نوجوان علماء کرام کی تربیت : ضرورت اور تقاضے

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جولائی ۲۰۱۲ء

(مجلس صوت الاسلام کراچی کے زیر اہتمام ۲۸، ۲۹، ۳۰ مئی ۲۰۱۲ء کو میریٹ ہوٹل اسلام آباد میں منعقد ہونے والے ’’علماء امن کنونشن‘‘ کی ایک نشست میں گفتگو)

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ مجھے سب سے پہلے آج کے اس کنونشن کو اسلام آباد کے ایک اعلیٰ ہوٹل میں منعقد کرنے کے بارے میں کچھ عرض کرنا ہے جسے بعض حلقوں میں تعجب کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے، مگر میں چونکہ ہر بات کو اس کے مثبت اور رجائی پہلو سے دیکھنے کا عادی ہوں، اس لیے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ میں اس میں افادیت کاایک بڑا پہلو دیکھ رہا ہوں کہ دینی تعلیم اور ذوق کو معاشرہ کے اعلیٰ طبقات میں فروغ دینے کی بھی ضرورت ہے اور دین کا علم اور پیغام ان طبقوں تک پہنچانے کے لیے ان کے معیار اور نفسیات کے مطابق ان تک رسائی وقت کا اہم تقاضا ہے۔ قرآن کریم نے مال و دولت کے بارے میں فرمایا ہے کہ کی لا یکون دولۃ بین الاغنیاء منکم کہ دولت کی گردش صرف مالداروں تک محدود نہیں رہنی چاہیے، اور زکوٰۃ کا فلسفہ یہ ہے کہ وہ سوسائٹی میں دولت کی گردش کو اوپر سے نیچے لاتی ہے جس سے غریب اور محروم طبقات بھی دولت کے ثمرات سے مستفید ہوتے ہیں۔ اس کی روشنی میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ علم کی گردش بھی صرف فقراء اور غرباء تک محدود نہیں رہنی چاہیے اور اسے سوسائٹی کے اعلیٰ طبقات تک بھی پہنچنا چاہیے۔

ایک دور میں ہماری یہ ضرورت تھی کہ دین و علم کی محنت کو نچلی سطح پر لایا جائے تاکہ انہیں زمانہ کی دست برد سے بچایا جا سکے اور اگلی نسلوں تک پہنچنے کے لیے دین و علم کی حفاظت کی جا سکے۔ یہ جبر کا دور تھا اور دینی علوم و روایات کے خلاف برطانوی استعمار کی یلغار کا دور تھا جس میں دین و علم کی حفاظت اور ضرورت کے لیے ہمارے اکابر اس کی محنت کو انتہائی نچلی سطح پر لے گئے تا کہ اسے خطرہ نہ سمجھا جائے اور مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی ؒ کے بقول ہمارے بزرگوں نے دین و علم کی محنت کو چٹائیوں اور تپائیوں تک محدود کر کے اسے کمیوفلاج کر دیا اور راڈار کی رینج سے نیچے لے گئے جس کی وجہ سے وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے۔ مگر آج کا دور اس سے مختلف ہے، آج دین و علم کی اس محنت کو نچلے طبقوں میں بدستور جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ معاشرہ کے بالائی طبقات تک لے جانے کی بھی ضرورت ہے اور ان طبقوں کو علم و دین کے ساتھ مانوس کرنے کی ضرورت ہے جو ملک میں حکمرانی کر رہے ہیں، لیکن دین اور دینی علم سے بے بہرہ ہیں۔ اگر ہم ان طبقات کو دین اور اس کے علوم کے ساتھ مانوس کر سکیں تو یہ اسلام کی بڑی خدمت ہوگی اور وقت کی ایک اہم ضرورت کی تکمیل ہوگی۔ ظاہر بات ہے کہ ان لوگوں تک دین کی بات اور علم پہنچانے کے لیے ان کے پاس اسی سطح پر جانا ضروری ہے جہاں وہ بات سننے کے عادی ہیں۔ اس لیے میرے خیال میں مجلس صوت الاسلام کراچی کی یہ محنت قابل تعریف ہے اور ہم سب کو اس سے تعاون کرنا چاہیے۔

اس کے بعد میں اپنے اصل موضوع کی طرف آتا ہوں کہ نوجوان علماء کی تعلیم و تربیت کی آج کے دور میں ضروریات اور تقاضے کیا ہیں؟ میں اسے مختلف دائروں میں تقسیم کروں گا۔

سب سے پہلا دائرہ تکمیل کا ہے کہ ایک فارغ التحصیل عالم دین نے جو کچھ دینی مدارس میں پڑھا ہے، اس کی تکمیل کی جائے اور جو خامیاں اور کمزوریاں دوران تعلیم رہ گئی ہیں ان کو دور کرنے کی کوشش کی جائے۔ ہمارے ہاں پرانے دور میں تکمیل کے نام سے فراغت کے بعد مزید تعلیم کا یہ ذوق اور نظام موجود رہا ہے کہ فارغ التحصیل علماء کرام درس نظامی کی رسمی تعلیم کے بعد کسی صاحب فن کے پاس کچھ عرصہ رہتے تھے اور فنون میں مزید تعلیم حاصل کرتے تھے جسے تکمیل ہی کہا جاتا تھا، اب بھی بعض علاقوں میں یہ روایت موجود ہے۔ خود ہمارے ہاں مدرسہ انوار العلوم گوجرانوالہ میں حضرت مولانا قاضی حمید اللہ خانؒ کی ’’دورۂ تکمیل‘‘ کے نام سے مستقل کلاس ہوتی تھی جس میں فنون کی تدریس ہوتی تھی اور معقولات پر بطور خاص توجہ دی جاتی تھی۔

اس کے بعد ’’تخصصات‘‘ کا دائرہ ہے کہ کسی خاص علم یا فن سے دل چسپی اور اس کا ذوق رکھنے والے فضلاء اس فن کے ماہرین کے پاس جاتے تھے اور مختلف سطحوں پر تعلیم حاصل کرتے تھے۔ ان میں دورۂ تفسیر قرآن کریم، دورۂ صرف و نحو اور دورۂ میراث کے حلقے بطور خاص قابل ذکر ہیں۔

یہ دونوں دائرے آج بھی مختلف شکلوں میں موجود ہیں اور سینکڑوں اصحابِ ذوق ان دائروں میں محنت کر رہے ہیں، لیکن ان کی افادیت میں اضافہ کے لیے ان کی درجہ بندی اور ترجیحات پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ میرے خیال میں جس طرح یونیورسٹیوں میں ایم فل اور پی ۔یچ ڈی کے درجات ہیں اور اس کے ساتھ ہی اساتذہ کی تربیت کے مختلف کورسز ہیں، دینی مدارس میں اسی طرز کی درجہ بندی ضروری ہے۔ اگر تکمیل کو ایم فل اور تخصص کو پی۔ایچ ڈی کی طرح منظم کیا جائے، اس کے ساتھ بی ایڈ اور ایم ایڈ قسم کے کورس اساتذہ کی فکری و عملی تربیت کے لیے مرتب کر کے ان کا اجرا کیا جائے اور ان کے نصابات میں آج کی ضروریات اور تقاضوں کو متوازن انداز میں ایڈجسٹ کر لیا جائے تو تکمیل اور تخصص کے ان حلقوں کو با مقصد اور مؤثر بنایا جا سکتا ہے اور ان کی افادیت میں کئی گنا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

نوجوان علماء کرام کی تعلیم و تربیت کا تیسرا دائرہ میرے خیال میں ’’تحسین‘‘ کا ہے جس کا مطلب میرے نزدیک وہ ’’احسان‘‘ ہے جس کا ذکر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں موجود ہے اور جس سے حضرات صوفیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ ’’سلوک و احسان‘‘ کے نظام کے لیے راہ نمائی حاصل کرتے ہیں، یعنی دین اعمال پر پختگی کے ساتھ ساتھ ان میں مزید حسن پیدا کرنا اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کے ساتھ قلوب کو منور کرنا ہے جو ایک عالم دین کی صلاحیتوں کو جِلا دیتا ہے اور اخلاق و آداب میں عمدگی پیدا کرتا ہے۔ میں عام طور پر نوجوان علماء کرام کو مشورہ دیا کرتا ہوں کہ وہ کسی شیخ کامل کے ساتھ روحانی تربیت کا عملی تعلق قائم کریں اور ان کی باقاعدہ صحبت اختیار کریں یا کم از کم تبلیغی جماعت کے ساتھ کچھ وقت لگائیں جس سے ان کی عبادات اور دینی معمولات میں باقاعدگی پیدا ہوگی، کارکن کی سطح پر کام کرنے کا ذوق بیدار ہوگا۔ یہ باتیں آج ہم میں نہیں ہیں لیکن آج کے دور میں دین کی صحیح محنت کے لیے ضروری ہیں۔

اس سلسلہ میں چوتھا دائرہ میرے نزدیک تطبیق کا ہے کہ جو کچھ پڑھا ہے سوسائٹی میں اس پر عملدر آمد کی صورتیں ہمارے ذہن میں واضح ہوں، ہم قرآن کریم کی کوئی آیت پڑھ رہے ہوتے ہیں، جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کر رہے ہوتے ہیں، حتیٰ کہ فقہ کا کوئی جزئیہ زیر بحث ہوتا ہے مگر آج کے عمومی حالات میں اس کی ضرورت کہاں ہے اور اس کی تطبیق کی موجودہ صورت کیا ہے؟ یہ بالکل ہمارے ذہن میں نہیں ہوتا، ہم اگر تطبیق کی بات کرتے بھی ہیں تو جس فقیہ اور مجتہد کا بیان کردہ جزئیہ ہمارے پیش نظر ہوتا ہے، اسی کے دور کے حالات کاتناظر بھی ہمارے سامنے ہوتا ہے اورا س بات کی طرف ہمارا ذہن نہیں جاتا کہ عرف و تعامل کی تبدیلی سے تطبیق کی صورتیں بدل جاتی ہیں۔ اور یہ بات قطعی طور پر ضروری نہیں ہے کہ مثلاً صاحبِ ہدایہ نے اپنے دور کے حالات کے تناظر میں اور اس دور کے عرف و تعامل کی روشنی میں کوئی جزئیہ تحریر کیا ہے تو وہ آج کے دور میں بھی اسی طرح فٹ ہو اور آج کے حالات سے بھی اسی طرح مطابقت رکھتا ہو۔

اس کے لیے سوسائٹی کے عمومی ماحول سے واقفیت، عرف و تعامل سے آگاہی اور لوگوں کی نفسیات و روایات سے شناسائی ناگزیر ضرورت کی حیثیت رکھتی ہے جس کی طرف ہماری سرے سے توجہ نہیں ہے، بلکہ افسوسناک بات یہ ہے کہ ہم نے حالات سے بے خبر رہنے کو کمال کی بات سمجھ رکھا ہے اور مسائل و مشکلات سے بے خبری کو ہم نے ان کا حل قرار دے لیا ہے، ہمارے ہاں علم اور بزرگی کا ایک بڑا معیار یہ بن گیا ہے کہ اردگرد کے حالات کی کچھ خبر نہ ہو اور دنیا میں کیا ہو رہا ہے، اس سے کوئی دل چسپی نہ ہو، یہ طرز عمل درست نہیں ہے، اسے تبدیل کرنا ہوگا اور خاص طور پر فارغ التحصیل ہونے والے علماء کرام میں یہ ذوق پیدا کرنا ہوگا کہ وہ نہ صرف اپنے ملک کے بلکہ عالمی حالات سے بھی با خبر رہیں، دنیا اور معاشرے میں ہونے والی تبدیلیوں پر نظر رکھیں، قرآن و سنت، فقہ اسلامی اور تاریخ اسلامی کے ذخیرے سے استفادہ کرتے ہوئے خود کو فکری و عملی طور پر تیار رکھیں۔

نوجوان علماء اور فضلاء کی تعلیم و تربیت کا پانچواں دائرہ میرے خیال میں ان کی فکری تربیت اور ذہن سازی کا ہے جس کا ہمارے ہاں کوئی بامقصد اور منظم اہتمام موجود نہیں ہے، آج کی دنیا افکار و خیالات کے عروج کی دنیا ہے ، اور افکار و خیالات کی اشاعت اور فروغ میں جدید میڈیا نے جو ہمہ گیری اور وسعت پیدا کی ہے اس نے ہماری ذمہ داریوں میں بہت زیادہ اضافہ کر دیا ہے، فکر و فلسفہ کی عالمی تحریکات، ان کے اہداف، ان کے طریق کار اور عالم اسلام پر ان کے مثبت و منفی اثرات پر نظر رکھنا، اور منفی خیالات کا توڑ تلاش کرکے متاثرہ لوگوں پر متبادل افکار و خیالات پہنچانا علمی و فکری محنت کا ایک مستقل دائرہ ہے جو ہماری توجہ کی رینج میں نہیں ہے، اور پریشان کن بات یہ ہے کہ ہم نے عقائد اور افکار و نظریات کو ایک ہی دائرہ کی چیز سمجھ رکھا ہے حالانکہ عقائد اور ان کی تعبیرات کی سطح اور دائرہ الگ ہے اور افکار و نظریات کی دنیا اس سے بالکل مختلف ہے مگر ہم کسی نئے فکر و نظریہ کا جواب فکر و نظریہ کی صورت میں دینے اور علمی و منطقی طور پر اس کی کمزوری واضح کرنے کی بجائے ہر بات کا رَد فتویٰ کی زبان میں دینے کے عادی ہوگئے ہیں جس سے کنفیوژن بڑھتا جا رہا ہے۔ عقیدہ کی بنیاد وحی پر ہے جبکہ فکر و نظریہ کا تعلق عقل سے ہے اور عقل کے ارتقاء کے ساتھ ساتھ افکار و نظریات میں رد و بدل ہوتے رہنا ایک فطری بات ہے۔ اس لیے جو فکر و نظریہ وحی سے صریح متصادم نہ ہو اسے غلط عقیدہ قرار دے کر رد کر دینا قرین قیاس نہیں ہے، لیکن میں اس بحث کو مزید آگے بڑھانے کی بجائے اصولی طور پر یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے مدارس کے فضلاء میں سے جو علماء اس کی اہلیت و صلاحیت رکھتے ہیں انہیں آج کے مروجہ نظریات و افکار اور فلسفہ و ثقافت سے آگاہی حاصل کرنا اور دور حاضر کی فکری و تہذیبی کشمکش سے روشناس کرا کے انہیں اسلام کے فطری نظام اور ثقافت و تمدن کی علمی زبان میں ترجمانی کے لیے تیار کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔

حضرات محترم! میں نے آج کے حالات اور ضروریات کے تناظر میں دینی مدارس سے فارغ التحصیل ہونے والے علماء کرام کی تعلیم و تربیت کے چند ناگزیر تقاضوں کا ذکر کیا ہے، اس سلسلہ میں ’’مجلس صوت الاسلام کراچی‘‘ کی محنت میرے نزدیک انتہائی مفید اور بروقت ہے اور میں اس پروگرام میں مسلسل شریک رکھنے پر مجلس صوت الاسلام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس کی ترقی و کامیابی اور ثمرات و نتائج کے ساتھ بارگاہِ ایزدی میں اس کے لیے قبولیت و رضا کے لیے بھی تہہ دل سے دعا گو ہوں، آمین یا رب العالمین۔

درجہ بندی: