مولانا حمید الرحمان عباسیؒ

   
مجلہ: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۱ نومبر ۲۰۰۹ء غالباً

مولانا حمید الرحمان عباسیؒ کا تعلق ہزارہ کے علاقہ گڑھی حبیب اللہ سے تھا اور ان کی زندگی کا بیشتر حصہ مدرسہ قاسم العلوم شیرانوالہ گیٹ لاہور میں تدریسی خدمات سرانجام دیتے ہوئے بسر ہوا۔ اپنے اساتذہ میں ضلع اٹک کے بزرگ عالم دین حضرت مولانا نور محمدؒ آف ملہوالی کا نام کثرت سے لیا کرتے تھے، انہی سے حضرت مولانا نور محمدؒ کا نام بار بار سن کر میرے دل میں ان کی زیارت کا شوق پیدا ہوا اور میں نے اس مقصد کے لیے بطور خاص سفر کر کے ایک رات ملہوالی میں ان کی خدمت میں حاضری دی۔ وہ بلاشبہ ہمارے دور میں پرانے بزرگوں کے علم و فضل، ورع و تقویٰ، سادگی و قناعت اور عمل و اخلاص کی علامت تھے اور ان حضرات میں سے تھے جنہیں دیکھ کر خدا کی یاد تازہ ہوتی ہے اور جن کی مجلس میں بیٹھ کر ایمان و اخلاص کو تازگی حاصل ہوتی ہے۔

مولانا حمید الرحمان عباسیؒ شیرانوالہ کے معروف سالانہ دورۂ تفسیر میں ہمارے شیخ حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ کے معاون ہوتے تھے۔ شعبان و رمضان کے دوران مدرسہ قاسم العلوم میں ہونے والے دورۂ تفسیر میں قرآن کریم کے ترجمہ و تفسیر کا بڑا حصہ حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ پڑھاتے تھے اور ان کی علالت و مصروفیات کی وجہ سے ایک حصہ کی تدریس مولانا حمید الرحمان عباسیؒ کے سپرد ہوتی تھی۔ حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ کی وفات کے بعد بھی جب تک مولانا عباسیؒ کی صحت نے اجازت دی وہ یہ خدمت مسلسل سرانجام دیتے رہے۔ اس ذوق کے حوالہ سے مولانا عباسیؒ کا ایک بڑا کارنامہ ’’خلاصہ تفسیر القرآن‘‘ کے عنوان سے ان کا وہ تفسیری سلسلہ ہے جس میں انہوں نے مضامین اور احکام کے حوالہ سے قرآن کریم، احادیث نبویہؐ اور مفسرینؒ کے ارشادات کا بہت بڑا ذخیرہ جمع کر دیا ہے اور وہ کئی ضخیم جلدوں میں شائع ہو چکا ہے۔ یہ ذخیرہ ’’احکام القرآن‘‘ کے حوالہ سے فہم قرآن کا ذوق رکھنے والے علماء کرام اور طلبہ کے لیے ایک قیمتی تحفے کی حیثیت رکھتا ہے۔

مولانا حمید الرحمان عباسیؒ ’’جہاد افغانستان‘‘ کے اس دور کے عملی سرپرستوں میں سے ہیں جب میدان میں صرف افغانستان کے علماء و طلبہ تھے اور وہ اپنی پرانی رائفلوں کے ساتھ یہ جنگ لڑ رہے تھے۔ ہمارے مشاہدہ کے مطابق جہاد افغانستان کے آغاز کے بعد کم و بیش تین سال تک یہ کیفیت رہی ہے کہ ان مجاہدین کا کوئی پرسان حال نہیں تھا اور اس بے سروسامانی کے دور میں انہوں نے افغانستان کے کم و بیش ستر فیصد علاقے کا کنٹرول حاصل کر لیا تو عالمی قوتیں اس جنگ کو سنجیدہ سمجھتے ہوئے اس طرف متوجہ ہوئیں۔ اس بے سروسامانی کے دور میں یہ مجاہدین شیشے کی بوتلوں میں صابن اور پٹرول بھر کر بم بنایا کرتے تھے اور ٹینکوں کو ناکارہ کرنے کے لیے استعمال کیا کرتے تھے۔ افغانستان کے شہر خوست میں کسی زمانے میں اس دور کے مصنوعی اور دیسی ہتھیاروں کی ایک باقاعدہ نمائش گاہ موجود تھی، اگر وہ اب بھی موجود ہے تو اس سے اس دور کی جنگ یا جہادِ افغانستان کے ابتدائی تین چار سالوں کے ماحول کو اچھی طرح سمجھا جا سکتا ہے۔

مولانا حمید الرحمان عباسیؒ اس دور میں ان مجاہدین کے لیے آٹا، چینی، گھی اور دیگر خوردنی اشیاء جمع کر کے وقتاً فوقتاً بھجوایا کرتے تھے اور مجاہدین کی امداد کے لیے اصحابِ خیر کو توجہ دلایا کرتے تھے۔ اس زمانے میں خوست کی جنگ میں شریک ہونے والوں میں سے ایک نوجوان نے مجھے بتایا کہ ہماری سب سے بڑی ضرورت خوراک ہے، ہمیں دو دو دن تک کھانے کو روٹی نہیں ملتی اور بھوکے پیاسے لڑنا پڑتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ مولانا عباسیؒ نے اس دور میں وقفے وقفے سے اشیاء خوردنی کے درجنوں ٹرک وہاں بھجوائے اور مجاہدین کی مسلسل سرپرستی کی۔

مولانا حمید الرحمان عباسی ایک عرصہ تک جمعیۃ علماء اسلام ضلع لاہور کے امیر رہے، شیرانوالہ میں ان کا کمرہ ہماری جماعتی سرگرمیوں کا مرکز ہوا کرتا تھا، میرا متحرک جماعتی زندگی کا دور بھی وہی تھا۔ علماء کرام سے رابطہ کرنا، انہیں نفاذِ شریعت کی جدوجہد کے لیے تیار کرنا، کارکنوں کی حوصلہ افزائی کرنا، ان کی مالی سرپرستی کرنا اور جماعتی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ان کا خاص ذوق تھا۔ اب یہ ذوق کم ہوتے ہوتے نایاب ہوتا جا رہا ہے، حتیٰ کہ آج کے دینی کارکنوں کو مولانا حمید الرحمان عباسیؒ جیسے بزرگوں اور کارکنوں کے اخلاص، سادگی، قناعت اور جہد مسلسل سے بسا اوقات روشناس کرانا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔

مولانا عباسیؒ کو حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کے حلقہ اور ان کے درس قرآن کریم کے سلسلہ سے گہرا شغف تھا اور انہوں نے اسے ہی زندگی بھر اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے رکھا۔ دفتر خدام الدین کے ساتھ شیرانوالہ میں ایک کمرہ ان کے تصرف میں تھا، وہی ان کی رہائش گاہ تھی اور وہی ان کا دفتر اور تحریکی و جماعتی مرکز بھی تھا۔ شیرانوالہ کے ساتھ ان کی وابستگی اور وفاداری قابل رشک تھی۔ بعض دوستوں نے کوشش کی بلکہ خود میں نے بھی ایک دو بار پیشکش کی کہ وہ وہاں سے منتقل ہو کر کسی اور علمی مرکز میں زیادہ بہتر انداز تعلیمی خدمات سرانجام دیں لیکن انہوں نے ہر بار سنی ان سنی کر دی اور شیرانوالہ میں ہی آخر دم تک دین و علم کی خدمت کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جوارِ رحمت میں جگہ دیں اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔