عبادات اور معاملات میں توازن

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۴ جنوری ۱۹۹۹ء
اصل عنوان: 
اسلامی احکام و قوانین کا مزاج و اسلوب

آج کی محفل میں دور نبویؐ کے ایک ایسے واقعہ کا تذکرہ کرنے کو جی چاہتا ہے جس سے اسلام کے معاشرتی مزاج کا اندازہ ہوتا ہے اور اسلامی احکام و ہدایات کے اسلوب کا پتہ چلتا ہے۔ یہ واقعہ صحابیٔ رسول حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاصؓ کا ہے جو حدیث نبویؐ کے بڑے راویوں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ صوفی منش بزرگ تھے، انہیں نماز، روزہ اور تعلیم و تعلم کے سوا کسی کام سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اور ان کا یہ معمول بن گیا تھا کہ روزانہ پابندی کے ساتھ روزہ رکھتے تھے اور رات کا بیشتر حصہ اہتمام کے ساتھ نماز و قیام میں گزارتے تھے۔ حتیٰ کہ حافظ ابن عبد البر نے ’’الاستیعاب‘‘ میں ذکر کیا ہے کہ ان کے والد محترم حضرت عمرو بن العاصؓ کو اس بارے میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں باقاعدہ شکایت کرنا پڑی۔ اس شکایت کا پس منظر بھی بعض روایات میں بڑا دلچسپ بیان ہوا ہے۔

حضرت عبد اللہؓ کی شادی ہوئی اور وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ الگ گھر میں آباد ہوگئے تو کچھ دنوں کے بعد حضرت عمرو بن العاصؓ اپنے بیٹے اور بہو کا حال احوال دریافت کرنے کے لیے ان کے گھر گئے۔ بہو گھر میں موجود تھیں ان سے حال پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ہر طرح خیریت ہے۔ پھر انہوں نے اپنے بیٹے عبد اللہؓ کے طرز عمل اور سلوک کے بارے میں استفسار کیا تو اس نیک دل خاتون نے معنیٰ خیز انداز میں کہا :

’’آپ کا بیٹا بہت نیک ہے۔ ساری رات مصلے پر ہوتا ہے اور سارا دن روزے سے رہتا ہے۔‘‘

عمرو بن العاصؓ جہاندیدہ شخص تھے فورًا سمجھ گئے کہ بہو دراصل شکایت کر رہی ہے۔ چنانچہ خود کچھ کہنے کی بجائے حضورؐ کی خدمت میں شکایت پیش کر دی۔ اس سے آگے کا واقعہ بخاری شریف میں مذکور ہے کہ آنحضرتؐ نے حضرت عبد اللہؓ کو بلایا اور اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے تصدیق کر دی کہ وہ بلاناغہ روزہ رکھتے ہیں اور رات کا اکثر حصہ نماز و قیام میں گزارتے ہیں۔ چنانچہ جناب رسول اللہؐ نے انہیں اس سے منع کیا اور فرمایا :

’’تیری آنکھوں کا بھی تجھ پر حق ہے، تیری بیوی کا بھی تجھ پر حق ہے، اور تیرے مہمانوں کا بھی تجھ پر حق ہے۔‘‘

یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تعلیم دی کہ اگرچہ عبادت اللہ تعالیٰ کا حق ہے جسے جتنا زیادہ ادا کیا جائے کم ہے۔ لیکن اس سے انسان کے اپنے جسم، گھر والوں ، اور ملنے ملانے والوں کے حقوق متاثر نہیں ہونے چاہئیں۔ اور انسان کو حقوق اللہ اور حقوق العباد کے درمیان توازن قائم رکھنا چاہیے جو اسلامی تعلیمات کا نچوڑ اور خلاصہ ہے۔ اس کے بعد آنحضرتؐ نے عبد اللہ بن عمرو بن العاصؓ سے کہا کہ وہ ہر چاند ماہ کے درمیانے تین روزے رکھ لیا کریں تو انہیں ہمیشہ کے روزوں (صوم الدھر) کا ثواب مل جائے گا۔ حضرت عبد اللہؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہؐ یہ بہت کم ہیں اور میں اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں۔ پھر حضورؐ نے فرمایا کہ اچھا یہ معمول بنا لو کہ ایک دن روزہ رکھو اور دو دن نہ رکھو، اس طرح مہینے میں دس روزے ہوجایا کریں گے۔ حضرت عبد اللہؓ اس پر بھی راضی نہ ہوئے اور کہا کہ یا رسول اللہؐ میں اس سے زیادہ ہمت رکھتا ہوں۔ اس پر نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ پھر حضرت داؤد علیہ السلام کی سنت اپنا لو کہ وہ زندگی بھر ایک دن چھوڑ کر ایک روزہ رکھا کرتے تھے اور مہینے میں پندرہ روزے بن جاتے تھے۔

بخاری شریف کی روایت کے مطابق عبد اللہ بن عمرو بن العاصؓ کا اس پر بھی قناعت کرنے کو جی نہ چاہا اور یہ کہہ کر مزید تقاضہ کیا کہ میں اس سے افضل روزوں کی طاقت رکھتا ہوں۔ اس پر حضورؐ نے حد بندی کر دی اور فرمایا کہ اس سے افضل کوئی روزہ نہیں ہے۔ بعض روایات کے مطابق قرآن کریم کی تلاوت کے بارے میں بھی حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاصؓ سے جناب نبی اکرمؐ کی اسی نوعیت کی گفتگو ہوئی اور ان کے اصرار کے باوجود آپؐ نے انہیں اس بات کی اجازت نہ دی کہ وہ سات دن سے کم مدت میں قرآن کریم مکمل کیا کریں۔

اس طرح رسول اکرمؐ نے حکماً عبد اللہ بن عمروؓ کے اوقات کے ایک حصے کو نماز اور قرآن سے فارغ کر کے انہیں اپنے جسم، بیوی، مہمانوں اور دیگر لوگوں کے حقوق کی ادائیگی کی طرف متوجہ کیا۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاصؓ زندگی بھر اس معمول پر قائم رہے جو جوانی اور ہمت کے دور میں تو انہیں اپنی طاقت سے کم نظر آتا تھا لیکن جب بڑھاپے اور ضعف نے غلبہ پایا تو مشکل محسوس ہوئی۔ چنانچہ بخاری شریف کی روایت کے مطابق وہ خود بڑھاپے میں کہا کرتے تھے کہ:

’’اے کاش! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مشورہ قبول کر لیا ہوتا۔‘‘

مگر اب ان کے لیے مشکل یہ تھی کہ جس معمول کا وعدہ وہ خود اپنے اصرار پر جناب نبی اکرمؐ کے ساتھ کر چکے تھے اسے چھوڑنے کے لیے خود کو تیار نہیں پاتے تھے۔ جبکہ بڑھاپے اور ضعف کی وجہ سے اس معمول کو نباہنا ان کے لیے دشوار ہوگیا تھا۔

اس واقعہ سے جہاں یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اسلام حقوق اللہ اور حقوق العباد میں توازن قائم رکھنے حکم دیتا ہے اور حقوق اللہ کی ادائیگی کی کوئی ایسی صورت قبول نہیں کرتا جس سے حقوق العباد متاثر ہوتے ہوں۔ وہاں ایک اور بات بھی ذہن میں آتی ہے کہ انسان جب بھی اپنے بارے میں کوئی فیصلہ کرتا ہے تو اس کے سامنے وقتی حالات ہوتے ہیں اور وہ انہی کی روشنی میں معاملات انجام دیتا ہے۔ جبکہ اسلام ایسا کوئی فیصلہ کرنے میں تمام احوال و ظروف کا لحاظ رکھتا ہے جو کہ بسا اوقات انسان کو عجیب محسوس ہوتا ہے۔ لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ اس کے اول و آخر تمام احوال سے واقف ہے اس لیے قاعدہ اور ضابطہ وہی دیرپا اور مؤثر ثابت ہوتا ہے جو انسان کا خود اپنا طے کردہ نہ ہو بلکہ اس کے ماضی اور مستقبل سے مکمل آگاہی رکھنے والے مالک و خالق کی طرف سے بیان کیا گیا ہو۔

یہی صورت انسانی اجتماعیت کے قوانین و احکام کی ہے کہ انسان جب اپنی سوسائٹی کے لیے خود قوانین وضع کرتے ہیں تو قوانین وضع کرنے والا فرد ہو یا جماعت، نمائندہ ہو یا ڈکٹیٹر، اس کے سامنے احوال و ظروف اور اسباب و محرکات سب وقتی ہوتے ہیں۔ اور وہ انہی کے دائرے میں قاعدے اور ضابطے ترتیب دیتا ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ بے کار ہو جاتے ہیں۔ اس لیے انسانی معاشرے کے لیے وہی قوانین و احکام فطری اور دیرپا ہیں جو کائنات کے خالق و مالک نے وحی کے ذریعے بھیجے ہیں۔ کیونکہ وہ ساری نوع انسانی کی ضروریات کو خود ان سے بہتر طور پر جانتا ہے اور ان سب کے ماضی، حال اور مستقبل سے کماحقہ آگاہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے آج تک کبھی اپنے کسی قانون کے بارے میں نہ معذرت کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے اور نہ کسی دور میں اس کے غیر مؤثر ہونے کی کوئی شکایت سنی گئی ہے۔

درجہ بندی: