جمعیۃ العلماء کے مقاصد اور دائرہ کار

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۷ اپریل ۲۰۱۷ء

جمعیۃ علماء ہند کا قیام 1919ء میں عمل میں لایا گیا تھا جبکہ 1927ء کے دوران پشاور میں جمعیۃ علماء ہند کے زیراہتمام منعقدہ سہ روزہ اجلاس میں امام المحدثین علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ نے اپنے تاریخی خطبۂ صدارت میں جمعیۃ کی آٹھ سالہ کارکردگی، مقاصد اور عزائم کا ایک ہلکا سا خاکہ پیش فرمایا تھا۔ یہ خطبۂ صدارت ایک وقیع فکری و علمی دستاویز ہے جو جنوبی ایشیا کے مسلمانوں، علماء کرام اور دینی کارکنوں کے لیے ہمیشہ مشعل راہ رہے گی۔ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے زیر اہتمام پشاور میں 7 اپریل 2017ء سے شروع ہونے والے سہ روزہ ’’صد سالہ عالمی اجتماع‘‘ کے موقع پر حضرت شاہ صاحب قدس سرہ العزیز کے اس خطبۂ صدارت کے کچھ حصے پیش کرنے کا ارادہ ہے جس کی پہلی قسط نذر قارئین ہے۔

’’ہندوستان کے علماء کرام نے چند سال سے اپنے دائرہ میں ایک نظام قائم کیا ہے جس کا نام جمعیۃ علماء ہند ہے، تاکہ موجودہ زمانہ کے ہجومِ مصائب و آلام میں جو واقعات و حالات پیش آئیں خواہ وہ سیاست سے تعلق رکھتے ہوں خواہ مذہب و اخلاق سے اور خواہ معاشرت و تمدن سے متعلق ہوں یا اقتصادیات سے، ان کے متعلق باہمی بحث و تمحیص، تدقیق و تحقیق کے بعد جمہور اہل اسلام کے لیے راہ عمل نکالیں اور ان کو صحیح راستہ پر چلائیں۔ شریعت غرا کی یہی تعلیم ہے اور سلف صالحین کی سیرت صالحہ یہی تھی۔

حضرت علیؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ اگر ہمارے سامنے کوئی ایسا واقعہ پیش آجائے جس میں شریعت کی اجازت یا ممانعت واضح نہ ہو تو حضورؐ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ حضورؐ نے ارشاد فرمایا کہ علماء اور عبادت گزاروں سے مشورہ کر لیا کرنا اور کسی شخصی رائے کو نافذ نہ کرنا۔ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی سیرت میں مذکور ہے کہ اگر آپ کو کوئی مشکل مسئلہ پیش آجاتا اور کتاب و سنت میں اس کا حکم نہ ملتا تو آپ زعماء و علماء امت کو بلا کر مشورہ کرتے اور جب سب کسی رائے پر متفق ہو جاتے تو اسی کے موافق فیصلہ فرما دیتے۔ اسی طرح حضرت عمر بن الخطابؓ سے منقول ہے کہ اگر ان کو کوئی دشواری پیش آتی اور کتاب و سنت میں حکم نہ ملتا تو حضرت ابوبکر صدیقؓ کے فیصلوں کو تلاش کرتے، اگر صدیق اکبرؓ کا کوئی فیصلہ مل جاتا تو اسی کے موافق فیصلہ فرما دیتے ورنہ زعماء و علماء کو بلا کر مشورہ فرماتے اور جب وہ کسی رائے پر متفق ہو جاتے تو اسی کے موافق فیصلہ صادر فرماتے۔

جمعیۃ علماء کا ایک اہم مقصد یہ بھی ہے کہ اگر خدانخواستہ کسی وقت زعماء امت سے قومی مسائل میں کسی قسم کی مذہبی فروگزاشت ہو جائے تو احکام شرعیہ کا اظہار و اعلان کردے۔ یا جمہور مسلمین سے اداء وظائف قومیہ میں غفلت اور تساہل ظاہر ہو تو وعظ و پند کے ذریعہ سے ان کو آمادۂ عمل کرے اور ان میں بیداری اور مستعدی کی روح پھونکے۔

حضرات! جمعیۃ علماء ہند نے اپنی سات آٹھ سالہ چھوٹی سی عمر میں جو قومی و ملی خدمات انجام دی ہیں، ان کی تفصیل کے لیے بڑا وقت درکار ہے، میں اس کی تفصیل میں آپ کا زیادہ وقت صرف کر دینا مناسب نہیں سمجھتا تاہم ان کا اجمالی نقشہ پیش کر دینا بھی ضروری ہے تاکہ آپ کو اس مذہبی ادارہ کی وقعت و ضرورت اور اس کے بقا و اعانت کی صحیح حالت کا اندازہ ہو جائے اور آپ اپنا فرض بھی پہچانیں اور اس کے ادا کی جانب متوجہ ہوں۔

  1. آپ کو معلوم ہے کہ یورپین غیر مسلم سلطنتوں نے اپنے مرض جوع الارض یا استحکام اقتدار کے باعث جس وقت اسلامی ممالک پر ہجوم کیا اور صدیوں سے اسلامی علم کے نیچے آئے ہوئے ممالک کے حصے بخرے کرنے کے لیے آمادہ ہوئے، اس وقت مسلمانان ہندوستان کے لیے اپنے مذہبی بھائیوں کی امداد و اعانت مذہبی فرض کے طور پر عائد ہوگئی۔ مگر ہندوستان کے مسلمان اپنی بے بسی اور بیچارگی کے باعث کسی قسم کی مادی امداد سے عاجز تھے۔ اس وقت زعماء قوم نے ترک تعاون کا طریقہ اختیار کرنا چاہا اور جمعیۃ علماء نے تمام حالات اور واقعات پر نظر ڈال کر ترک تعاون کا مشہور فتویٰ صادر کیا اور لاکھوں کی تعداد میں اسے چھپوا کر ملک میں شائع کیا۔ گورنمنٹ نے اس فتویٰ کو بھی اپنی مستبدانہ پالیسی کا شکار بنا کر ضبط کر لیا مگر مسلمانوں میں اتنی بیداری ہو چکی تھی کہ انہوں نے باوجود حکم ضبطی کے لاکھوں کی تعداد میں شائع کیا اور ہزاروں جانبازان توحید نے اپنے دستخطوں سے شائع کیا اور محاربین اسلام کے ساتھ ترک موالات و ترک تعاون کا مسئلہ ایک حقیقت ثابتہ کی طرح جمہور اہل اسلام کے ذہن نشین ہوگیا اور ان شاء اللہ تعالیٰ ہمیشہ اسی طرح واضح اور روشن رہے گا۔
  2. جمعیۃ علماء ہند نے اس امر سے بھی واضح طور پر مسلمانوں کو آگاہ کیا کہ مسلمانوں کو کسی غیر مسلم کی اعانت و نصرت کے لیے مسلمانوں سے لڑنا حرام ہے کیونکہ اس کا بدیہی نتیجہ اعلاء کلمۃ الکفر ہے اور پرستاران توحید پر حرام ہے کہ وہ اعلاء کلمۃ الکفر میں شریک ہوں یا اس کے ذرائع و وسائل کو مضبوط کریں۔
  3. جمعیۃ العلماء نے جزیرۃ العرب کو تسلط غیرمسلم سے محفوظ رکھنے کی فرضیت کا اعلان کیا اور جہاں تک امکانی کوشش کا تعلق تھا، اس میں ایک شمہ بھر کوتاہی نہیں کی۔ تخلیۂ جزیرۃ العرب کے متعلق نصوص شرعیہ پیش کیں اور اس مسئلہ کو انتہائی روشنی میں پہنچا دیا۔
  4. خلافت اسلامیہ کے تحفظ و بقا و استحکام میں جمعیۃ علماء نے جمعیۃ خلافت مرکزیہ کے ساتھ پوری ہمنوائی کی اور اس کے متعلق تمام احکام شرعیہ اور نصوص مذہبیہ پیش کر کے مسلمانوں کو سرگرم عمل کیا۔
  5. مسلمانوں کو باہمی تناصر و تعاون اور دول مسلمہ کی حمایت و نصرت کا سبق یاد کرایا اور مشرق و مغرب کے مسلمانوں کو باہمی الفت و مودت، تعاضد و تناصر کی ضرورت اور وجوب سے آگاہ کیا۔
  6. جمعیۃ علماء نے ہندوستان کے مسلمانوں کے قلوب میں روح ملی تازہ کر دی اور ان کو خواب غفلت سے بیدار کیا اور حقوق مذہبیہ اور قومیہ کے حصول کے لیے تحمل مصائب و مشاق کا خوگر بنا لیا۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دورِ ابتلاء میں علماء صادقین کی بہت بڑی جماعت نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ کراچی کے مشہور مقدمات میں حضرت مولانا حسین احمد صاحب مہاجر مدنی اور مولانا نثار احمد صاحب اور مولانا شوکت علی و مولانا محمد علی و ڈاکٹر سیف الدین کچلو زعماء ہند کے ساتھ ساتھ شریک ابتلاء تھے اور دونوں کو ایک ہی پیالہ سے اقتدار و استبداد کی شراب کے تلخ ترین گھونٹ پلائے گئے تھے۔
  7. مظلوم موپلوں کی اعانت و امداد میں جمعیۃ علماء نے پوری سعی کی اور مسلمانان ہند کی فراخدلی اور اعانت سے تقریباً ۳۶ ہزار روپیہ موپلہ ریلیف کمیٹی مدراس کے اور ۶ ہزار روپیہ جمعیۃ دعوت و تبلیغ کے توسط سے موپلہ قوم کی بیواؤں اور یتیموں اور ستم رسیدوں تک پہنچائے۔ اسی طرح مظلومین سہارنپور کی امداد و اعانت میں کافی حصہ لیا۔
  8. شدھی کاشور بلند ہونے پر جمعیۃ علماء ہند نے ناواقف اور سادہ لوح مسلمانوں کو ارتداد کے جال سے بچانے کے لیے بروقت باقاعدہ توجہ کی اور اپنی پوری ہمت اور اخلاص کے ساتھ نہ صرف ارتداد کے بڑھتے ہوئے سیلاب کو روکا بلکہ جو لوگ اپنی سادہ لوحی اور ناواقفیت کی وجہ سے مرتد ہوگئے تھے، ان کی بڑی تعداد کو دوبارہ مشرف باسلام کیا۔
  9. سب سے زیادہ روشن کارنامہ جمعیۃ علماء کا یہ ہے کہ اس نے مسلمانوں کے مختلف گروہوں میں باہمی مصالحت و رواداری پیدا کی اور علماء اسلام کو ایک مرکز پر جمع کرنے میں نمایاں کام کیا۔ ایسے اصول وضع کیے جس سے علماء اسلام باوجود اپنے اپنے مذہبی خیالات و معتقدات پر قائم رہنے کے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر مسلمانوں کی مشترکہ ضروریات پر غور کریں اور مشترکہ مفاد کی تحصیل میں کنفس واحدہ شریک عمل ہوں۔

یہ صرف ان خدمات کے عنوانات ہیں جو جمعیۃ علماء نے انجام دی ہیں۔ ان میں سے ہر ایک عنوان کی تفصیل کے لیے بڑا وقت درکار ہے۔ ‘‘