انسانی اجتماعیت کے جدید تقاضے اور اسلام کا عادلانہ نظام

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۱ دسمبر ۱۹۷۹ء

لاہور ہائی کورٹ کے شریعت بینچ میں ریٹائرڈ جسٹس جناب بدیع الزمان کیکاؤس کی طرف سے انتخاب و سیاست کے مروجہ قوانین کو چیلنج کیے جانے کے بعد سے علمی و فکری حلقوں میں اس بحث نے سنجیدگی اور شدت اختیار کر لی ہے کہ آج کے دور میں اسلام کے نظامِ عدل و انصاف کو نافذ کرنے کے لیے عملی اقدامات اور ترجیحات کی کیا صورت ہوگی؟ اور موجودہ دور نے انسان کی اجتماعی زندگی کے لیے جن تقاضوں اور ضروریات کو جنم دیا ہے اسلام کا دائرۂ توسعات انہیں کس حد تک اپنے اندر سمونے کے لیے تیار ہے؟

دراصل ملتِ اسلامیہ کے بیشتر ممالک پر استعماری ممالک کے قبضہ اور ایک صدی سے زیادہ عرصہ تک اس کے تسلسل کے باعث ملتِ اسلامیہ میں سیاسی قیادت کا جو خلا پیدا ہوا ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ استعماری قوتوں نے ملتِ اسلامیہ کی نظریاتی، سیاسی اور تہذیبی یکجہتی کے خلاف جو تکنیکی اور نفسیاتی جنگ لڑی ہے، اسی کا نتیجہ ہے کہ موجودہ دور کے عملی تقاضوں اور اسلامی نظام کے آئیڈیل اور مثالی خاکے کے درمیان مطابقت کی زنجیروں پر بے یقینی اور شکوک کی دھند چھائی ہوئی ہے۔ ورنہ اگر ملتِ اسلامیہ کی سیاسی قیادت کو کسی خلا اور وقفہ کے بغیر مسلسل آگے بڑھنے کا موقع ملتا تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ انسانی اجتماعیت کے جدید تقاضوں اور اسلامی نظام پر ملتِ اسلامیہ کے اجتماعی تعامل کے درمیان مطابقت کی راہیں خودبخود ہموار نہ ہوتی چلی جاتیں۔ مگر آج کی صورتحال یہ ہے کہ مسلم ممالک میں اسلامی نظام کے احیاء و نفاذ کی مؤثر اور نتیجہ خیز تحریکات کے باوجود بہت سے ایسے مسائل درپیش ہیں جن کے بارے میں کسی واضح موقف کا تعین اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے اولین شرط کی حیثیت رکھتا ہے اور یہ صورتحال بلاشبہ ارباب علم و اجتہاد کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔

قرآن و حدیث اور فقہ اسلامی کے ایک طالب علم کی حیثیت سے اپنے مطالعہ کی روشنی میں ان امور پر کچھ معروضات پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں، اس امید کے ساتھ کہ اصحابِ علم و دانش ان پر سنجیدہ توجہ دیں گے اور یہ گزارشات اس موضوع پر بحث کو آگے بڑھانے میں مدد دیں گی۔

غور و فکر کے بنیادی امور

اسلامی نظام اور موجودہ دور کے تقاضوں اور ضروریات کے مختلف پہلوؤں پر ایک نظر ڈالی جائے تو غور و فکر کے لیے مندرجہ ذیل بنیادی امور سامنے آتے ہیں:

۱۔ اسلامی نظام کی نوعیت۔

۲۔ قانون سازی کا طریق کار۔

۳۔ حکومت کی تشکیل میں عوام کی نمائندگی۔

۴۔ سربراہِ مملکت کے لیے اہلیت کا معیار۔

۵۔ سیاسی جماعتوں کا وجود اور ان کی حیثیت۔

۶۔ امیداوری کا مسئلہ۔

۷۔ عورت کی رائے

ان امور پر غور و خوض سے قبل بنیادی طور پر اس بات کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ اسلام کے عدل و انصاف کا اصل خاکہ وہ ہے جو آئیڈیل اور مثالی ہے اور جس کی عملی تصویر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے خلفاء راشدین کا دورِ حکومت ہے۔ نبوت کے دس سالہ مدنی دور اور خلافت راشدہ کے تیس سالہ دور پر مشتمل اسلامی حکومت کا یہ چالیس سالہ عرصہ ہی دراصل مکمل ترین اسلامی نظام اور اسلام کے عدل و انصاف کی اصل منزل ہے اور اسلامی نظام کے احیاء کی تحریکات کا رخ بھی اسی منزل کی طرف ہے۔ لیکن اس حقیقی منزل کی طرف سفر کے آغاز کے لیے ہمیں بین الاقوامی حالات، اقوامِ عالم کی باہمی کشمکش اور ملتِ اسلامیہ کی قوت ہاضمہ کا اندازہ کرتے ہوئے اسلامی نظام کے ’’کم سے کم خاکہ‘‘ کا تعین کرنا ہوگا۔ اور اس مقصد کے لیے قرآن و سنت کے طے کردہ اصولوں کے دائرے میں رہتے ہوئے ہم انہی توسعات کا دامن تھامنے پر مجبور ہوں گے جن توسعات کے سہارے بنو امیہ، بنو عباس اور بنو عثمان کے ادوارِ خلافت میں فقہاء امت نے ضرورت اور اجتماعی مصلحت کے نظریہ کے تحت خلافتِ راشدہ سے کہیں کم معیار پر اسلامی نظام کے ساتھ گزارہ کرنے کی اجتماعی روش اختیار کر لی تھی۔

تاہم اس امر کی ضرور کوشش کی جائے گی کہ توسعات کا یہ سلسلہ قرآن کریم، سنت نبوی علیٰ صاحبہا التحیۃ والسلام، خلافتِ راشدہ اور تعامل صحابہؓ کے دائرہ سے نہ نکلنے پائے اور ہم اسلام کے ان چار بنیادی مآخذ کے دائرہ میں اپنے لیے راہِ عمل متعین کر کے اسلامی نظام کے نفاذ کا عملی آغاز کر سکیں۔

۱۔ اسلامی نظام کی نوعیت

اسلام نے حکمرانی کا جو تصور دیا ہے وہ مختصر الفاظ میں یہ ہے کہ کائنات کا اصل حکمران اللہ تعالیٰ ہے اور اللہ رب العزت نے بنی نوع انسان کی ہدایت، راہنمائی اور قیادت کے لیے حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کو مبعوث فرمایا۔ چنانچہ ان پاک نفوس نے نہ صرف انسانیت کو اللہ تعالیٰ کے راستہ کی طرف بلایا بلکہ انسان کے اجتماعی و سیاسی معاملات میں بھی اس کی قیادت و راہنمائی فرمائی۔ جیسا کہ امام بخاریؒ اور امام مسلمؒ نے ’’الجامع الصحیح‘‘ میں حضرت ابوہریرہؓ سے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ

’’بنی اسرائیل کی سیاسی قیادت ان کے پیغمبرؑ کرتے تھے، ایک پیغمبر دنیا سے تشریف لے جاتے تو ان کی جگہ دوسرے پیغمبر آجاتے، لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، البتہ خلفاء ہوں گے۔‘‘

گویا اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی مذہبی اور سیاسی قیادت کو انبیاء کرام علیہم السلام کی شخصیات میں جمع کر دیا اور چونکہ جناب نبی اکرمؐ کے بعد کسی نبی نے نہیں آنا تھا اس لیے آپؐ کے بعد یہ ذمہ داری خلفاء کے سپرد کر دی گئی تاکہ وہ مذہبی، سیاسی اور عسکری امور میں جناب نبی اکرمؐ کی نیابت کرتے ہوئے ملتِ اسلامیہ کی قیادت کے فرائض سرانجام دے سکیں۔ اسی لیے اسلام کے سیاسی نظام کو ’’خلافت‘‘ کے عنوان سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ چنانچہ ابن خلدونؒ نے تاریخ ص ۳۳۹ ج ۱ اور شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے ازالۃ الخفاء ص ۲۸ میں خلافت کی تعریف اس طور پر کی ہے کہ

’’خلافت جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت کرتے ہوئے ملتِ اسلامیہ میں اسلامی احکام و قوانین کی عملداری، انتظامی، عسکری اور سیاسی امور کی انجام دہی کا نام ہے۔‘‘

خلافت کے اس تصور کے ساتھ جو شخص بھی برسرِ اقتدار آئے اسے خلیفہ، امام یا امیر کسی بھی نام سے پکارا جا سکتا ہے اور وہ قرآن و سنت کے دائرہ میں چلنے کا پابند ہے۔ یہاں یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ اسلام نے سربراہِ مملکت کو اسلامی احکام و قوانین کا پابند بنانے کے بعد خلافت کی اصطلاح پر زیادہ اصرار نہیں کیا اور نہ ہی باقی تفصیلات کو چھیڑا ہے۔ بلکہ ایک اصول طے کر لینے کے بعد تفصیلات اور جزئیات میں ملتِ اسلامیہ کو پیش آمدہ حالات کے مطابق کوئی سی راہ اختیار کر لینے کے لیے آزاد چھوڑ دیا ہے۔ کیونکہ اسلام کو اصطلاحات سے نہیں بلکہ اسلامی اصول و احکام کی پابندی سے غرض ہے اور جب حکمران کے لیے یہ طے ہوگیا کہ وہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نائب ہے اور حکمرانی میں انہی کی ہدایات و احکام کا پابند ہے تو اسے کسی بھی نام سے پکارا جائے اور اس کے لیے باقی تفصیلات کچھ بھی طے کر لی جائیں، اسلام کو اس سے بحث نہیں ہے۔ حتیٰ کہ ’’ملوکیت‘‘ اور ’’بادشاہت‘‘ بھی جو آج کی دنیا میں مبغوض ترین سیاسی اصطلاحات سمجھی جاتی ہیں، اسلام کے ہاں مطلقاً ناپسندیدہ نہیں ہیں اور اسلام نے ظالم و جابر بادشاہوں کے ظلم و جبر کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرنے کے باوجود ملوکیت کی اصطلاح کو اپنے لیے چڑ نہیں بنایا بلکہ خود قرآن کریم میں کم از کم چار بزرگ ہستیوں کا ملوکیت کے حوالے سے ذکر موجود ہے۔ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہما السلام تو خود پیغمبر ہونے کے ساتھ ساتھ بادشاہ تھے، حضرت یوسف علیہ السلام ایک بادشاہ کے وزیر بنے اور بنی اسرائیل کے لیے حضرت طالوتؑ کی بادشاہت کا خود اللہ تعالیٰ نے اعلان فرمایا۔

اسی طرح جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی متعدد مقامات پر ملوکیت کی اصطلاح استعمال کی ہے جیسا کہ مجمع الزوائد ص ۱۹۰ ج ۵ میں حافظ ابن حجر المکیؒ نے طبرانیؒ کے حوالے سے سند صحیح کے ساتھ جو روایت نقل کی ہے اس میں جناب رسول اکرمؐ نے ’’خلافت و رحمت‘‘ اور ’’امارۃ و رحمت‘‘ کے ساتھ ’’ملوکیت و رحمت‘‘ کا بھی ذکر فرمایا ہے۔ جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اسلام صرف حکمران کو جناب نبی اکرمؐ کا نائب اور ان کی ہدایات کا پابند دیکھنا چاہتا ہے قطع نظر اس سے کہ وہ خلیفہ کہلائے، امیر کہلائے یا بادشاہ۔ ابن خلدونؒ ص ۳۴۱ ج ۱ اور ابن تیمیہؒ کے مجموعہ فتاوٰی ص ۲۷ ج ۳۵ میں اس بحث کو تفصیل کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔

ائمہ اہل السنۃ والجماعۃ کا کم و بیش اجماعی قول ہے کہ خلافت کا قیام اور خلیفہ یا امیر کا انتخاب ملتِ اسلامیہ پر فرض اور واجب ہے جس سے کسی حالت میں مفر نہیں۔ چنانچہ ابن خلدونؒ ص ۳۳۹ ج ۱، الدر المختار ص ۵۳ ج ۱، شرح عقائد ص ۱۱۰، شرح نوویؒ علمی مسلمؒ ص ۱۲۴ ج ۲، مسامرہ ص ۲۹۶، اصول الدین التمیمیؒ ص ۲۷۱ اور الصواعق المحرقۃ ابن حجر المکیؒ ص ۷ میں خلافت کے وجوب اور فرضیت پر صحابہ کرامؓ اور ائمہ اہل السنۃ والجماعۃ کا اجماع نقل کیا گیا ہے۔ اور الدر المختار اور شرح عقائد میں اس فرضیت اور وجوب کی اہمیت ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے کہ صحابہ کرامؓ نے خلافت کے قیام کو تمام واجبات سے اہم سمجھا حتیٰ کہ جناب نبی اکرمؐ کے دنیا سے پردہ پوش ہوجانے کے بعد صحابہ کرامؓ نے آپؐ کو روضۂ اطہر میں دفن کرنے سے بھی خلیفہ کے انتخاب کے کام کو مقدم کیا۔ اس سے خلافت کی فرضیت اور وجوب کی اہمیت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ مختصرًا یہ کہ اسلام میں:

  1. مسلم حکومت دینی احکام و قوانین کے نفاذ اور سیاسی، انتظامی و عسکری امور کی انجام دہی میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نائب اور آپؐ کی ہدایات کی پابند ہے۔
  2. ایسی حکومت کا قیام مسلمانوں پر شرعاً فرض ہے۔
  3. اس نوعیت کی حکومت اور اس کے سربراہ کے لیے کوئی سی اصطلاح استعمال کی جا سکتی ہے۔

۲۔ قانون سازی کا طریق کار

اسلام میں قانون سازی کی گنجائش اور اس کے طریق کار پر گفتگو عموماً خلط مبحث کا شکار ہو جاتی ہے اس لیے اس کے مختلف پہلوؤں پر الگ الگ غور کی ضرورت ہے۔

اسلامی قوانین و احکام کا ایک حصہ وہ ہے جو قرآن و سنت، خلافتِ راشدہ اور اجماعِ امت کی صورت میں طے شدہ ہے، اس دائرہ میں کسی قسم کی قانون سازی یا ترمیم و تبدل کی گنجائش نہیں ہے۔ قرآن و سنت کی بات تو بالکل واضح ہے۔ اور خلافتِ راشدہ اس لیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خلفاء راشدین کی سنت کو اپنی سنت کے ساتھ ذکر کر کے اپنی اور ان کی سنت کو مسلمانوں کے لیے یکساں واجب الاتباع قرار دیا ہے۔ چنانچہ ارشاد نبویؐ ہے کہ

’’تم پر لازم ہے کہ میری سنت اور میرے خلفاء راشدین کی سنت اپنے داڑھوں کے ساتھ مضبوطی سے تھامے رکھو جہاں تک تمہارے بس میں ہو۔‘‘

اسی طرح اجماع بھی قرآن و سنت کے بعد شریعت کی دلیلوں میں سے ایک محکم دلیل ہے اور اس سے انکار کی گنجائش نہیں۔ اجماع سے مراد یہ ہے کہ کسی ایسے مسئلہ پر جس میں قرآن کریم یا سنت نبویؐ کی کوئی واضح ہدایت موجود نہ ہو، کسی دور کے مجتہدین اگر اس میں ایک فیصلہ پر متفق ہو جائیں تو وہ بھی شرعی طور پر واجب الاتباع ہو جاتا ہے۔ امام شافعیؒ نے اجماع کے حجت ہونے پر قرآن کریم کی آیت کریمہ کے جملہ ’’ویتبع غیر سبیل المؤمنین‘‘ سے استدلال کیا ہے (بحوالہ مواہب الرحمان ص ۱۹۴ ج ۵)۔ یہاں امیر المؤمنین حضرت عمرؓ کے اس خط کا حوالہ بے محل نہ ہوگا جو انہوں نے قاضی شریحؒ کے نام لکھا اور اس میں قانون سازی سے متعلق بنیادی امور کی طرف ان الفاظ میں راہنمائی فرمائی کہ

’’اگر آپ کے پاس کوئی معاملہ آئے تو سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی کتاب میں اس کا حل تلاش کر کے اس کے مطابق فیصلہ کریں، اگر وہاں نہ ملے تو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی روشنی میں فیصلہ کریں، اگر سنت نبویؐ میں بھی کوئی بات نہ ملے تو صالحین اور ائمۂ عدل کے فیصلوں کو اپنے فیصلہ کی بنیاد بنائیں، اور اگر ان کا بھی کوئی فیصلہ نہ مل سکے تو پھر اپنی رائے سے اجتہاد کریں۔‘‘ (مفتاح الجنۃ للسیوطیؒ ص ۳۳)

اسی طرح امام نسائیؒ نے سنن نسائی ص ۳۰۵ ج ۲ اور امام حاکمؒ نے مستدرک ص ۹۴ ج ۴ میں حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے جس میں انہوں نے قضا کی ذمہ داریوں اور نزاکتوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ’’راہنما اصول‘‘ کے طور پر یہ ہدایت فرمائی ہے کہ

’’آج کے بعد اگر کسی شخص کو قاضی بنایا جائے تو وہ کسی معاملہ کا فیصلہ کرتے وقت سب سے پہلے کتاب اللہ کو دیکھے، اگر وہاں کوئی چیز نہ ملے تو سنت نبویؐ کے مطابق فیصلہ کرے، اگر سنت نبویؐ میں بھی واضح راہنمائی نہ ملے تو صالحین میں سے کسی کی پیروی کرے، اور اگر ان کا بھی کوئی فیصلہ نہ ملے تو اپنی رائے سے اجتہاد کرے۔‘‘ (مفتاح الجنۃ سیوطیؒ ص ۳۲)

گویا جناب نبی اکرمؐ، حضرت عمرؓ، حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ اور حضرت امام شافعیؒ کے ان ارشادات کی روشنی میں کسی معاملے کو طے کرتے وقت ترجیحات کی ترتیب یوں ہوگی:

(۱) کتاب اللہ

(۲) سنت نبویؐ

(۳) خلفاء راشدین کے فیصلے

(۴) اجماعِ امت

(۵) صلحاء امت کے فیصلے

تو اب بات یوں واضح ہوئی کہ جن امور میں کتاب اللہ، سنت نبویؐ، خلافت راشدہ، اجماع امت اور صلحاء امت کا کوئی واضح فیصلہ سامنے آچکا ہے وہ طے شدہ امور ہیں، ان میں ترمیم و تبدل یا جدید اصطلاح میں قانون سازی کی گنجائش نہیں ہے۔ لیکن وہ امور جن کے بارے میں شرعی فیصلے کے یہ چاروں ذرائع خاموش ہیں ’’اجتہاد‘‘ یا ’’قانون سازی‘‘ کی اجازت ہے اور موجودہ حالات میں ان امور کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

جن امور کا تعلق شرعی مسائل یا اصطلاحی معنوں میں اجتہادی امور سے ہے، ایسے امور کا فیصلہ بلاشبہ وہی لوگ کر سکتے ہیں جو قرآن و سنت اور دیگر اسلامی علوم کے ماہر اور اجتہادی صفات سے متصف ہوں۔ حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے ایک ’’مجتہد‘‘ کے لیے پانچ علوم پر دسترس کو ضروری قرار دیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ

’’آج کے دور میں مندرجہ ذیل پانچ علوم حاصل کیے بغیر کوئی شخص مجتہد نہیں ہو سکتا۔ (۱) قرآن کریم کا علم قرأت و تفسیر کے ساتھ۔ (۲) حدیث رسولؐ کا علم اسناد اور صحیح و ضعیف کی معرفت کے ساتھ۔ (۳) مختف مسائل میں سلف صالحین کے اقوال کا علم تاکہ اجماع سے تجاوز نہ کرے اور دو قولوں میں اختلاف کی صورت میں تیسرا قول اختیار نہ کرے۔ (۴) عربی زبان اور اس کے متعلقہ امور کا علم۔ (۵) مسائل کے استنباط اور مختلف اقوال میں تطبیق کا علم۔‘‘ (ازالۃ الخفاء ص ۲۱)

اس لیے اجتہادی مسائل کا حل اجتہادی صفات سے متصف افراد ہی کے سپرد کیا جا سکتا ہے۔ اور اجتہادی صفات سے متصف افراد کے چناؤ میں مختلف مکاتبِ فکر یا مسالک کی نمائندگی کا اصول تو تسلیم کیا جا سکتا ہے لیکن عوام کی نمائندگی کی کوئی گنجائش نظر نہیں آتی۔ یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ امیر المؤمنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی وہ روایت نقل کر دی جائے جو طبرانیؒ نے ’’المعجم الاوسط‘‘ میں سندِ صحیح کے ساتھ نقل کی ہے:

’’حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ میں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ یا رسول اللہ! اگر ہمارے سامنے کوئی ایسا معاملہ آجائے جس میں امر یا نہی کی صورت میں کوئی حکم موجود نہیں تو اس صورت میں آپ کا حکم کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس معاملے میں فقہاء اور عابدین سے مشورہ کرو اور کسی ایک خاص رائے پر نہ چلو۔‘‘ (مجمع الزوائد ص ۱۷۸ ج ۱)

فقہاء اور عابدین سے مشورہ کا حکم اس امر کو واضح کرتا ہے کہ ایسے معاملات طے کرنے والے افراد کا چناؤ ’’تفقہ‘‘ اور ’’نیکی‘‘ کی بنیاد پر کیا جائے گا نہ کہ نمائندگی کے اصول پر۔

۳۔ حکومت کی تشکیل میں عوام کی نمائندگی

البتہ ایسے امور اور معاملات جن کا تعلق اجتہادی مسائل سے نہیں بلکہ انتظامی امور اور عام لوگوں کے حقوق و مسائل سے ہے ان میں عام لوگوں اور ان کے نمائندوں کو مشوروں میں شریک کرنا اور ان مشوروں کو فیصلوں کی بنیاد بنانا جناب رسول اللہؐ کی سنت ہے۔ آنحضرتؐ نے ایسے معاملات میں عام افراد کو کسی تخصیص و تحدید کے بغیر نہ صرف مشورہ میں شریک کیا بلکہ بعض مواقع پر خود اپنی رائے کے خلاف ان کے فیصلوں کو تسلیم کیا۔ جیسا کہ غزوۂ احد کے موقع پر آنحضرتؐ نے صحابہ کرامؓ سے مشورہ کیا کہ ہمیں مدینہ منورہ میں محصور ہو کر مقابلہ کرنا چاہیے یا باہر کھلے میدان میں کفار سے جنگ کرنی چاہیے؟ حضورؐ نے اپنی رائے، جس کا اظہار بھی آپؐ نے کر دیا، محصور ہو کر لڑنے کی تھی لیکن صحابہ کرامؓ کی اکثریت کھلے میدان میں مقابلہ کرنا چاہتی تھی۔ چنانچہ نبی اکرمؐ نے اپنی رائے کے خلاف ان کے فیصلہ کو قبول فرما لیا۔ حتیٰ کہ جناب رسول اکرمؐ کے ہتھیار بند ہوجانے کے بعد یہ حضرات نادمؐ ہو کر آپؐ کی خدمت میں معذرت کے لیے آئے تو بھی آپؐ نے فیصلہ کو تبدیل نہ کیا۔ چنانچہ اسی فیصلہ کے مطابق یہ جنگ مدینہ منورہ کی گلیوں کی بجائے احد کے میدان میں لڑی گئی۔ (بحوالہ البدایہ والنہایہ ص ۱۳ ج ۴)

اسی طرح غزوۂ حنین کے بعد جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کثیر مقدار میں حاصل ہونے والے مالِ غنیمت اور قیدیوں کو مجاہدین میں تقسیم کر دیا تو دشمنوں کا ایک وفد آپؐ کی خدمت میں آیا اور درخواست کی کہ ہم پر مہربانی کرتے ہوئے ہمارا مال اور قیدی واپس کر دیے جائیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ دونوں چیزیں واپس نہیں مل سکتیں ایک کا مطالبہ کرو، تو انہوں نے قیدیوں کی واپسی کی درخواست کر دی۔ جناب نبی اکرمؐ نے مجاہدین کو جن کی تعداد دس ہزار سے متجاوز تھی جمع فرمایا اور بنو ہوازن کے وفد کی درخواست ان کے سامنے رکھی۔ ساتھ ہی یہ فرما دیا کہ تم میں سے جو شخص اپنے حصہ کا قیدی بخوشی واپس کرنا چاہے تو بہتر ورنہ میں یہ وعدہ کرتا ہوں کہ اب قیدی واپس کرنے والوں کو آئندہ جہاد میں حاصل ہونے والے مالِ غنیمت اور قیدیوں کی تقسیم میں ترجیح دی جائے گی۔ اس پر مجمع سے اجتماعی آواز بلند ہوئی کہ ہم آپؐ کے فیصلہ پر بخوشی سارے قیدی واپس کرنے کو تیار ہیں۔ لیکن آنحضرتؐ نے اس اجتماعی آواز کو فیصلہ کے لیے کافی نہ سمجھا اور فرمایا کہ یوں نہیں بلکہ ارجعوا حتی یرفع الینا عرفاؤکم امرکم (بخاری ص ۶۱۸ ج ۲) تم لوگ اپنے اپنے ٹھکانوں پر واپس چلے جاؤ اور تمہارے نمائندے ہمارے پاس آ کر تمہاری رائے پیش کریں تب ہم فیصلہ کریں گے۔ چنانچہ لوگ واپس چلے گئے اور ان کے نمائندے ان سے بات چیت کر کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تب آپؐ نے قیدیوں کی واپسی کا حتمی فیصلہ فرما دیا۔

حدیث میں ’’عرفاء‘‘ کا لفظ ہے جو ’’عریف‘‘ کی جمع ہے اور ہم نے اس کا معنیٰ نمائندہ کیا ہے۔ اس لیے کہ عربی لغت کے معروف امام اسماعیل بن حماد الجوہریؒ نے الصحاح ص ۱۴۰۲ ج ۲ میں عریف اور نقیب کو ہم معنی قرار دیا ہے۔ صاحب فقہ اللغۃ سے بھی علامہ بدر الدین العینیؒ سے عمدۃ القاری ص ۲۲۷ ج ۱ میں یہی قول نقل کیا ہے۔ اور المنجد ص ۵۲۱ میں بھی عریف کا معنی نقیب کیا گیا ہے۔ اور نقیب کی اصطلاح کو جب ہم بیعت عقبہ کے حوالہ سے جاننے کی کوشش کریں گے تو ہمیں اس میں نمائندگی کا پہلو واضح اور نمایاں نظر آئے گا کیونکہ بیعت عقبہ کے دونوں مواقع پر جب مدینہ منورہ (یثرب) کے دو اہم قبیلوں اوس اور خزرج کے نمائندوں نے اپنے قبائل کی طرف سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی تو نہ صرف آپؐ نے ان کی بیعت کو قبول کیا بلکہ خود اپنے وجود مبارک کو ان نمائندوں کی نمائندگی پر اعتماد کرتے ہوئے اہل یثرب کے سپرد کر دینے کے فیصلے کا اعلان فرمایا۔ چنانچہ یہی بیعت بعد میں ہجرت کی بنیاد بنی۔ بیعت عقبہ میں اوس اور خزرج کی نمائندگی کرنے والوں کو حدیث میں ’’نقباء‘‘ کے نام سے یاد کیا گیا ہے (مجمع الزوائد ص ۴۸ ج ۶)

’’عریف‘‘ کے ضمن میں یہ بات خصوصاً قابلِ توجہ ہے کہ امام بخاریؒ نے غزوۂ حنین کی یہ روایت دیگر مقامات پر ذکر کرنے کے علاوہ کتاب الامارۃ میں ’’العرفاء للناس‘‘ کے عنوان سے مستقل باب قائم کر کے اس کے تحت یہ حدیث بطور خاص ذکر کی ہے جس سے امام بخاریؒ کے ذہنی رجحان کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ عریف اور نقیب کو ہم معنی قرار دینے کے بعد ان کے ضمن میں محدثین اور ائمہ لغت نے جو معانی نقل کیے ہیں ان پر بھی ایک نظر ڈال لیجئے:

علامہ بدر الدین العینیؒ عمدۃ القاری ص ۲۵۴ ج ۲۴ میں عریف کا معنی کرتے ہیں ’’القائم بامر طائفۃ من الناس‘‘ لوگوں کے ایک گروہ کے معاملات نمٹانے والا۔

شیخ عبد الحق محدث دہلویؒ عریف کا معنی کرتے ہیں ’’القیم بامر القبیلۃ او الجماعۃ من الانس یلی امورھم ویعرف احوالھم ویتعرف الامیر احوالھم‘‘ (بحوالہ حاشیہ مشکوٰۃ ص ۳۲۱) یعنی کسی قبیلہ یا لوگوں کے ایک گروہ کے معاملات نمٹانے والا جو ان کے امور طے کرے، ان کے حالات معلوم کرے اور امیر کو ان کے حالات و مسائل سے آگاہ کرے۔

صاحب فقہ اللغۃ نے عریف اور نقیب کو ہم معنی قرار دے کر نقیب کا معنی کیا ہے ’’شاھد القوم وضمینھم‘‘ قوم کا گواہ اور ضامن۔

جوہریؒ نے عریف کا معنی نقیب کرنے کے بعد اس کی وضاحت میں لکھا ہے ’’وھو دون الرئیس‘‘ وہ سربراہ سے کم رتبہ کا ہے۔

صاحب المنجد نے ص ۹۰۵ پر نقیب کے معنی میں مندرجہ بالا اقوال کا ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے ’’الذی ینقد عن احوالھم‘‘ جو لوگوں کے احوال کریدتا ہے۔

خود جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض دیگر ارشادات میں بھی عریف کا ذکر کم و بیش انہی معنوں میں ملتا ہے۔ مثلاً امام ابوداؤد نے حضرت مقدام بن معدی کربؒ سے روایت نقل ہے کہ جناب نبی اکرمؐ نے ارشاد فرمایا :

’’عرافت حق ہے اور لوگوں کے لیے عریف ضروری ہیں (حق ادا نہ کرنے والے) عرفاء دوزخ میں جائیں گے۔‘‘ (بحوالہ مشکوٰۃ ص ۳۳۱)

اسی طرح امام احمد بن حنبلؒ نے مسند میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت نقل کی ہے کہ جناب نبی اکرمؐ نے ارشاد فرمایا:

’’امراء کے لیے ہلاکت ہے، عرفاء کے لیے ہلاکت ہے، اور امناء کے لیے ہلاکت ہے۔‘‘ (مشکوٰۃ ص ۳۲۱)

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین افراد امیر، عرف اور امین کو ہلاکت کے حوالہ سے ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلایا ہے اور ان تینوں کا تعلق مسلمانوں کے نظمِ مملکت سے ہے۔

علامہ بدر الدین العینیؒ نے ’’عرفاء‘‘ کے چناؤ کو غزوۂ حنین کے حوالے سے سنت قرار دیا ہے اور لکھا ہے کہ چونکہ امیر اور امام کے لیے براہ راست تمام لوگوں کے حالات سے واقف ہونا ممکن نہیں اس لیے امیر اور رعیت کے درمیان عرفاء کا وجود ضروری ہے تاکہ لوگوں کے مسائل کے حل میں امام کی معاونت کر سکیں۔ (عمدۃ القاری ص ۲۵۴ ج ۲۴)

مختصرًا یہ کہ

  1. منصوص مسائل میں قانون سازی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
  2. غیر منصوص مسائل میں سے اجتہادی امور پر صرف اجتہادی صفات سے متصف افراد ہی فیصلہ دے سکتے ہیں۔
  3. انتظامی امور اور لوگوں کے حقوق اور مسائل کے بارے میں عوام کو براہ راست یا نمائندوں کے ذریعے مشاورت میں شریک کیا جا سکتا ہے۔
  4. قبیلوں، عوام کے مختلف گروہوں یا جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل ایک پلیٹ فارم ضروری ہے جو عرفاء کے طور پر عوام اور حکومت کے درمیان رابطہ کا کام دے۔ ان عرفاء یا نقباء کا چناؤ بھی وہی قبیلے، عوام کے گروہ یا جماعتیں کریں گی۔

۴۔ سربراہِ مملکت کے لیے اہلیت کا معیار

اس سوال پر غور کرتے ہوئے سب سے پہلے ہمیں خلافتِ راشدہ کے تیس سالہ دور میں اختیار کیے گئے طریقِ کار پر نظر ڈالنی ہوگی۔ اس کے بعد امت کے تیرہ سو سالہ تعامل اور ائمہ و فقہاء کی آراء و اقوال کو سامنے رکھ کر اپنے لیے راہِ عمل متعین کرنا ہوگی۔

خلافتِ راشدہ میں سب سے پہلے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے انتخاب کو لیجئے، اس سلسلہ میں حدیث و تاریخ کی کتب میں جو روایات نقل کی گئی ہیں ان سب کو سامنے رکھ کر مجموعی نتیجہ اخذ کیا جائے تو مندرجہ ذیل امور سامنے آتے ہیں:

  1. جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اگرچہ اشارۃً حضرت ابوبکرؓ کی فضیلت، اہلیت اور استحقاقِ نیابت کے بارے میں بہت کچھ فرما دیا تھا لیکن باقاعدہ ان کی نامزدگی نہیں فرمائی تھی۔
  2. جناب نبی اکرمؐ کے وصال کے بعد سقیفہ بنی ساعدہ کی جس مجلس میں حضرت ابوبکرؓ کو خلیفہ چنا گیا اس میں انصارِ مدینہ کی طرف سے خلافت کے ایک سنجیدہ امیدوار حضرت سعد بن عبادۃؓ موجود تھے۔
  3. اس مجلس میں خلافت کے استحقاق کے لیے باقاعدہ بحث ہوئی اور بالآخر جناب نبی اکرمؐ کے ارشاد ’’الائمۃ من قریش‘‘ کے حوالہ سے فیصلہ حضرت ابوبکرؓ کے حق میں ہوا۔
  4. حضرت ابوبکرؓ کے ہاتھ پر اس خصوصی مجلس کی بیعت کو کافی نہ سمجھا گیا بلکہ مسجد نبویؐ میں بیعت عامہ کا اہتمام کیا گیا۔

اسی بنا پر علامہ ابن تیمیہؒ نے مجموعہ فتاوٰی ص ۴۷ ج ۲۵ میں جمہور علماء ، فقہاء، محدثین اور متکلمین کا یہ قول نقل کیا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کی خلافت مسلمانوں کے عمومی اختیار سے معرضِ قیام میں آئی اور علامہ عبد الوہاب الشعرانیؒ نے الیواقیت والجواہر ص ۷۶ ج ۲ میں حضرت ابوبکرؓ کی خلافت کی بنیاد ’’اجماع امت‘‘ کو قرار دیا ہے۔

خلافتِ راشدہ کے دوسرے مرحلے میں حضرت ابوبکرؓ نے حضرت عمرؓ کو اپنا جانشین نامزد کر دیا لیکن اس نامزدگی کے سلسلہ میں حضرت عمرؓ کی اہلیت و استحقاق پر جمہور مسلمانوں کے محسوس کیے جانے والے اعتماد کے باوجود حضرت ابوبکرؓ نے نامزدگی کے فیصلہ سے قبل مختلف طبقات کے افراد سے مشورہ کیا اور اس طویل مشاورت کے بعد نامزدگی کا فیصلہ کیا۔

تیسرے مرحلہ میں حضرت عمرؓ نے چھ افراد پر مشتل کونسل قائم کر کے انہیں اپنے میں سے کسی کو خلیفہ منتخب کرنے کی ہدایت کر دی ۔چنانچہ کونسل میں جب فیصلہ حضرت عبدا لرحمان بن عوفؓ کے سپرد کر دیا تو روایات شاہد ہیں کہ انہوں نے اپنے اس اختیار کو استعمال کرنے سے پہلے مختلف طبقات کے نمائندوں سے مسلسل مشورہ کیا اور عمومی مشاورت کے ذریعے اس نتیجہ پر پہنچنے کے بعد حضرت عثمانؓ کی خلافت کا اعلان کیا۔

چوتھے مرحلہ میں حضرت علیؓ کا انتخاب مدینہ منورہ میں موجودہ اصحابِ شورٰی نے کیا اور پانچویں مرحلہ میں حضرت علیؓ نے اپنے فرزند حضرت حسنؓ کو اپنا جانشین نامزد فرما دیا۔

خلافتِ راشدہ کے بعد حضرت معاویہؓ کی خلافت کی نوعیت یہ تھی کہ انہوں نے طاقت کے زور سے اقتدار حاصل کیا اور حضرت علیؓ کے متوازی حکومت قائم کر لی۔ لیکن حضرت علیؓ کے فرزند اور ان کے نامزدہ کردہ جانشین حضرت حسنؓ نے حضرت معاویہؓ کے حق میں خلافت سے دستبرداری اختیار کر کے ان کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ جس کے بعد ائمہ اہل السنۃ والجماعۃ کی تصریحات کے مطابق حضرت معاویہؓ متفقہ طور پر خلیفہ برحق اور امیر المؤمنین بن گئے۔ (بحوالہ شرح عقیدۃ الطحاوی ص ۴۶۸)

حضرت معاویہؓ نے اپنے بعد اپنے فرزند یزید کو جانشین نامزد کر دیا اور اس کے بعد نامزدگی کا یہ سلسلہ چلتا گیا اور بنو امیہ، بنو عباس اور بنو عثمان کے ادوارِ خلافت میں اس نے مستقل روایت کی حیثیت اختیار کر لی۔ البتہ صحابہ کرامؓ کے دور میں قیامِ خلافت کے لیے جو طریقے اختیار کیے گئے انہیں سامنے رکھ کر فقہاء امت نے خلافت کے انعقاد کے لیے مندرجہ ذیل صورتوں کو جائز قرار دیا:

  1. جمہور مسلمانوں یا ان کے نمائندوں کے اختیار و اجماع سے خلیفہ چنا جائے۔
  2. خلیفہ کسی اہل شخص کو اپنا جانشین نامزد کرے یا نامزدگی کے دائرے کو چند اہل اشخاص کے درمیان محدود کر دے۔
  3. کوئی اہل شخص بزور اقتدار پر قبضہ کر کے اپنا اقتدار مستحکم کرے اور اس میں خلافت کی اہلیت موجود ہو۔

(بحوالہ: تمہید ابی الشکور السالمیؒ ص ۱۵۹۔ ازالۃ الخفاء از شاہ ولی اللہ دہلویؒ ص ۲۳۔ شرح نووی علی مسلم ص ۱۲۰ ج ۲۔ حجۃ اللہ البالغہ ص ۱۵۰ ج ۲۔ اصول الدین التیمی ص ۲۷۹)

یہ بات شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ ان تمام طریقوں میں سب سے افضل اور محفوظ طریقہ وہی ہے جو سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے انتخاب میں اختیار کیا گیا۔ یہاں ایک اور بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ خلیفہ کے انتخاب کے لیے عامۃ المسلمین کی بیعت یا اختیار کو ابن تیمیہؒ نے مجموعہ فتاوٰی ص ۴۷ ج ۳۵ میں جمہور علماء و فقہاء، محدثین اور متکلمین کے حوالہ سے عوام ’’براہ راست‘‘ حق تسلیم کیا ہے، جس کی تائید عبد الوہاب شعرانیؒ نے الیواقیت والجواہر ص ۷۶ ج ۲ میں ’’اجماع‘‘ کے عنوان سے کی ہے اور یہی اجماع ابوالشکور سالمیؒ نے تمہید ص ۱۵۹ میں حضرت امام ابوحنیفہؒ کی رائے کے طور پر نقل کیا ہے۔ لیکن نوویؒ نے شرح مسلم ص ۱۲۵ ج ۳ میں، بزروئیؒ نے اصول الدین ص ۱۸۶ میں اور شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے ازالۃ الخفاء ص ۲۳ اور حجۃ اللہ البالغۃ ص ۱۵۰ میں اس اختیار اور اجماع کو ’’بالواسطہ‘‘ حق قرار دیا ہے۔ چنانچہ نوویؒ کے نزدیک یہ حق ’’اہلِ حل و عقد‘‘ کو حاصل ہے۔ بزدویؒ کے نزدیک ’’اہل الرأی والتدبیر‘‘ کی ایک جماعت خلیفہ کا انتخاب کرے گی اور شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے اہل حل و عقد کو انتخاب خلیفہ کا حق دے کر مندرجہ ذیل طبقات کو اہل حل و عقد کے زمرہ میں شمار کیا ہے:

(۱) علماء (۲) قضاہ (۳) امراء (۴) وجوہ ناس (سرکردہ شخصیات) (۵) لشکروں کے سربراہ (۶) جو لوگ مسلمانوں کے خیر خواہ ہوں اور اصحاب رائے ہوں۔

اس بات کا ذکر بھی بے محل نہ ہوگا کہ قیامِ پاکستان کے بعد تمام مکاتبِ فکر کے سرکردہ ۳۱ علماء نے اسلامی دستور کے لیے جو متفقہ فارمولا طے کیا تھا اس میں نکتہ ۱۲ یہ ہے:

’’رئیس مملکت کا مسلمان مرد ہونا ضروری ہے جس کے تدین صلاحیت اور اصابتِ رائے پر جمہور یا ان کے نمائندوں کو اعتماد ہو۔‘‘

اور اسی موضوع پر گفتگو کے اختتام سے قبل ہم سیدنا عمرؓ کے اس خطبہ کا حوالہ دینا ضروری سمجھتے ہیں جس میں انہوں نے کسی شخص کے اس قول پر کہ وہ حضرت عمرؓ کی وفات کے بعد اپنی مرضی کے ایک بزرگ کے ہاتھ پر بیعت کرے گا، آپؓ نے سخت تنبیہ فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ

’’جس شخص نے بھی مسلمانوں کے مشورہ کے بغیر کسی کے ہاتھ پر بیعت کی اس کی پیروی نہ کی جائے اور نہ اس کی بیعت کردہ شخص کو امام مانا جائے۔‘‘ (بخاری ص ۱۰۰۹ ج ۲)

مختصرًا یہ کہ

  1. اسلامی حکومت کی تشکیل میں عامۃ المسلمین کی رائے کو دخل حاصل ہے۔
  2. سربراہِ مملکت کے انتخاب کے لیے عامۃ المسلمین سے براہ راست یا بالواسطہ رائے حاصل کرنے کا اہتمام کیا جا سکتا ہے۔

مسلمانوں کے خلیفہ، امام یا امیر کے لیے مسلمان ہونے کی شرط تو واضح اور بدیہی ہے جس کے لیے کسی ثبوت اور دلیل کی ضرورت نہیں۔ اس کے علاوہ ابن خلدونؒ نے مندرجہ ذیل چار صفات کو خلیفہ یا امام کے لیے ضروری قرار دیا ہے۔ (ابن خلدون ص ۳۴۲ ج ۱)

(۱) علم (۲) عدالت (۳) متعلقہ امور کی صلاحیت (۴) جسمانی و ذہنی سلامتی۔ پانچویں شرط یعنی خلیفہ کے قریشی ہونے کو ابن خلدونؒ نے اختلافی شرط لکھا ہے۔

صاحبِ درمختار نے ص ۵۳ ج ۱ میں یہ شرائط لکھی ہیں:

(۱) مسلمان ہو (۲) آزاد ہو (۳) عاقل ہو (۴) بالغ ہو (۵) امورِ مملکت پر قادر ہو (۶) قریشی ہو۔

شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے ایک مقام پر لکھا ہے:

’’چونکہ خلافت سے متعلقہ امور میں (۱) دینی علوم کا احیاء (۲) ارکانِ اسلام کا قیام (۳) امر بالمعروف و نہی عن المنکر (۴) قیامِ جہاد (۵) قضاء (۶) حدودِ اسلامی کا قیام شامل ہیں اس لیے ان تمام امور کا علم اور ان پر دسترس خلافت کی شرائط میں ہے۔‘‘ (ازالۃ الخفاء ص ۱۸)

دوسرے مقام پر شرائط کو تفصیل کے ساتھ ذکر کرتے ہیں جن کا خلاصہ درج ذیل ہے:

(۱) مسلمان ہو (۲) عاقل و بالغ ہو (۳) آزاد ہو (۴) بہادر ہو (۵) مرد ہو (۶) گفتگو اور سمع و نظر کی اعلیٰ صلاحیت کا حامل ہو (۷) عادل ہو یعنی کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرنے والا ہو اور صغیرہ گناہوں پر اصرار نہ کرنے والا ہو (۸) مجتہد درجہ کا عالم ہو (۹) قریشی ہو۔ (ازالۃ الخفاء ص ۱۸ تا ۲۳)

ابو اسحاق شاطبیؒ نے الاعتصام ص ۱۰۸ ج ۲ میں اس بات پر علماء کا اتفاق نقل کیا ہے کہ خلافت کی اہمیت کے لیے سب سے بنیادی شرط یہ ہے کہ شرعی علوم میں مجتہد اور مفتی درجہ کا عالم ہو۔

ان ساری شرائط کا خلاصہ یہ ہے کہ خلیفہ کو دینی علوم سے واقف، امورِ سیاست و سلطنت سے آگاہ، مدبر اور جری ہونا چاہیے تاکہ وہ اسلامی احکام کی روشنی میں ملک کا نظام بخوبی چلا سکے۔ چنانچہ ۱۹۵۱ء میں ۲۲ دستوری نکات مرتب کرنے والے ۳۱ علماء نے بھی سربراہِ مملکت کے لیے مسلمان مرد ہونے کے بعد تدین، صلاحیت اور اصابتِ رائے کو شرط قرار دیا ہے۔ اور مندرجہ بالا تمام شرائط کم و بیش ان تین شرطوں میں سما جاتی ہیں۔ ان میں صرف قریشی ہونے کی شرط اختلافی ہے جس پر علماء کے اختلاف کا ذکر ابن خلدونؒ نے بھی کیا ہے۔ اس سلسلہ میں کسی طویل بحث میں پڑے بغیر یہ عرض کرنا مناسب ہوگا کہ ان علماء امت کے موقف کو تسلیم کیے بغیر کوئی چارۂ کار نہیں ہے جنہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادِ گرامی ’’الائمۃ من قریش‘‘ کو خبر پر محمول کر کے دیگر احادیث صحیحہ کی روشنی میں یہ رائے دی ہے کہ خلیفہ کے لیے قریشی ہونے کی شرط ضروری نہیں ہے۔ اس لیے کہ آج کے دور میں اس شرط پر اصرار بے شمار عملی پیچیدگیاں پیدا کر دے گا اور اس لیے بھی کہ خلافتِ عثمانیہ کے صدیوں پر محیط دور میں کم و بیش تمام فقہاء اور علماء کا عثمانی خلفاء کے قریشی نہ ہونے کے باوجود ان کی خلافت کی صحت اور انعقاد پر اتفاق رہا ہے، جسے خلافت کے لیے قریشیت کی شرط کو ترک کر دینے پر اجماع قرار دیا جا سکتا ہے جیسا کہ قیامِ پاکستان کے بعد ۳۱ علماء امت نے بھی اس شرط کا لحاظ نہیں رکھا۔

۵۔ سیاسی جماعتوں کا وجود اور ان کی حیثیت

سیاسی جماعتیں آج کی سیاسی و جمہوری زندگی کا ایک ایسا لازمہ ہیں جس کے بغیر سیاسی پیش رفت کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اسلامی معاشرہ کے اولین دور میں اس قسم کی جماعتوں کا کوئی سراغ نہیں ملتا جس سے ذہنوں میں بجا طور پر یہ شبہ ابھرتا ہے کہ کیا اسلامی نظام میں سیاسی جماعتوں کی تشکیل اور جماعت بندی کے ذریعے اقتدار و سیاست کے مسائل طے کرنے کا کوئی جواز بھی ہے؟

جہاں تک موجودہ طرز کی سیاسی جماعتوں کی تشکیل اور ان کی بنیاد پر سیاسی ڈھانچہ کو استوار کرنے کا تعلق ہے یہ بات شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ قرونِ اولیٰ میں اس کی کوئی مثال موجود نہیں ہے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس دور میں دنیا کے کسی بھی معاشرہ میں سیاسی جماعت بندی کا تصور موجود نہ تھا بلکہ سیاسی تقسیم قبائل کے حوالے سے پہچانی جاتی تھی۔ خود مکہ مکرمہ میں بنو ہاشم اور بنو امیہ کی سیاسی چپقلش اور یثرب میں بنو اوس اور بنو خزرج کے درمیان محاذ آرائی تاریخ کی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے جو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر ان قبائل کے مشرف بہ اسلام ہونے تک جاری رہی۔

سوال یہ ہے کہ کیا قبائل یا گروہوں کے عنوان سے معاشرہ کی سیاسی تقسیم کو اسلام نے بھی قبول کیا ہے یا نہیں؟ ہمارے خیال میں تاریخ کے مسلمہ حقائق اس سوال کا جواب اثبات میں دیتے ہیں۔ مدینہ منورہ میں اسلامی حکومت کے قیام کے بعد سب سے پہلا اہم ترین واقعہ غزوۂ بدر ہے جس میں قبائل کی بنیاد پر اسلامی فوج کی تقسیم کے علاوہ تقسیم کی ایک اور ترقی یافتہ شکل بھی ابھری ہے جسے مہاجرین اور انصار کی تقسیم کے عنوان سے یاد کیا جاتا ہے، اور رفتہ رفتہ تقسیم کی یہ ترقی یافتہ شکل پورے اسلامی معاشرہ پر حاوی ہوتی چلی گئی، مثلاً:

  1. بدر کے معرکہ کے لیے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرامؓ سے مشورہ کیا تو جب تک حضرت سعد بن معاذؓ نے انصارِ مدینہ کی طرف سے بطورِ خاص نمائندگی کرتے ہوئے شریکِ جنگ ہونے کا یقین نہیں دلایا جناب رسول اللہؐ کو اطمینان نہیں ہوا۔ (قصص القرآن از مولانا حفظ الرحمان سیوہارویؒ ص ۴۰۳ ج ۴ بحوالہ بخاری و مسلم)
  2. بدر اور دیگر غزوات میں جناب نبی اکرمؐ نے انصار اور مہاجرین کو اپنے دستِ مبارک سے الگ الگ پرچم عطا فرمائے ۔
  3. غزوۂ حنین میں مالِ غنیمت کو قریش کے نومسلموں میں تقسیم کیے جانے کو انصار نے بطور انصار محسوس کیا حتیٰ کہ آنحضرتؐ نے انصارِ مدینہ کا الگ اجتماع کر کے ان کی تشفی و اطمینان کا اہتمام کیا۔
  4. جناب نبی اکرمؐ کے وصال کے بعد جانشین کے انتخاب کے موقع پر بھی انصار اور مہاجرین کی یہ تقسیم کھل کر سامنے آئی جسے بڑی مشکل سے حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ نے سنبھالا۔

ان حقائق پر غور و خوض سے یہ حقیقت نکھرتی چلی جاتی ہے کہ اسلام نے معاشرہ کی سیاسی تقسیم کو قبائل سے آگے بڑھ کر ایک ترقی یافتہ شکل دی اور دورِ نبوت و خلافتِ راشدہ میں مہاجرین اور انصار کی یہ تقسیم نہ صرف یہ کہ محسوس کی جاتی رہی بلکہ جناب نبی اکرمؐ اور خلفاء راشدین نے اس تقسیم کو قبول بھی کیا۔ جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اسلام معاشرہ میں سیاسی گروہ بندی کو، بشرطیکہ وہ ملتِ اسلامیہ کی وحدت کے لیے خطرہ نہ بنے، روا رکھتا ہے۔

اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی پیشِ نظر رکھ لینی چاہیے کہ قرآن کریم نے مسلمانوں کو ’’بر‘‘ اور ’’تقویٰ‘‘ کے معاملہ میں باہمی تعاون کا حکم دیا ہے اور کسی مقصد اور پروگرام کے لیے ایک نظم کے تحت جماعت کی تشکیل باہمی تعاون ہی کی ایک منظم اور ترقی یافتہ صورت ہے۔ اس لیے ہماری رائے میں سیاسی جماعتوں کی تشکیل اگر ملی وحدت کے استحکام کے تقاضوں کو ملحوظ رکھ کر ہو اور ان کے منشور اور پروگرام کی بنیاد ’’بر‘‘ اور ’’تقویٰ‘‘ پر ہو تو اسلام اس کی اجازت دیتا ہے۔

۶۔ امیدواری کا مسئلہ

کسی منصب کے لیے خود امیدوار ہونے کے شرعی جواز کا مسئلہ بھی ان دنوں زیربحث ہے اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعدد ارشادات کے حوالے سے یہ کہا جا رہا ہے کہ اسلام کسی منصب کے لیے خود امیدوار ہونے کی اجازت نہیں دیتا۔ مگر ہمارے نزدیک مسئلہ کی اصل صورت یہ نہیں ہے۔

  1. اس لیے کہ امیدوار ہونا اور منصب طلب کرنا فی نفسہ معیوب یا مذموم امر نہیں ہے، ورنہ خدا کے برگزیدہ پیغمبر حضرت سلیمان علیہ السلام بادشاہت اور حضرت یوسف علیہ السلام عزیزِ مصر سے وزارتِ خانہ کا تقاضہ نہ کرتے۔
  2. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جن ارشادات میں امارت یا قضا کا سوال اور تقاضہ کرنے کی ممانعت مذکور ہے ان میں بھی آپؐ نے مختلف حضرات کو مختلف انداز میں بات فرمائی ہے۔ مثلا:
    • حضرت ابوذرؓ نے تقاضہ کیا کہ مجھے عامل بنا دیا جائے تو نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ ابوذرؓ تم کمزور ہو اور یہ امانت ہے۔ (مسلم ص ۱۲۱ ج ۲)
    • ایک انصاری صحابیؓ نے عامل بنانے کا تقاضہ کیا تو نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ میرے بعد تم نامساعد حالات دیکھو گے اس لیے صبر کرو۔ (بخاری ص ۱۲۷ ج ۱)
    • حضرت عبد الرحمان بن سمرہؓ کو نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ امارت کا سوال نہ کرنا اس لیے کہ امارت بغیر سوال کے ملے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد کی جاتی ہے اور اگر سوال سے ملے تو اس کی اپنی ذمہ داری پر چھوڑ دی جاتی ہے۔ (مسلم ص ۱۲۵ ج ۳)
  3. حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کے چچا زاد بھائی انہیں بتائے بغیر سفارشی بنا کر نبی اکرمؐ کی خدمت کے پاس لے گئے اور عامل بنانے کی درخواست کی تو آپؐ نے فرمایا بخدا ہم اس کو عامل نہیں بناتے جو سوال کرے اور حریص ہو۔ (ص ۱۲۵ ج ۲)

    ان ارشادات پر ایک بار پھر غور فرمائیے یقیناً آپ بھی اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ آنحضرتؐ نے طلبِ قضا یا طلبِ امارۃ کی مطلقاً ممانعت نہیں فرمائی بلکہ ہر شخص کو اس کے مخصوص حالات اور کیفیت کے مطابق جواب دیا۔ کسی کو کمزوری کے حوالے سے، کسی کو قضا اور امارت کی سخت ترین ذمہ داری سے، اور ان میں سے صرف ایک مقام پر حضورؐ نے انکار میں شدت اختیار فرمائی ہے جہاں سوال کرنے والے اپنے ساتھ سفارشی بھی لائے ہیں اور آپؐ کو ان میں حرص کا عنصر نظر آتا ہے۔ اسی لیے جناب رسول اللہؐ نے اس ارشاد میں سوال کے ساتھ حرص کا بھی ذکر کیا ہے۔

  4. اس کے ساتھ اگر حضرت ابوہریرہؓ کی مندرجہ ذیل روایت کو بھی سامنے رکھا جائے تو معاملہ مزید صاف ہو جاتا ہے۔ اس روایت کے مطابق:

    ’’جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے مسلمانوں کی قضا کا منصب طلب کیا اور اس کو پا لیا تو اگر اس کا انصاف ظلم پر غالب رہا تو اس کے لیے جنت ہے، اور اگر اس کا ظلم انصاف پر غالب رہا تو اس کے لیے جہنم ہے۔‘‘ (ابوداؤد ص ۵۰۳ ج ۲)

    اسی لیے شیخ عبد الحق محدث دہلویؒ، مولانا ظفر احمدؒ عثمانی اور دیگر محدثین نے ان تمام روایات کو سامنے رکھ کر یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اگر کسی شخص کو اپنے اوپر اعتماد ہ وکہ وہ منصب کے تقاضے پورے کر سکے گا اور اس کا مقصد حصولِ جاہ و اقتدار نہیں بلکہ خدمتِ خلق ہو تو ایسے شخص کے لیے منصب کا طلب کرنا ممانعت کے ضمن میں نہیں آتا۔ (حاشیہ ابوداؤد ص ۵۰۳ ج ۲۔ اعلاء السنن ص ۳۷)

  5. اور اس حقیقت کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے کہ اگر عہدہ کی طلب اور تقاضے کی کلی ممانعت کو بنیاد بنا لیا جائے تو آج کے دور میں ہماری اجتماعی زندگی کی گاڑی ایک قدم بھی آگے نہیں چل سکے گی کیونکہ جناب رسول اکرمؐ سے طلبِ عہدہ کی ممانعت میں جو ارشادات منقول ہیں ان میں سیاسی عہدہ کی کوئی تخصیص نہیں ہے بلکہ ان تین قسم کے عہدوں کا ذکر ہے: قضاء (بحوالہ ابوداؤد ص ۵۰۴ ج ۲)، امارۃ (بحوالہ مسلم ص ۱۲۵ ج ۲)، استعمال یعنی عامل بنانا (بحوالہ مسلم ص ۱۲۱ ج ۲)

    ان میں سے قضاء کا تعلق عدلیہ سے، امارۃ کا تعلق سیاست سے اور استعمال کا تعلق انتظامیہ سے ہے۔ اور اگر ان تینوں شعبوں میں یہ اصول بنا لیا جائے کہ کوئی عہدہ درخواست، مطالبہ یا تقاضے کی بنیاد پر نہیں دیا جائے گا تو تخیلاتی طور پر یہ بات کتنی ہی بلند کیوں نہ ہو مگر عمل کی دنیا میں اس سے پوری اجتماعی زندگی کا پہیہ جام ہو کر رہ جائے گا۔

ان امور کی بنا پر ہماری رائے یہ ہے کہ جس طرح عدلیہ اور انتظامیہ کے مناصب کے لیے اہلیت کی ضروری شرائط عائد کر کے امیدواروں میں سے موزوں افراد کو چنا جاتا ہے اسی طرح سیاسی عہدوں کے لیے بھی اہلیت کی شرائط کا تعین ہونا چاہیے اور ان شرائط پر پورا اترنے والے افراد کے لیے سیاسی عہدوں کی طلب اور امیدواری کے لیے دروازے کھلے رہنے چاہئیں۔

۷۔ عورتوں کی رائے

عورتوں کو رائے کا حق دینے کا مسئلہ بھی خاصا نازک ہے اور سنجیدہ غور و خوض کا محتاج ہے۔ اس سلسلہ میں یہ بات تو شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ عورتوں سے تعلق رکھنے والے مسائل کے بارے میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اور خلافتِ راشدہ کے دور میں بھی عورتوں ہی سے مشورہ کیا جاتا تھا۔ اس لیے عورتوں کے حقوق و مسائل میں عورتوں ہی کو ان کی نمائندگی کا حق دینے کا تصور غیر اسلامی نہیں ہے جبکہ عوامی مسائل میں بھی عورتوں کے رائے دینے کی روایات موجود ہیں۔ جیسا کہ حضرت عطاء بن ابی رباحؒ نے ام المؤمنین حضرت عائشہؓ کے بارے میں کہا ہے کہ

’’وہ لوگوں میں سب سے زیادہ فقیہہ اور عالم تھیں اور عام لوگوں کے مسائل میں سب سے اچھی رائے دینے والی تھیں۔‘‘ (تہذیب التہذیب ص ۴۳۵ ج ۱۲)

اور اس کے ساتھ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کا یہ ارشاد بھی ملا لیا جائے کہ

’’ہم اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کبھی کوئی اشکال پیش آیا اور ہم نے اسے حضرت عائشہؓ کے سامنے رکھا تو ان کے پاس اس کے بارے میں علم پایا۔‘‘ (ترمذی ص ۲۳۰ ص ۲)

گویا حضرت ام المؤمنین عائشہؓ نے علمی اور عوامی مسائل میں صحابہ کرامؓ کی راہنمائی کر کے یہ اصول قائم کر دیا کہ عورتیں اپنی اپنی استعداد اور صلاحیت کے مطابق علمی اور عوامی دونوں امور میں رائے دے سکتی ہیں۔ اب یہاں صرف یہ اشکال باقی رہ جاتا ہے کہ اسلام نے عورتوں اور مردوں کے درمیان حجاب کی جو حدود قائم کی ہیں ان کی موجودگی میں عورتوں کے لیے عوامی مسائل میں مروجہ انداز میں رائے دینا کہاں تک ممکن ہے۔ تو اس کے حل کے لیے یہ صورت اختیار کی جا سکتی ہے کہ عورتوں کے حقوق و مسائل میں عورتوں کی نمائندگی کا اصول تسلیم کرتے ہوئے حجاب کی شرعی حدود کے اندر ان کے لیے اس کا اہتمام کیا جائے۔ اور جن مجالس میں مردوں کے ساتھ عورتوں کا مشترک طور پر شریک ہونا ضروری خیال کیا جائے ان میں شرکت کرنے والی خواتین کے لیے عمر کا اس حد تک تعین کر دیا جائے جہاں شریعت بھی حجاب کی پابندیوں کو نرم کر دیتی ہے۔

خلاصہ کلام

آخر میں ہم اس تمام گفتگو کے خلاصہ کے طور پر یہ عرض کرنا چاہیں گے کہ اسلام کا سیاسی نظام ’’اہلیت اور نمائندگی‘‘ کے حسین امتزاج کا نام ہے جہاں حاکم اور رعایا کے درمیان اعتماد کا رشتہ رکھنے کے لیے ’’نمائندگی‘‘ کا اصول اپنایا گیا ہے اور نظمِ ریاست کو صحیح طور پر نمٹانے کے لیے ’’اہلیت‘‘ کو معیار بنایا گیا ہے۔ اس لیے معاشرہ کو اسلامی نظام کے سانچہ میں ڈھالنے کے لیے ضروری ہے کہ اجتماعی زندگی کی گاڑی کو نمائندگی اور اہلیت کے دو فطری پہیوں (قدموں) پر کھڑا کیا جائے تاکہ ملتِ اسلامیہ کا قافلہ امن و خوشحالی اور دنیوی و اخروی فلاح کی منزلِ حقیقی کی طرف گامزن ہو سکے۔

(نوٹ: اسلامی نظام کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں مندرجہ بالا معروضات راقم الحروف کے ذاتی مطالعہ کا ماحصل ہیں اور ان میں کسی سیاسی یا مذہبی مکتبِ فکر کی نمائندگی کا داعیہ موجود نہیں ہے۔ اس لیے انہیں صرف قرآن و سنت کے ایک طالب علم کی انفرادی کاوش اور اس کے ذاتی مطالعہ کے نتیجہ کے طور پر ہی پڑھا جائے۔ ابوعمار زاہد الراشدی)

درجہ بندی: