہیے۔ کیونکہ عام آدمی کا یہ اعتماد بحال کرنا سب سے زیادہ ضروری ہے کہ اسلامی نظام نافذ ہونے کی صورت میں اس کی جان و مال اور آبرو کی حفاظت ہوگی، اس کی مشکلات کم ہوں گی، اسے باعزت زندگی کے مواقع فراہم ہوں گے، اس کے روز مرہ مسائل حل ہوں گے، اسے انصاف ملے گا اور وہ پہلے سے زیادہ بہتر ماحول میں زندگی گزار سکے گا۔

راقم الحروف نے اپنی گزارشات میں عرض کیا کہ موجودہ معروضی حالات میں نفاذ اسلام کے کام کو آگے بڑھانے کے لیے تین امور کا اہتمام ضروری ہے۔ ان میں سے پہلے دو کام ہم سب کے کرنے کے ہیں اور ان کے لیے ملک کے ہر اس شہری کو عملی کردار ادا کرنا چاہیے جو پاکستان میں نفاذ اسلام کا خواہاں ہے۔ جبکہ تیسرا کام صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کی صوبائی حکومت کے کرنے کا ہے اور اسے پوری سنجیدگی کے ساتھ اس کی طرف توجہ دینی چاہیے۔

  1. قیام پاکستان کے بعد سے ہی نفاذ اسلام کے عمل کے گرد دو سرخ دائرے کھینچ دیے گئے تھے جو کچھ عرصہ پہلے تک ظاہری طور پر نظر نہیں آتے تھے لیکن اب ہر ذی شعور شہری کو دکھائی دینے لگے ہیں۔ ایک سرخ دائرہ ملک کی داخلی اسٹیبلشمنٹ کا کھینچا ہوا ہے جو نفاذ اسلام کی کسی بھی عملی کوشش کو روکنے اور محدود رکھنے کے لیے ہے۔ اور دوسرا دائرہ ورلڈ اسٹیبلشمنٹ نے اس کے اوپر قائم کر رکھا ہے کہ اگر کسی وقت نفاذ اسلام کی کوئی کوشش عوامی دباؤ کی وجہ سے پہلے سرخ دائرے کو کراس کر ہی لے تو اسے دوسری دفاعی لائن پر روک لیا جائے۔ چنانچہ گزشتہ نصف صدی کے دوران پاکستان میں نفاذ اسلام کی ہر کوشش کے ساتھ چوہے بلی کا یہی کھیل جاری ہے۔ اس لیے نفاذ اسلام کے حوالے سے ہماری سب سے پہلی اور اولین ضرورت ان سرخ دائروں سے نجات حاصل کرنا ہے کیونکہ ان کے ہوتے ہوئے نفاذ اسلام کا کوئی قدم بھی کامیابی کی طرف اپنا سفر جاری نہیں رکھ سکے گا۔ ان سرخ دائروں سے نجات حاصل کرنے کے لیے قومی سطح پر جدوجہد اور رائے عامہ کو ملک گیر سطح پر منظم کرنے کی ضرورت ہے جس کے لیے ہم سب کو اپنے اپنے دائرہ کار میں متحرک ہونا پڑے گا۔
  2. اسلامی نظام اور قوانین کے خلاف عالمی لابیوں اور عالمی ذرائع ابلاغ کی منفی مہم اور معاندانہ پراپیگنڈا کے توڑ کے لیے علمی مراکز، دینی اداروں اور فکری حلقوں کو مربوط اور منظم محنت کرنی چاہیے اور یہ بھی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
  3. صوبہ سرحد کی حکومت کو دستوری ماہرین کی مشاورت کے ساتھ موجودہ دستوری صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے اپنے دائرہ اختیار کا تعین کرنا چاہیے۔ اور جن اختیارات کو وہ موجودہ حالات میں استعمال کر سکتی ہے ان سے متعلقہ معاملات میں اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو منتخب کر کے صوبائی اسمبلی کے ذریعہ ان پر قانون سازی کا آغاز کر دینا چاہیے۔ میرے خیال میں صوبہ سرحد کی حکومت سردست صرف یہی کر سکتی ہے اور مجھے یقین ہے کہ اگر متحدہ مجلس عمل کی صوبائی حکومت اور صوبائی اسمبلی اپنے بس کا کام کر گزرے گی تو اگلے مراحل کا راستہ بھی اللہ تعالیٰ ضرور آسان فرما دیں گے کہ اس قاد رمطلق کا قانون و ضابطہ یہی ہے۔