سانحہ نائن الیون کے بعد امریکہ میں مقیم مسلمانوں کا احوال

   
مجلہ: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۲۶ مئی ۲۰۰۳ء
اصل عنوان: 
امریکہ میں مقیم مسلمانوں کا احوال

امریکہ حاضری کا ایک مقصد ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کے سانحہ کے بعد یہاں کے مسلمانوں کے حالات اور تاثرات کا جائزہ لینا بھی ہے اس لیے جہاں بھی موقع ملتا ہے دوستوں سے اس کا تذکرہ کر دیتا ہوں اور ان کے تاثرات معلوم کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ مختلف محافل میں اس کا ذکر ہوا اور کئی دوستوں سے الگ بھی گفتگو ہوئی۔ اس ضمن میں جو باتیں سامنے آئیں تحقیق و تمحیص کی چھلنی سے گزارے بغیر عوامی تاثرات کے طور پر ان میں سے بعض باتوں کو قارئین کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔

دعوت و تبلیغ کے شعبہ سے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ نے، جو خاصے عرصہ سے تبلیغی سرگرمیوں سے منسلک ہیں، کہا کہ گیارہ ستمبر کے اس سانحہ کے بعد ہمارے کام میں بہت فرق پڑا ہے اور عوامی ماحول میں ہمیں پہلے جو پذیرائی ملتی تھی اب وہ کیفیت قائم نہیں رہی۔ پہلے یہ ہوتا تھا کہ ہم جہاں سے گزرتے تھے تو یہاں کے غیر مسلم باشندے بھی اچھی نظر سے دیکھتے تھے، ان کی نگاہوں میں تحسین کے اثرات ہمیں صاف دکھائی دیتے تھے، ہم راستہ بھول جاتے تو لوگ خوشی سے راہنمائی کرتے تھے بلکہ بعض اوقات ہمیں دیکھ کر پولیس کے اہلکار خود بتاتے تھے کہ نماز کی جگہ ادھر بھی ہے اور آگے فلاں جگہ بھی ہے، ہماری بات کو توجہ سے سنا جاتا اور ہم آسانی کے ساتھ اپنے مشن میں مصروف رہتے تھے۔ لیکن اب صورتحال بدل گئی ہے اب بہت سی نگاہوں میں غصہ اور نفرت کے آثار محسوس ہوتے ہیں اور تعاون و تحسین کا وہ پہلے والا ماحول نہیں رہا اس لیے ہمارا کام تو الحمد للہ جاری ہے مگر اس میں اب بہت سی رکاوٹیں پیدا ہونے لگی ہیں۔

بفیلو نیویارک اسٹیٹ کا ایک سرحدی شہر ہے جو کینیڈا کی سرحد کے ساتھ نیاگرا آبشار کے قریب واقع ہے۔ اس شہر میں حضرت مولانا محمد زکریا مہاجرؒ مدنی کے خلیفہ مجاز محترم ڈاکٹر محمد اسماعیل میمن نے کئی سالوں سے ایک دینی درسگاہ قائم کر رکھی ہے جو ’’دارالعلوم المدینہ‘‘ کے نام سے ہے اور اس کے ساتھ ’’زکریا مسجد‘‘ بھی ہے۔ یہ ادارے مختلف چرچوں کی عمارتیں خرید کر قائم کیے گئے ہیں، ان میں طلباء اور طالبات کے لیے درس نظامی کے الگ الگ جامعات ہیں جہاں اڑھائی سو کے لگ بھگ طلباء اور طالبات ہاسٹل میں مقیم ہیں اور قرآن و سنت اور دیگر متعلقہ علوم کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ۱۱ ستمبر کے بعد زکریا مسجد بھی انتہا پسندوں کے ردعمل کی زد میں آئی اور اسے آگ لگا دی گئی جس سے مسجد کا بڑا حصہ جل گیا۔ اب اس کی دوبارہ تعمیر ہو رہی ہے۔ میں وہاں گیا تو بعض دوستوں نے بتایا کہ کچھ دن ایسے بھی گزرے کہ ہمارا گھروں سے باہر نکلنا مشکل ہوگیا تھا لیکن رفتہ رفتہ حالات بہتر ہوتے جا رہے ہیں اور اب ہم نہ صرف آزادی کے ساتھ کام کر رہے ہیں بلکہ اپنی دینی اور تعلیمی سرگرمیوں میں اضافہ بھی کرتے جا رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ بلدیہ کے حکام کا رویہ ان کے ساتھ ہمیشہ تعاون اور ہمدردی کا رہا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جس علاقہ میں زکریا مسجد اور دارالعلوم قائم ہیں یہ پہلے جرائم پیشہ لوگوں کا گڑھ سمجھا جاتا تھا اور اچھے علاقوں میں اس کا شمار نہیں ہوتا تھا مگر دارالعلوم قائم ہونے کے بعد اس علاقہ میں مسلمان زیادہ آباد ہو رہے ہیں اور عبادت اور تعلیم کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے جس کو بلدیہ کے حکام تحسین کی نظر سے دیکھتے ہیں اور اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

ایک دوست نے بتایا کہ امریکہ کے مسلمانوں میں خوف و ہراس کی فضا کے جو تاثرات عام ہوگئے ہیں وہ درست نہیں ہیں کیونکہ جو لوگ یہاں قانونی طور پر مقیم ہیں اور کسی غیر قانونی کام میں ملوث نہیں ہیں ان سے کوئی تعرض نہیں کیا جاتا، تفتیش ضرور ہوتی ہے اور جہاں شک پڑ جاتا ہے وہاں چیکنگ بھی ہوتی ہے مگر کسی غیر قانونی سرگرمی کا ثبوت نہ ملے تو کچھ نہیں کہا جاتا۔ البتہ جو لوگ غیر قانونی طور پر یہاں مقیم تھے یا جو کسی غیر قانونی حرکت کے مرتکب پائے گئے ہیں انہیں ضرور گرفت میں لیا گیا ہے۔ ان صاحب نے، جو یہاں سماجی طور پر بہت متحرک ہیں، کہا کہ خود ہمیں اس واقعہ کے بعد وسیع پیمانے پر ہونے والے ایکشن کے نتیجے میں پتہ چلا کہ یہاں سینکڑوں پاکستانی اٹھارہ اٹھارہ بیس بیس سال سے مقیم تھے جن کے پاس کوئی قانونی اجازت نامہ نہیں تھا لیکن اس کے باوجود یہاں مقیم تھے اور کاروبار کر رہے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ بہت سے حضرات جنہیں وہ عرصہ دراز سے یہاں رہنے کی وجہ سے امریکی شہری تصور کرتے تھے جب ان کے گرفتار ہونے کے بعد ان سے جیلوں میں ملے تو پتہ چلا کہ ان کے پاس تو کسی قسم کا کوئی قانونی جواز یہاں رہنے کا نہیں تھا اس پر خود انہیں بہت زیادہ حیرت ہوئی۔

جیلوں کی صورتحال کے بارے میں بعض دوستوں نے بتایا کہ وہاں بعض قیدیوں سے توہین و تذلیل کا سلوک روا رکھا جاتا ہے اور کچھ جیلیں ایسی بھی ہیں جہاں جیل کے عملہ کا سلوک پاکستان کی جیلوں کے عملہ سے مختلف نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں ایک افسوسناک قصہ یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ ایک جیل میں اسی طرح غیر قانونی طور پر امریکہ میں مقیم ایک پاکستانی کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا کہ معائنہ کرنے والے ایک افسر کے ساتھ کتا تھا جو اس قیدی کو دیکھ کر بھونکا تو اس نے کتے کو ’’شٹ اپ‘‘ کہہ دیا۔ اسے کہا گیا کہ یہ کتا بھی افسر ہے اور اس نے شٹ اپ کہہ کر افسر کی توہین کی ہے اس لیے وہ اس سے معذرت کرے۔ اس قیدی نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا تو اسے جیل کے اندر ایک اور جیل یعنی قبر نما سیل میں بند کر دیا گیا اور اس پر ’’افسر کی توہین‘‘ کے الزام میں مقدمہ چلا جس کے نتیجے میں اسے سات سال قید کی سزا سنا دی گئی۔

ایک صاحب کا کہنا تھا کہ ایک امریکی جیل میں نابینا مصری عالم دین الشیخ عمر عبد الرحمان بھی قید ہیں جنہیں ورلڈ ٹریڈ سنٹر میں ایک دھماکہ کی پلاننگ کرنے کے الزام میں کئی سال قبل گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ انہیں ایک موقع پر ایسی جیل میں رکھا گیا جو سمندر کے اندر ہے اور اس کے تہہ خانے کی سترہ منزلیں ہیں جن میں سے سب سے نچلی منزل میں انہیں رکھا گیا اور وہاں بھی وہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔ ان کے بارے میں یہاں عام طور پر یہ بات مشہور ہے کہ وہ قرآن کریم بہت اچھے لہجے میں پڑھتے ہیں اور کوئی شخص اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ان سے قرآن کریم سن کر جیل میں کئی لوگ مسلمان ہوئے جن کی تعداد بیسیوں بتائی جاتی ہے۔ انہیں چونکہ قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے اور وہ ہر وقت قرآن کریم کی تلاوت میں مصروف رہتے ہیں اس لیے ان کی نگرانی پر مامور افراد کے کانوں تک ان کی تلاوت کی آواز پہنچتی رہتی ہے اور مسلمان ہونے والے افراد میں زیادہ لوگ ایسے ہی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اسی وجہ سے اب انہیں دور دراز کی کسی جیل میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

ایک دوست اس بات پر پریشان تھے کہ سعودی عرب کے شہزادوں اور شیوخ کی جو رقوم امریکہ میں اثاثوں اور بینک اکاؤنٹس کی شکل میں موجود ہیں ان کی مقدار ساڑھے چار سو بلین ڈالر سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ اور ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے سانحہ میں متاثر ہونے والے سینکڑوں خاندانوں کی طرف سے ہرجانوں کے لیے عدالتوں سے رجوع کی جو مہم چل رہی ہے اس کے نتیجے میں اگر اس بنیاد پر سعودی عرب کو بطور ریاست اس کا ذمہ دار قرار دے دیا گیا تو امریکی اداروں کے بقول ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے سانحہ میں ملوث سبھی افراد سعودی ہیں تو یہ ساری کی ساری رقم ان ہرجانوں کی نذر ہو سکتی ہے۔

ایک صاحب کا کہنا ہے کہ صورتحال کسی حد تک پریشان کن ضرور ہے لیکن مایوس کن نہیں اور تھوڑی سی حکمت عملی اور پلاننگ کے ساتھ حالات کو بہتری کی طرف موڑا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب سے تقریباً پون صدی قبل امریکہ میں یہودیوں کو بھی اس قسم کی صورتحال کا سامنا تھا اور اس سے کہیں زیادہ تذلیل اور اجنبیت کا ماحول انہیں درپیش تھا مگر انہوں نے حکمت اور پلاننگ کے ساتھ حالات کو اپنے حق میں تبدیل کیا ہے بلکہ پورے معاملات کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیم، سائنسی مہارت اور حکمران طبقوں میں رسائی کا راستہ اختیار کیا اور بتدریج آگے بڑھتے چلے گئے۔ اگر مسلمان دانشور اور راہنما بھی اسی انداز میں صورتحال کا جائزہ لیں اور حکمت و تدبر سے کام لیتے ہوئے مستقبل کی پلاننگ کریں تو حالات کو تبدیل کرنا زیادہ مشکل نہیں ہے۔ مگر اس کے لیے حوصلہ اور تدبر دونوں کی ضرورت ہے اور بے لوث قیادت ضروری ہے جو ذاتی اور طبقاتی مفادات سے بالاتر ہو کر امت مسلمہ کے مفادات کے حوالہ سے مخلصانہ راہنمائی کر سکے۔

یہ وہ چند تاثرات ہیں جن کا اظہار بہت سے دوستوں نے میرے ساتھ گفتگو کے دوران کیا۔ ضروری نہیں کہ مجھے ان میں سے ہر بات سے اتفاق ہو اور یہ بھی ضروری نہیں کہ یہ ساری باتیں سو فیصد درست ہوں مگر عوامی تاثرات اور عام محفلوں میں ہونے والی گفتگو کا بہرحال اپنا ایک مقام ہوتا ہے اور اصحاب فکر و دانش کو کسی نتیجے تک پہنچنے کے لیے ان سے خاصی مدد ملتی ہے۔