مشی گن کی قدیم ترین مسجد

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۳۱ اگست ۲۰۰۹ء

امریکی ریاست مشی گن کے سب سے بڑے شہر ڈیٹرائٹ میں چار روزہ قیام کے دوران نصف درجن کے لگ بھگ مساجد میں حاضری ہوئی، ان میں سے اکثر میں بیان بھی ہوئے۔ آج کل رمضان المبارک کے حوالے سے روزوں، قرآن کریم کی تلاوت اور رمضان المبارک سے متعلقہ دیگر اعمال خیر کا تذکرہ ہو رہا ہے۔ ان بیانات میں ابتداء سے اعلان کر دیا جاتا ہے کہ بیان اردو میں ہوگا اور اردو نہ سمجھنے والوں کے لیے ایک کونے میں انگریزی میں ساتھ ساتھ ترجمے کا اہتمام بھی ہوتا ہے۔ مگر کم و بیش ہر جگہ میں نے دیکھا کہ نمازیوں کی اکثریت اردو سمجھنے والوں کی تھی جبکہ الگ کونے میں انگریزی ترجمے سے استفادہ کرنے والے چند حضرات بھی تھے۔ حتیٰ کہ ڈیٹرائٹ میں بنگلہ دیشی مسلمانوں کے مرکز مسجد نور میں بھی یہی منظر دیکھنے میں آیا۔

مجھے ہانگ کانگ، جنوبی افریقہ، نیروبی، برطانیہ، امریکہ، کینیڈا اور بنگلہ دیش میں گزشتہ تین عشروں کے دوران سینکڑوں اجتماعات سے خطاب کا موقع ملا، ہر جگہ اردو سمجھنے والے لوگ موجود تھے۔ گزشتہ روز ایک دوست کے سامنے اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے کہا کہ دنیا کے مختلف حصوں میں اردو کے فروغ میں دو باتوں کا سب سے زیادہ حصہ ہے۔ دینی حلقوں میں تبلیغی جماعت کی محنت کا اور دوسرے حلقوں میں انڈین فلموں اور گانوں کا کہ دونوں جگہ اظہار کا اصل ذریعہ اردو ہی ہے۔ ایک دوست نے ذکر کیا کہ اب سے پون صدی قبل تک پورے شمالی امریکہ میں تین یا چار مسجدیں ہوتی تھیں جن میں سے ایک مسجد ڈیٹرائٹ کی بھی تھی جبکہ اب صرف ڈیٹرائٹ میں چالیس سے زیادہ مسجدیں موجود اور آباد ہیں۔ میں نے مشی گن کی سب سے قدیمی مسجد دیکھنے کی خواہش ظاہر کی تو میرے میزبان مولانا قاری محمد الیاس وہاں لے گئے۔

مولانا قاری محمد الیاس کا تعلق فیصل آباد سے ہے، بکر منڈی میں ایک بڑے دینی مدرسے جامعہ مدینۃ العلم کے بانی و مہتمم ہیں، دو عشروں تک رمضان المبارک میں قرآن کریم سنانے کے لیے ڈیٹرائٹ جاتے رہے ہیں، اب چار سال سے وہیں مقیم ہیں اور مسجد بلال میں خطابت اور امامت کے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔ اس مسجد کے ساتھ ساڑھے چار ایکڑ جگہ میں وسیع مسجد اور مدرسے کی تعمیر کے لیے نقشے کی منظوری آخری مراحل میں ہے۔ مسجد میں حفظ قرآن کریم کا مدرسہ چل رہا ہے اور دو بچوں نے میری موجودگی کے دوران حفظ قرآن کریم مکمل کیا ہے، درس نظامی کی کلاسیں شروع کرنے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں، نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے جمعہ کی نماز قریب ہی ایک جم خانہ کے ہال میں پڑھتے ہیں جس کی مالکہ ایک غیر مسلم خاتون ہیں اور وہ جمعہ کی نماز کی خاطر دو گھنٹے کے لیے یہ وسیع ہال کسی کرائے کے بغیر دے دیتی ہیں۔ ۱۴ اگست کا جمعہ میں نے وہیں پڑھا اور نمازیوں سے مختصر خطاب بھی کیا۔ جم خانہ کے ہال میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے میرے ذہن میں ۱۴ اگست کا تصور آگیا کہ اس روز ہم نے اسلام کے لیے دنیا کے نقشے پر ایک نئی ریاست کو نمودار ہوتے دیکھا تھا، اللہ تعالیٰ اسے سلامت رکھے کہ نہ صرف پاکستان کے کروڑوں مسلمانوں بلکہ عالم اسلام کی امیدوں کا مرکز یہی ہے، آمین یا رب العالمین۔

مجھے خیال آیا کہ اس جم خانہ میں ہفتہ میں صرف دو گھنٹے کے لیے خدا اور رسولؐ خدا کا نام لیا جاتا ہے اور چند مسلمان اپنی پیشانی خالق کائنات کے حضور سجدے میں رکھتے ہیں، پھر اس کے بعد ہفتہ بھر کے لیے جم خانہ اپنے ماحول کی طرف پلٹ جاتا ہے۔ اس طرح ہم نے بھی پاکستان میں خدا اور رسولؐ کی بات کو چند اوقات کے دائرے میں محدود کر رکھا ہے، باقی اوقات میں وہی جم خانہ کا ماحول باقی رکھنے کی کوشش جاری رہتی ہے۔ میں گفتگو تو جمعۃ المبارک کے نمازیوں سے رمضان المبارک کی برکات سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے موضوع پر کر رہا تھا لیکن میرے دماغ میں یہی سوچیں بار بار کروٹ لے رہی تھیں جن کا سلسلہ اس سوال پر پہنچ کر ڈیڈلاک کا شکار ہوگیا کہ اس اجتماع کے نمازی تو مسجد بلال کی نئی تعمیر مکمل ہوجانے پر وہاں منتقل ہو جائیں گے اور انہیں شب و روز کے لیے اللہ تعالیٰ اور اس کے آخری رسولؐ کی باتوں اور تعلیمات کا ماحول میسر آجائے گا مگر پاکستان کے کروڑوں مسلمانوں کا کیا بنے گا اور انہیں قرآن و سنت کی تعلیمات کا ہمہ وقتی ماحول آخر کب میسر آئے گا؟

بہرحال میں مولانا قاری محمد الیاس کا ذکر کر رہا تھا کہ وہ مجھے مشی گن کی سب سے پرانی مسجد دکھانے کے لیے وہاں لے گئے۔ اس مسجد کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ جب ۱۹۲۰ء میں امریکی صنعتکار ہنری فورڈ نے اپنے کارخانے ڈیٹرائٹ میں منتقل کیے تو دیربورن کے علاقے میں اس کے مسلمان ملازمین نے، جن میں زیادہ تر لبنانی تھے، نماز کے لیے جگہ مخصوص کرنے کا مطالبہ کیا جس کے نتیجے میں ایک مصلیٰ قائم ہوا جو مشی گن کے علاقے میں پہلی مسجد تھی اور حسین خروب صاحب اس کے امام بنے۔ ۱۹۳۸ء میں دیربورن کے مسلمانوں نے امیریکن مسلم سوسائٹی کے نام سے ایک تنظیم قائم کی اور اس مصلیٰ کو باقاعدہ مسجد کی حیثیت دے کر اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ ۱۹۵۲ء میں اس مسجد کی توسیع ہوئی اور نماز کے ہال کے علاوہ دفاتر اور کلاس روم بنائے گئے تاکہ نماز کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی دینی تعلیم کا بھی انتظام کیا جا سکے۔ ۱۹۵۷ء میں مسجد پر دو گنبد اور دو چھوٹے مینار تعمیر کیے گئے جس سے یہ دور سے باقاعدہ مسجد نظر آنے لگی۔ اردگرد مسلمانوں کی آبادی بڑھتی گئی، نئے آباد ہونے والوں میں زیادہ آبادی یمنی مسلمانوں کی تھی۔ اس وقت تک یہ مسجد بارہ ہزار مربع فٹ کے رقبے میں تھی جسے ۱۹۸۶ء میں ڈبل کر کے مسجد اور اس کے متعلقات کا دائرہ چوبیس ہزار مربع فٹ تک پھیلا دیا گیا۔ ۲۰۰۰ء تک یہ مسجد بھی ناکافی ہوگئی تو اس میں ڈبل توسیع کر کے اس کا تعمیری رقبہ اڑتالیس ہزار مربع فٹ تک بڑھا دیا گیا جبکہ پارکنگ وغیرہ سمیت اس کا مجموعی رقبہ ایک لاکھ مربع فٹ بتایا جاتا ہے۔

ہم نے مسجد کے مین ہال کی صفیں شمار کیں تو وہ ستائیس تھیں جبکہ ہر صف میں ستائیس مصلے ہیں جن سے ہم نے اندازہ کیا کہ اس ہال میں کم و بیش بارہ سو افراد نماز ادا کرتے ہوں گے۔ اس پر ہمیں بتایا گیا کہ اس کے ساتھ ایک اور نماز ہال بھی ہے جو جمعہ اور عیدین میں استعمال ہوتا ہے اور دونوں ہالوں میں مجموعی طور پر دو ہزار افراد بیک وقت نماز پڑھ سکتے ہیں۔ ایک صاحب نے بتایا کہ گزشتہ عید پر نمازیوں کے اجتماع کی یہ کیفیت تھی کہ نماز کے دو ہالوں اور کلاس روموں کے بھر جانے کے بعد باہر پارکنگ میں بھی صفیں بچھی ہوئی تھیں اور ہر طرف نمازی ہی نمازی نظر آرہے تھے۔ ہم عصر اور مغرب کی نماز کے دوران اس مسجد میں گئے تھے، ہر طرف یمنی مسلمانوں کی ٹولیاں دکھائی دے رہی تھیں اور مسجد کے اردگرد عرب مسلمانوں کے سٹور، دکانیں اور دفاتر دیکھ کر یوں لگتا تھا کہ جیسے ہم امریکہ کے شہر ڈیٹرائٹ میں نہیں بلکہ یمن کے شہر صنعا کے کسی حصے میں گھوم رہے ہیں۔

امریکہ میں عرب مسلمانوں کی سرگرمیاں اور مراکز دوسرے علاقوں کے مسلمانوں سے زیادہ ہیں۔ یہ عربوں کا حق بھی ہے کہ اب علمی حلقوں میں عرب دانشوروں کے اس دعوے پر توجہ دی جانے لگی ہے کہ براعظم امریکہ کولمبس کی نہیں بلکہ عربوں کی دریافت ہے۔ اس لیے کہ کولمبس نے جب امریکہ کی سرزمین پر قدم رکھا تو امریکہ کے بعض علاقوں میں عرب پہلے سے موجود تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ کولمبس اندلس کو فتح کرنے والی مسیحی ملکہ ازابیلا کا نمائندہ تھا اور کولمبس کی اس مہم کی سرپرستی وہی کر رہی تھی جبکہ عرب ملکہ ازابیلا کے ہاتھوں اسپین میں شکست کھا چکے تھے اس لیے اسپین پر ملکہ ازابیلا کے تسلط کے ساتھ ساتھ امریکہ کی دریافت کے دعوے میں بھی اس کا اور اس کے نمائندے کولمبس کا حق فائق سمجھ لیا گیا اور ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘ کا محاورہ اپنا جادو دکھا گیا۔ اس مسجد کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ مشی گن کی واحد مسجد ہے جس میں باہر کے لاؤڈ اسپیکر پر اذان ہوتی ہے اور مسجد کے چاروں طرف دن میں پانچ وقت اللہ اکبر کی آواز گونجتی ہے۔ یہ حق یہاں کے مسلمانوں نے باقاعدہ ایک عدالتی جدوجہد کے ذریعے حاصل کیا ہے۔

مسجد میں حفظ قران کریم کے لیے مدرسہ عبد اللہ بن عباسؓ کے نام سے درسگاہ قائم ہے جس میں اس وقت پانچ سو بچے حفظ قرآن کریم کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں، ان میں نصف تعداد لڑکیوں کی ہے۔ عورتوں، بوڑھوں اور نوجوانوں کے لیے تعلیم و ثقافت کے الگ الگ گروپ کام کر رہے ہیں، باقاعدہ تعلیمی نظام کے علاوہ مختلف موضوعات پر ہفتہ وار لیکچرز کا اہتمام ہوتا ہے، مسجد میں وسیع لائبریری اور کمپیوٹر ٹریننگ سنٹر موجود ہے جس سے سینکڑوں لوگ استفادہ کر رہے ہیں۔ مدرسۃ الفرقان کے نام سے ویک اینڈ مدرسہ کام کر رہا ہے جس میں ہفتہ وار کلاسیں ہوتی ہیں۔ اس وقت سات سو سے زیادہ طلبہ اور طالبات تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ مسجد کی اپنی ویب سائیٹ masjiddearborn.org کے نام سے موجود ہے جس سے مزید معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔