مولانا مفتی محمد عیسٰی گورمانی اور دیگر مرحومین

   
مجلہ: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۷ نومبر ۲۰۱۶ء

آج کا کالم چند تعزیتوں کی نذر ہے۔ حضرت مولانا مفتی محمد عیسیٰ خانؒ گورمانی گزشتہ روز طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا تعلق تونسہ شریف کے قریب لتڑی جنوبی سے تھا لیکن ان کی زندگی کا بیشتر حصہ گوجرانوالہ میں گزرا۔ وہ جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے ابتدائی فضلاء میں سے تھے جب نصرۃ العلوم کے شیخ الحدیث حضرت مولانا قاضی شمس الدینؒ تھے۔ بخاری شریف انہوں نے حضرت قاضی صاحبؒ سے پڑھی جبکہ دورۂ حدیث کے دیگر اسباق حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ ، حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ ، اور حضرت مولانا عبد القیوم ہزارویؒ سے پڑھے۔ حضرات شیخینؒ اور مدرسہ نصرۃ العلوم کے ساتھ گہرا تعلق رکھتے تھے اور ایک عرصہ تک نصرۃ العلوم کے دارالافتاء کے سربراہ رہے۔ ان کا شمار ملک کے معروف مفتیان کرام میں ہوتا تھا اور حضرت مولانا عبد الواحدؒ کی وفات کے بعد گوجرانوالہ کے علماء کرام اور اہل دین کا فتویٰ کے بارے میں عام طور پر رجوع انہی کی طرف رہتا تھا۔ ۱۹۷۵ء میں جب جمعیۃ علمائے اسلام کے تحت لوگوں کے تنازعات شریعت کے مطابق نمٹانے کے لیے پرائیویٹ سطح پر شرعی عدالتوں کے قیام کا اعلان کیا گیا تو وہ ضلع گوجرانوالہ کے نائب قاضی مقرر کیے گئے جبکہ ضلعی قاضی مولانا قاضی حمید اللہ خانؒ تھے۔ کتاب اور تحقیق سے گہرا تعلق تھا، وہ میرے دورۂ حدیث سے فارغ ہو جانے کے بعد مدرسہ نصرۃ العلوم میں استاذ اور مفتی کے طور پر تشریف لائے جبکہ ہمارے دور میں استاذ محترم حضرت مولانا مفتی جمال احمد بنویؒ یہ ذمہ داری سر انجام دیتے تھے۔

مولانا مفتی محمد عیسیٰ خانؒ گورمانی کے ساتھ زندگی بھر میرا ربط و تعلق رہا۔ ہمارے درمیان عام طور پر مختلف دینی مسائل کی تحقیق اور نادر کتابوں کے حوالہ سے گفتگو چلتی رہتی تھی۔ نوشہرہ سانسی کی مسجد توحیدی میں امامت و خطابت کے ساتھ ان کی رہائش تھی اور اسی علاقہ میں جامعہ فتاح العلوم کے نام سے ایک درسگاہ بھی انہوں نے قائم کر رکھی تھی جس میں اپنی صحت کے زمانہ میں افتاء کا کورس کراتے تھے۔ بہت سے فاضل علماء کرام نے ان سے استفادہ کیا اور فقہ و افتاء کی تربیت حاصل کی۔ جب بھی ملاقات ہوتی کسی نایاب کتاب یا کسی مسئلہ پر نئی تحقیق پر بات چیت ہوتی، کوئی نئی کتاب ان کے علم میں آتی یا مجھے معلوم ہوتی تو باہمی معلومات کا تبادلہ ہو جاتا اور مسائل پر گفتگو ہوتی۔ ملاقات میں زیادہ دیر ہو جاتی تو پیغام بھیجتے تھے کہ کسی روز آکر مل جاؤ، میں جاتا اور ان کی مسجد میں کسی نماز کے بعد درس دیتا، پھر کچھ دیر نشست رہتی، وہ مجھے کوئی کتاب ہدیہ کے طور پر مرحمت فرما دیتے۔ الشریعہ اکادمی میں بہت دفعہ تشریف لائے اور دعاؤں میں ہمیشہ یاد رکھتے۔

جمعہ سے قبل گیارہ بجے جامعہ فتاح العلوم کے قریب کھلے میدان میں ان کی نمازہ جنازہ برادر عزیز مولانا عبد القدوس قارن حفظہ اللہ تعالیٰ کی امامت میں ادا کی گئی جس میں حضرت مولانا فضل الرحمن درخواستی، حضرت مولانا سید جاوید حسین شاہ، اور حضرت مولانا محب النبی بھی شریک تھے جبکہ شہر کے علماء کرام اور دینی کارکنوں کی بڑی تعداد نے جنازہ میں شرکت کی اور اس کے بعد ان کی میت تونسہ شریف روانہ کر دی گئی۔

جمعہ سے قبل حضرت مولانا مفتی محمد عیسیٰؒ گورمانی کے جنازہ میں شرکت ہوئی جبکہ اسی شام فاروق آباد ضلع شیخوپورہ میں حضرت مولانا محمد یعقوبؒ ربانی کی یاد میں منعقدہ تعزیتی جلسہ میں شریک ہوا۔ مولانا محمد یعقوب ربانیؒ جمعیۃ علمائے اسلام کے سرگرم راہنماؤں میں سے تھے اور انہوں نے ضلع شیخوپورہ میں جمعیۃ کو ایک متحرک اور فعال جماعت بنانے میں مولانا عبد اللطیف انورؒ ، مولانا محمد عالمؒ ، ڈاکٹر عبد الحق تارڑؒ ، مولانا حسین علیؒ ، الحاج سید امین گیلانیؒ ، اور دیگر حضرات کے ساتھ مل کر سالہا سال تک بھرپور محنت کی۔ اس دور میں مختلف دینی تحریکات میں ہماری مسلسل رفاقت رہی۔ تحریک ختم نبوت، نظام شریعت کے نفاذ اور دیگر دینی تحریکات میں ہمیشہ فعال اور قائدانہ کردار ادا کیا۔ ان کے تعزیتی جلسہ میں حضرت مولانا خواجہ خلیل احمد، مولانا پیر نعیم اللہ نقشبندی، مولانا احمد علی ثانی، مولانا آصف سیال اور دیگر حضرات سے ملاقات ہوئی۔ مولانا مرحوم کے بیٹوں قاری مسعود احمد اور ڈاکٹر محمود ربانی کا ذوق و محنت دیکھ کر اطمینان ہوا۔ جامعہ اسلامیہ فاروق آباد میں حفظ قرآن کریم کرنے والے طلبہ کی دستار بندی حضرت خواجہ صاحب محترم نے فرمائی جن میں مولانا محمد یعقوب ربانیؒ کا ایک پوتا اور ایک نواسہ بھی شامل ہیں۔ ان کے چھوٹے سے پوتے کی مختصر تقریر سن کر خوشی ہوئی کہ مولانا مرحوم کا ذوق تیسری نسل میں بھی منتقل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

گزشتہ دنوں ضلع شیخوپورہ میں ہی رانا ٹاؤن کے مقام پر مولانا محمد اسماعیل محمدیؒ کے تعزیتی جلسہ میں شرکت کا موقع ملا تھا جو فعال اور سرگرم علماء کرام میں سے تھے، مسلکی محاذ پر ایک محقق اور مناظر کے طور پر ان کا تعارف تھا اور مسلسل دعوتی اور تبلیغی سرگرمیوں میں مصروف رہتے تھے۔ حضرت والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے ساتھ گہری عقیدت و استفادہ کا تعلق تھا اور حضرت مرحوم انہیں ہمیشہ شفقت سے نوازتے تھے۔

ضلع گجرات میں کوٹلہ کے مقام پر ہمارے ایک پرانے ساتھی مولانا غلام رسول شوقؒ کا بھی گزشتہ دنوں انتقال ہوگیا ہے۔ جامعہ اشرفیہ کے فاضل تھے اور خانقاہ سراجیہ کندیاں کے ساتھ نسبت و تعلق رکھتے تھے۔ سرگرم، متحرک، پرجوش، شگفتہ مزاج اور باحمیت عالم دین تھے، زندگی بھر دینی سرگرمیوں میں مصروف رہے۔

آزادکشمیر کے علاقہ تھب ضلع باغ کے مدرسہ امداد الاسلام کے مہتمم مولانا عبد الرؤف بھی گزشتہ دنوں انتقال کر گئے، وہ جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے فاضل تھے اور جامعہ سابق مفتی مولانا عبد الشکور کشمیریؒ کے بھائی تھے۔ وہ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے دورۂ حدیث کے ساتھی حضرت مولانا مفتی عبد المتینؒ کے متعلقین میں سے تھے اور علاقہ میں دینی و مسلکی معاملات میں پیش پیش رہتے تھے۔

لاہور میں ہمارے ایک پرانے ساتھی مولانا حافظ ذکاء الرحمن اختر کا بھی انتقال ہوگیا ہے۔ شکرگڑھ کے علاقہ سے تعلق تھا، جامعہ نصرۃ العلوم کے فاضل تھے، ایک عرصہ تک چوک یادگار شہیداں لاہور میں مولانا قاری جمیل الرحمن اختر کے ساتھ دینی و تعلیمی خدمات سرانجام دیتے رہے، بعد میں وہیں اپنا الگ مدرسہ بنا لیا۔

اللہ تعالیٰ ان سب حضرات کی مغفرت فرمائیں، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں اور پسماندگان کو صبر و حوصلہ کے ساتھ ان کی حسنات کا سلسلہ جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔