مولانا شاہ حکیم محمد اختر ؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جولائی ۲۰۱۳ء

حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر رحمہ اللہ تعالیٰ ملک کے بزرگ صوفیاء کرام میں سے تھے جن کی ساری زندگی سلوک و تصوف کے ماحول میں گزری اور ایک دنیا کو اللہ اللہ کے ذکر کی تلقین کرتے ہوئے طویل علالت کے بعد گزشتہ ہفتے کراچی میں انتقال کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا روحانی تعلق حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی قدس اللہ سرہ العزیز کے حلقہ کے تین بڑے بزرگوں حضرت مولانا محمد احمد پرتاب گڑھیؒ ، حضرت مولانا شاہ عبد الغنی پھول پوریؒ اور حضرت مولانا شاہ ابرار الحق آف ہر دوئیؒ سے تھا۔ وہ ان بزرگوں کے علوم و فیوض کے امین تھے اور زندگی بھر ان فیوض و برکات کو لوگوں میں تقسیم کرتے رہے۔ ان کا حلقۂ ارادت پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش سے باہر جنوبی افریقہ، برطانیہ اور دیگر ممالک تک وسیع تھا اور بلا مبالغہ لاکھوں مسلمانوں نے ان سے روحانی استفادہ کیا۔ علماء کرام کی ایک بڑی تعداد ان سے بیعت تھی اور انہیں اہل علم کے مرجع کا مقام حاصل تھا۔

مجھے مولانا محمد عیسیٰ منصوری کے ہمراہ لندن کی بالہم مسجد میں ایک بار ان کی صحبت میں حاضری کا اتفاق ہوا تھا اور اس مجلس کی تروتازگی اور بہار ابھی تک ذہن میں نقش ہے۔ باغ و بہار شخصیت تھے، سخن فہمی کے ساتھ ساتھ شعر گوئی کا کمال بھی رکھتے تھے اور با ذوق صوفیاء کرامؒ کی طرح انہیں محبت الٰہی اور عشق رسولؐ کے حوالہ سے دلی جذبات کی تپش کو اشعار کی صورت میں ڈھالنے کا بھرپور ذوق اور ملکہ حاصل تھا۔ گلشن اقبال کراچی میں ایک بڑی دینی درسگاہ اور خانقاہ قائم کی جہاں سے ہزاروں علماء کرام نے علمی و روحانی فیض حاصل کیا۔ اب ان کے فرزند جانشین مولانا حکیم محمد مظہر صاحب اس مرکز کا نظام چلا رہے ہیں اور اپنے عظیم باپ کے مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ لاہور میں اس خانقاہ کی شاخ چڑیا گھر کی مسجد میں مصروف عمل ہے اور ہمارے محترم دوست ڈاکٹر عبد المقیم اپنے شیخؒ کی روحانی برکات لوگوں میں بانٹ رہے ہیں۔

ہماری دینی اور معاشرتی زندگی میں خانقاہ کا ایک مستقل مقام اور نظام ہے جہاں سے لوگوں کو روحانی فیض، اللہ اللہ کے ذکر کی تلقین اور محبت رسولؐ کی حلاوت کے ساتھ ساتھ نفسیاتی سکون بھی ملتا ہے۔ اگرچہ دوسرے بہت سے اداروں کی طرح یہ ادارہ بھی کمرشل ازم سے بہت متاثر ہوا ہے لیکن شاہ حکیم محمد اخترؒ جیسے باخدا بزرگوں کی صورت میں قدرت ایزدی نے اس عظیم ادارے کی آبرو اور بھرم کو قائم رکھا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرت حکیم صاحبؒ کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کریں اور ان کے لگائے ہوئے علمی و روحانی گلشن کو ہمیشہ آباد رکھیں، آمین یا رب العالمین۔