نوابزادہ نصر اللہ خان، ایم آر ڈی اور مجلس تحفظ ختم نبوت

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۹ نومبر ۱۹۸۴ء
اصل عنوان: 
ایم آر ڈی کو اپنے مقاصد کے لیے مجلس تحفظ ختم نبوت کا اسٹیج استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی

مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے سیکرٹری اطلاعات مولانا زاہد الراشدی نے تحریک ختم نبوت کے مطالبات کے لیے نوابزادہ نصر اللہ خان کی طرف سے حمایت کی یقین دہانی کا خیرمقدم کیا ہے اور ایک بیان میں کہا ہے کہ تحریک ختم نبوت کے ۱۹۵۳ء اور ۱۹۷۴ء کے ادوار میں اس مقدس مشن کے ساتھ نوابزادہ موصوف کی پرجوش وابستگی اور خدمات کے باعث تحریک ختم نبوت کے راہنما اور کارکن ان کا بے حد احترام کرتے ہیں۔ لیکن اس ضمن میں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ تحریک ختم نبوت کے ساتھ نوابزادہ نصر اللہ خان کی ذاتی وابستگی اور شخصی خدمات کے سہارے ایم آر ڈی کو مرکزی مجلس عمل کا پلیٹ فارم اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

مولانا راشدی نے کہا کہ میں تحریک ختم نبوت میں ہم خیال سیاسی عناصر کی شمولیت کا پرجوش حامی ہوں لیکن اس شمولیت کا مقصد تحریک ختم نبوت کے لیے سیاسی قوتوں کی حمایت حاصل کرنا ہے، تحریک ختم نبوت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا نہیں۔ بالخصوص ایسے سیاسی عناصر کو مرکزی مجلس عمل کے پلیٹ فارم پر جگہ دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جو خود قادیانیت نوازی کا کھلے بندوں اظہار کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایم آر ڈی میں شامل چار جماعتوں کے ذمہ دار راہنما ملتِ اسلامیہ کے مجموعی موقف کے خلاف قادیانیوں کی حمایت کر چکے ہیں اور ایک جماعت نے تو اپنی مرکزی کمیٹی کی قرارداد کی صورت میں قادیانیوں کی حمایت میں پارٹی پالیسی کا واضح اعلان کر دیا ہے۔ اس لیے تحریک ختم نبوت کے لیے ایم آر ڈی کے لیڈروں کی حمایت کو اس وقت تک مخلصانہ قرار نہیں دیا جا سکتا جب تک ایم آر ڈی کی قیادت قادیانیوں کی حمایت کرنے والے لیڈروں او رجماعتوں کی قادیانیت نوازی کا نوٹس لے کر انہیں اس طرزِ عمل سے باز کرنے یا ایم آر ڈی سے نکالنے کا اعلان نہیں کرتے۔

مولانا زاہد الراشدی نے کہا کہ نوابزادہ نصر اللہ خان کی مسلمہ قومی شخصیت اور دینی و قومی تحریکات میں ان کے بے لوث کردار کے بے حد احترام کے باوجود اصولوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور میں بصد ادب ان سے گزارش کروں گا کہ وہ تحریک ختم نبوت کی مؤثر حمایت کے لیے پہلے مرحلہ میں ایم آر ڈی کے قادیانیت نواز لیڈروں اور جماعتوں کو قادیانیت نوازی ترک کرنے پر آمادہ کریں یا ان سے لاتعلقی کا اعلان کریں ورنہ محض زبانی حمایت تحریک ختم نبوت کو کوئی عملی فائدہ نہیں دے گی۔