تحریک طالبان اور دستور پاکستان

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۵ اکتوبر ۲۰۱۳ء

سیاسی جماعتوں کی قومی کانفرنس کو تحریک طالبان پاکستان کے عسکریت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کا متفقہ فیصلہ کیے ہوئے کئی ہفتے گزر گئے ہیں لیکن ابھی تک مذاکرات کی طرف کوئی مؤثر پیش رفت دکھائی نہیں دے رہی جبکہ مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والے عناصر نہ صرف متحرک ہو چکے ہیں بلکہ اپنی کاروائیاں بھی دکھا چکے ہیں، خودکش دھماکوں کے ذریعہ سینکڑوں بے قصور شہریوں کو خون میں نہلا دینے والوں کا خیال تھا کہ وہ قوم کو یہ باور کرا سکیں گے کہ طالبان مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہیں اس لیے ان سے بات چیت بے سود ہے، مگر تحریک طالبان نے نہ صرف یہ کہ ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے بلکہ مذاکرات کی پیش کش کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس حوالہ سے اپنے مثبت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔

اس کے ساتھ ہی ملک کے سرکردہ علماء کرام نے جن میں مولانا سلیم اللہ خان، مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر، مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ، مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی، مولانا مفتی مختار الدین شاہ اور مولانا قاری محمد حنیف جالندھری بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ حکومت اور طالبان دونوں سے فائر بندی کی اپیل کرتے ہوئے مذاکرات کے جلد از جلد آغاز کی خواہش ظاہر کی ہے جس سے امید کا یہ پہلو سامنے آیا ہے کہ اکابر اہل علم ان مذاکرات میں دونوں فریقوں کو قریب لانے کا کردار بھی ضرورت پڑنے پر ادا کر سکتے ہیں۔ لیکن اس سب کچھ کے باوجود مذاکرات کے آغاز کی کوئی صورت بظاہر دکھائی نہیں دے رہی، پس پردہ کچھ نہ کچھ محنت ضرور ہو رہی ہوگی مگر اس کے آثار ظاہری منظر میں بھی نظر آنے چاہئیں جو ابھی تک سامنے نہیں آرہے اور پوری قوم تذبذب اور گومگو کی کیفیت کا شکار ہے۔ چنانچہ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے نیویارک سے واپس آتے ہوئے لندن میں مختصر قیام کے دوران پریس سے گفتگو کرتے ہوئے جب یہ کہا کہ مذاکرات کے لیے حکمت عملی جلد طے کر لی جائے گی تو ہمارے جیسے پُر امید لوگوں کو الجھن سی ہوئی کہ کیا حکمت عملی طے کرنے کا مرحلہ ابھی تک نہیں آیا؟

اس دوران مختلف حلقوں کی طرف سے جو خدشات اور تاثرات قومی پریس کی زینت بنے ہیں ان پر بھی ایک نظر ڈال لینے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے:

  • تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے حکومت سے کہا ہے کہ طالبان سے مذاکرات کے لیے پشاور میں باقاعدہ دفتر قائم کیا جائے جس کے جواب میں وزیر اعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز کا ارشاد یہ ہے کہ کوئی دفتر قائم کرنے کی ضرورت نہیں ہے، طالبان جہاں چاہیں مذاکرات کر سکتے ہیں۔
  • جمعیۃ علماء اسلام پاکستان (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے اس شبہ کا اظہار کیا ہے کہ مذاکرات کے معاملہ میں سنجیدگی نظر نہیں آرہی بلکہ مذاکرات کو گرینڈ آپریشن کے لیے بہانہ بنانے کا پروگرام لگتا ہے جو ان کے بقول غداری کے مترادف ہوگا۔ اس کے ساتھ اگر عمران خان کا تازہ ترین بیان دیکھ لیا جائے کہ مذاکرات کامیاب نہ ہونے کی صورت میں گرینڈ آپریشن ضروری ہو جائے گا اور پوری قوم اس کی حمایت کرے گی تو مولانا سمیع الحق کا یہ خالی شبہ نہیں رہتا۔
  • جمعیۃ علماء اسلام پاکستان (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات میں پیش رفت اور کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ اس سلسلہ میں پہلے سے کام کرنے والے قومی جرگہ کی خدمات سے فائدہ اٹھایا جائے کیونکہ یہ قبائل کا معاملہ ہے اور اسے حل کرنے میں وہی لوگ کامیاب ہو سکتے ہیں جو قبائل کی روایات، نفسیات اور مزاج سے آگاہی رکھتے ہیں۔
  • پشاور ہائی کورٹ بار کے صدر جناب اشتیاق ابراہیم نے بار کے ایک ہنگامی اجلاس کے بعد حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مذاکرات جلد سے جلد شروع کیے جائیں اور حکومت خودکش دھماکوں میں شہید ہونے والے شہریوں کو دیت ادا کرے۔

اس صورت حال میں مذاکرات کا ابھی تک آغاز نہ ہونے کی جو وجہ ہمیں سمجھ آرہی ہے وہ عرض کر دینا ہم مناسب سمجھتے ہیں۔

ایک بات تو یہ ہے کہ حکومت کی خواہش یہ لگتی ہے کہ مذاکرات کی طرف پیش رفت میں پہل طالبان کی طرف سے ہو جبکہ طالبان بظاہر اس موڈ میں ہیں کہ حکومت انہیں باضابطہ پیش کش کرے اور سلسلۂ جنبانی کا آغاز حکومت کی طرف سے ہو۔ مذاکرات کی دنیا میں ایسے مواقع پر ہمیشہ ایسی شخصیات سامنے آیا کرتی ہیں جو دونوں طرف رابطہ کر کے ’’ڈیڈلاک‘‘ کو ختم کرنے میں کردار ادا کرتی ہیں۔ ۱۹۷۷ء میں پاکستان قومی اتحاد کی تحریک نظام مصطفیؐ میں بھٹو حکومت اور قومی اتحاد کے درمیان ڈیڈلاک کو ختم کرنے کے لیے پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر ریاض الخطیب مرحوم درمیان میں آئے تھے اور باہمی رابطہ کا ماحول پیدا کیا تھا جبکہ اس کے بعد قومی اتحاد ہی کے ایک لیڈر سردار محمد عبد القیوم خان کو رہا کر کے مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کا کردار سونپا گیا تھا جو انہوں نے کمال خوبی کے ساتھ سر انجام دیا تھا۔ آج کل سردار صاحب محترم علیل ہیں اور ہسپتال میں زیر علاج ہیں، وہ بلاشبہ ایک قومی سرمایہ کی حیثیت رکھتے ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں صحت کاملہ عاجلہ سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

صدر ضیاء الحق مرحوم اور پاکستان قومی اتحاد کے سربراہ مولانا مفتی محمودؒ کے درمیان بھی ایک موقع پر شدید نزاع کی کیفیت پیدا ہوگئی تھی اور ایک طرح کا ڈیڈلاک ہوگیا تھا، اسے ختم کرانے کے لیے رابطہ عالم اسلامی کے اس وقت کے سیکرٹری جنرل الشیخ محمد علی الحرکان مرحوم تشریف لائے تھے اور باہمی رابطہ و مفاہمت کا ماحول پیدا کرنے کی انہوں نے محنت کی تھی مگر مولانا مفتی محمودؒ کی اچانک وفات کے باعث یہ سلسلہ ختم ہوگیا تھا۔

ہمارا خیال ہے کہ حکومت اور طالبان کے درمیان مجوزہ مذاکرات کے سلسلہ میں گومگو اور تذبذب کی اس کیفیت سے نجات کے لیے ریاض الخطیب مرحوم یا سردار محمد عبد القیوم خان جیسی کسی شخصیت کو آگے آنا چاہیے تاکہ فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کی راہ ہموار کی جا سکے۔

اس تذبذب اور گومگو کی دوسری وجہ ہماری سمجھ میں یہ آرہی ہے کہ وفاقی حکومت اور کے پی کے کی صوبائی حکومت اس سلسلہ میں ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہی ہیں۔ ایک ٹی وی مذاکرہ میں راقم الحروف بھی شریک تھا جس میں ایک وفاقی وزیر نے کہا تھا کہ صوبائی حکومت اس سلسلہ میں پہل کرے ہم پورا ساتھ دیں گے، جبکہ مذاکراہ میں شریک کے پی کے کے ایک صوبائی وزیر نے اس کا جواب دیا تھا کہ وفاقی حکومت اس سلسلہ میں آگے بڑھے ہم بھرپور تعاون کریں گے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا اس طرح کام کو ایک دوسرے پر ڈال دینا ہمارے خیال میں ’’سیاست کاری‘‘ کے ضمن میں آتا ہے جس سے دونوں کو گریز کرنا چاہیے اور اصولاً وفاقی حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ باہمی سیاسی تحفظات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے صوبائی حکومت سے رابطہ کر کے کوئی مشترکہ حکمت عملی طے کرنے کی راہ اختیار کرے۔

اس کے ساتھ ایک اور اہم پہلو کے بارے میں بھی ہم کچھ عرض کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ ایک عسکریت پسند گروپ کے سربراہ کا یہ بیان گزشتہ دنوں نظر سے گزارا کہ حکومت آئین کی بات کرتی ہے جبکہ ہم شریعت کی بات کرتے ہیں۔ اس سے یہ بات محسوس ہوتی ہے کہ بہت سے عسکریت پسند گروپوں کے نزدیک دستور پاکستان اور شریعت اسلامیہ ایک دوسرے کے مد مقابل اور حریف ہیں جبکہ یہ خیال درست نہیں ہے اور اس مغالطے کو فوری طور پر دور کرنے کی شدید ضرورت ہے۔

دستور پاکستان کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ شریعت اسلامیہ سے متصادم ہے، دستور پاکستان سے ناواقفیت کی علامت ہے۔ اس لیے کہ دستور پاکستان کی بنیاد عوام کی حاکمیت اعلیٰ کے مغربی جمہوری تصور پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ کے اسلامی تصور پر ہے جس پر دستور کی بہت سی دفعات شاہد و ناطق ہیں۔ دستور پر عمل نہ ہونا یا اس بارے میں رولنگ کلاس کی دوغلی پالیسی ضرور ایک اہم مسئلہ ہے لیکن اس سے دستور کی اسلامی حیثیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اہل السنۃ والجماعۃ کا اصول ہے کہ کوئی شخص کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو جائے اور دینی مسلمات میں سے کسی بات سے انکار نہ کرے تو اس کی بے عملی یا بد عملی کی وجہ سے اسے کافر قرار نہیں دیا جائے گا اور وہ فاسق و فاجر کہلانے کے باوجود مسلمان ہی شمار ہوگا۔ اس لیے رولنگ کلاس کی بے عملی یا دوغلے پن کی وجہ سے دستور کو غیر اسلامی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

اس سلسلہ میں دوسری گزارش یہ ہے کہ یہ دستور اس وقت پاکستان کی وحدت کی اساس ہے، خدانخواستہ اس دستور کی نفی کر دی جائے تو ملک کو متحد رکھنے کی اور کوئی بنیاد باقی نہیں رہے گی اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی وحدت و سا لمیت کو خدانخواستہ داؤ پر لگانے کا کسی مسلمان کو رسک نہیں لینا چاہیے۔

جبکہ تیسری گزارش ہم یہ کرنا چاہیں گے کہ اس دستور کی تشکیل و تدوین میں ملک کی تمام دینی و سیاسی قوتیں شریک رہی ہیں اور اب بھی وہ اس پر متحد و متفق ہیں۔ یہ دستور جب ۱۹۷۳ء کے دوران ترتیب دیا جا رہا تھا اس وقت اسے مرتب و مدون کرنے میں دوسرے بہت سے قومی راہ نماؤں کے ساتھ دستور ساز اسمبلی کے ارکان کے طور پر حضرت مولانا عبد الحقؒ آف اکوڑہ خٹک، حضرت مولانا مفتی محمودؒ ، حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ ، حضرت مولانا نعمت اللہؒ آف کوہاٹ، حضرت مولانا صدر الشہیدؒ آف بنوں، حضرت مولانا عبد الحکیم ہزارویؒ اور حضرت مولانا عبد الحقؒ آف کوئٹہ بھی شامل تھے اور ان سب بزرگوں کے اس پر دستخط ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ اس وقت عسکریت پسندوں کی بہت بڑی اکثریت ان میں سے کسی نہ کسی بزرگ کی بالواسطہ یا بلاواسطہ شاگرد ہے، اس لیے انہیں اپنے ان عظیم المرتبت اساتذہ کے موقف سے انحراف اور ان کی کاوشوں کی نفی کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہیے اور البرکۃ مع اکابرکم کا خیال رکھتے ہوئے دستور پاکستان کی پاسداری کا واضح اعلان کرنا چاہیے۔