کل جماعتی آزادیٔ مساجد و مدارس کنونشن ۔ اہم فیصلے اور قراردادیں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۹ نومبر ۱۹۷۶ء

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ حضرت مولانا مفتی محمود ایم این اے کی دعوت پر آزادیٔ مساجد و مدارس کے سوال پر غور و خوض کے لیے مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام کا ایک بھرپور کنونشن ۱۰ نومبر ۱۹۷۶ء کو صبح ۱۰ بجے جامعہ حنفیہ عثمانیہ ورکشاپی محلہ راولپنڈی میں وفاق المدارس کے نائب صدر حضرت مولانا عبد الحق ایم این اے اکوڑہ خٹک کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ کنونشن میں ملک کے چاروں صوبوں سے دیوبندی، بریلوی اور اہل حدیث مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ایک سو کے قریب مندوبین نے شرکت کی۔ وفاق المدارس کے صدر علامہ سید محمد یوسف بنوری طیارہ میں سیٹ نہ ملنے کی وجہ سے راولپنڈی نہ پہنچ سکے اور انہیں ایئرپورٹ سے واپس جانا پڑا جبکہ اتحاد المدارس کے ناظم اعلیٰ علامہ سید محمود احمد رضوی لاہور ہائی کورٹ میں قادیانی عبادت خانوں کے سلسلہ میں ایک اہم مقدمہ کی تاریخ کے سلسلہ میں مصروف رہے اور اجلاس میں شریک نہ ہو سکے تاہم ان کے مکتب فکر کی طرف سے جمعیۃ العلماء پاکستان راولپنڈی کے راہنما مولانا محمد یوسف چشتی نے خوب خوب نمائندگی فرمائی۔ کنونشن میں مولانا مفتی محمود اور مولانا عبد الحق کے علاوہ شریک ہونے والی ممتاز شخصیات درج ذیل ہیں:

حضرت مولانا معین الدین لکھوی امیر جمعیۃ اہل حدیث پاکستان، میاں فضل حق صاحب ناظم اعلیٰ جمعیۃ اہل حدیث پاکستان، مولانا حکیم عبد الرحیم اشرف مدیر المنبر لائلپور، مولانا عبد الرحمان جامعہ اشرفیہ لاہور، مولانا محمد ایوب جان بنوری دارالعلوم سرحد پشاور، مولانا مفتی احمد الرحمان مدرسہ عربیہ نیو ٹاؤن کراچی، مولانا عبد الواحد مطلع العلوم کوئٹہ، مولانا محمد شریف جالندھری ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان، شیخ القران مولانا غلام اللہ خان ناظم اعلیٰ جمعیۃ اشاعت التوحید والسنتہ پاکستان، مولانا عبد المجید ندیم ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ حقوق اہل سنت پاکستان، مولانا محمد یوسف چشتی صدر جمعیۃ العلماء پاکستان راولپنڈی، مولانا نور محمد جامعہ ہاشمیہ سجاول ضلع ٹھٹھہ، جناب عبد الحکیم اکبری صدر جمعیۃ طلبہ اسلام پاکستان اور ان کے علاوہ دیگر سینکڑوں علماء کرام۔

مولانا مفتی محمود کا خطاب

کنونشن کے داعی مولانا مفتی محمود نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے دینی مدارس و مساجد کی آزادانہ حیثیت کی اہمیت اور رضاکارانہ نظام کے پس منظر پر روشنی ڈالی اور کہا کہ مدارس و مساجد کا یہ آزادانہ و رضاکارانہ نظام اس وقت قائم کیا گیا تھا جب فرنگی کی مسلسل سازشوں کی وجہ سے یہ خطرہ پیدا ہوگیا تھا کہ شاید اس خطۂ زمین میں اسلامی علوم کے تحفظ اور ترویج کا سلسلہ بند ہو جائے گا۔ چنانچہ بیدار مغز علماء نے دیندار مسلمانوں کے تعاون سے ایسے نظام کی داغ بیل ڈالی جس کے تحت پورے برصغیر میں دینی مدارس کا جال پھیلا دیا گیا اور علماء کرام نے دینی علوم اور اسلامی اقدار و روایات کی اس قدر حفاظت کی کہ جو خلا انگریز پیدا کرنا چاہتا تھا علماء نے عوام کو وہ خلا زیادہ محسوس نہیں ہونے دیا اور دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ مذہبی و سیاسی رہنمائی کا تسلسل قائم رکھا۔

مفتی صاحب نے کہا کہ انگریز تو ہمارے دینی تشخص اور اسلامی علوم و روایات کو مٹانے کے درپے تھا اس لیے اس کے دور میں رضاکارانہ نظام کی ضرورت محسوس ہوئی لیکن پاکستان کے قیام کے بعد یہ چاہیے تھا کہ حکومت خود پورے ملک میں دینی تعلیم کا انتظام کرتی مگر حکومتوں نے ایسا نہ کیا جس کی وجہ سے ضرورت پڑی کہ اس رضاکارانہ نظام کو پہلے کی طرح قائم رکھا جائے۔ چنانچہ علماء کرام نے فرنگی دورِ حکومت کی طرح پاکستان میں بھی دینی مدارس اور مساجد کی آزادانہ حیثیت کو برقرار رکھا اور آج تک اسی جذبہ کے ساتھ قرآن و حدیث کی اشاعت و تعلیم کا مقدس فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔

مفتی صاحب نے کہا کہ سابق حکومتوں سے ہمیں یہ گلہ تھا کہ انہوں نے اسلامی علوم کی تعلیم و ترویج کے لیے کچھ نہیں کیا لیکن موجودہ حکومت سے دہرا شکوہ ہے کہ وہ اسلامی علوم کی تعلیم و ترویج میں دلچسپی لینا تو کجا اس مقصد کے لیے موجودہ نظام کو بھی سبوتاژ کرنا چاہتی ہے۔ اور اس نے مدارس و مساجد کی آزادی کو سلب کرنے کا بتدریج پروگرام اس لیے بنایا ہے کہ ان دینی مراکز سے جو لوگ فیض یاب ہوتے ہیں وہ اپنے ٹھوس دینی ذہن کی وجہ سے خلاف اسلام باتوں کو قبول نہیں کرتے بلکہ حکومت کے غیر اسلامی اقدامات پر تنقید کرتے ہیں۔ حکومت اس ذہن کو کنٹرول کرنا چاہتی ہے تاکہ اس کی من مانیوں اور غیر اسلامی حرکات کے خلاف بلند ہونے والی اس مضبوط آواز کا گلا گھونٹ دیا جائے۔

مولانا مفتی محمود نے کہا کہ حکومت اگر یہ سوچتی ہے کہ مدارس و مساجد پر قبضہ سے دینی تعلیم کو ختم کیا جا سکتا ہے تو یہ اس کی غلط فہمی ہے کیونکہ مدارس عمارتوں کا نام نہیں بلکہ استاذ اور شاگرد دونوں کے مل بیٹھنے کا نام ہے۔ اس لیے اگر حکومت مدارس کی عمارتوں پر قبضہ کر بھی لے تو کوئی بنیادی فرق نہیں پڑتا، ہم درختوں کے نیچے پڑھائیں گے، اپنے گھروں میں طلبہ کو پڑھائیں گے، کھلے میدانوں میں پڑھائیں گے، جہاں بھی استاذ اور شاگرد آپس میں مل بیٹھ کر تعلیم کا سلسلہ شروع کریں گے وہی ہمارا مدرسہ ہوگا۔ آخر ہماری زبانوں کو قال اللہ و قال الرسول کی تعلیم دینے سے تو کوئی نہیں روک سکتا۔ قرآن و حدیث کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے لیا ہے اور ان علوم مقدسہ کی تعلیم بہرحال جاری رہے گی۔

مفتی صاحب نے کہا کہ مجھے علوم اسلامی کے مستقبل کے بارے میں کوئی خدشہ نہیں اور میں ان لوگوں کے اس خیال کو احمقانہ تصور سمجھتا ہوں جو اپنے طور پر یہ طے کیے بیٹھے ہیں کہ مدارس و مساجد پر قبضہ کے بعد ہم اس ملک میں دینی ذہن کو اپنے کنٹرول میں کر سکیں گے اور دینی علوم کی تعلیم و ترویج کا سلسلہ بند ہو جائے گا۔ البتہ صرف اس خیال سے کہ جن لوگوں نے علماء کرام پر اعتماد کر کے مساجد و مدارس کی تعمیر کے لیے رقوم صرف کی ہیں انہوں نے مدارس و مساجد کے نظام کے سلسلہ میں علماء کو چنا اور ان پر اعتماد کیا ہے اس لیے یہ مدارس و مساجد علماء کے پاس عوام کی امانت ہیں اور امانت کی حفاظت ہر مسلمان کا فرض ہے، ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ مساجد و مدارس کی حفاظت کریں گے اور انہیں ظالمانہ دستبرد سے بچانے کے لیے ہرممکن کوشش کریں گے۔

مفتی صاحب نے کہا کہ سرکاری تحویل میں آنے کے بعد صحیح معنوں میں دینی تعلیم کا سلسلہ جاری نہیں رہ سکتا، محض خانہ پری ہوگی اور خلوص و للہیت ختم ہو جائے گی۔ اس کی عملی مثال ہمارے سامنے ہے کہ بہاولپور کے جامعہ اسلامیہ کو حکومت نے یونیورسٹی کا درجہ دیا، اس پر کروڑوں روپے صرف ہو رہے ہیں لیکن یہ یونیورسٹی آج تک ملک کو کوئی قابل قدر فاضل نہیں دے سکی۔ خود یونیورسٹی کے ایک استاد نے مجھ سے ذکر کیا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ہم نے طلبہ کو سہولتیں بھی بہت دے رکھی ہیں، قابل ترین اساتذہ فراہم کیے ہیں اور بے پناہ روپیہ صرف کر رہے ہیں پھر بھی طلباء پڑھتے نہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ دراصل سرکاری ملازمت اور دیگر مراعات کی وجہ سے آپ کے ہاں تعلیم کے مثبت نتائج سامنے نہیں آرہے۔

مفتی صاحب نے کہا کہ حکمران گروہ اپنی من مانیوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ علماء کو سمجھتا ہے کیونکہ جب بھی کسی حکومت نے غیر اسلامی قدم اٹھایا ہے علماء نے ڈٹ کر اس کی مخالفت کی ہے اور عوام کو اس کے غلط نتائج سے آگاہ کیا ہے۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت، عائلی قوانین کے خلاف علماء کی جدوجہد، خاندانی منصوبہ بندی کی تباہ کاریوں کے خلاف کلمۂ حق، ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت اور اب حقوق نسواں کمیٹی کی غیر اسلامی سفارشات کے خلاف ملک بھر میں علماء کا متفقہ احتجاج اس کا واضح ثبوت ہے۔ حکومت اس آواز کو ختم کرنا چاہتی ہے لیکن یہ آواز نہیں دبے گی اور علماء کرام ہر حال میں اعلاء کلمۃ الحق کا مقدس فریضہ ادا کرتے رہیں گے۔

مفتی صاحب نے گوجرانوالہ میں مسجد نور کی واگزاری کے لیے تحریک چلانے والے اور گرفتاریاں پیش کرنے والے نوجوانوں کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ان نوجوانوں نے جبر و تشدد کے اس دور میں دینِ حق کی خاطر قربانی کی روشن مثال قائم کی ہے، ہمیں ان نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے اور اس مقدس جدوجہد میں ان کا بھرپور ساتھ دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ گوجرانوالہ کی مسجد نور و مدرسہ نصرۃ العلوم کے علاوہ بنوں کے مدرسہ معراج العلوم، راولپنڈی کے جامعہ رضویہ ضیاء العلوم اور دیگر مدارس و مساجد کو محکمہ اوقاف نے تحویل میں لینے کے نوٹس جاری کیے ہیں۔ اس لیے آپ حضرات کو تکلیف دی گئی ہے کہ باہم مل بیٹھ کر اور سر جوڑ کر اس صورتحال کا جائزہ لیں اور کوئی ٹھوس لائحہ عمل اختیار کریں تاکہ ہم اپنے عظیم اسلاف کی علمی و دینی وراثت کا حق ادا کر سکیں۔

مولانا مفتی عبد الواحد کا خطاب

گوجرانوالہ کے بزرگ عالم دین اور مدرسہ انوار العلوم کے مہتمم مولانا عبد الواحد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت معاشی مفادات کے عنوان سے علماء کے منہ بند کر دینا چاہتی ہے اور ہم نے اس سازش کو ناکام بنانا ہے لیکن اس سلسلہ میں ہمیں صرف قرارداد منظور کر کے آرام سے نہیں بیٹھ جانا چاہیے بلکہ قرارداد کو مؤثر اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے عوامی قوت فراہم کرنی چاہیے۔

مولانا مفتی عبد الواحد نے کہا کہ قومی اسمبلی نے ایک بل منظور کر کے حکومت کو ملک میں کسی بھی وقف املاک کو تحویل میں لینے اور اسے ضرورت کے مطابق صرف کرنے کا جو اختیار دیا ہے اس کے بعد حکومت کے عزائم کے بارے میں کسی کو غلط فہمی کا شکار نہیں رہنا چاہیے کیونکہ اب حکومت کے عزائم بالکل واضح ہو چکے ہیں۔

مولانا معین الدین لکھوی کا خطاب

جمعیۃ اہل حدیث پاکستان کے امیر او رجامعہ محمدیہ اوکاڑہ کے مہتمم مولانا معین الدین لکھوی نے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مدارس و مساجد پر سرکاری قبضہ کی شرعی حیثیت پر روشنی ڈالی اور فرمایا کہ شرعی اصولوں کے مطابق کسی بھی وقف ادارہ کا نظام وقف کرنے والوں کی مرضی کے مطابق چلنا چاہیے۔ جو لوگ مدارس میں چندہ دیتے ہیں اور جن لوگوں کے چندوں سے مساجد تعمیر ہوئی ہیں ان کی مرضی کے خلاف شریعت کسی ردوبدل کو روا نہیں رکھتی اور ظاہر ہے کہ لوگ مدارس و مساجد کو چندے دیتے ہیں، وہ ان کے مہتممین اور منتظمین پر اعتماد کی وجہ سے ہی دیتے ہیں۔ اس لیے ان خطباء، منتظمین اور مہتممین کو ان کی ذمہ داریوں سے جبراً الگ کرنا شرعاً درست نہیں ہے۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔