روسی وزیر دفاع کا دورۂ بھارت / اساتذہ کی ہڑتال / قارئین کی خدمت میں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۶ مارچ ۱۹۸۲ء

روسی وزیردفاع مارشل استینوف تیس رکنی وفد کے ہمراہ ان دنوں بھارت کے دورہ پر ہیں اور انہوں نے بھارتی وزیراعظم کے ساتھ ایک گھنٹہ کی علیحدہ ملاقات کے علاوہ بھارتی رہنماؤں سے باقاعدہ مذاکرات کیے اور بھارت کی دفاعی ضروریات کا جائزہ لینے کے بعد یہ کہا کہ بھارت کو دفاعی طور پر خودکفیل بنانے کے لیے روس اس کی امداد جاری رکھے گا اور بھارت کو اکیلا نہیں چھوڑا جائے گا۔

روس اور بھارت کے درمیان دوستی کا معاہدہ اور دفاع میں تعاون کے عنوان سے بھارت کو بھاری اسلحہ کی فراہمی کا یہ سلسلہ ایک عرصہ سے جاری ہے۔ جہاں تک دو قوموں اور ملکوں کے درمیان تعلقات کے خوشگوار اور دوستانہ ہونے کا تعلق ہے یہ ایک اچھی بات ہے اور اصولی طور پر اس پر کسی حوالہ سے اعتراض نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن جنوبی ایشیا کی مخصوص علاقائی صورتحال کے پس منظر میں روس بھارت تعلقات میں یہ تیز رفتار پیش رفت پاکستان سمیت ان تمام ممالک کے لیے لمحۂ فکریہ ہے جو اس خطہ میں امن کی صورتحال کو مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں۔ بھارت ایک عرصہ سے پاکستان سے مفروضہ خطرہ کی دہائی دے کر نہ صرف اسلحہ کے انبار لگا رہا ہے بلکہ خود بھی اسلحہ کی تیاری میں خودکفالت کی حد چھونے کو ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ اسلحہ کس کے خلاف جمع کیا جا رہا ہے؟ بھلا پاکستان سے بھارت کو کیا خطرہ ہو سکتا ہے؟ اسلحہ کی تیاری اور ذخیرہ کے لحاظ سے بھارت اور پاکستان کا موازنہ کیا جائے تو کوئی ذی شعور بھارت کے اس واویلا کو قبول نہیں کر سکتا جو وہ پاکستان سے خطرہ کے نام سے مسلسل مچا رہا ہے۔

دوسری طرف پاکستان اپنی بنیادی دفاعی ضروریات کے لیے امریکہ پر انحصار کرنے پر مجبور ہے اور اس نے امریکہ سے نقد ادائیگی کی بنیاد پر اسلحہ کی خریداری کا جو سودا کیا ہے اس کے حصول کے پیچیدہ مراحل تو نہ جانے کب مکمل ہوں گے لیکن بھارت نے اس کے خلاف آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے۔ کچھ عرصہ سے بھارتی رہنماؤں کی طرف سے آزادکشمیر کو بھارت میں شامل کرنے، پاکستان کی ایٹمی تنصیبات کو ہدف بنانے اور دیگر معاملات پر جذبات کا اظہار جس تندوتلخ لہجہ میں ہوا ہے اس کے پیش نظر روسی وزیردفاع کے دورۂ بھارت اور بھارت کو جدید اسلحہ کی سپلائی کے وعدوں پر ہم تشویش کا اظہار کیے بغیر نہیں رہ سکتے۔ اور اس اظہارِ تشویش کا مقصد قومی رہنماؤں کو اس صورتحال کی نزاکت کا احساس دلانا ہے کہ وہ اپنی شب و روز کی دیگر قومی مصروفیات اور گفت و شنید میں ملکی سالمیت سے تعلق رکھنے والے اس اہم مسئلہ کو بھی توجہ اور غوروفکر کے دائرہ میں لائیں۔

ملکی سالمیت کا تحفظ ہمارا سب سے پہلا مسئلہ ہے کیونکہ ملک رہے گا تو سب کچھ باقی رہے گا اور سارے جھگڑے طے ہو سکیں گے۔ لیکن اگر خدانخواستہ ملک کی سالمیت کے تقاضے ادھورے رہ گئے تو پھر کچھ بھی نہیں رہے گا، اس لیے ہمیں حقیقی طور پر درپیش خطرات کا احساس کرتے ہوئے قومی وحدت کے فروغ کے لیے ٹھوس قدم اٹھانا چاہیے۔

اساتذہ کی ہڑتال

پنجاب بھر میں ہزاروں اساتذہ نے اپنے مطالبات منوانے کے لیے کچھ دنوں سے ہڑتال کر رکھی ہے اور تا دمِ تحریر حکومت اور اساتذہ کے درمیان مذاکرات کامیابی کی طرف بڑھتے نظر نہیں آرہے۔ اساتذہ قوم کا وہ اہم طبقہ ہیں جن پر نئی نسل کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری ہے لیکن ان اہم ذمہ داریوں کو سرانجام دینے والے یہ اساتذہ ان مراعات اور سہولتوں سے یکسر محروم ہیں جو ایک آزاد معاشرہ میں اساتذہ کو حاصل ہونی چاہئیں۔ اساتذہ کا شمار تنخواہ پانے والے طبقات میں ہوتا ہے اور مہنگائی کے اس دور میں کم تنخواہ پانے والے طبقات پر زندگی جس قدر دشوار ہو چکی ہے اس کا دلی احساس مراعات یافتہ حضرات کو یقیناً نہیں ہو سکتا۔ اشیاء ضرورت کی قیمتیں ناقابل برداشت حد تک بڑھتی جا رہی ہیں اور عام آدمی کے وسائل ان کے سامنے دم توڑ رہے ہیں۔

اساتذہ کی اس ہڑتال سے طلبہ کا نقصان ہو رہا ہے جو قوم کا نقصان ہے اور قوم کے مستقبل کا نقصان ہے، اس لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ اساتذہ کے مطالبات پر ہمدردی کے ساتھ غور کرے اور انہیں جلد از جلد قبول کر کے ہڑتال ختم کرانے کا اہتمام کرے تاکہ اساتذہ کے اطمینان کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں میں تعلیم کا بھی آغاز ہو سکے۔

قارئین کی خدمت میں

ملک کے سیاسی و اقتصادی حالات جس نہج پر جا رہے ہیں عوام اور حکومت کے ساتھ ساتھ قارئین بھی اس سے بخوبی آگاہ ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہر ذی شعور زندگی کے دیگر شعبوں کے ساتھ ساتھ صحافت کو درپیش مسائل کو اچھی طرح سمجھتا ہے۔ ان وجوہات کے علاوہ اکثر اوقات پریس کی خرابی، مالکان کے نخرے اور کاغذ کی عدم دستیابی ایسے مسائل بھی اشاعت میں حائل ہو جاتے ہیں۔ لیکن ان وجوہات کے ساتھ پاتھی گراؤنڈ لاہور میں دو نوجوانوں کے قتل کے بعد ہونے والی مقامی بازار کی ہڑتال بھی پچھلے شمارے کی اشاعت میں دیری کا باعث بنی جبکہ مقتولین بھی ہمارے دفتری کے قریبی عزیز داروں میں سے تھے اس وجہ سے رسالہ حوالہ ڈاک ہونے میں دو روز کی تاخیر ہوگئی۔ اس مرتبہ ہم قارئین سے معذرت خواہ ہیں کہ انہیں انتظار کی زحمت اٹھانا پڑی، آئندہ ہماری کوشش ہوگی کہ رسالہ جمعرات کو قارئین کے ہاتھوں میں پہنچ جایا کرے (ان شاء اللہ تعالیٰ)۔