گھریلو زندگی اور سیرت نبویؐ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
دارالہدٰی، سپرنگ فیلڈ، ورجینیا، امریکہ
تاریخ اشاعت: 
ستمبر ۲۰۰۷ء

(دارالہدٰی، سپرنگ فیلڈ، ورجینیا، امریکہ میں سیرتِ نبویؐ پر گفتگو جسے تحریری شکل دی گئی۔)

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ انسان گھریلو زندگی کا آغاز ماں باپ کے زیر سایہ ایک بچے کی حیثیت سے کرتا ہے، بڑا ہوتا ہے تو بہن بھائیوں کا ساتھ میسر آتا ہے، خود مختار ہوتا ہے تو میاں بیوی کے رشتے میں منسلک ہوتا ہے جس کے بعد اولاد کی نوبت آتی ہے، یہ ہر شخص کی گھریلو زندگی کا ایک عمومی خاکہ ہے۔ اور گھر معاشرے کی ایک بنیادی اکائی ہے، اللہ تعالیٰ نے اکیلے انسان کو اس دنیا میں نہیں بھیجا بلکہ جنت سے میاں بیوی کا ایک جوڑا زمین پر اتارا، حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام کی صورت میں ایک کنبہ بھیجا۔ ایک عام سوال یہ کیا جاتا ہے کہ معاشرے کا آغاز ایک فرد سے ہوتا ہے یا خاندان سے۔ ہمارے خیال میں سوسائٹی کا بنیادی یونٹ فیملی ہے، ہم فرد کو معاشرے کی بنیادی اکائی تصور نہیں کرتے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت سے ایک جوڑے کو بھیجا تھا نہ کہ تنہا ایک فرد کو۔

جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایک بھرپور خاندانی زندگی گزاری ہے، جس طرح رسول اللہؐ کی زندگی کے دوسرے پہلو ہمارے لیے آئیڈیل ہیں اسی طرح خاندانی معاملات میں بھی آپؐ ہی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ ہم نے ہر معاملے میں جناب رسول اللہؐ کی زندگی کو دیکھنا ہے اور انہی کے طرزِ زندگی کی پیروی کرنی ہے۔ اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں یہی بات فرمائی لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ (سورۃ الاحزاب: ۲۱) البتہ تمہارے لیے رسول اللہؐ میں اچھا نمونہ ہے۔

حضورؐ کی گھریلو زندگی

آنحضرتؐ کی گھریلو زندگی کیسی تھی، گھر کی چاردیواری کے اندر آپ کے معمولات کیا تھے اور دینی و دنیوی معاملات میں آپ نے کیسے توازن قائم کیا؟ اس کے متعلق بہت سی احادیث روایت ہوئی ہیں، انہی میں سے ایک روایت ہے کہ بعض صحابہؓ جن میں عثمان بن مظعونؓ بھی تھے اور عبد اللہ بن عمرؓ بھی، انہوں نے آپس میں گفتگو کی کہ رسول اللہؐ کی گھر سے باہر کی زندگی تو ہمارے سامنے ہے لیکن گھر کی چار دیواری کے اندر حضورؐ کے معمولات کیا ہوتے ہیں یہ ہمارے علم میں نہیں ہیں۔ حضورؐ کی گھریلو زندگی ہماری نظروں سے اوجھل ہے چنانچہ ہمیں اس کے متعلق معلوم کرنا چاہیے اور پھر اپنے گھروں میں اس کی پیروی کرنی چاہیے۔ اب حضورؐ کی گھر کے اندر کی زندگی تو ازواجِ مطہرات ہی جانتی تھیں اس لیے وہی اس کے متعلق بہتر راہنمائی کر سکتی تھیں۔ چنانچہ اِن اصحاب نے آپس میں مشورہ کیا کہ ازواجِ مطہرات کی خدمت میں جاتے ہیں اور جا کر اس بارے میں پوچھتے ہیں۔ اس کے لیے طریقہ یہ ہوتا تھا کہ جا کر دروازہ کھٹکھٹایا جاتا تھا اور بتایا جاتا تھا کہ ہم فلاں لوگ ہیں اور اس مقصد سے آئے ہیں، اس پر ازواج مطہرات حسب ضرورت اندر سے جواب دے دیتی تھیں۔ چنانچہ یہ اصحاب مل کر جناب نبی کریمؐ کی ایک زوجہ کے دروازے پر گئے اور عرض کیا کہ ام المؤمنین ہم فلاں لوگ ہیں اور آپ سے یہ بات معلوم کرنے آئے ہیں کہ حضورؐ کے گھر کی چاردیواری کے اندر کیا معمولات ہوتے ہیں۔ ام المؤمنین نے بتایا کہ حضورؐ کے گھر کے معمولات ویسے ہی ہوتے ہیں جیسے دوسرے لوگوں کے ہوتے ہیں۔ کھانے کا وقت ہو تو کھانا کھاتے ہیں، گھر کا کوئی کام کاج ہو تو وہ کر دیتے ہیں، کوئی سودا وغیرہ منگوانا ہو تو وہ منگوا دیتے ہیں، ہمارا حال احوال پوچھتے ہیں، ہمارے ساتھ گپ شپ بھی کرتے ہیں، گھر کی کسی چیز کی مرمت کرنی ہو تو وہ بھی کر دیتے ہیں، کوئی جوتا گانٹھنا ہو تو گانٹھ دیتے ہیں، چارپائی سیدھی کرنی ہو تو کر دیتے ہیں، کسی کام میں ہمارا ہاتھ بٹانے کی ضرورت ہو تو ہاتھ بٹا دیتے ہیں۔ الغرض حضورؐ کے معمولات دوسرے لوگوں جیسے ہی ہوتے ہیں۔

ان اصحاب نے ایک زوجہ سے پوچھا پھر دوسری سے پوچھا پھر تیسری سے پوچھا۔ اسی طرح چند ازواجِ مطہرات سے پوچھنے کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ سب کا جواب ایک جیسا ہی تھا۔ اس کے بعد ان لوگوں نے آپس میں بیٹھ کر بات کی کہ ہم نے جو سوچا تھا ویسی بات تو سامنے نہیں آئی، حضورؐ کی گھر کی زندگی تو عام معمول کے مطابق ہے اس میں کوئی بہت زیادہ خاص بات نظر نہیں آتی۔ کأنہم تقالّوھا گویا انہوں نے اسے اپنے تصور سے کم پایا۔ ان حضرات کا شاید یہ خیال تھا کہ حضورؐ گھر پہنچتے ہی مصلیٰ پر کھڑے ہو جاتے ہوں گے، لگاتار عبادات میں مصروف رہتے ہوں گا ، پھر مصلیٰ سے اٹھ کر باہر آجاتے ہوں گے، لیکن حضورؐ کے گھریلو معمولات ان کی توقعات سے برعکس نکلے۔ اس پر انہوں نے خود ہی ایک توجیہ کر لی کہ حضورؐ چونکہ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر ہیں، معصوم ہیں اور اللہ تعالیٰ کے محبوب ہیں اس لیے حضورؐ کو ضرورت بھی نہیں ہے کہ وہ لمبی چوڑی عبادت کریں۔ اس سے انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اللہ تعالیٰ کی بہت زیادہ عبادت کی ضرورت تو ہم امتیوں کو ہے۔ اِن روز مرہ کے معمولات سے ہمارا کام نہیں بنے گا ہمیں تو بہت زیادہ محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ پھر انہوں نے اپنے اپنے ذوق کے مطابق اپنے لیے عبادت کے اعمال تجویز کیے۔ ایک نے کہا کہ میں ساری زندگی شادی نہیں کروں گا اور مجرد زندگی گزاروں گا تاکہ زیادہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی بندگی کر سکوں۔ دوسرے نے کہا کہ میں ساری زندگی رات بھر نہیں سوؤں گا اور اللہ اللہ کیا کروں گا۔ تیسرے نے کہا کہ میں ساری زندگی بلاناغہ روزے رکھوں گا۔

جناب نبی کریمؐ کو ان اصحاب کے بارے میں معلوم ہوا تو آپؐ نے انہیں بلا لیا اور ان سے کہا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم لوگوں نے آپس میں یہ یہ حلف اٹھائے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے سارا قصہ سنایا کہ یوں ہم نے ازواجِ مطہرات سے آپؐ کے گھریلو معمولات کا پتہ چلایا اور پھر اپنے لیے یہ اعمال تجویز کیے۔ اس پر رسول اللہؐ ناراض ہوئے۔ فرمایا انا اخوفکم باللّٰہ واتقٰکم بہ کہ میں خدا کا خوف بھی تم سے زیادہ رکھتا ہوں اور تقویٰ بھی۔

نکاح، سنت نبویؐ

آپؐ نے فرمایا کہ میں نے شادیاں بھی کیں، میری اولاد بھی ہے، روزے بھی رکھتا ہوں ، کھاتا پیتا بھی ہوں اور لوگوں کے ساتھ سودا وغیرہ بھی کرتا ہوں۔ یعنی آپؐ نے فرمایا کہ میں ضروریاتِ زندگی کے سارے کام کرتا ہوں۔ آپؐ نے اس موقع پر وہ جملہ ارشاد فرمایا جو ہم عام طور پر نکاح کے خطبہ میں پڑھتے ہیں النکاح من سنتی فمن رغب عن سنتی فلیس منی کہ نکاح میری سنت ہے جس نے میری سنت سے اعراض کیا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جناب نبی کریمؐ گھر کے معاملات میں دلچسپی رکھتے تھے کہ آدمی جب گھر آباد کرتا ہے تو گھر کی ضروریات کا خیال بھی کرتا ہے۔ نیکی اس کا نام نہیں ہے کہ بندہ گھر کے کام کاج اور ضروریات کو نظر انداز کر کے یہ کہے کہ میں صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کروں گا بلکہ ضروریاتِ زندگی کا خیال رکھنا اور گھریلو ذمہ داریاں پوری کرنا بھی نیکی ہے۔ اسی لیے جناب نبی کریمؐ نے گھر کے معمول کے کاموں کے ساتھ ساتھ گھر کے اندر نیکی کا ماحول بھی پیدا کیا تھا اور آپؐ اس ماحول کو قائم بھی رکھتے تھے۔ ایک طرف گھر کی ضروریات، گھر کے مسائل اور گھر کے تقاضے ہیں جنہیں نظر انداز کرنا درست نہیں ہے اس لیے کہ ضروریات زندگی کو پورا کرنا بھی دین کا حصہ ہے۔ دوسری طرف یہ بات بھی درست نہیں ہے کہ آدمی گھر کی ضروریات میں ہی الجھ کر رہ جائے کہ گھر میں دین کا اور عبادات کا ماحول ہی باقی نہ رہے۔ چنانچہ نبی کریمؐ کا معمول یہ تھا کہ آپؐ فرض نماز مسجد میں پڑھا کرتے تھے جبکہ نوافل اور سنتیں زیادہ تر گھر میں پڑھتے تھے۔

نبی کریمؐ کا رات کی عبادت کا معمول

جناب رسول اللہؐ کی رات کی عبادت تو معروف ہے جو آپؐ کی ازواج مطہرات سے مروی ہے۔ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رات کا ایک حصہ حضورؐ کی عبادت کا ہوا کرتا تھا۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپؐ عشاء کے بعد جلد سو جاتے تھے اور نصف لیل تک آرام کرتے تھے، پھر جاگ کر ثلث لیل عبادت کیا کرتے تھے اور اس کے بعد پھر سدس لیل آرام کیا کرتے تھے۔ یعنی رات اگر چھ گھنٹوں کی ہو تو تین گھنٹے آپؐ آرام فرماتے تھے پھر دو گھنٹے عبادت فرماتے تھے اور اس کے بعد ایک گھنٹہ پھر آرام فرماتے تھے۔ یہ ام المؤمنین حضرت عائشہؓ نے رسول اللہؐ کی رات کا معمول بتایا۔ جناب نبی کریمؐ کی رات کی عبادت کیا ہوتی تھی اس کے متعلق حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپؐ نماز کے قیام میں قرآن کریم کی تلاوت فرمایا کرتے تھے، یہی تہجد کی نماز کہلاتی ہے۔ یہ تہجد بھی ہوتا تھا اور قرآن کریم کی تلاوت بھی ہوتی تھی۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا فَاقْرَءُ وْا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْآن (سورۃ المزمل: ۲۰) کہ پس پڑھو جتنا قرآن میں سے آسان ہو۔

ابتداء میں زیادہ تر سورتوں کے حساب سے تلاوت کی جاتی تھی، کبھی سورۃ البقرہ پڑھ لی کبھی سورۃ آل عمران پڑھ لی کبھی سورۃ الانبیاء پڑھ لی۔ ام المؤمنین حضرت عائشہؓ اور ام المؤمنین حضرت سلمہؓ دونوں فرماتی ہیں کہ بسا اوقات ایسا ہوتا تھا کہ کھڑے کھڑے حضورؐ کی ٹانگیں سوج جاتی تھیں اور پاؤں پر ورم آجاتا تھا۔ کبھی کبھار تو ایڑیاں پھٹ جاتی تھیں اور ان میں سے خون رسنے لگتا تھا۔ فرماتی ہیں کہ ہمیں جناب رسول اللہؐ پر ترس آتا تھا کہ حضورؐ اس مشقت کی کیفیت میں عبادت فرما رہے ہیں، یہ بات حضرت ام سلمہؓ اور حضرت عائشہؓ دونوں نے اپنے اپنے انداز سے حضورؐ سے پوچھی کہ آپؐ یہ مشقت کیوں فرماتے ہیں۔ حضرت عائشہؓ نے پوچھا کہ یا رسول اللہؐ ! کیا آپؐ اللہ کے پیغمبر نہیں ہیں؟ فرمایا ہاں پیغمبر ہوں۔ پھر پوچھا کیا آپؐ اللہ کے حبیب نہیں ہیں۔ فرمایا ہاں میں اللہ کا حبیب ہوں۔ پھر پوچھا کیا جنت آپ کے لیے واجب نہیں ہے؟ فرمایا ہاں جنت میرے لیے واجب ہے۔ پھر پوچھا اس سب کے باوجود آپ اتنی زیادہ مشقت کیوں کرتے ہیں کہ آپؐ کی ٹانگیں سوج جاتی ہیں، پاؤں میں ورم آجاتے ہیں، ایڑیاں پھٹ جاتی ہیں ان میں سے خون رسنے لگتا ہے اور ہم دیکھنے والوں کو آپؐ پر ترس آتا ہے کہ حضورؐ کس مشقت میں پڑے ہوئے ہیں۔ جناب نبی کریمؐ نے اس کے جواب میں ایک جملہ کہہ کر ایک مسئلہ سمجھا دیا افلا اکون عبدًا شکورا کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟

حضرات صوفیائے عظام کا اپنا انداز ہوتا ہے بات کو کہنے کا۔ وہ اس کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ حضورؐ نے اس جملے میں ایک بنیادی بات سمجھائی ہے۔ حضرت عائشہؓ کے سوال کا مطلب یہ تھا کہ انسان مشقت کسی نہ کسی چیز کی طلب میں کرتا ہے۔ نماز پڑھنا روزہ رکھنا حج کرنا زکوٰۃ دینا اور دیگر عبادات کرنا تا کہ اللہ تعالیٰ سے ان کے بدلے میں انعامات ملیں۔ ہمارے ہاں بعض لوگ یہ بات بھی کر دیتے ہیں کہ بھئی ہم نے تو اللہ کی بہت عبادت کی بہت نمازیں پڑھیں لیکن اس کے بدلے میں ہمیں ملا تو کچھ بھی نہیں ہے۔ چنانچہ جناب رسول اللہؐ نے اس ذہن کی نفی کی۔ آپؐ نے فرمایا کہ عائشہ! اگر اللہ تعالیٰ کے مجھ پر احسانات زیادہ ہیں تو کیا میں اللہ تعالیٰ کا شکر بھی زیادہ نہ ادا کروں؟ گویا یہ جو مشقت اٹھا رہا ہوں یہ پچھلے احسانات کا شکرانہ ہے۔ اگر ہم اس بارے میں تصور کریں کہ اللہ تعالیٰ کے ہم پر کتنے احسانات ہیں کیا ان میں سے کسی ایک احسان پر بھی ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر سکتے ہیں؟ ہماری ساری عبادات اگر پچھلے احسانات کے شکرانے میں قبول ہو جائیں تو غنیمت ہے۔ چنانچہ جناب نبی کریمؐ کا اپنے گھر میں عبادت کا معمول تھا، حضورؐ کی رات کی عبادت اپنی جگہ پر تھی لیکن آپؐ دن میں بھی نفل اور سنت نماز گھر پر پڑھتے تھے۔ آپؐ نے گھر پر نماز پڑھنے کی ترغیب بھی دی۔

گھروں میں نماز پڑھنے کی ترغیب

مسلم شریف کی روایت ہے کہ جناب نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا صلوا فی بیوتکم ولا تجعلوھا قبوراً کہ اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو اور انہیں قبرستان نہ بناؤ۔ علماء کرام فرماتے ہیں کہ جس گھر میں نماز نہیں ہوتی وہ دراصل قبرستان ہی ہے، جس گھر میں اللہ تعالیٰ کی عبادت نہیں ہوتی وہ روحانی طور پر مردہ انسانوں کا گھر ہے۔ آباد گھر وہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی عبادت ہوتی ہے۔ گھر میں نماز پڑھنے کا سب سے بڑا فائدہ تو یہ ہے کہ اس سے رحمت کے فرشتے آتے ہیں جو گھر میں برکت کا ماحول پیدا کرتے ہیں۔ آج کے دور میں ہمیں اپنے گھروں کے ماحول کے متعلق بہت تشویش ہوتی ہے، عام طور پر لوگ شکایت کرتے ہیں کہ گھروں میں برکت نہیں رہی نحوست کا ماحول ہے، کسی نے کاروبار میں رکاوٹ ڈال دی، کسی نے رشتوں میں رکاوٹ ڈال دی اور یہ کہ کسی نے کوئی جادو ٹونہ وغیرہ کر دیا ہے۔ جادو کے اثرات سے انکار نہیں ہے لیکن اس بات کو ہم نے اپنے اعتقاد میں بہت زیادہ جگہ دے دی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اگر ہم گھر میں رحمت کا ماحول پیدا کریں گے تو رحمت آئے گی لیکن اگر اس کے برعکس لعنت والے کاموں کا ماحول پیدا کریں گے تو لعنت آئے گی۔

میں اس کی مثال پیش کیا کرتا ہوں کہ گھر میں اگر صفائی ہو گی تو خوشبو ہوگی لیکن گھر میں اگر گندگی ہوگی تو بدبو کا ماحول ہوگا۔ اگر گھر میں باغیچہ ہوگا تو تتلیاں اور بلبلیں آئیں گی لیکن اس کے برعکس گھر کے صحن میں گندگی پڑی ہو گی تو اس میں کیڑے مکوڑے پیدا ہوں گے اور اس پر مکھیاں و مچھر آئیں گے۔ اسی طرح اگر گھر میں نماز کا اور قرآن کریم کی تلاوت کا ماحول ہوگا تو اللہ کی رحمت کے فرشتے آئیں گے اور برکات نازل ہوں گی لیکن آج کل جو کچھ ہمارے گھروں میں ہوتا ہے اس کی دلچسپی والی مخلوق بھی دنیا میں موجود ہے، ہم اپنے گھروں کے ماحول سے شیطانی مخلوق کو دعوت دیں گے تو پھر لازمی بات ہے کہ وہ اپنے اثرات بھی چھوڑ کر جائیں گے۔ یہ اثرات نحوست، بے برکتی اور بے چینی کی صورت میں ہوتے ہیں۔گھر کا ماحول بنانا گھر کے مکینوں کی ذمہ داری ہے۔ اس لیے حضورؐ کے اس فرمان صلوا فی بیوتکم پر عمل کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سے رحمت کے فرشتے گھروں میں آتے ہیں اور جہاں اللہ کی رحمت کے فرشتے آتے ہیں وہاں شیطانی مخلوق کا داخلہ ممنوع ہو جاتا ہے۔

دوسرا بڑا فائدہ اس کا محدثین یہ بیان فرماتے ہیں کہ جب گھر میں نماز کا ماحول ہوگا تو پھر گھر کے بچوں کو اور دیگر افراد کو نماز کے لیے کہنے کی ضرورت نہیں پڑے گی بلکہ وہ خود اس ماحول کے اثرات سے نمازیں پڑھیں گے۔ یوں گھروں میں نماز پڑھنے سے تربیت کا ماحول پیدا ہوگا کہ بچے ماحول کے اثرات کو بہت تیزی کے ساتھ قبول کرتے ہیں۔جناب رسول اللہؐ نے گھر کے معمولات کو اپنی جگہ برقرار رکھا اور ضروریاتِ زندگی کو نظر انداز نہیں کیا لیکن اس کے ساتھ آپؐ نے گھر میں نماز کا اور قرآن کریم کی تلاوت کا ماحول بھی رکھا۔ چنانچہ امہات المؤمنین یہ بات فرماتی ہیں کہ جناب نبی کریمؐ گھر کے ماحول میں جہاں گھر کی ضروریات اور تقاضوں کا لحاظ رکھتے تھے وہاں گھر میں دینی ماحول بھی قائم رکھتے تھے۔

گھر میں دینی ماحول، گھر کے سربراہ کی ذمہ داری

جناب رسول اللہؐ کی تعلیمات کی رو سے گھر کے اندر دینداری کا ماحول پیدا کرنا گھر کے سربراہ کی ذمہ داری ہے۔ آپؐ نے فرمایا کلکم راع وکلکم مسؤل عن رعیتہ کہ تم میں سے ہر ایک راعی ہے اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی رعیت کے متعلق پوچھا جائے گا۔ راعی چرواہے کو کہتے ہیں۔ ایک روایت میں حضورؐ نے خود اس کی تشریح فرمائی کہ چرواہے کی ذمہ داری کیا ہوتی ہے، فرمایا کہ چرواہے کی پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنی بکریوں اور بھیڑوں کو اچھی چراگاہ میں لے کر جائے کہ وہ اچھی غذا کھا سکیں، انہیں اچھے چشمے پر لے جائے کہ انہیں پینے کے لیے صاف پانی میسر ہو اور انہیں موسمی اثرات سے اور دشمن سے بچائے۔ پھر جناب رسول اللہؐ نے فرمایاکہ بھیڑ بکری کا دشمن بھیڑیا ہے جبکہ انسان کا دشمن شیطان ہے۔ یوں گھر کے سربراہ کی بھی یہی ذمہ داری ہے کہ ضروریاتِ زندگی مہیا کرے، یعنی خوراک، تعلیم، لباس، رہائش وغیرہ اور اس کے ساتھ شیطان کے نرغے سے اپنی اولاد کو بچانا بھی اس کی ذمہ داری ہے۔ گھر کی عورت کے متعلق آپؐ نے فرمایا والمراء ۃ راعیۃ فی بیت زوجہا کہ عورت اپنے خاوند کے گھر کی نگہبان ہے۔ یعنی مرد گھر سے باہر کے کاموں کا ذمہ دار ہے جبکہ عورت گھر کے اندر کے معاملات کی ذمہ دار ہے۔ آپ نے فرمایا کلکم مسؤل عن رعیتہ کہ ہر ایک سے اس کی رعیت کے متعلق پوچھا جائے گا۔قیامت کے دن ہر ایک سے پوچھا جائے گا کہ یہ معاملہ تمہارے سپرد کیا گیا تھا تم نے یہ ذمہ داری کس طرح نبھائی۔ مرد و عورت دونوں اپنے اپنے دائروں کے اندر معاملات کے ذمہ دار ہیں، ہر ایک سے اس کے اختیار کے مطابق اس کی ذمہ داریوں کے متعلق باز پرس ہوگی۔

رمضان المبارک میں حضورؐ کا معمول

ایک روایت میں آتا ہے کہ جب رمضان المباک کا آخری عشرہ آتا تھا تو أحیی لیلہ وشد مئزرہ وأیقظ أھلہ۔ کمر باندھنا ایک محاورہ ہے۔ یعنی حضورؐ رمضان کے آخری عشرے میں نماز، روزہ اور عبادات کے لیے کمر کس لیتے تھے۔ دوسرا یہ کہ آپ رات کو زندہ کرتے تھے یعنی عام دنوں میں آپؐ رات کا تیسرا حصہ عبادت کرتے تھے جبکہ رمضان میں ساری رات عبادت فرمایا کرتے تھے۔ تیسرا جملہ یہ ہے کہ اکیلے نہیں بلکہ گھر والوں کو بھی عبادت کے لیے بیدار کیا کرتے تھے۔ محدثین فرماتے ہیں کہ حضورؐ گھر والوں کو ترغیب بھی دیتے تھے اور اس پر کچھ سختی بھی فرمایا کرتے تھے۔ ایک روایت میں ہے کہ رمضان کی ایک رات میں حضورؐ عبادت کر رہے تھے کہ اچانک فرمایا دیکھو اللہ کی کتنی انوار و برکات نازل ہو رہی ہیں، کوئی جا کر اِن حجرے والیوں کو بھی جگائے کہ اللہ کی بندیو ! اللہ کی رحمتیں بانٹی جا رہی ہیں، اٹھو اور اللہ کی ان رحمتوں اور برکتوں سے اپنا حصہ وصول کرو۔

حضرت انس بن مالکؓ حضورؐ کے ذاتی خادم تھے۔ جب حضورؐ ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو حضرت انس بن مالکؓ دس سال کے تھے۔ ان کی والدہ بہت سمجھدار خاتون تھیں وہ حضرت انسؓ کو حضورؐ کی خدمت میں لے کر آئیں اور کہاکہ یا رسول اللہؐ میرے پاس اور تو کچھ نہیں ہے لیکن یہ میرا بیٹا آپ کی خدمت کے لیے وقف ہے۔ حضرت انسؓ نے دس سال تک حضورؐ کی خدمت میں صرف کیے، آپؐ کے وصال کے وقت ان کی عمر بیس سال تھی۔ حجاب کے احکامات تک تو ان کا حضورؐ کے گھر میں آنا جانا تھا لیکن بعد میں پردے کا لحاظ رکھ کر خدمت بجا لاتے تھے۔ ایک روایت میں حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ جناب نبی کریمؐ نے زندگی بھر کسی عورت پر، کسی بچے پر اور کسی خادم پر ہاتھ نہیں اٹھایا۔ گھر کے کام کاج کا کوئی نقصان ہو جاتا کوئی برتن ٹوٹ جاتا کوئی چیز ضائع ہو جاتی تو حضورؐ نے اس پر کبھی ڈانٹا نہیں۔ البتہ دینی کاموں میں کمی و کوتاہی پر حضورؐ سختی فرمایا کرتے تھے۔

جناب نبی کریمؐ کے گھر کے ماحول کے متعلق ازواجِ مطہرات نے تفصیل سے ذکر فرمایا ہے۔ میں نے اصولی طور پر یہ بات عرض کی ہے کہ گھر کے ماحول کے بارے میں جناب نبی کریمؐ نے دونوں باتوں کی طرف بیک وقت تلقین فرمائی ہے کہ سب کے حقوق بھی بوقت ضرورت ادا کرنے ضروری ہیں اور اللہ کے ساتھ تعلق برقرار رکھنا بھی لازمی ہے۔ جناب نبی کریمؐ نے ان دونوں معاملات کے درمیان توازن قائم کر کے اپنی امت کے لیے ایک عملی نمونہ پیش کیا۔ جناب نبی کریمؐ کی سیرت طیبہ کے حوالے سے آپؐ کی گھریلو زندگی کی ایک جھلک میں نے آپ سامنے پیش کی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو جناب رسول اللہؐ کے اسوہ کی پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین یا رب العالمین۔

درجہ بندی: