ڈاکٹر محمد دین مرحوم

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
مئی ۲۰۰۸ء

بدھ (۹ اپریل ۲۰۰۸ء) کے روز میرے خسر بزرگوار ڈاکٹر محمد دین بھی طویل علالت کے بعد کم وبیش ۸۰ برس کی عمر میں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا تعلق کھاریاں سے کوٹلہ جانے والے روڈ پر واقع قصبہ گلیانہ سے تھا اور انتہائی نیک دل اور ذاکر وشاغل بزرگ تھے۔ طب و علاج کے شعبہ سے تعلق رکھنے کی وجہ سے انہیں ڈاکٹر کہا جاتا تھا ورنہ وہ ڈسپنسر تھے، اسی حیثیت سے انہوں نے ریٹائرمنٹ کی عمر تک سرکاری ملازمت کی اور مختلف ہسپتالوں میں خدمات سرانجام دیتے رہے۔

ان کا بیعت کا تعلق حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ سے تھا۔ حضرت لاہوریؒ کی زندگی تک وہ ان کی مجالس کے حاضر باش شریک رہے اور یہی تعلق ہماری باہمی رشتہ داری کا باعث بن گیا۔ وہ گلیانہ کی ارائیں فیملی سے تعلق رکھتے تھے اور ہمارا ان سے کوئی تعارف نہیں تھا۔ اس تعارف اور رشتہ داری کا ذریعہ مدرسہ حیات النبی گجرات کے بانی فاضل دیوبند حضر ت مولانا نذیر اللہ خانؒ بنے۔ ڈاکٹر محمد دین صاحب بنیادی طور پر انہی کے حلقہ سے تعلق رکھتے تھے اور انہی کی تحریک پر یہ رشتہ قائم ہوا۔میری شادی کا قصہ بھی عجیب سا ہے۔۱۹۷۰ءکے الیکشن کے لیے انتخابی مہم جاری تھی، حضرت مولانا مفتی عبد الواحد صاحبؒ اور حضرت علامہ محمد احمد لدھیانویؒ مختلف حلقوں سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑ رہے تھے اور میں ان کی الیکشن مہم میں مصروف تھا۔ اس دوران گھر سے پیغام ملا کہ فلاں وقت تھوڑی دیر کے لیے گھر آنا، ضروری کام ہے۔ میں اس وقت گھر پہنچا تو حضرت والد صاحب مدظلہ کے کمرے میں ملاقاتیوں کی کرسی پر ایک باوقار سی خاتون بیٹھی تھیں۔ میری والدہ محترمہ نے کمرے میں داخل ہونے سے پہلے مجھے اشارہ کیا کہ اس خاتون کو سلام کرنا۔ میں نے آگے بڑھ کر سلام کیا، انہوں نے اٹھ کر میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور مسکرانے لگیں۔ مجھے اس خلاف معمول بات پر تعجب سا ہوا تو میری چھوٹی والدہ محترمہ نے باہر بلا کر بتایا کہ یہ تمہاری ساس محترمہ ہیں اور ہم نے تمہارا رشتہ طے کر دیا ہے۔ اس کے بعد مجھے کہا گیا کہ فلاں دن اپنی ڈائری میں خالی رکھنا اس دن نکاح کے لیے جانا ہے۔

یہ ۲۵ اکتوبر ۱۹۷۰ءکا دن تھا اور شعبان المعظم کی بھی اس روز ۲۵ تاریخ تھی۔ اس دن ہم ایک مختصر سی بارات کے ساتھ گلیانہ گئے۔ حضرت والد محترم مدظلہ تو تھے ہی، حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ اور حضرت مولانا نذیر اللہ خانؒ بھی شریک مجلس تھے اور میں نے اس دن پہلی بار اپنا سسرالی گاؤں دیکھا اور اپنے خسر بزرگوار ڈاکٹر محمد دین کی زیارت کی۔ میں بحمد اللہ تعالیٰ سادہ سے لباس میں تھا اور لوگوں کو بارات میں دولہا کو الگ طور پر پہچاننے میں دقت پیش آ رہی تھی۔ پنجابی دیہات کی روایت کے مطابق عورتیں اور بچے بارات کے استقبال کے لیے گلیوں میں جمع تھے مگر انہیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ باراتیوں میں دولہا کون ہے؟ اس علاقہ میں دولہا کو ”مہاراج“ کہا جاتا ہے۔ میرے بڑے ماموں منشی بشیر احمد صاحب مرحوم بارات کے ساتھ تھے، انہوں نے ان عورتوں سے کہا کہ اگر تم ”مہاراج“ کو پہچان لو تو میں پانچ روپے انعام دوں گا۔ اس زمانے میں پانچ روپے بڑا انعام ہوتا تھا، مگر کوئی عورت بارات میں دولہا کو تلاش نہ کر سکی جبکہ میں ان سب کے سامنے موجود تھا۔

ڈاکٹر محمد دین مرحوم کا بیعت کا تعلق حضرت لاہوریؒ سے تھا اور یہ صرف تعلق نہیں تھا بلکہ وہ حضرت لاہوریؒ کے طریقہ پر زندگی بھر ذکر و اذکار کرتے رہے۔ جب تک معذور نہیں ہوئے، شاید ہی زندگی میں کوئی دن ایسا آیا ہو کہ ان کی رات کا آخری حصہ اللہ اللہ کی ضربوں سے نہ گونج رہا ہو۔ بڑے اہتمام اور توجہ کے ساتھ ذکر کرتے تھے، شب زندہ دار بزرگ تھے۔ حضرت لاہوریؒ کی وفات کے بعد انہوں نے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ کے ساتھ بیعت کا تعلق قائم کر لیا مگر غالباً حضرت شیخ الحدیث کی ہدایت پر ذکر واذکار کا معمول وہی حضرت لاہوریؒ والا رہا۔ عبادات میں فرائض و نوافل کے معمولات کی پابندی کے ساتھ ساتھ معاملات میں بھی اکل کھرے انسان تھے اور ایک ایک پیسے کا حساب رکھتے تھے۔ وہ ڈسپنسر کے طور پر سرکاری ملازمت کے دوران ڈیوٹی کے لیے خود چن کر ایسے دور دراز ہسپتالوں کا انتخاب کرتے جہاں پیشہ ورانہ خیانت اور بدعنوانی کا امکان کم سے کم ہوتا اور ہر معاملہ میں پھونک پھونک کر قدم اٹھاتے۔

ہمارا خسر داماد کے طور پر اڑتیس سال ساتھ رہا ہے۔ اس دوران مجھے یاد نہیں کہ ان سے مجھے کوئی ایسی شکایت ہوئی ہو جسے واقعتاً شکایت کہا جا سکتا ہو اور میں نے بھی ان کے مکمل احترام کے ساتھ ہمیشہ یہ کوشش کی ہے کہ انہیں مجھ سے کوئی شکایت نہ ہو۔ میرے ساتھ جب بھی ملاقات ہوتی، دینی تحریکات کے حوالے سے بات کرتے، مسئلہ مسائل کا ذکر ہوتا، کسی نہ کسی دینی معاملہ کا تذکرہ کرتے یا کسی بزر گ کا ذکر چھیڑ دیتے۔ ابھی چند روز قبل ہم دونوں میاں بیوی ان کی بیمار پرسی کے لیے گلیانہ گئے تو سخت تکلیف کے عالم میں تھے۔ تکلیف کی شدت سے منہ سے ہائے ہائے بھی نکل رہا تھا مگر ہر سانس کے ساتھ اللہ اللہ کی آواز بھی صاف سنائی دے رہی تھی۔

انہوں نے اپنی زمین کے ایک حصے میں چار کنال کے لگ بھگ رقبہ پر دینی مرکز کی بنیاد رکھی تھی جس میں ایک کنال کی مسجد اپنی نگرانی میں انہوں نے تعمیر کرا دی ہے جو مکی مسجد کے نام سے اس علاقہ کا تبلیغی مرکز ہے جبکہ باقی جگہ میں دینی مدرسہ کی تعمیر کا پروگرام ہے۔ رسم ورواج اور بدعات سے طبعی تنفر تھا۔ خاندان کے کسی ایسے فنکشن میں ان کی شرکت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا جس کے بارے میں انہیں علم ہو جاتا کہ کوئی خلاف شرع بات وہاں ہوگی۔

بعض بزرگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ آج کے زمانے کے لوگوں میں سے نہیں تھے اور ڈاکٹر محمد دین رحمہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی تکلف کے بغیر یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ فی الواقع اس دور کے نہیں بلکہ پچھلے کسی زمانے کے بچھڑے ہوئے بزرگ تھے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقا م عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔