اندرون سندھ کا سفر

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۹ مئی ۲۰۱۵ء

علامہ علی شیر حیدری شہیدؒ نے مختلف مواقع پر تقاضہ کیا کہ میں خیر پور میرس میں ان کے ادارہ جامعہ حیدریہ میں حاضری دوں۔ متعدد بار وعدہ بھی کیا مگر ایسا نہ ہو سکا۔ ان کے شہادت کے بعد یہ تقاضہ عزیز محترم محمد یونس قاسمی کی طرف سے جاری رہا، مگر ہر کام کا ایک وقت قدرت کی طرف سے مقرر ہوتا ہے اس لیے یہ حاضری مؤخر ہوتی رہی۔ حتیٰ کہ گزشتہ دنوں کراچی سے واپسی پر ایک دن کا کچھ حصہ جامعہ حیدریہ میں گزارنے کا موقع مل گیا۔ کراچی سے ڈائیوو بس کے ذریعہ سکھر پہنچا تو مولانا اسد اللہ اپنے رفقاء کے ہمراہ ٹرمینل پر موجود تھے اور یہ پہلے سے طے تھا کہ پہلے جامعہ اشرفیہ جائیں گے اور جامعہ کے سابق ناظم مولانا خلیل احمد بندھانیؒ کی وفات پر تعزیت و دعا ہوگی۔ مولانا قاری خلیل احمدؒ میرے پرانے رفقاء اور دوستوں میں سے تھے، مختلف دینی تحریکات میں رفاقت رہی، کئی بار سکھر ان کے پاس آنا ہوا اور بیسیوں محافل و مجالس میں ان کے ہمراہ شرکت ہوئی۔ مدرسہ اشرفیہ کے ناظم ہونے کے ساتھ ساتھ مرکزی جامع مسجد بند روڈ کے خطیب تھے۔ شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خانؒ کے خصوصی تلامذہ میں سے تھے، شعلہ نوا خطیب تھے اور دینی تحریکات میں ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔ جامعہ اشرفیہ سکھر میں حاضری ہوئی، مرحوم کے فرزند مولانا عقیل احمد، جامعہ اشرفیہ کے سرگرم بزرگ ڈاکٹر حق نواز اور دیگر احباب سے تعزیت کی اور حضرت قاری صاحب رحمہ اللہ کے لیے دعائے مغفرت کی۔

اس کے بعد بزرگ عالم دین حضرت مولانا عبد الوہاب چاچڑ کے مدرسہ میں حاضری دی، ان سے مختلف امور پر گفتگو کا موقع ملا اور ان سے دعا کی درخواست کی۔ انہوں نے ذکر فرمایا کہ وہ والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ کے تلامذہ میں سے ہیں۔ مولانا عبد الوہاب چاچڑ سندھ کے بزرگ اور مفکر علماء کرام میں شمار ہوتے ہیں، گزشتہ چار عشروں سے سندھی زبان میں ماہنامہ ’’شریعت‘‘ پابندی کے ساتھ شائع کر رہے ہیں اور اہل حق کی ترجمانی میں مصروف ہیں۔ میں نے ان سے عرض کیا کہ اب سے ربع صدی قبل جب ہم نے گوجرانوالہ سے ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کا اجرا کیا جو بحمد اللہ تعالیٰ تسلسل کے ساتھ شائع ہو رہا ہے تو اس کے لیے ڈیکلریشن کے حصول کے ایک مرحلہ میں ہم سے یہ کہا گیا کہ سکھر سے ماہنامہ ’’شریعت‘‘ کے نام سے ایک پرچہ پہلے سے شائع ہو رہا ہے اس لیے اس نام سے دوسرے پرچے کا ڈیکلریشن نہیں دیا جا سکتا۔ میں نے عرض کیا کہ وہ ’’شریعت‘‘ ہے جبکہ ہم ’’الشریعہ‘‘ کے نام سے جریدہ شائع کرنا چاہتے ہیں۔ ہماری یہ تکنیک کامیاب رہی اور ’’الف لام‘‘ کے اضافہ سے ہمیں ڈیکلریشن مل گیا۔ مولانا محترم اس پر محظوظ ہوئے اور دعاؤں سے نوازا۔

سکھر کے ساتھ ٹھیری میں سندھ کے قدیم ترین مدرسہ ’’مدرسہ الہدیٰ‘‘ میں بھی حاضری کی سعادت حاصل ہوئی۔ یہ دینی ادارہ ۱۹۰۲ء میں قائم ہوا تھا اور مخدوم العلماء حضرت مولانا حماد اللہ ہالیجویؒ بھی اس میں تدریسی خدمات سر انجام دیتے رہے ہیں۔ اس مدرسہ کی اپنی ایک تاریخ ہے جو مستقل تذکرہ کی متقاضی ہے۔ مگر اس میں سے اپنے ذوق کے مطابق سردست صرف ایک بات کا ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ اب سے ایک صدی قبل ۱۳۳۶ھ میں دارالہدیٰ کے بانی حضرت مولانا حبیب اللہؒ کی سربراہی میں اس دینی درسگاہ کے لیے جو نصاب طے کیا گیا تھا اس میں درجہ عربی کے چار درجوں کے لیے جغرافیہ اور تاریخ کے مضامین مستقل طور پر شامل کیے گئے تھے۔ ہندوستان، یورپ اور دنیا کے جغرافیہ اور تاریخ کو مختلف مراحل میں نصاب کا حصہ بنایا گیا تھا اور اس کے لیے متعدد کتب پڑھائی جاتی تھیں۔ مگر اس کے ایک سو سال کے بعد اب ہم اپنے دینی مدارس میں اس الجھن کا شکار ہو چکے ہیں کہ دینی تعلیم کے نصاب میں جغرافیہ اور تاریخ کو شامل کرنا درست بھی ہے یا نہیں۔ البتہ کل کے اخبارات میں یہ پڑھ کر بہت خوشی ہوئی کہ جامعہ دارالعلوم کراچی کے سربراہ حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی دامت برکاتہم نے دینی مدارس کو مشورہ دیا ہے کہ وہ عصری تعلیم کو اعلیٰ معیار کے ساتھ اپنے تعلیمی نصاب و نظام کا حصہ بنائیں اور یہ عندیہ دیا ہے کہ جامعہ دارالعلوم میں آئندہ ایک معیاری کالج قائم کیا جائے گا۔ اس پر اس لحاظ سے بھی خوشی ہوئی کہ اب سے ربع صدی قبل جب ہم نے گوجرانوالہ میں شاہ ولی اللہ کالج کے نام سے باقاعدہ کالج قائم کیا تھا تو ہمیں اپنے دونوں بزرگوں والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ کی عملی سرپرستی تو حاصل تھی مگر ملک کے اکثر و بیشتر حصوں میں ہماری اس کاوش کو شکوک و شبہات اور اعتراضات و تنقیدات کی دھند نے گھیر رکھا تھا۔ یہ کالج اب بحمد اللہ تعالیٰ جامعۃ الرشید کراچی کی گوجرانوالہ شاخ کا حصہ بن گیا ہے اور ہماری اس ’’فقیرانہ صدا‘‘ کی گونج دینی تعلیمی نظام کے اعلیٰ ایوانوں میں بھی سنائی دینے لگی ہے، فالحمد اللہ علیٰ ذٰلک۔

دارالہدیٰ ٹھیڑی سے فارغ ہو کر خیر پور پہنچے جہاں مولانا اسد اللہ نے مرکزی جامع مسجد میں ایک دینی نشست کا اہتمام کر رکھا تھا۔ اس میں اسلامی رفاہی ریاست کے عنوان پر مختصر بات کی۔ اگلے روز جامعہ حیدریہ خیر پور میں دورہ حدیث اور درجہ تخصص کے طلبہ کے ساتھ دو نشستوں میں دینی جدوجہد کے عصری تقاضوں اور سنی شیعہ کشمکش کی معروضی صورت حال کے بعض پہلوؤں پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ جبکہ مولانا ثناء اللہ حیدری، مولانا عبد الجبار اور دیگر علماء کرام سے مختلف امور پر تبادلہ خیال ہوا۔ اسی روز شام کو پیر جو گوٹھ جانے کا پروگرام بن گیا۔ مولانا اسد اللہ اور مولانا عبد الجبار کے ہمراہ سلسلہ عالیہ قادریہ راشدیہ کے سرخیل حضرت مولانا شاہ محمد راشد رحمہ اللہ تعالیٰ کی خانقاہ میں حاضری دی جن کی نسبت سے ہم راشدی کہلاتے ہیں۔ بزرگوں کی قبروں پر فاتحہ خوانی کی سعادت حاصل کی اور خانقاہ کی عظیم لائبریری میں کچھ لمحات گزارے جس میں ایک لاکھ سے زیادہ کتب کے علاوہ سینکڑوں قلمی مخطوطات اور تاریخی نوادرات موجود ہیں، ان کی ایک جھلک دیکھی۔ ہم پیر جو گوٹھ کے بازاروں میں سے گزر رہے تھے مگر میرا دماغ تاریخ کے جھروکوں سے اس دور کا نظارہ کر رہا تھا جب حضرت سید احمد شہیدؒ اور شاہ اسماعیل شہیدؒ جہاد کے لیے پشاور جاتے ہوئے یہاں رکے تھے، حضرت پیر پگاراؒ کے مہمان تھے اور پھر اپنے خاندان کے بچوں اور خواتین کا کچھ حصہ یہاں چھوڑ کر آگے بڑھ گئے تھے۔ مجھے بتایا گیا کہ یہ خاندان جس علاقہ میں قیام پذیر ہوئے وہ سالار محلہ کے نام سے اب بھی آباد ہے۔ پھر میری چشم تصور نے پیر جو گوٹھ کی گلیوں میں گھومتے ہوئے اس دور کا بھی نظارہ کیا جب پاکستان کے قیام سے چند سال قبل برطانوی شاہی فضائیہ نے پیر جو گوٹھ کے اس مرکز کو جو جنگ آزادی کا سندھ میں سب سے بڑا مرکز تھا بمباری کر کے تباہ کیا تھا۔ میری نظروں کے سامنے راشدی خاندان کے بزرگوں کے مزارات تھے مگر کانوں میں برطانوی فضائیہ کے طیاروں کی بمباری کی گھن گرج مسلسل سنائی دے رہی تھی۔

یہ عجیب اتفاق ہوا کہ جب خانقاہ راشدیہ کی لائبریری کے معائنہ رجسٹر میں اپنے تاثرات قلمبند کرتے ہوئے تاریخ لکھنا چاہی تو یاد آیا کہ آج ۶ مئی ہے جو شہدائے بالا کوٹ کا یوم شہادت ہے۔ چنانچہ میں نے اپنے تاثرات میں اس بات کا ذکر کیا کہ شہدائے بالاکوٹ کی شہادت کے دن پیر جو گوٹھ میں حاضری کو حسن اتفاق سمجھتے ہوئے اس پر مسرت کا اظہار کرتا ہوں۔ اس طرح سکھر اور خیر پور میں دو دن گزار کر بدھ کو رات ۹ بجے اسلام آباد کی طرف پرواز کر گیا۔