حضرت مولانا عبد الرحمٰنؒ اشرفی

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۵ جنوری ۲۰۱۱ء

حضرت مولانا عبد الرحمٰنؒ اشرفی بھی عالم آخرت کو سدھار گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ کافی دنوں سے ان کی علالت میں شدت کی خبریں آرہی تھیں اور ہر وقت دل میں دھڑکا سا لگا رہتا تھا۔ گزشتہ روز ظہر کے بعد الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں بیٹھا کام کر رہا تھا کہ مسلک اور اکابر کے پروانے شیخ عبد الستار قادری نے فون پر انا للہ وانا الیہ راجعون کا ورد کرتے ہوئے خبر دی کہ حضرت مولانا عبد الرحمٰنؒ اشرفی انتقال کر گئے ہیں۔

مولانا عبد الرحمٰنؒ اشرفی حضرت مولانا مفتی محمد حسن قدس اللہ سرہ العزیز کے فرزند اور ان کے علم و فضل اور روایات کے امین تھے۔ اس خاندان کا تعلق واہ کینٹ کے قریب ایک گاؤں مل پور سے تھا اور حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ کے والد ماجد مولانا اللہ داد اپنے علاقے کے بزرگ عالم دین تھے۔ حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ نے ابتدائی تعلیم کا کچھ دور ڈھینڈہ ہری پور میں گزارا لیکن ان کے استاذ مولانا محمد معصوم جب مدرسہ غزنویہ کے مدرس بن کر امرتسر آئے تو مفتی صاحبؒ بھی ایک شاگرد کے طور پر ان کے ساتھ تھے اور یوں واہ سے وہ امرتسر منتقل ہوگئے۔ امرتسر میں انہوں نے اپنے وقت کے بڑے علمائے کرام سے، جن میں مولانا محمد عبد اللہ غزنویؒ اور مولانا غلام مصطفیٰ قاسمیؒ بھی شامل ہیں، دینی تعلیم حاصل کی۔ دورۂ حدیث دارالعلوم دیوبند میں علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ سے کیا۔ جبکہ سلوک و تصوف میں حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ سے فیض یاب ہو کر ان کے ممتاز خلفائے کرام میں شما رہوئے اور ایک عرصہ تک امرتسر میں دینی علوم کی تدریس کے فرائض سر انجام دیتے رہے۔ قیام پاکستان کے بعد جب وہ ہجرت کر کے لاہور آئے تو نیلا گنبد کی ایک عمارت میں جامعہ اشرفیہ کے نام سے دینی درسگاہ قائم کی جو آج ملک کے چند مرکزی اور اہم دینی جامعات میں شمار ہوتی ہے اور اس کا فیض نہ صرف پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، اور جنوبی ایشیا کے دوسرے بہت سے ممالک میں عام ہے بلکہ جامعہ اشرفیہ لاہور کے فیض یافتہ دنیا کے مختلف حصوں میں دینی، تعلیمی، اور روحانی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

حضرت مفتی صاحبؒ کا تعلق اس جمعیۃ علمائے اسلام سے تھا جس نے تحریک پاکستان میں مسلم لیگ کا بھرپور ساتھ دیا اور پاکستان کے قیام کی جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا۔ لاہور میں منتقل ہونے کے بعد انہیں حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ اور حضرت مولانا سید داؤد غزنویؒ کی رفاقت عوامی محاذ پر، جبکہ حضرت مولانا رسول خان ہزارویؒ، حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ، اور حضرت مولانا مفتی جمیل احمد تھانویؒ کی رفاقت علمی اور تعلیمی محاذ پر حاصل رہی۔ اور وقت کے ان بڑے اکابر کے باہمی ربط اور رفاقت نے لاہور کو دینی جدوجہد کا مرکز بنا دیا۔

قیام پاکستان سے قبل حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کا تعلق حضرت حسین احمدؒ مدنی کی جمعیۃ علمائے ہند سے جبکہ حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ کا تعلق حضرت مولانا شبیر احمدؒ عثمانی کی جمعیۃ علمائے اسلام سے تھا۔ اور حضرت مولانا سید محمد داؤد غزنوی ممتاز احرار راہنماؤں میں شمار ہوتے تھے مگر قیام پاکستان کے تھوڑا عرصہ پہلے انہوں نے تحریک پاکستان میں مسلم لیگ کی حمایت کا اعلان کر دیا تھا۔ لیکن سیاسی جدوجہد کے دائرے مختلف ہونے کے باوجود قیام پاکستان کے بعد لاہور میں ان تینوں بزرگوں کی باہمی رفاقت ضرب المثل کا درجہ حاصل کر گئی تھی۔ تمام اہم دینی معاملات میں یہ تینوں بزرگ اکٹھے ہوتے تھے، باہمی مشورے سے معاملات طے کرتے تھے، اور دینی جدوجہد میں اہل لاہور اور ان کی وساطت سے اہل پاکستان کی مشترکہ راہنمائی کرتے تھے۔ ان کی رفاقت و محبت کا اندازہ اس سے کیجیے کہ مولانا سید محمد داؤد غزنویؒ جو ممتاز اہل حدیث بزرگ تھے اور پاکستان میں جمعیۃ اہل حدیث کے مرکزی امیر تھے، وہ عید کی نماز منٹو پارک (مینار پاکستان) کی گراؤنڈ میں پڑھاتے تھے، جب تک وہ زندہ رہے حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ نے شیرانوالہ میں عید کی نماز کا اہتمام نہیں کیا بلکہ وہ مولانا داؤد غزنویؒ کی امامت میں عید کی نماز منٹو پارک میں ادا کیا کرتے تھے۔

حضرت علامہ شبیر احمدؒ عثمانی کی وفات کے بعد جمعیۃ علمائے اسلام کو ازسرنو منظم کرنے کا پروگرام بنا تو اس میں مرکزی کردار حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ کا تھا اور ایک مرحلے میں وہ جمعیۃ کے صدر بھی رہے۔ پھر ایک دور میں مولانا احمد علی لاہوریؒ اور مولانا مفتی محمد حسنؒ کی کوششوں سے جمعیۃ کے دونوں حلقوں یعنی معروف معنوں میں مدنی گروپ اور تھانوی گروپ کہلانے والے علمائے کرام نے مشترکہ طور پر جمعیۃ علمائے اسلام کو منظم و متحرک کرنے کا سلسلہ شروع کیا جس میں بہت سے دیگر علمائے کرام بھی دونوں طرف سے ان کے شریک کار تھے۔

یہ سارا پس منظر عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ حضرت مولانا عبد الرحمٰن اشرفی اپنے عظیم والد کی انہی روایات کو لے کر آگےبڑھتے رہے۔ ۱۹۶۱ء میں حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ کا انتقال ہوا تو ان کے بعد جامعہ اشرفیہ کے مہتمم حضرت مولانا عبید اللہ مدظلہ اور نائب مہتمم حضرت مولانا عبد الرحمٰنؒ اشرفی بنے۔ مگر حضرت مولانا عبید اللہ مدظلہ نے گوشہ نشینی اور تعلیمی و روحانی خدمات پر ہی قناعت کر لی ورنہ ان کے علمی تبحر، روحانی عظمت، اور بصیرت و فراست پر نظر رکھنے والے حضرات اس بات کی شہادت دیں گے کہ وہ اگر عملی سیاست اور دینی جدوجہد کے میدان میں نکلتے تو گزشتہ نصف صدی کے اکابر راہنماؤں میں شاید ہی کوئی ان کے ہم پلہ ثابت ہوتا۔ مگر وہ مکمل گوشہ نشینی اور خاموشی کے ساتھ تعلیمی و روحانی ماحول میں اب تک مگن ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کا سایہ تادیر ہمارے سروں پر سلامت رکھیں اور ہمیں ان کے فیوض سے مستفید ہونے کا موقع دیں، آمین یا رب العالمین۔

علمی جدوجہد اور عوامی رابطے کے محاذ پر یہ خلاء حضرت مولانا عبد الرحمٰنؒ اشرفی اور حضرت مولانا حافظ فضل الرحیم زید مجدہم نے پورا کیا اور ان دونوں بھائیوں کا دینی جدوجہد کے مختلف شعبوں میں مسلسل کردار چلا آرہا ہے۔ مولانا عبدا لرحمٰنؒ اشرفی بلند پایہ مدرس و خطیب تھے اور جامعہ اشرفیہ میں ان کا خطبہ جمعہ ہر طبقے کے لوگوں کے لیے باعث کشش اور ذریعہ فیض ہوتا تھا۔ نکتہ رسی، ہر بات کی اچھی توجیہ، اور مختلف و متعارض باتوں میں تطبیق میں وہ ید طولیٰ رکھتے اور یہی ان کا سب سے بڑا حسن و کمال تھا۔ مختلف مسالک کے علمائے کرام کے ساتھ تعلق اور اختلافی مسائل میں تطبیق اور توجیہ ان کا خصوصی ذوق تھا، بعض علمائے کرام کو ان کے اس ذوق پر تحفظات بھی ہوتے تھے مگر وہ اس سلسلے میں ہر بات اور اعتراض کو خوبصورت مسکراہٹ کے ساتھ ٹال دیتے تھے اور اپنے ذوق میں مگن رہتے تھے۔ جبکہ تعلیمی میدان میں ہزاروں علمائے کرام نے ان کی شاگردی کی سعادت حاصل کی۔ ان کی نکتہ رسی کے کمال کی وجہ سے چند دوستوں نے انہیں ’’ابوالنکات‘‘ کا خطاب دے رکھا تھا اور ان کے بیان کردہ بہت سے نکات کا تذکرہ کر کے ہم محظوظ ہوا کرتے تھے۔

حضرت مولانا عبید اللہ مدظلہ کے ساتھ تو میں نے کبھی بے تکلف ہونے کا نہیں سوچا کہ جب سے انہوں نے مجھے مدرسہ نصرۃا لعلوم کے سالانہ امتحان میں قطبی (علم منطق کی ایک درسی کتاب) میں فیل کیا، اس کے بعد سے ہمیشہ ڈر ہی لگتا رہا اور کہیں ملاقات کا موقع ملتا ہے تو زیارت، مصافحہ، اور دعا میں شریک ہونے کی سعادت پر ہی اکتفا کرتا ہوں۔ مگر حضرت مولانا عبد الرحمٰنؒ اشرفی اور حضرت مولانا فضل الرحیم اشرفی زید مجدہم کے ساتھ بے تکلفی رہی ہے۔ دل لگی کی بات وہ بھی کر لیتے تھے اور میں بھی کسی مناسب موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتا تھا۔ لیکن وقت گزر گیا ہے اور یادیں باقی رہ گئی ہیں جو نہ جانے کب تک ستاتی رہیں گی۔

حضرت مولانا عبد الرحمٰنؒ اشرفی کا وجود اس لحاظ سے بھی آج کے دور میں بسا غنیمت تھا کہ مختلف مسالک اور طبقات کے لوگ ان کے پاس بے تکلف آجایا کرتے تھے اور ان سے فیض یاب ہوتے تھے۔ وہ بھی بلا لحاظ مسلک و مشرب سب کو اپنی محبت و شفقت سے نوازتے تھے۔ المیہ یہ ہے کہ جوں جوں ہماری ’’قوت ہاضمہ‘‘ کمزور ہوتی جا رہی ہے، اس سطح کے بزرگوں کا دائرہ بھی سمٹ رہا ہے اور ہمارے حلقے میں اب ایسا کوئی بزرگ دور دور تک دکھائی نہیں دیتا جس کے پاس بلا لحاظ مسلک و مشرب او ربلا لحاظ طبقہ سب لوگ کسی حجاب کے بغیر آسکیں اور پھر بے تکلفی کے ماحول میں فیض یاب بھی ہوں۔ اس حوالے سے میرے نزدیک حضرت سید نفیس حسین شاہ صاحبؒ اور حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ کے وصال کے بعد حضرت مولانا عبد الرحمٰنؒ اشرفی کا وصال بہت بڑا صدمہ ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں بلند ترین مقام سے نوازیں اور ان کے ذوق و اسلوب کو ان کا کوئی اچھا سا جانشین عطا فرمادیں، آمین یا رب العالمین۔