شکاگو میں مسلمانوں کی دینی سرگرمیاں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۹۸۹ء غالباً

شکاگو امریکہ کے بڑے شہروں میں شمار ہوتا ہے، دنیا کے مختلف حصوں میں یکم مئی کو، جو مزدوروں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے، دراصل شکاگو ہی کے ایک افسوسناک واقعہ کی یادگار ہے کہ یہاں محنت کشوں نے اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا۔ شہادت کے اسلامی تصور سے ناآشنا لوگ انہیں ’’شہدائے شکاگو‘‘ بھی کہہ دیتے ہیں۔ ان کی یاد ہر سال محنت کشوں کے عالمی دن کی صورت میں یکم مئی کو دنیا بھر میں مزدور برادری میں منائی جاتی ہے۔

شکاگو عالیجاہ محمد کی امت کا ہیڈ کواٹر بھی ہے۔ یہ صاحب سیاہ فام امریکیوں کے لیڈر کی حیثیت سے ابھرے اور سیاہ فاموں کو منظم و بیدار کرنے میں خاصی محنت کی، اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا مگر نبوت کے دعویٰ کے ساتھ ایک خود ساختہ اسلام دنیا کے سامنے پیش کر دیا جس کی بنیاد سفید فاموں کے خلاف انتہا پسندانہ نفرت پر ہے اور اسلام کے نام پر پیش کیے جانے والے اس نئے مذہب کے عقائد واحکام کا فلسفہ اسی نفرت کے گرد گھومتا ہے۔ نبوت کے اس دعوے دار کا نام خاصے عرصہ سے سن رکھا تھا مگر ’’عالیجاہ‘‘ کے لفظ کا سابقہ اس نام کے ساتھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کیونکہ یہ صاحب امریکی تھے اور عالیجاہ کا لفظ انگلش نہیں ہے۔ ’’محمد‘‘ تو ذہن میں آتا تھا کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسلمانوں کی عقیدت سے فائدہ اٹھانے کے لیے یہ نام رکھا گیا ہے لیکن اس کے ساتھ عالیجاہ کا جوڑ سمجھ سے بالاتر رہا۔ اس دفعہ شکاگو حاضری کے موقع پر ’’انسٹیٹیوٹ برائے دعوت و اشاعت اسلام شکاگو‘‘ کے ایک ڈائریکٹر جناب امیر علی کے ہمراہ آنجہانی عالیجاہ محمد کی رہائش گاہ اور مرکز دیکھنے کا اتفاق ہوا تو گفتگو کے دوران عقدہ کھلا کہ یہ لفظ عالیجاہ نہیں بلکہ ’’ آلیج‘‘ ہے جو الیاس کا انگریزی تلفظ ہے۔ جس طرح انگلش میں یعقوب کو جیکب، یوسف کو جوزف اور مریم کو میری کہا جاتا ہے اسی طرح الیاس کو آلیج کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ گویا موجودہ صدی میں نبوت کا دعویٰ کرنے والے ان صاحب کا نام ’’عالیجاہ محمد‘‘ نہیں بلکہ ’’الیاس محمد‘‘ ہے جسے ’’آلیج محمد‘‘کے تلفظ کے ساتھ بولا جاتا ہے۔

گزشتہ سال کے سفرنامہ میں آلیج محمد کے مذہب اور پیروکاروں کے بارے میں کچھ بنیادی معلومات عرض کی تھیں، اس بار اس مذہب کا ہیڈکوارٹر دیکھنے کا موقع ملا جہاں آلیج محمد کا جانشین ’’لوئیس فرخان‘‘رہتا ہے اور اس کی امت کی قیادت کرتا ہے۔ جبکہ اس بلڈنگ کے سامنے آلیج محمد کے فرزند وارث دین محمد کی رہائش گاہ ہے جو باپ کے عقائد سے منحرف اور صحیح العقیدہ مسلمان ہیں اور مسلمانوں کی راہنمائی کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ لوئیس فرخان جو آلیج محمد کا منسٹر کہلاتا ہے متلون مزاج شخص ہے، وہ آلیج محمد کی زندگی میں اس کے پہلے منسٹر مالکم ایکس کے ساتھ تھا اور جب مالکم ایکس نے آلیج محمد کی نبوت اور عقائد سے منحرف ہو کر صحیح العقیدہ مسلمان ہونے کا اعلان کیا تو اس بغاوت میں سابق عالمی باکسر محمد علی کلے اور لوئیس فرخان بھی مالکم ایکس شہید کے ساتھ تھے، حتیٰ کہ جب مالکم ایکس کو آلیج محمد نے شہید کرا دیا تو لوئیس فرخان کو مالکم ایکس شہید کا جانشین چنا گیا۔ مگر آلیج محمد کی موت کے بعد جب اس کے فرزند وارث دین محمد نے اپنے باپ کے عقائد سے توبہ کر کے صحیح العقیدہ مسلمان ہونے کا اعلان کیا تو لوئیس فرخان نے الٹی زقند لگا کر آلیج محمد کے گروپ کی قیادت سنبھال لی اور سابقہ عقائد کی طرف واپس لوٹ گیا۔

لوئیس فرخان اب پھر مسلمانوں کے بعض حلقوں کو یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ آلیج محمد کے عقائد اور مذہب کو خیرباد کہنا چاہتاہے اور اس مذہب کے پیروکاروں کو حقیقی اسلام کی طرف راغب کرنے کی خفیہ مہم میں لگا ہوا ہے۔ چنانچہ رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ نے بعض حلقوں کے مطابق مولفۃ القلو ب کے عنوان سے اس کی خطیر مالی امداد کی ہے اور گزشتہ ستمبر کے دوران شکاگو میں منعقد ہونے والی رابطہ عالم اسلامی کی کانفرنس میں لوئیس فرخان کو مہمان خصوصی بھی بنایا گیا ہے۔ لوئیس فرخان کے جریدہ ’’دی فائنل کال‘‘ کے ۳۱ اکتوبر ۱۹۹۰ء کو شائع ہونے والے شمارے میں اس کانفرنس کی رپورٹ ’’مسلمان متحد ہوگئے‘‘ کی شہہ سرخی کے ساتھ شائع کی گئی ہے، لیکن اسی شمارہ کے ایک پورے صفحہ پر آلیج محمد کی تصویر کے ساتھ اس کے عقائد درج کیے گئے ہیں اور یہ کہا گیا ہے کہ ہم ان عقائد کو مانتے ہیں۔ اسی طرح اس شمارہ کے ایک صفحہ پر آلیج محمد اور لوئیس فرخان کی تصویروں کے ساتھ ایک مضمون دیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ دنیا کا نجات دہندہ آلیج محمد ہے۔ شکاگو کے مسلمان اس صورتحال پر خاصے مضطرب ہیں اور سنجیدہ حضرات کا کہنا ہے کہ لوئیس فرخان رابطہ عالم اسلامی سے دولت حاصل کرنے کے لیے ڈرامہ کر رہا ہے۔

شکاگو کے مسلم کمیونٹی سنٹر میں اسلام کی دعوت اور اشاعت کے لیے ایک انسٹیٹیوٹ قائم ہے جس کے ڈائریکٹروں میں سے جناب امیر علی اور جناب ریاض حسین وڑائج سے ملاقات ہوئی۔ شکاگو میں تین روز کا قیام بھی ریاض صاحب کے ہاں رہا، ریاض صاحب چنیوٹ کے رہنے والے ہیں، شکاگو میں کاروبار کرتے ہیں، گھر میں دینی ماحول برقرار رکھا ہوا ہے، غیر مسلموں میں اسلام کی تبلیغ اور دعوت کے کام سے خصوصی شغف رکھتے ہیں، دیندار اور صاحب دل مسلمان ہیں اور چاہتے ہیں کہ دعوت اسلام کے کام کو اس طریقے سے آگے بڑھایا جائے کہ ہر غیر مسلم تک اسلام کا پیغام صحیح طور پر پہنچ جائے۔

امیر علی صاحب حیدر آباد دکن کے رہنے والے ہیں، وہاں سے ہجرت کر کے کراچی آئے اور کراچی میں دس سال رہنے کے بعد امریکہ چلے آئے، ان کی اہلیہ نومسلم امریکن خاتون ہیں، دونوں میاں بیوی انسٹیٹیوٹ میں ہمہ وقتی کام کرتے ہیں۔ دعوت کا طریقہ کار یہ ہے کہ مختلف عنوانات پر چھوٹے چھوٹے پمفلٹ تقسیم کیے جاتے ہیں جن میں دعوت دی جاتی ہے کہ اسلام کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے انسٹیٹیوٹ میں آئیں یا فون پر رابطہ کریں اور اگر اسلام کے بارے میں کوئی سوال ذہن میں ہو تو ہم سے پوچھیں۔ چنانچہ بہت سے لوگ فون پر رابطہ کرتے ہیں، بعض لوگ انسٹیٹیوٹ میں بھی آتے ہیں جن کی راہنمائی اور اطمینان کے لیے پوری طرح کوشش کی جاتی ہے۔ پہلی دفعہ جب انسٹیٹیوٹ جانے کا اتفاق ہوا تو ایک اسپینش خاندان معلومات حاصل کرنے کے لیے وہاں آیا ہوا تھا اور امیر علی صاحب اپنی اہلیہ کے ہمراہ اس خاندان کے ساتھ گفتگو میں مصروف تھے، بعد میں معلوم ہوا کہ وہ خاندان مسلمان ہو گیا ہے۔ انسٹیٹیوٹ میں مسلمان ہونے والوں کا پہلے ریکارڈ نہیں رکھا جاتا تھا، جب سے ریکارڈ رکھنے کا سلسلہ شروع ہوا ہے اس کے بعد سے شکاگو کے اسی سے زائد افراد دائرہ اسلام میں داخل ہو چکے ہیں جبکہ دوسرے علاقوں کے نومسلموں کی تعداد اس سے الگ ہے۔ انسٹیٹیوٹ میں ابلاغ کے جدید ذرائع سے بھرپور استفادہ کیا جا رہا ہے، اسلام کے عقائد و احکام کی تشریح پر مشتمل کیسٹیں تیار کی جاتی ہیں اور دلچسپی رکھنے والوں کو استفادہ کے لیے دی جاتی ہیں۔ کمپیوٹر پر تمام متوقع سوالات کے جوابات ریکارڈ کر کے اس کا سلسلہ ٹیلی فون کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے۔ اگر کسی کا فون آئے پر دفتر میں کوئی موجود نہ بھی ہو تو کمپیوٹر سے اس کو سوال کا جواب مل جاتا ہے۔

ایم سی سی کے ایک حصہ میں مولانا محمد عبداللہ سلیم نے دارالعلوم کے نام سے ایک دینی مدرسہ قائم کر رکھا ہے جہاں روزانہ شام چھ سے نو بجے تک تعلیم دی جاتی ہے۔ مولانا عبداللہ سلیم دارالعلوم دیوبند (وقف) کے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد نعیم صاحب مدظلہ العالی کے فرزند ہیں اور گزشتہ آٹھ سال سے شکاگو میں مسلمانوں کی دینی راہ نمائی کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ موصوف قرآن پاک کے حافظ اور اچھا پڑھنے والے قاری ہیں، انہوں نے اپنے گھر میں حفظِ قرآن کریم کا مدرسہ شروع کر رکھا ہے جہاں چار بچے ان سے قرآن کریم حفظ کر رہے ہیں۔ یہ بچے مستقل ان کے گھر میں رہتے ہیں اور ان کی خوراک وغیرہ کا انتظام بھی وہی کرتے ہیں، مولانا موصوف اس سلسلہ کو وسیع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ ایک الگ مکان کرائے پر لے کر حفظ قرآن کریم کا اقامتی مدرسہ وہاں منتقل کر دیا جائے تاکہ زیادہ بچے اس سے استفادہ کر سکیں۔

جناب امیر علی مجھے شکاگو کے سائنس میوزیم میں لے گئے جس کا صرف ایک حصہ ہم دو گھنٹے میں سرسری طور پر دیکھ پائے۔ بہت بڑا میوزیم ہے جہاں انسانی زندگی کے ارتقاء اور اجتماعی ترقی کے مختلف مراحل کو انتہائی مہارت کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ جو حصے ہم دیکھ سکے ان میں ساؤنڈ سسٹم کے ارتقائی مراحل،کمپیوٹر سسٹم، موٹر گاڑیاں، بائیسکل، زرعی ترقی کے آلات اور انسان کے کام آنے والے صنعتی ہتھیار شامل ہیں۔ ٹیکنیکل پہلو تو میری سمجھ سیے بالاتر تھے لیکن انسانی عقل و محنت کو اللہ تعالیٰ نے جو ارتقائی عروج بخشا ہے اس کے مختلف مناظر نے ایمان کی تازگی کا سامان فراہم کر دیا۔ میوزیم کے ایک گوشے میں سو سال قبل کے امریکی معاشرہ کی ایک جھلک اس طرح دکھائی گئی ہے کہ اس طرز کا ایک چھوٹا سا بازار سجا دیا گیا ہے۔ پرانی طرز کی دکانیں، اینٹوں کا بازار، ریڑھیاں اور چائے خانہ پرانی امریکی معاشرت کا نقشہ پیش کر رہا ہے۔

ایک طرف میڈیکل سائنس کا شعبہ ہے جہاں دوسرے انسانی اعضا کو مختلف زاویوں سے پیش کرنے کے علاوہ ایک بہت بڑا دل بھی نصب کیا گیا ہے جو غالباً پلاسٹک کا ہے، اس میں دل کا نقشہ مکمل پیش کیا گیا ہے حتیٰ کہ اس کے اندر جانے کا راستہ بھی ہے جس میں سے داخل ہوکر دل کا اندرونی منظر دیکھا جا سکتا ہے جو میڈیکل سائنس کے طلباء کے لیے یقیناً معلومات افزاء اور دلچسپی کا باعث ہوگا۔ مگر میرے لیے اس میں دلچسپی کا ایک ہی پہلو تھا کہ دل میں داخل ہونے کے دروازے کے ساتھ ہی اس سے باہر نکلنے کا دروازہ بھی بنا دیا گیا ہے یعنی ایک طرف سے دل میں آئیں اور تھوڑی سی جھلک دیکھ کر دوسرے دروازے سے نکل جائیں اندر ٹھہرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ میں جب اس میں داخل ہوا تو ذہن کی سکرین پر امریکی معاشرت کا نقشہ ابھر رہا تھا اور یوں لگا جیسے پلاسٹک کا یہ دل امریکی کلچر کی علامت بن گیا ہے اس لیے جلدی سے دوسرے دروازے سے باہر آگیا۔