حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ ۔ مردِ درویش کی چند قلندرانہ باتیں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ الہلال، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۱۰ نومبر ۲۰۰۰ء

اس سال لندن آتے ہوئے کراچی میں چند روزہ قیام کے دوران حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبد اﷲدرخواستی قدس اﷲ سرہ العزیز کے منجھلے فرزند مولانا حاجی مطیع الرحمان درخواستی کے ساتھ بھی کچھ روز کی سفری رفاقت رہی اور اسی موقع پر ان سے حضرت درخواستیؒ کی وہ تاریخی تقریر آڈیو کیسٹ کے ذریعے سننے کا موقع ملا جو انہوں نے امام العلماء حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کی وفات پر ۱۹۶۲ء میں رمضان المبارک کے آخری جمعۃ المبارک کے اجتماع میں خانپور کی عید گاہ میں کی تھی۔ حضرت لاہوریؒ کا انتقال اسی رمضان المبارک میں ہوا تھا اور حضرت درخواستیؒ ان کے جنازہ میں شرکت کے بعد لاہور سے واپس آئے تھے، رمضان المبارک کا آخری جمعہ تھا اور مدرسہ مخزن العلوم عید گاہ خانپور میں حضرت درخواستیؒ سے اس سال قرآن کریم کا دورہ تفسیر پڑھنے والے اڑھائی سو کے لگ بھگ طلبہ کا اختتامی سبق بھی اسی موقع پر ہوا۔ اس آڈیو کیسٹ میں حضرت درخواستیؒ کی جمعہ کی تقریر سے قبل کی تقریر کے علاوہ جمعہ کے بعد دورۂ تفسیر کا آخری سبق اور درس شامل ہے۔ اس کے ساتھ حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب نور اﷲ مرقدہ کے اس خطاب کا ایک حصہ بھی ہے جو انہوں نے دین پور شریف میں تشریف آوری کے موقع پر فرمایا تھا۔ اور اس میں جہاد آزادی ہند میں حضرت مولانا حاجی امداداﷲ مہاجر مکیؒ، حضرت مولانا قاسم نانوتویؒ، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ اور دیگر اکابر علماء دیوبند کی خدمات کا تذکرہ ہے ۔

حضرت درخواستیؒ کا یہ خطاب جو اڑتیس سال قبل کا ہے، میں نے پہلی بار سنا لیکن یوں لگتا ہے جیسے آج کے ماحول میں اور آج کے حالات کے تناظر میں وہ علماء کرام اور اہل دین کے کسی بہت بڑے اجتماع سے خطاب کر رہے ہیں اور کفر و استعمار کی قوتوں کی سازشوں اور کوششوں کے مقابلہ میں اہل حق کے موقف کا اعلان کر رہے ہیں۔جب سے یہ تقریر سنی ہے بہت سے دوستوں کو مشورہ دے چکا ہوں کہ وہ یہ کیسٹ ’’مولانا حاجی مطیع الرحمن درخواستی نائب مہتمم جامعہ مخزن العلوم عید گاہ خانپور ضلع رحیم یار خان‘‘ سے ضرور حاصل کریں اور ایمان کی تازگی نیز اہل حق کے موقف اور عزم سے آگاہی کے لیے کبھی کبھی اسے اہتمام کے ساتھ ضرور سن لیا کریں۔

حضرت درخواستیؒ معروف معنوں میں سیاستدان نہیں تھے بلکہ صاحب جذب اور صاحب حال بزرگ تھے جن پر ہر وقت جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی احادیث کا عشق غالب رہتا تھا۔ مگر حق گوئی اور فتنوں کے تعاقب میں وہ اپنے دور کے علماء کرام میں صف اول کے لوگوں میں سے تھے اور بہت سے ایسے مواقع میرے سامنے ہیں جب ملک کے اہم سیاسی مسائل میں ان کی ’’مجذوبانہ بصیرت‘‘ نے اہل حق کے لیے مشعل راہ کا کام دیا اور بعض ایسے واقعات کا عینی شاہد ہوں جب ان کی بات سیاسی مصلحتوں کی خاطر نظر انداز کر دی گئی مگر بعد کے حالات کا منظر یہ تھا کہ سیاسی مصلحتوں کا سراب زیادہ دیر تک آنکھوں کو متوجہ نہ رکھ سکا اور ’’مجذوبانہ بصیرت ‘‘ کی بات وقت کے میزان پر درست نکلی۔اس پس منظر میں حضرت درخواستیؒ کے اس خطاب کے بعض اہم حصے اپنی زبان اور ترتیب کے ساتھ قارئین کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں مگر اس وضاحت کے ساتھ کہ اسے محض اخباری رپوٹنگ کے طور پر پڑھا جائے کیونکہ اصل لطف تو حضرت درخواستیؒ کے خصوصی انداز میں ہے جو کیسٹ سے براہ راست سن کر ہی اٹھایا جا سکتا ہے۔

امام الاولیاء حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ اﷲ والے تھے جنہوں نے قرآن کریم کی اشاعت کو زندگی کا مشن بنا رکھا تھا حتیٰ کہ بیماری کی حالت میں بھی اس مشن کو جاری رکھا اور آخر دم تک قرآن کریم کا درس اور تعلیم دیتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو گئے ۔ اس سے قبل حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ، امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، حضرت مولانا مفتی محمد حسن امرتسریؒ اور دیگر اکابر ہم سے جدا ہوئے ہیں اور اب حضرت لاہوریؒ بھی ہم سے رخصت ہوگئے ہیں۔ ان کا خلاء پر نہیں ہو سکتا البتہ ہمیں ان کا مشن جاری رکھنا چاہیے اور ان شاء اللہ تعالیٰ یہ مشن جاری رہے گا۔ اہل باطل خوش نہ ہوں کہ حق کہنے والے چلے گئے، نہیں بلکہ ایک جائے گا تو دوسرا اس کی جگہ حق کہنے والا کھڑا ہوگا اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا ۔ ہمارے لیے سعادت کی بات ہوگی کہ ہم جانے والوں کے مشن کو سینے سے لگائے رکھیں اور انہی کی طرح محنت اور جدوجہد کرتے ہوئے ان سے جا ملیں۔

ملکی حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے حضرت درخواستیؒ نے اس خطاب میں کہا کہ دینی اقدار کا مذاق اڑایا جا رہا ہے، رمضان المبارک کی بے حرمتی ہو رہی ہے، ناچ گانا عام ہے، فلمیں بن رہی ہیں، سینما آباد ہیں اور لوگوں کو بے حیا بنایا جارہا ہے۔ جناب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت وحدیث کا انکار ہو رہا ہے، نبی کے یاروں صحابہ کرامؓ کی توہین ہوتی ہے اور حضورؐ کے گھرانے کی بے احترامی کی جاتی ہے لیکن کوئی اس کا نوٹس نہیں لیتا، اس زندگی سے موت بہتر ہے اور اس حالت میں جینے کا کوئی مزہ نہیں۔ میں سیاسی آدمی نہیں ہوں اور ملک کے صدر اور تمام افسروں سمیت ہر شخص پر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ مجھے فرنگی کی سیاست نہیں آتی مگر قرآن و حدیث کی سیاست کو میں چھوڑ نہیں سکتا، میری سیاست قرآن و سنت ہے اور قرآن و سنت کے نظام کی بالادستی ہمارا سب سے بڑا مشن ہے اس سے ہم کبھی دست بردار نہیں ہو سکتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ملک میں قرآن کا نظام آئے، حدیث رسولؐ کا نظام آئے ۔ کلب خانے بند ہوں، سینماؤں پر تالے لگ جائیں، رمضان المبارک کا احترام ہو اور اسلامی احکام کی حکمرانی قائم ہو، اس سے ہم کبھی دست بردار نہیں ہوں گے۔ ہم دار و رسن قبول کر سکتے ہیں لیکن اسلامی نظام سے دست بردار نہیں ہوں گے۔

ہمیں ملک کا غدار کہا جا رہا ہے، ہم غدار نہیں ہیں ملک کے وفادار ہیں اور میں تو خانہ کعبہ کا غلاف پکڑ کر پاکستان کے لیے دعائیں کرتا رہتا ہوں کہ یا اﷲ پاکستان کی حفاظت فرما اور اسے ہندوؤں اور سکھوں کے غصہ سے محفوظ رکھ۔ جو شخص خانہ کعبہ کا غلاف پکڑ کر، رو کر ملک کے لیے دعائیں مانگے وہ غدار کیسے ہو سکتا ہے۔ ہم ملک کے وفادار ہیں مگر اس ملک کو فرنگی نظام سے نجات دلا کر محمدیؐ نظام کے ذریعے مستحکم کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ملک کی بقا اور استحکام اسی میں ہے۔ مگر لڈو کھا کر ملک کو برباد کرنے والے ملک میں فرنگی نظام کو باقی رکھنا چاہتے ہیں اور اسلامی نظام میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔ ہم صدر کی رعایا ہیں اور اپنے افسروں کی بھی رعیت ہیں لیکن اگر صدر بھی اسلامی نظام سے بے وفائی کریں گے تو ہم ان کی بات نہیں مانیں گے اور میں اعلان کرتا ہوں کہ ہم سر دے دیں گے مگر اسلامی نظام کے خلاف کوئی بات قبول نہیں کریں گے۔ ہمارے ملک کو پہلے فرنگی نظام کے ذریعے برباد کیا جاتا رہا اور اب امریکی نظام کے ذریعے ملک کو تباہ کرنے کے منصوبے بن رہے ہیں مگر ہم نے نہ فرنگی نظام کو قبول کیا تھا اور نہ ہی امریکی نظام کو قبول کریں گے۔ ہمارے بزرگوں نے فرنگی نظام کے خلاف جنگ لڑی تھی اور ہم امریکی نظام کے تسلط کے خلاف جنگ لڑیں گے اور ہمارا اعلان ہے کہ ہم سولی چڑھ جائیں گے، دارورسن کو منظور کر لیں گے مگر امریکی نظام کا تسلط برداشت نہیں کریں گے۔

میں صدر پاکستان سے، ملک کے افسروں سے، ججوں سے اور حکمرانوں سے کہتا ہوں کہ یہ ملک ہم سب کا ہے۔ ہمار ابھی ہے اور آپ کا بھی ہے اس لیے ہم سب کو اس ملک کی فکر کرنی چاہیے اور سب کو اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہیے۔ نہ تم ہمارے لیے غیر ہو نہ ہم تمہارے لیے غیر ہیں، سب ایک دوسرے کے بھائی ہیں اور ہم سب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی اور غلام ہیں۔ اس لیے ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ نبی اکرمؐ کا نظام اور قانون نافذ کرکے اس ملک کو بچالیں۔ یہ ملک اسی نظام سے بچے گا، فرنگیوں اور امریکیوں کے نظام سے یہ ملک باقی نہیں رہے گا۔ لڈو کھا کر ملک کو بدنام کرنے والوں سے میں کہتا ہوں کہ تمہاری آنکھیں بند ہیں۔ تم نے دوست اور دشمن میں تمیز کرنا چھوڑ دی ہے، دوستوں کو دشمن سمجھ لیا ہے اور دشمنوں کو دوست بنا رکھا ہے۔ اس لیے خدا تم سے نارا ض ہے اور شیطان تم پر مسلط ہو گیا ہے، اس حالت سے باہر نکلو، قرآن وسنت کو سینے سے لگاؤ اور اﷲ کے بندوں کی بات مانو تاکہ یہ ملک دشمن کی سازشوں سے محفوظ ہو جائے۔ میرے اندر کوئی کمال نہیں ہے البتہ قرآن کریم کا جوہر اﷲ تعالیٰ نے سینے میں رکھ دیا ہے میری کوشش ہے کہ یہ جوہر مرنے تک ساتھ رہے اور اسے ساتھ لے کر قبر میں جاؤں، میں خانپوریوں سے کہتا ہوں کہ میں تمہیں قرآن سناتا رہوں گا، حدیث رسول سناتا رہوں گا، تم مجھے بے شک جوتے مارو مجھے پتھر مارو میں تمہارے جوتے کھا لوں گا تمہارے پتھر برداشت کرلوں گا مگر قرآن سنانے سے باز نہیں آؤں گا اور قرآن کے نظام کی دعوت دینے سے کبھی باز نہیں آؤں گا۔