آئی تھنک کا فتنہ

   
مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۶ اکتوبر ۲۰۰۳ء

حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی ان دنوں امریکہ آئے ہوئے ہیں اور مختلف شہروں میں دینی اجتماعات سے خطاب کر رہے ہیں۔ گزشتہ تین روز سے واشنگٹن ڈی سی اور اس کے قریب ورجینیا کے علاقہ میں ہیں۔ دارالہدٰی سپرنگ فیلڈ میں انہوں نے مسلمانوں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کیا اور مختلف مسائل پر لوگوں کے سوالات کے جوابات دیے۔ اس اجتماع کے لیے دارالہدٰی کے ڈائریکٹر مولانا عبد الحمید اصغر نے خاصی محنت کی تھی جس کی وجہ سے ورکنگ ڈے (منگل) ہونے کے باوجود بھرپور اجتماع ہوا اور مفتی صاحب کے خطاب اور سوال و جواب کی نشست تقریباً دو گھنٹے جاری رہی۔

مفتی صاحب نے اپنے خطاب کا آغاز اس تمہید سے کیا کہ ہمارے مرشد عارف باللہ حضرت ڈاکٹر عبد الحئیؒ عارفی نے ہمیں تلقین کی تھی کہ کسی جگہ خطاب کا موقع ملے تو فرمائشی تقریر نہ کرنا اور روایتی تقریر بھی نہ کرنا بلکہ وہاں کے حالات کو سامنے رکھ کر جو باتیں مسلمانوں کے لیے دینی حوالے سے ضروری محسوس ہوتی ہوں وہ باتیں ان سے کہنا۔ چنانچہ شیخ و مرشد کی اس ہدایت کو سامنے رکھ کر امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں کے لیے موجودہ حالات میں جو باتیں مجھے ضروری محسوس ہوتی ہیں وہ آپ کے سامنے بیان کروں گا اور پھر آپ کو موقع دوں گا کہ جن مسائل کے بارے میں آپ مجھ سے دریافت کرنا چاہیں ان کے لیے سوالات کریں۔

اس تمہید کے بعد مفتی صاحب نے مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں کی مجموعی صورتحال پر تفصیل سے اظہار خیال کیا اور انہیں تلقین کی کہ وہ یہاں رہتے ہوئے اپنے دین و ایمان کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اپنی نئی نسل کے ایمان و اعمال کی بھی فکر کریں۔ کیونکہ وہ اگر یہاں رہ کر اپنے ایمان و عقیدہ اور دینی اعمال کو نہیں بچا سکتے اور اپنی نئی پود کے دین و ایمان اور تہذیبی تشخص کا تحفظ نہیں کر سکتے تو ان ممالک میں رہنا ان کے لیے شرعاً جائز نہیں رہے گا اور ان پر واجب ہو جائے گا کہ وہ یہاں سے ایسے علاقہ میں منتقل ہو جائیں جہاں وہ اپنے عقیدہ و ایمان کے مطابق آزادانہ زندگی بسر کر سکیں اور اپنی اولاد کو اسلام کے ساتھ وابستہ رکھ سکیں۔ مفتی صاحب کی پرمغز تقریر اس قابل ہے کہ اسے حرف بہ حرف شائع کیا جائے اور مختلف زبانوں میں اس کا ترجمہ کر کے مغربی ممالک میں اسے وسیع پیمانے پر تقسیم کیا جائے۔ میں نے اس کے لیے دارالہدٰی کے دوستوں سے گزارش کی ہے اور انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اس کی کوشش کریں گے۔

البتہ اس موقع پر سوال و جواب کے مرحلہ میں سامنے آنے والے ایک دلچسپ سوال اور مفتی صاحب کی طرف سے اس کے متوازن جواب کا تذکرہ کرتے ہوئے کچھ گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں۔ کیونکہ یہ سوال صرف مغربی ممالک کے مسلمانوں سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ ہمارے ہاں مسلم ممالک بالخصوص پاکستان میں بھی یہ سوال ذہنوں میں موجود ہے اور اس کی فتنہ سامانیوں میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ سوال یہ تھا کہ قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح اور ان کے احکام و مسائل میں تحقیق و استنباط کا دروازہ بند ہو چکا ہے یا اب بھی ان مسائل میں تحقیقات ہو سکتی ہیں؟ سوال کرنے والے دوست نے خود مجلس میں اٹھ کر بتایا کہ ان کے سوال کا مقصد یہ ہے کہ جو حضرات آج کے دور میں قرآن و سنت کے حوالہ سے تحقیقات کا دعوٰی کرتے ہیں اور مختلف نئی باتیں پیش کرتے ہیں ان کی حیثیت کیا ہے؟

اس کے جواب میں مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی نے کہا کہ جہاں تک قرآن و سنت کے مسائل میں تحقیقات اور استنباط و استدلال کا تعلق ہے یہ تو قیامت تک جاری رہے گا، اس کا دروازہ نہ آج بند ہے اور نہ ہی بعد میں کبھی بند ہو سکتا ہے۔ لیکن مسئلہ صرف اتنا ہے کہ تحقیق و استدلال کرنے والا اس کا اہل ہو اور امت کے مسلمہ اصولوں کے دائرہ میں رہتے ہوئے یہ کام کرے۔ سوال تحقیق و استدلال کے جاری رہنے یا نہ رہنے کا نہیں بلکہ یہ ہے کہ اس تحقیق و استدلال کا اہل کون ہے اور اس کے مسلمہ اصول کیا ہیں؟ کیونکہ اب تو صورتحال یہ ہوگئی ہے کہ کوئی شخص ہم سے مسئلہ پوچھتا ہے اور ہم اس کا جواب دیتے ہیں تو وہ فورًا آگے سے ’’آئی تھنک‘‘ کہہ کر اپنی رائے دینا شروع کر دیتا ہے۔ یہ بات غلط ہے اس لیے کہ کسی دینی مسئلہ کے بارے میں رائے اسی وقت دی جا سکتی ہے جب دینی علوم سے گہری واقفیت ہو۔ اب ایک شخص قرآن کریم کی کسی آیت کی تشریح میں رائے دینا چاہتا ہے تو اس کے لیے کم از کم یہ ضروری ہے کہ اسے عربی زبان سے مکمل واقفیت ہو اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے ذخیرہ پر اس کی نظر ہو تاکہ اس کی رائے رسول اللہؐ کے کسی ارشاد سے نہ ٹکراتی ہو۔ اسی طرح صحابہ کرامؓ کی تشریحات سے آگاہی بھی ضروری ہے اس کے بغیر اگر کوئی شخص قرآن کریم کی کسی آیت یا حکم کے بارے میں رائے دے گا تو یہ غلط بات ہوگی اور اصول کے خلاف ہوگی۔مفتی صاحب کا کہنا ہے کہ قرآن و سنت کی تشریح اور دینی مسائل و احکام کے حوالہ سے ’’آئی تھنک‘‘ کے اس رجحان کی حوصلہ شکنی ضروری ہے اور لوگوں کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ جس طرح زندگی کے دوسرے شعبوں میں ہم ماہرین سے رجوع کرتے ہیں اور ان کی رائے پر عمل کرتے ہیں اسی طرح قرآن و سنت اور دینی احکام کے بارے میں بھی ماہرین سے رجوع کرنا اور ان کی رائے پر عمل کرنا چاہیے۔

مفتی صاحب نے کہا کہ اسی طرح یہ بیماری بھی عام ہوتی جا رہی ہے کہ کسی صاحب کو ان کے سوال پر کوئی مسئلہ بتایا جائے تو وہ فورًا پوچھتے ہیں کہ اس کی دلیل کیا ہے؟ یہ رجحان بھی درست نہیں ہے اور اس کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے اس لیے کہ دلیل کی ضرورت یا افادیت وہاں ہوتی ہے جہاں مخاطب بھی دلیل کو سمجھنے اور پرکھنے کی اہلیت رکھتا ہو۔ اور جو شخص دلیل کو سمجھنے کی اہلیت سے بہرہ ور نہیں ہے اس کو اس کا کوئی فائدہ بھی نہیں ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص علاج کے لیے کسی ماہر ڈاکٹر کے پاس جائے اور وہ اسے چیک کر کے نسخہ تجویز کر دے تو وہ مریض ڈاکٹر کے ساتھ بحث شروع کر دے کہ آپ نے جو نسخہ تجویز کیا ہے اس کی آپ کے پاس دلیل کیا ہے؟ میرا خیال ہے کہ کوئی سمجھدار ڈاکٹر اس سوال کو برداشت نہیں کرے گا اور ایسے سوال پر اصرار کرنے والے مریض کو کلینک سے باہر نکال دیا جائے گا۔ اس لیے مجھ سے اگر کوئی شخص دلیل پوچھتا ہے تو میں اسے کہتا ہوں کہ دلائل معلوم کرنے کے لیے آپ کو دارالعلوم میں آکر داخلہ لینا ہوگا اور تعلیم کے لیے وقت فارغ کرنا ہوگا، وہاں میں آپ کو دلائل بھی دوں گا اور دلیل کو سمجھنے اور پرکھنے کی تعلیم بھی دوں گا۔ کیونکہ ڈاکٹر کا کام صرف مرض معلوم کر کے اس کا علاج بتانا ہے وہ دلائل نہیں دیا کرتا۔ اگر کسی مریض کو علاج کے اسباب اور دلائل سے واقفیت حاصل کرنی ہے تو اسے میڈیکل کالج میں داخل ہو کر طب کی تعلیم حاصل کرنا ہوگی اس کے بغیر نہ وہ دلیل کو سمجھ سکے گا اور نہ ہی اسے کسی ڈاکٹر سے دلیل پوچھنے کا حق حاصل ہے۔

مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی کے ان ارشادات سے میرے ذہن میں کئی واقعات تازہ ہوگئے ہیں اس لیے کہ مجھے بھی دنیا کے مختلف ممالک میں گھومنے پھرنے کا موقع ملتا ہے اور اس قسم کے سوالات سے سابقہ پیش آتا ہے۔ باقی دنیا کو چھوڑیں خود ہمارے ہاں پاکستان میں جب قرآن و سنت کو ملک کا سپریم لاء قرار دینے کی تحریک زوروں پر تھی اس وقت یہ سوال کھڑا کر دیا گیا کہ قرآن و سنت کو ملک کا بالاتر قانون قرار دے دیا جائے گا تو قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح کا حق کس کو ہوگا؟ جواب میں عرض کیا گیا کہ تعبیر و تشریح کا حق تو انہی کو ہوگا جو قرآن و سنت کو جانتے ہیں، اس کے ماہرین سمجھے جاتے ہیں اور اس سلسلہ میں رائے دینے کی اتھارٹی رکھتے ہیں۔ اس پر شور مچ گیا کہ اس طرح پارلیمنٹ کی بالادستی قائم نہیں رہے گی اس لیے پارلیمنٹ کی بالادستی قائم رکھنے کی ایک ہی صورت ہے کہ قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح کا حق پارلیمنٹ کو دے دیا جائے کہ وہ قرآن و سنت کے کسی حکم کی جو صورت طے کر دے اسے دستوری طور پر قرآن و سنت کا حکم تصور کیا جائے۔

ہمارے سیاستدانوں اور دانشوروں کا باوا آدم نرالا ہے کہ پارلیمنٹ اور دستور دونوں پر فرد واحد (جنرل پرویز مشرف) کی بالادستی تسلیم کر لی گئی ہے اور اس پر سیاستدانوں اور دانشوروں کے ایک بڑے طبقے کی طرف سے باقاعدہ دلائل دیے جا رہے ہیں۔ لیکن قران و سنت کی تعبیر و تشریح کی حد تک قرآن و سنت کے مسلمہ ماہرین کی رائے کو ترجیح دینے کا منطقی اصول سیاستدانوں اور دانشوروں کو ہضم نہیں ہو رہا اور اسے پارلیمنٹ کی بالادستی کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔ ’’جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے‘‘۔ خیر اس تجویز کو دینی حلقوں کی طرف سے قبول کرنے کا کوئی سوال ہی نہ تھا اس لیے اسے یکسر رد کر دیا گیا اور کم و بیش دینی جماعتوں نے جواب دیا کہ پارلیمنٹ کو قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح کی اتھارٹی کے طور پر تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

جبکہ اس سوال پر میرا جواب مختلف تھا۔ ایک فورم میں مجھ سے یہ سوال ہوا کہ پارلیمنٹ کو قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح اور اجتہاد کا حق دینے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ میں نے عرض کیا کہ مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے اور میں پارلیمنٹ کے لیے قران و سنت کی تعبیر و تشریح اور اجتہاد کا حق تسلیم کرنے کے لیے تیار ہوں مگر اس کے لیے ایک شرط ہے۔ وہ یہ کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کو ریفرنس بھیج کر استفسار کیا جائے کہ قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح اور اجتہاد کے لیے آج کے دور میں اہلیت کا معیار کیا ہے؟ اور جو معیار اس کام کے لیے سپریم کورٹ طے کر دے الیکشن رولز میں ترمیم کر کے اسے پارلیمنٹ کی رکنیت کے لیے شرط قرار دے دیا جائے۔ اور اگر ایسا ہو جائے تو مجھے پارلیمنٹ کو قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح کا حق دینے پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ اس پر ایک صاحب نے کہا کہ ہم تو صرف قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح کے معاملے میں علماء کی رائے کو ترجیح دینے کی بات تسلیم نہیں کر رہے اور آپ ساری پارلیمنٹ کو مولویوں سے بھر دینے کی تجویز دے رہے ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ قرآن و سنت کی بات کریں گے تو پھر یہ کچھ تو کرنا ہی ہوگا۔