کرم ایجنسی کے افسوسناک واقعات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۴ اگست ۱۹۸۷ء

کراچی میں بموں کے افسوسناک دھماکوں میں سینکڑوں بے گناہ شہریوں کی المناک شہادت کے بعد شمال مغربی سرحد پر واقع قبائلی علاقہ کرم ایجنسی میں ہونے والے اضطراب انگیز سانحہ نے پوری قوم کے دلوں کو کرب و اضطراب کی ناقابل برداشت کیفیت سے دوچار کر دیا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ بیرونی لابیاں پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کے لیے پوری قوت کے ساتھ مصروفِ عمل ہیں۔ کرم ایجنسی کے واقعات کی کچھ تفصیلات قومی اخبارات کے ذریعے سامنے آئی ہیں لیکن حالات و واقعات کی جو تفاصیل اس علاقہ سے دیگر ذرائع سے موصول ہو رہی ہیں ان کے پیش نظر اخبارات میں پیش کی جانے والی تصویر یک طرفہ محسوس ہوتی ہے۔ اس لیے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ حالات کی واقعاتی تصویر کو بھی منظرِ عام پر لایا جائے:

  • کرم ایجنسی کا یہ علاقہ آبادی کے لحاظ سے شیعہ اکثریت کا علاقہ ہے اور گزشتہ دس بارہ سال سے فرقہ وارانہ کشمکش او رخونریز فسادات کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔
  • گزشتہ سال سدہ کے مقام پر بموں کے دھماکوں میں سینکڑوں جانیں ضائع ہوئیں اور قیمتی عمارتیں تباہ ہوگئیں۔ ان دھماکوں میں علاقہ کے ایک شیعہ خاندان کو ملوث پایا گیا چنانچہ علاقہ کے لوگوں نے اجتماعی فیصلہ کے ساتھ اس خاندان کو علاقہ بدر کر دیا۔
  • اس خاندان کے حشمت نامی ایک دہشت گرد نے ٹولہ بنا کر سلطان کلی کے علاقہ کو اپنی وارداتوں کا مرکز بنایا اور وقتاً فوقتاً سڑک بلاک کر کے گاڑیوں کو چھیننے اور لوٹ مار کا بازار گرم کر دیا۔ اس کی دہشت گردی اور لوٹ مار کا ہدف زیادہ تر سنی حضرات بنتے رہے، گاڑیوں اور فلائنگ کوچوں کے چھیننے کی وارداتوں کے علاوہ لوٹ مار اور اغوا کا سلسلہ بھی جاری رہا اور چند ماہ میں پچاس کے قریب افراد اغوا کر لیے گئے جن میں معروف سنی بزرگ پروفیسر عبد الغفور بھی شامل ہیں۔
  • ان وارداتوں کے نتیجے میں حشمت کو افغانستان کی سرحد کے قریب ایک مقام پر کچھ لوگوں نے گاڑی سے اتار کر اغوا کر لیا اور اس کے اغوا کے ساتھ ہی اس کے ٹولہ نے سنیوں پر مسلح حملے شروع کر دیے جس کے نتیجے میں سولہ افراد شہید اور تیس سے زائد زخمی ہوگئے۔
  • اس مرحلہ میں کرم ایجنسی کے اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ نے سلطان کلی جا کر معززین کے ذریعے ان وارداتوں کو رکوانے کی کوشش کی تو اس کی گاڑی بھی چھین لی گئی اور اسے پیدل کرم ایجنسی آنا پڑا۔
  • اس کے بعد مختلف اطراف میں کھلم کھلا لڑائی شروع ہوگئی جس کی کچھ تفصیلات قومی اخبارات میں شائع ہو چکی ہے۔
  • اس لڑائی کا سب سے افسوسناک اور اضطراب انگیز پہلو یہ ہے کہ وفاقی حکومت کے زیرِ انتظام قائم ’’کرم ملیشیا‘‘ نے، جس کی اکثریت شیعہ سپاہیوں پر مشتمل ہے، سرکاری احکام ماننے سے انکار کر دیا بلکہ سرکاری اسلحہ خانوں کو لوٹ کر خانہ جنگی میں شامل ہوگئی اور سنی آبادی کے خلاف منظم جنگ کا آغاز کر کے قتل و غارت کا بازار گرم کر دیا۔ اس خانہ جنگی میں عظیم جانی نقصان کی سب سے زیادہ ذمہ داری ’’کرم ملیشیا‘‘ پر عائد ہوتی ہے۔
  • فوج نے کرفیو کے ذریعے حالات کو ایک حد تک کنٹرول کر لیا اور کرفیو کے دوران جب امام بارگاہوں کی تلاشی لی گئی تو وہاں سے روسی اسلحہ اس قدر کثیر تعداد میں برآمد ہوا جو اس علاقے میں فوج کے اپنے ذخائر سے مبینہ طور پر کئی گنا زیادہ تھا۔
  • واقعات کے اصل رخ پر پردہ ڈالنے کے لیے افغان مہاجرین کے خلاف نفرت انگیز پراپیگنڈا کی مہم شروع کی گئی حالانکہ اس خانہ جنگی میں افغان مہاجرین کا کوئی اجتماعی کردار نہیں ہے اور ان کا حصہ صرف اتنا ہے کہ دہشت گرد حشمت کے ٹولے نے گاڑیاں چھیننے اور لوٹ مار کی وارداتوں کے دوران جب افغان مہاجرین کو اپنی کارروائیوں کا نشانہ بنایا تو افغان مہاجرین نے ان کا مسلح مقابلہ کیا۔ اس کے علاوہ ان واقعات میں افغان مہاجرین کا کوئی کردار نہیں ہے۔ اس دوران یہ بھی کہا گیا کہ افغان مہاجرین نے ہلہ بول کر سدہ بازار کو مسمار کر دیا ہے حالانکہ ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا اور سدہ بازار آج بھی پہلے کی طرح موجود ہے۔

ان حالات میں ہم حکومتِ پاکستان سے یہ مطالبہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں:

  • کرم ایجنسی کے افسوسناک واقعات کی اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقات کرا کے اصل واقعات اور ان کے پس منظر کو قوم کے سامنے لایا جائے۔
  • کرم ملیشیا کی مبینہ بغاوت کا فوری نوٹس لے کر اس ملیشیا کو بلاتاخیر غیر مسلح کر دیا جائے اور بغاوت اور قتل و غارت کے ذمہ دار افراد کو عبرتناک سزا دی جائے۔
  • دہشت گرد حشمت اور اس کے ٹولے کے اصل پشت پناہوں کو بے نقاب کیا جائے اور علاقہ میں روسی اسلحہ کی فراوانی کے اسباب اور ذمہ دار حضرات کو منظرِ عام پر لایا جائے۔
  • ان فسادات میں جاں بحق ہونے والوں کو معاوضہ دلایا جائے اور قاتلوں کو سخت سزا دی جائے۔

ہم ملک بھر کے قومی و دینی حلقوں سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ کرم ایجنسی کے مظلوم عوام کی حمایت میں روسی ہتھیاروں سے مسلح دہشت گردوں کے خلاف مؤثر آواز اٹھائیں اور پاک افغان سرحد پر واقع اس نازک اور حساس علاقے کے عوام کو انصاف اور تحفظ فراہم کرنے کی منظم اور مشترکہ کوشش کر کے بیرونی لابیوں اور دہشت گردوں کی سازشوں کو ناکام بنا دیں۔