آزادی مارچ کی سیرت کانفرنس میں حاضری

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۱۱ نومبر ۲۰۱۹ء

۹ نومبر کا دن خاصا مصروف گزرا، رائے ونڈ کے تبلیغی اجتماع کی وجہ سے جامعہ نصرۃ العلوم میں اسباق کی چھٹی تھی اس لیے صبح نماز فجر کے بعد ہی سفر شروع کر دیا اور احباب کا ایک قافلہ بھی ساتھ بن گیا۔ حافظ نصر الدین خان عمر، حافظ شاہد میر، حافظ اسامہ قاسم، حافظ محمد قاسم، حافظ فضل اللہ اور حافظ محمد بن جمیل خان شریک سفر تھے۔ ہم گوجرانوالہ سے روانہ ہو کر دوپہر تک ٹیکسلا پہنچے جہاں برادرم صلاح الدین فاروقی نے حضرت مولانا سید نفیس شاہؒ کی یاد میں قائم مسجد نفیس میں ظہر کے بعد سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے نشست کا اہتمام کر رکھا تھا، عصر تک اس میں شریک رہے۔ جمعیۃ علماء اسلام کے آزادی مارچ میں اس روز شام کو سیرت کانفرنس کا پروگرام تھا جس کے لیے مولانا فضل الرحمان نے دعوت دی اور ہم نے مغرب کی نماز آزادی مارچ کے جلسہ میں ان کی اقتدا میں ہی ادا کی۔

آزادی مارچ کی چہل پہل، نظم و ضبط اور چہروں کی رونق دیکھ کر اطمینان ہوا کہ بات صحیح رخ پر آگے بڑھ رہی ہے۔ میں نے دوستوں سے کہا کہ مولانا فضل الرحمان طویل عوامی جدوجہد کے بعد تین چار باتیں اب تک دنیا پر واضح کر چکے ہیں کہ:

  • وہ اور ان کی جماعت قومی سیاست سے آؤٹ ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں اور نہ ہی اس طویل تحریکی اور سیاسی پس منظر رکھنے والی قوت کو قومی سیاسی منظر سے غائب کیا جا سکتا ہے۔
  • انہیں ملک کے ہر حصے میں عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔
  • ان کے والد گرامی کی طرح ملک کی سیاسی جماعتیں بالخصوص اپوزیشن پارٹیاں ان کی قیادت پر بھی متفق ہیں۔
  • دینی جماعتوں اور کارکنوں کے بارے میں عالمی میڈیا اور اس کے مقامی کارندوں نے جو منفی تاثر پھیلا رکھا تھا، ملک کے دارالحکومت میں لاکھوں علماء کرام اور کارکنوں کے چند روزہ قیام نے اس کو زائل کر دیا ہے اور ایک منظم، سلیقہ شعار، پر اَمن، شائستہ اور پر عزم نظریاتی قوت کے طور پر دنیا نے انہیں اپنے سامنے دیکھ لیا ہے۔
  • ان کا ایجنڈا مسلکی اور جماعتی نہیں بلکہ قومی ہے اور وہ پوری قوم کو سامنے رکھ کر اس کے اجتماعی مسائل و ضروریات پر بات کر رہے ہیں۔

یہ امور تو سب کے سامنے ہیں، باقی معاملات بھی امید ہے کہ بہتر انداز میں حل ہو جائیں گے۔ سیرت کانفرنس میں کچھ گزارشات پیش کرنے کا موقع ملا جو سوشل میڈیا کے ذریعے اکثر احباب تک پہنچ چکی ہیں، اگر ضرورت ہوئی تو انہیں ان شاء اللہ العزیز تحریری صورت میں بھی پیش کر دیا جائے گا۔

یہاں سے فارغ ہو کر ہم اڈیالہ روڈ راولپنڈی صدر کی جامع مسجد صدیق اکبرؓ پہنچے جہاں تحریک اشاعت اسلام کی ۱۷ ویں سالانہ کانفرنس انعقاد پذیر تھی۔ مجھے کم و بیش ہر سال اس کانفرنس میں حاضری کی سعادت ملتی ہے اور مولانا حافظ عبد الواحد سجاد اور ان کے رفقاء کی مسلسل محنت دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔ اس کانفرنس میں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض پہلوؤں پر کچھ معروضات پیش کیں اور پھر ہم بھیرہ کی طرف روانہ ہوگئے جہاں ’’شب کرم‘‘ کے عنوان سے منعقد ہونے والی ایک تقریب میں شرکت کے لیے حضرت صاحبزادہ پیر سید امین الحسنات شاہ نے کہہ رکھا تھا، ان کے والد گرامی حضرت مولانا پیر سید محمد کرم شاہ الازہریؒ کے ساتھ میری نیازمندی رہی ہے، بہت سے علمی و فکری معاملات میں مشاورت اور راہنمائی کے ساتھ ساتھ ان کی دعاؤں اور شفقتوں سے بہرہ ور ہوتا رہا ہوں۔ ان کے دور میں بھی دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف میں حاضری دے چکا ہوں اور اب ان کے فرزند و جانشین صاحبزادہ پیر سید امین الحسنات شاہ کے ساتھ بھی یہ روابط بحمد اللہ تعالیٰ قائم ہیں۔

میں نے ’’شب کرم‘‘ کی محفل میں گفتگو کے دوران سیرت طیبہ کے کچھ پہلوؤں پر اظہار خیال کے علاوہ شرکاء مجلس کو توجہ دلائی کہ بڑے حضرت پیر صاحب رحمہ اللہ نے استشراق کے حوالہ سے جو وقیع علمی کام کیا ہے اس کا تسلسل جاری رکھنے کی ضرورت ہے اور ان کے تلامذہ کو چاہیے کہ حضرتؒ کی علمی کاوشوں کو ’’اپ ڈیٹ‘‘ رکھنے کے ساتھ ساتھ ان کی بنیاد پر آج کے علمی ماحول میں اسلام، قرآن کریم، سنت نبویؐ اور جناب نبی کریمؐ کی ذات گرامی کے حوالہ سے سامنے آنے والے منفی کام کا علمی جائزہ لینے کا اہتمام کریں، اور خاص طور پر بین الاقوامی معاہدات کا اس پہلو سے تفصیلی اور متنوع جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ یہ معاہدات کہاں کہاں اسلامی تعلیمات کی عملداری میں رکاوٹ ہیں اور ان سے نمٹنے کے لیے ہماری کیا ذمہ داری بنتی ہے۔

کم و بیش رات دو بجے وہاں سے واپسی کا سفر شروع کیا اور بحمد اللہ تعالیٰ فجر تک گوجرانوالہ واپس پہنچ گئے۔