سعودی عرب کی عمرہ پالیسی اور پاکستانی ایجنٹ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۱ ستمبر ۲۰۰۴ء

یہ سطور مدینہ منورہ میں بیٹھا لکھ رہا ہوں۔ ۱۹۹۸ء کے بعد چھ سال کے وقفے سے یہاں حاضری ہوئی ہے۔ ۱۹۸۴ء سے معمول تھا کہ ہر دوسرے یا تیسرے سال لندن سے واپسی پر حرمین شریفین کی حاضری کی سعادت حاصل ہو جایا کرتی تھی مگر سعودی عرب کی نئی عمرہ پالیسی کی وجہ سے اب یہ آسان نہیں رہا۔ پہلے لندن میں سعودی سفارت خانہ وزٹ پر برطانیہ آنے والوں کو واپسی پر سعودی ایئرلائن کے ذریعے سفر کی صورت میں عمرے کا ویزا دے دیا کرتا تھا اور میرے جیسے لوگ آسانی کے ساتھ شیڈول میں دو چار روز کا اضافہ کر کے عمرہ اور مدینہ منورہ حاضری کا شرف حاصل کر لیتے تھے۔ مگر جب سے ویزا اپنے ملک سے لے کر آنے اور عمرے کا ویزا گروپ کی شکل میں دینے کا نظم ہوا ہے یہ سہولت تقریباً ختم ہو کر رہ گئی ہے۔

اس بار لندن کا قصد کرتے ہوئے میں نے ٹریول ایجنٹ سے کہا کہ اگر سعودی ایئرلائن کے ٹکٹ میں براستہ جدہ ٹرانزٹ ویزے کی سہولت مل جائے تو میں اسے ترجیح دوں گا، ٹرویل ایجنٹ نے معلومات کر کے جواب دیا کہ عمرے کے کسی گروپ میں پانچ دن کا پیکیج مل سکتا ہے اور وہ آپ کے لیے بہتر رہے گا۔ میں نے ہاں کر دی اور مکہ مکرمہ میں کسی اعلیٰ ہوٹل کا تین دن کا کرایہ پیشگی ادا کرنے پر مجھے ویزا مل گیا۔ گیارہ ستمبر کو مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کا سالانہ جلسہ دستار بندی تھا جس کے بعد مدرسہ کی مصروفیات سے مجھے فراغت ملی اور ۱۳ ستمبر کو دوپہر بارہ بجے کی فلائٹ سے لاہور سے عازم جدہ ہوا۔

جدہ ایئرپورٹ پر اترا تو معلوم ہوا کہ مجھے جس گروپ کے ساتھ ویزا ملا ہے اسی کے ساتھ رہنا ہوگا۔ جس فرم کے ذریعے ہمارا ویزا لگا تھا ایئرپورٹ سے باہر نکلتے ہی اس فرم کے نمائندوں نے میرا پاسپورٹ اور ٹکٹ اپنی تحویل میں لے لیے اور مجھے انتظار کرنے کو کہا۔ ہال میں عمرہ کے لیے آنے والوں کا ہجوم تھا اور مختلف فرموں کے نمائندے اپنی اپنی سواریوں کو جمع کر رہے تھے۔ پتہ چلا کہ مکہ مکرمہ تک ٹرانسپورٹ کی سہولت ان کی طرف سے ہوگی اور وہ سب کو اپنے ساتھ لے کر جائیں گے۔ میرے جیسے ’’آزاد منش مسافر‘‘ کے لیے اس طرح چلنا مشکل تھا۔ میرے ہم زلف قاری محمد اسلم شہزاد اور چھوٹے بھائی قاری عزیز الرحمان شاہد جدہ میں رہتے ہیں، وہ مجھے لینے کے لیے ایئرپورٹ آئے ہوئے تھے اس لیے مجھے تسلی تھی کہ وہ مجھے اس نرغے سے نکالنے کی کوئی نہ کوئی سبیل پیدا کر لیں گے، چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ قاری محمد اسلم شہزاد نے ان صاحب سے بات کی جنہوں نے میرا پاسپورٹ اور ٹکٹ تحویل میں لیے تھے اور اپنا اقامہ دکھا کر اپنی ذمہ داری پر مجھے ان سے وصول کر لیا۔ انہوں نے پاسپورٹ تو دے دیا مگر ٹکٹ اپنی تحویل میں رکھ لیا اس طرح مجھے عمرہ گروپ کے نرغے سے رہائی ملی۔ رات بچوں کے ساتھ گزاری اور دوسرے دن مدینہ منورہ چلا آیا۔ میرا عام طور پر معمول ہے کہ عمرہ کے لیے آتا ہوں تو پہلے مدینہ منورہ حاضری دیتا ہوں پھر یہاں سے عمرہ کے لیے مکہ جاتا ہوں۔ یہاں پہنچا اور عمرے کے لیے آنے والے مختلف حضرات سے ملاقات ہوئی تو معلوم ہوا کہ میں نے عمرہ گروپ سے آزاد ہونے کا جو فیصلہ کیا وہ صحیح تھا، اس لیے کہ عمرہ کے لیے گروپ کی شکل میں ویزا دلوانے والوں کا طرز عمل اپنے ’’گاہکوں‘‘ کے ساتھ اس قدر پریشان کن ہوتا ہے کہ بہت سے دوست مسلسل اضطراب اور بے چینی میں ہی رہتے ہیں۔ مگر اس سے پہلے طیارے کے اندر پیش آنے والے ایک دلچسپ واقعہ کا تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔

لاہور سے جب میں طیارے پر سوار ہوا تو مجھے درمیان والی سیٹ ملی۔ ایک طرف ایک بھاری بھر کم بوڑھی خاتون تھیں اور دوسری طرف ایک ضعیف العمر بزرگ تھے جو تہبند اور پگڑی باندھے غالباً پہلی بار سفر کر رہے تھے۔ مجھے ذہنی طور پر اس صورتحال سے کچھ الجھن ہوئی۔ میں نے خاتون سے دریافت کیا کہ آپ کے ساتھ کوئی مرد نہیں ہے؟ انہوں نے کہا کہ میرے ساتھ میرا خاوند ہے مگر انہوں نے اسے آگے سیٹ دی ہے اور مجھے اس سیٹ پر بٹھا دیا ہے۔ میں نے سوچا کہ عملے سے بات کر کے سیٹ کا تبادلہ کرا لیتا ہوں، میں آگے چلا جاتا ہوں اور اس کے خاوند کو پیچھے اس کے ساتھ بھیج دیتا ہوں۔ مگر میں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ میرے ساتھ والے بزرگ اٹھے اور آگے جانے لگے اور مجھے کہا کہ میرے ساتھ بھی میری بھاوج اور اس کے لڑکے ہیں مگر ان کو سیٹیں آگے ملی ہیں، میں ذرا انہیں دیکھ آؤں۔ وہ ابھی اٹھے ہی تھے کہ ایک ایئرہوسٹس ان کی طرف لپکی اور انتہائی تحکمانہ انداز میں انہیں انگریزی میں کہا کہ ’’بیٹھ جاؤ‘‘۔ نوجوان لڑکی انگریزی میں گفتگو کر رہی تھی اور باباجی خالص پنجابی میں اس سے مخاطب تھے۔ ایئرہوسٹس کا لہجہ ایسا تحکمانہ اور تحقیر آمیز تھا جیسے کوئی جاگیردارنی اپنے کسی مزارع سے مخاطب ہو۔ باباجی نے بہت جتن کیے مگر اس خاتون نے انہیں اٹھنے ہی نہ دیا حالانکہ جہاز زمین پر کھڑا تھا اور اس کی پرواز میں ابھی پندرہ منٹ باقی تھے۔ یہ صورتحال دیکھ کر مجھے بات کرنے کا حوصلہ ہی نہیں ہوا اس طرح ساڑھے چار گھنٹے کا یہ فضائی سفر خلاف معمول بیدار اور محتاط رہتے ہوئے کرنا پڑا۔

مدینہ منورہ میں شام کو ایک پاکستانی ریسٹورنٹ میں چائے پی رہا تھا، میرے ساتھ والی میز پر ایک پاکستانی بزرگ ایک صاحب کے ساتھ جھگڑے کے انداز میں مخاطب تھے، میں نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ عمرہ پر گروپ کے ساتھ آئے ہیں اور جن صاحب سے جھگڑ رہے ہیں یہ گروپ ویزا لگوانے والی فرم کے فرد ہیں۔ ان صاحب کا کہنا تھا کہ ہمیں پاکستان میں جن سہولتوں کا کہا گیا تھا وہ نہیں مل رہیں اور آپ نے جو وعدے کیے تھے وہ پورے نہیں ہو رہے بلکہ آپ کے ساتھ مسلسل تین دن سے رابطے کی کوشش کر رہے ہیں جس کے بعد آپ دستیاب ہوئے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ آپ مجھ سے ملتے تو میں سارے انتظامات کر دیتا۔ شکایت کرنے والے صاحب کا کہنا تھا کہ آپ کو تلاش کرنے میں ہی تین دن لگ گئے ہیں اور اس کے لیے مجھے پاکستان میں طول فون کرنا پڑا ہے جس پر ساٹھ ریال خرچ ہوئے ہیں تب جا کر آپ سے ملاقات ہو سکی ہے۔ میں ان سے شکایات کی تفصیل تو نہ پوچھ سکا مگر اتنی گفتگو سے کچھ نہ کچھ اندازہ ہوگیا کہ گروپ کی شکل میں عمرے کے لیے آنے والوں کے ساتھ کیا بیت رہی ہے۔

اگلی صبح ایک دوست کے ہاں ناشتے پر ان کے ایک بزرگ سے ملاقات ہوئی جو میری طرح لندن جاتے ہوئے عمرے کے لیے رکے تھے اور گروپ کے ساتھ آئے تھے، وہ بھی ویزا لگوانے والی فرم کے طرز عمل سے بہت شاکی تھے۔ انہوں نے بتایا کہ پیکیج میں ان سے ’’قصر آسیا‘‘ کے کمرے کا کرایہ وصول کیا گیا ہے جو ان کے فارم میں درج ہے مگر انہیں ’’دار آسیا‘‘ میں ٹھہرایا گیا ہے۔ ان سے دونوں کے معیار کا فرق معلوم کیا تو پتہ چلا کہ قصر آسیا کے کمرے کا کرایہ ایک سو پچیس ریال یومیہ ہے جبکہ دار آسیا میں ایک کمرے کا کرایہ چالیس ریال یومیہ ہے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ میرے ساتھ فراڈ ہوا ہے مگر یہاں بات کروں گا تو کوئی شنوائی نہیں ہوگی، ممکن ہے اگلے سفر میں کوئی رکاوٹ پیدا ہو جائے اس لیے پاکستان واپس پہنچتے ہی اس سلسلہ میں کچھ کروں گا۔

یہ شکایات سن کر اندازہ ہوا کہ ہوٹل اور ٹرانسپورٹ کے پیشگی ادا کیے جانے والے کرائے سے دست برداری کا فیصلہ ٹھیک تھا اس لیے کہ حرمین شریفین میں کئی سالوں کے بعد جو دو چار روز میسر آئے وہ تو سکون سے گزر رہے ہیں ورنہ مذکورہ بزرگ کہہ رہے تھے کہ گزشتہ سال جب میں عمرے کے لیے آیا تو اس قدر پریشان ہوا تھا کہ ایک بار میرے منہ سے یہ جملہ بھی نکل گیا کہ میں آئندہ کبھی عمرہ نہیں کروں گا۔ انہی بزرگ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم بیت اللہ کے گرد اتنے چکر نہیں لگاتے جتنے ان لوگوں کے گرد لگانا پڑتے ہیں۔ مدینہ منورہ میں عرصے سے رہنے والے ایک پاکستانی دوست نے دورانِ گفتگو بتایا کہ اس قسم کی شکایات عام ہیں اور عمرہ کے لیے آنے والے بہت سے حضرات کو اسی طرح کی پریشانی اٹھانا پڑتی ہے۔ مجھے اس کی وجہ یہ سمجھ میں آئی ہے کہ سعودی حکومت نے عمرے کے سفر کو سیاحت کے زمرے میں شامل کر کے ’’کمرشلائز‘‘ کر دیا ہے لیکن اس پالیسی کو مختلف مراحل میں ڈیل کرنے والے کارندے اور عملے کے افراد وہی پرانے ہیں، ان کے اخلاق و عادات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، صرف پالیسی اور طریق کار تبدیل کیا گیا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ کسی پالیسی کے صحیح طور پر چلنے اور مثبت نتیجہ دینے کا تمام تر دارومدار اس بات پر ہوتا ہے کہ اسے چلانے والے اور اس کے تحت عام لوگوں سے ڈیل کرنے والوں کا طرز عمل کیا ہے۔

عمرہ کے سفر کو سیاحت کے زمرے میں شمار کر کے کمرشلائز کرنے کی شرعی پوزیشن اپنی جگہ غور طلب ہے مگر اس کمرشلائزیشن کے اپنے بھی کچھ تقاضے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ عمرے کے لیے آنے والوں کو پہلے سے زیادہ سہولتیں ملتیں اور وہ اس میں زیادہ آسانیاں محسوس کرتے۔ مجھے اس سے انکار نہیں کہ اس پالیسی سے کچھ فوائد بھی ضرور حاصل ہوئے ہوں گے اور عمرہ کے لیے آنے والوں کی واپسی یقینی بنانے میں بھی کچھ پیس رفت ہوئی ہوگی مگر اس بات میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ اس نئی عمرہ پالیسی سے بہت سے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے اور ان کی پریشانیاں بڑھی ہیں۔ اس لیے اگر سعودی حکومت اس طرف مناسب توجہ دے سکے تو حرمین شریفین میں حاضری دینے والے بہت سے لوگوں کی مزید دعاؤں سے بھی فیض یاب ہو سکتی ہے۔