دینی مدارس کا نصاب تعلیم اور شیخ الاسلام حضرت مدنیؒ

   
مجلہ: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۲ جنوری ۲۰۰۴ء

بنگلہ دیش کے حالیہ سفر کے دوران سلہٹ کے دینی مدرسہ ’’مدینۃ العلوم دارالسلام‘‘ کی لائبریری میں شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کا تحریر فرمودہ ایک نصاب تعلیم ملا جو انہوں نے اب سے کم و بیش ستر برس قبل دینی مدارس کے لیے ترتیب دیا تھا۔ پڑھ کر تعجب ہوا کہ جن ضروریات اور تقاضوں کی طرف ہم دینی مدارس کو آج توجہ دلا رہے ہیں، وہ پون صدی قبل حضرت مدنیؒ تفصیل کے ساتھ تحریر فرما چکے ہیں مگر ان امور کو جو توجہ دینی مدارس کی طرف سے حاصل ہونی چاہیے تھی وہ نظر نہیں آرہی۔ اور اس بات پر خوشی ہوئی کہ دینی مدارس کے نظام و نصاب میں عصر حاضر کے تقاضوں کو سمونے کے لیے جو لوگ جدوجہد کر رہے ہیں، وہ کوئی نئی بات نہیں کر رہے ہیں بلکہ اپنے اکابر و اسلاف ہی کے مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ اس نصاب تعلیم کے ساتھ جو پیش لفظ اور ہدایات حضرت مدنیؒ نے تحریر فرمائی تھیں، وہ قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہیں۔ اس سے صحیح طور پر اندازہ ہو جائے گا کہ ہمارے اکابر و اسلاف دینی مدارس کے کام کو کس دائرہ میں دیکھنا چاہتے تھے اور ان کے ذہن میں دینی مدارس کے اہداف کیا تھے؟ ہماری کوشش ہے کہ حضرت مدنیؒ کا تحریر فرمودہ مکمل نصاب تعلیم بھی اشاعت پذیر ہو جائے۔

’’بعد الحمد والصلوۃ!

مواسم کی تبدیلی اگر پوشاک اور خوراک کے رد و بدل کی خواہاں ہے، اور ممالک و اقطار عالم کی مزاجی کیفیتوں کا اختلاف سکان (باشندوں) کے احوال و عادات پر اثر رساں ہے، اور اگر مفید خزائن علمیہ کا تجدد ’’الانفع فالانفع‘‘ کو اختیار کرنے کا قانون بناتا ہے، اور مختصر و جوامع شروح جدید اور حواشی مفید کا روز افزوں ذخیرہ متقدمین کی مسلمہ کتابوں کی جگہ لینے کی سنت زمانہ سلف سے دکھاتا ہے، تو کوئی وجہ نہیں کہ زمانہ موجودہ اور دیار ہندیہ میں ہم زمان اور مکان کی مختلف حادثہ (نئی وقوع پذیر) اور قدیمہ ضرورتوں سے چشم پوشی کریں اور ان مفید اور انفع (زیادہ نفع بخش) کتابوں کو فنون ضروریہ رائجہ میں قابل واگزشت سمجھیں جو کہ قدیم نصاب کی کتابوں سے نفع رسانی میں نہایت اعلیٰ شان رکھتی ہیں۔

ہم کسی طرح اس امر کو قابل عمل قرار نہیں دے سکتے کہ پرانی کتابیں اس وجہ سے ہی ضروری ہیں کہ اسلاف کی تصنیف کردہ یا اسلاف کے زیر تدریس رہی ہیں، اور جدید تصنیف کردہ شدہ کتب صرف اس وجہ سے قابل ترک قرار دی جائیں کہ وہ زمانہ حال یا قریب کی تصنیف کی ہوئی ہیں یا اسلاف نے ان سے نفع نہیں اٹھایا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ امام محمد بن الحسن رحمۃ اللہ علیہ کی مشہور وغیر مشہور کتابوں پر صدر الشریعۃؒ کی تصنیف نے جالے کھینچ دیے۔ صاحب ہدایہ اور صدر الشریعہ وغیرہ کی تصانیف نے اپنے سے پہلوں کی تصانیف کو زوایا خمول (گوشہ گمنامی) میں نسیاً منسیاً (بھولا بسرا) کر دیا۔ کتاب سیبویہ اور مبرد وغیرہ کی تصانیف پر ابن حاجب اور مالک کی تصانیف قضاء بالموت کا حکم نافذ کرتی رہیں، اور فارابی اور ابن سینا کی تالیفات پر تصانیف میر زاہد و محب اللہ بہاری وغیرہ پردہ ڈالتی رہیں۔

اگر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلقات تحریر یہ قرار دیتے ہیں کہ زید بن ثابتؓ کو زبان عبرانی سیکھنے کا حکم فرمائیں، اور اگر ملوک کا کسی خط کو بلا مہر قابل اعتبار نہ سمجھنا آنحضرت علیہ السلام کو آمادہ کرتا ہے کہ انگشتری اور مہر تیار کرائیں تو ہم کو زمانہ موجودہ پر نظر ڈالتے ہوئے اجنبی زبانوں اور فنون وغیرہ کو سیکھنے اور سکھانے کو یک قلم پس انداز کر دینا کسی طرح مناسب نہ ہوگا۔

مذہبی حیثیت بھی مثل معاشی ضرورتوں کے تقاضا کرتی ہے کہ اقوام عالم کی زبان اور ان کے رسم و رواج، ان کے علوم و فنون وغیرہ سے واقفیت حاصل ہو جائے۔

مذکورہ بالا امور اور اس قسم کے مختلف اور متعدد و قایع (واقعات) عرصہ دراز سے مجھ کو پریشان کر رہے تھے کہ موجودہ اور رائجہ نصاب زمانہ حال میں قابل اصلاح و ترمیم ضرور ہے مگر زمانہ نے مجھ کو اب تک مہلت نہ دی۔

میں نے ایام تعلم و استفادہ میں دیوبند کا نصاب تعلیم (جس کا بڑا حصہ درس نظامی کا خوشہ چین ہے) اپنے لیے معراج ترقی اور مسلم زندگی قرار دیا اور حسب استعداد و قابلیت بڑے درجہ تک اس سے فیضیاب ہوا مگر مدینہ منورہ میں مجھ کو جامعہ ازہر (مصر) اور استنبول بخارا وغیرہ کے نصابوں سے سابقہ پڑا۔ پھر زندگانی کے مختلف شعبوں پر غور و خوض کرنے کی نوبت بھی آئی۔ مختلف ممالک اور متعدد حکومتوں کے احوال نظر سے گزرے۔ اسکولوں اور کالجوں کے نصابوں پر بھی بڑے درجے تک عبور پہلے سے حاصل تھا۔ زمانہ حال ہی مختلف اسلامی یونیورسٹیوں (جامعہ عثمانیہ دکن، جامعہ ملیہ قرول باغ دہلی، ندوۃ العلماء وغیرہ) کو بھی زیر نظر لانے کی نوبت آئی۔ حتی الوسع احباب و اکابر اصحاب الرائے اور ارباب تجربہ سے مشوروں کی نوبت بھی بارہا آئی۔ بالآخر یہ موجودہ نصاب انتخاب اور غور و تدبر کے بعد قوم کے سامنے پیش کرنے کا فخر حاصل کرتا ہوں۔

اس میں شک نہیں کہ تعلیمی حالت پر پوری روشنی ڈالنا اور مکمل اصلاح و ترمیم مجھ جیسے ناواقف اور کم مایہ طالب علم کا کام نہیں مگر جبکہ اکابر قوم کو اس طرف کماحقہ توجہ نہیں تو پھر کم مایہ ہی اشخاص کو قدم بڑھانا پڑتا ہے۔ ملک میں مختلف جماعتیں موجود ہیں جنہوں نے بعض امور کو اپنا مطمح نظر بنا کر دوسرے ضروری مقاصد کو بالکل پس پشت ڈال دیا ہے مگر اس نصاب میں اپنی فہم و تجربہ کی بنا پر صحیح راستہ اختیار کیا گیا ہے جو کہ مسلمانوں کو اصلی اور حقیقی کامیابی کے بام ترقی پر پہنچانے والا ہے۔ اگرچہ نصاب سے یہ مقصد نہیں ہوتا کہ طلبا کو حافظ فنون و علوم بنایا جائے، بلکہ ایک ایسی استعداد اور قابلیت پیدا کرنی مقصود ہوتی ہے جس سے وہ جملہ ضروری فنون میں پوری قوت پیدا کر لیں تاکہ ضرورت یا تکمیل کے وقت ان کو کوئی نقصان سدراہ نہ ہو سکے، تاہم ان کو بہت سے فنون اور بہت سی اہم تر کتابوں اور اعمال سے دوچار ہونا ضروری ہے تاکہ یہ ملکہ راسخہ حاصل ہو۔

میں ابھی تک محسوس کر رہا ہوں کہ ہم ہندوستانی مسلمانوں کے لیے تصنیف و تالیف غیر مکمل ہے اور موجودہ کتابیں ہماری ضرورتوں کے لیے ایک درجہ تک ہماری زبان میں ناکافی ہیں، مگر تاہم ان شاء اللہ اگر اکابر قوم نے پسند فرمایا اور رائج کیا تو مجھ کو قوی امید ہے کہ ہمارے قوم و ملک میں اچھے اچھے اشخاص پیدا ہو سکیں۔

میں نے اگرچہ یہ نصاب تمام قطر ہند کے لیے تیار کیا ہے مگر چونکہ صوبہ بنگال کے اکابر و عمائد کی خدمات عالیہ میں اولاً پیش کرنے کا فخر حاصل ہوا ہے اس لیے میں نے بنگلہ زبان اور یہاں کے طرز کو خاص طور پر ملحوظ رکھا ہے۔ دوسرے صوبہ میں اس کا تغیر حسب مکان نہایت آسانی سے ہو سکے گا۔

اخیر میں اپنی بضاعت مزجاۃ میں اکابر قوم کے سامنے پیش کرتے ہوئے غلطیوں کی معافی اور اصلاح کی درخواست پیش کرتا ہوں اور اگر پسند خاطر ہو تو دعا اور ترویج کا خواستگار ہوں۔

والسلام
میں ہوں آپ کا خادم
ننگ اکابر
حسین احمد غفرلہ

اصول و قوانین کلیہ

چونکہ یہ نصاب صوبہ بنگال اور آسام کے مسلمانوں کے لیے ہے اس لیے اس میں بنگلہ زبان کی تحریری اور تقریری ترقی کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔ دوسرے صوبہ والے بجائے بنگلہ اپنے صوبے کی اس زبان کو جو سوائے اردو کے اپنی استقلالی شان رکھتی ہو، قائم کریں۔

نصاب میں علوم دینیہ اور فنون عربیہ کو نہایت زیادہ قابل توجہ قرار دیا گیا ہے اور حتی الوسع عربی قدیم تعلیم اور اس کی کتابوں اور فنون کی اس طرح ملحوظ رکھا گیا ہے جس طرح پہلے سے چلی آتی ہے، اس لیے یہ کوئی نئی اسکیم نہیں ہے بلکہ وہی پرانی اسکیم ہے۔ ہاں پرانی اسکیم میں جن فنون اور جن کتابوں کی کمی تھی اور زمانہ موجودہ میں ان کی اشد ضرورت محسوس ہوئی، ان کو بھی نہایت تھوڑے تغیر سے داخل کر دیا گیا۔

اس نصاب کے تین حصے کر دیے گئے ہیں جن کے لیے مجموعی حیثیت سے سولہ برس کی مدت ضروری خیال کی گئی ہے۔ اول مکتب (مدرسہ ابتدائیہ)، دوم مدرسہ ثانویہ (جونیئر)، سوم مدرسہ عالیہ (سینئر)۔

موجودہ نظام تعلیم جو کہ تمام بنگال و آسام میں رائج ہے، علم حدیث و تفسیر کو ضروری اور تعلیم اسلامی کا عضو رئیس نہیں سمجھتا، ورنہ اس فن کو تکمیل میں داخل نہ کرتا حالانکہ یہ علوم نہایت ضروری اور اہم بلکہ مقاصد ذاتیہ میں سے ہیں۔ دوسرے فنون فقط آلات اور خدمت گزار ہیں۔ درس نظامی میں بھی بہت سے علوم کو ضرورت وقت سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے جو کہ تضییع عمر کی باعث اور خسارہ دین و دنیا کا سبب ہے اور بہت سے ضروری فنون و کتب سے چشم پوشی بھی گوارا کرنے کی بدنمائی اس میں موجود ہے۔ اس لیے حدیث اور تفسیر وغیرہ کو اسی درجہ میں داخل کیا گیا ہے۔

اس نصاب کا ہر درجہ تقریباً مستقل اور اپنی اپنی اغراض و مقاصد میں دوسرے حصوں سے مستغنی ہے، اس لیے مکتب (درجہ ابتدائیہ) سے فارغ ہو کر بچے اگر تعلیم سے علیحدہ ہو جائیں یا سکولوں اور کالجوں میں داخل ہو جائیں تو ان کو مکتب کے مقاصد میں کوئی نقصان سدراہ نہ ہوگا اور علیٰ ہذا القیاس درجہ ثانویہ اور عالیہ ہر ایک مستقل طور پر فیض رساں ہیں۔

اس نصاب میں پانچ زبانوں کی تعلیم کا لحاظ رکھا گیا ہے۔ بنگلہ (صوبہ کی زبان) اردو، فارسی، انگریزی، عربی، مگر اول الذکر (بنگلہ) کو بوجہ صوبہ کی زبان ہونے کے اور آخر الذکر (عربی) کو بوجہ مذہبی اور علمی زبان ہونے کے زیادہ تر اہمیت دی گئی ہے۔ باقی ماندہ السنہ ثلاثہ (اردو، فارسی، انگریزی) کو بقدر ضرورت لازم قرار دیا گیا ہے، البتہ اردو زبان چونکہ ہندوستان میں مسلمانوں کی مشترکہ زبان ہے اور علمی زبان ہونے کا فخر بھی حاصل کر چکی ہے، اس لیے اس کا مرتبہ نسبت باقی ماندہ ہر دو زبانوں (فارسی، انگریزی) کے اعلیٰ رکھا گیا ہے۔ پھر انگریزی چونکہ حکومت کی زبان ہے اور بہت سے دنیاوی ان کاروبار کا جن سے کوئی شخص تازیست مستغنی نہیں ہو سکتا، اس سے تعلق ہے اس لیے اس کو فارسی زبان پر فوقیت دی گئی ہے۔

اس نصاب میں قرآن شریف سے قوی تعلق پیدا کرنے کی زیادہ تر کوشش کی گئی ہے تاکہ طلبا کا کوئی زمانہ قرآن شریف سے اجنبیت نہ رکھے اور یہ امر نہایت قوی ذریعہ ان کو معانی قرآن اور تفسیر کے سمجھنے اور اس کے رنگ سے قلوب کو رنگین کرنے کے لیے ہو سکے۔ افسوس ہے کہ رائج الوقت نصاب میں اس کی طرف سے بہت زیادہ بے توجہی برتی گئی جس کا بدنما نتیجہ مخفی نہیں ہے۔

اس نصاب میں علم تاریخ، ادب عربی، علم حدیث کو بھی بہ نسبت دیگر فنون کے زیادہ اہمیت دی گئی ہے جس کی وجہ ارباب بصیرت پر مخفی نہیں۔

طلبا کو واقعات زمانہ اور اخبار پر مطلع ہونا، اخبار بینی سے دلچسپی پیدا کرنا، مضامین لکھنے اور ان کی اشاعت وغیرہ کی مہارت حاصل کرنا، ابنائے زمانہ کی آرا اور ان کی ذہنیتوں کا احاطہ کرنا وغیرہ وغیرہ چونکہ نہایت ضروری امور ہیں، اس لیے ہر مدرسہ میں دارالمطالعہ ہونا ضروری ہے جس میں ہر قسم کے اخبار اور ماہواری رسائل وغیرہ موجود رہا کریں اور وقت معین پر طلبہ جا کر چپ چاپ بیٹھ کر ان کا مطالعہ کیا کریں۔

دارالمطالعہ کے لیے روزانہ ہر طالب علم (درجہ عالیہ و سافلہ کا) آدھ گھنٹہ صرف کیا کرے جس میں پاؤ گھنٹہ اوقات نظام سے ہوگا اور پاؤ گھنٹہ اوقات تعطیل نماز میں سے۔

درجہ ثانویہ اور عالیہ کے طلبا کے لیے لازم ہوگا کہ مذکورہ ذیل دستکاریوں میں سے ایک یا چند دستکاری سیکھیں جس کے تعین میں ان کو اختیار ہوگا: چرخہ چلانا اور کپڑا بننا، حدادی (لوہے کا کام)، نجاری (بڑھئی کا کام)، خیاطت (کپڑا سینا)، گھڑی سازی، جلد سازی، چمڑا رنگنا، بوٹ وغیرہ بنانا، صیاغت (سونار کا کام) وغیرہ وغیرہ۔

اس نصاب میں انگریزی زبان کو صرف اس درجہ تک ملحوظ رکھا گیا ہے کہ جس سے ضروری کاروبار انجام پا سکیں۔

اس نصاب میں فنون کو حتی الوسع ملکی زبان میں تعلیم دینے کی کوشش کی گئی ہے البتہ عربی علوم و فنون کو مختلف مصالح کی بنا پر عربی زبان میں ہی تعلیم دینا ضروری خیال کیا گیا ہے۔

عربی زبان کے سوا اور دوسری زبانیں محض بہ حیثیت زبان تعلیم دی جائیں گی۔

عالیہ اور سافلہ میں کچھ ایسی آسان کتابیں رکھی گئی ہیں جو کہ درسیات میں شمار نہ ہوں گی مگر طلبا ان کا مطالعہ کر کے مضامین کے یاد کرنے کے مکلف ہوں گے اور امتحان میں ان کا پورا لحاظ کیا جائے گا۔ ایسی کتابوں کو خانہ درسیات کے آخر میں بین القوسین ذکر کیا گیا ہے۔

عالیہ اور سافلہ کے درجات میں حسب حیثیت مذکورہ نصاب تحریر اور تقریر کی مشق کرنی لازم ہوگی۔

ہر زبان کی تعلیم کے ساتھ اس کے املا اور کتابت کا درست کرانا ضروری ہوگا اور ہر زبان کی خوش نویسی کا امتحان مستقل علیحدہ ہوگا۔

روزانہ عالیہ اور سافلہ کے طلبا کو ضروری ہو گا کہ وہ جسمانی ان فنون و اعمال کی عصر کے بعد مشق کیا کریں جن سے صحت جسمانی پر نہایت مفید اثرات پڑیں اور فن سپہ گری بھی ہاتھ آئے، جیسے پٹہ، گدکا، لکڑی، بنوٹ اور تلوار وغیرہ۔
طلبا کی حاضری اور ان کے اخلاق کا خاص طور سے لحاظ رکھا جائے گا اور ہر دو امر کے متعلق مدرسین اور منتظمین کی شہادت پر ان کو خاص نمبر اور انعام سالانہ دیا جائے گا۔

اس نصاب کے بعد تکمیل کے درجات ہوں گے جن میں مختلف شعبوں اور زبانوں کی تکمیل کا لحاظ رکھا جائے گا، مثلاً شعبہ تبلیغ، شعبہ تعلیم (ٹریننگ) وغیرہ۔ انہیں درجات تکمیل میں فتاویٰ، ادبیات عربیہ، ادبیات بنگلہ، ادبیات اردو، ادبیات فارسی، ادبیات انگریزی، الجبرا، ہندسہ و ریاضی (جیومیڑی)، علم طب، علم قراءۃ، فلسفہ قدیم و جدید، منطق تفسیر وغیرہ کی تکمیل کا لحاظ کیا جائے گا مگر ان کی تفصیل اس نصاب میں بالفعل نہیں کی گئی۔ آئندہ اس کے جاری اور منظم ہو جانے پر اس کی بھی اسکیم تیار کی جائے گی۔

ہر تین برس میں اس نصاب پر غور کرنا ہوگا اور حسب ضرورت و اقتضائے وقت و تجربہ ضروری اصلاحات اور ترمیمات عمل میں لانا ہوگا۔

اس نصاب میں اندازہ کیا گیا ہے کہ سال بھر میں تقریباً ساڑھے سات مہینہ تعلیم میں خرچ ہوں گے یعنی سالانہ تعطیل اور ہفتہ وار تعطیل اور ایام امتحان کو منہا کرنے کے بعد جو زمانہ بچتا ہے، وہ تعلیم کا خاص زمانہ ہے۔‘‘