برطانوی ویزا حکام کی بلاجواز بدگمانی

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۹ جولائی ۲۰۱۲ء

شعبان المعظم اور رمضان المبارک میں عام طور پر دینی مدارس میں تعطیلات ہوتی ہیں اور گزشتہ ربع صدی سے میرا معمول یہ رہا ہے کہ ان چھٹیوں کا زیادہ حصہ برطانیہ یا امریکہ میں گزارتا ہوں۔ مگر اس سال میرے پاس ان دونوں میں سے کسی ملک کا ویزا نہیں ہے اس لیے شارجہ میں گوجرانوالہ کے ایک دوست محمد فاروق شیخ کے گھر میں بیٹھا یہ سطور تحریر کر رہا ہوں جہاں چند روز کے لیے قیام پذیر ہوں۔

برطانہ میرا آنا جانا اس دور سے ہے جب وہاں جانے کے لیے ویزا پیشگی طور پر حاصل کرنا ضروری نہیں ہوتا تھا، لندن ایئرپورٹ پر مختصر انٹرویو کے بعد انٹری کی مہر لگ جاتی تھی۔ یہ ۱۹۸۵ء کی بات ہے جب لندن کے ویمبلے کانفرنس سنٹر میں پہلی سالانہ عالمی ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ ایک روز شیرانوالہ لاہور کی جامع مسجد میں اپنے کسی کام کے لیے گیا تو وہاں مولانا منظور احمد چنیوٹی اور مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ کچھ دوستوں کے ساتھ اس کانفرنس کے لیے مشورہ کر رہے تھے، مجھے بھی انہوں نے اس مشورے میں شریک کر لیا۔ مولانا قاسمیؒ نے فرمایا کہ تم بھی ہمارے ساتھ چلو تم رپورٹنگ اچھی کر لیتے ہو اور یہ بھی ہماری ضرورت ہے۔ میں نے کہا کہ میرے پاس پاسپورٹ کے سوا کچھ نہیں ہے، کہنے لگے کوئی بات نہیں اس کا بندوبست بھی ہو جائے گا تم پاسپورٹ ہمیں دے دو اور سفر کی تیاری کرو۔

ہم تینوں یعنی مولانا منظور احمدؒ چنیوٹی، مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ اور راقم الحروف نے اکٹھے سفر کا پروگرام بنا لیا۔ ترکش ایئرلائنز کے ذریعے کراچی سے استنبول جانا تھا وہاں کا ایک روز کا ٹرانزٹ ویزا ایئرلائن والوں نے ہی لگوا دیا اور ایک روز استنبول میں ٹھہر کر اگلے روز وہاں سے لندن جانے کا شیڈول تھا۔ اس دوران ایک عجیب سا لطیفہ ہوا کہ کراچی سے نصف شب کے لگ بھگ روانہ ہونے والے ترکش ایئر لائنز کے طیارے نے دوبئی اسٹاپ کرنا تھا وہ وہاں اترا اور کم و بیش ڈیڑھ گھنٹے کے بعد استنبول کے لیے پرواز کر گیا۔ جب اسے پرواز کرتے پندرہ بیس منٹ گزر گئے تو ہمارے آگے والی سیٹ پر بیٹھے ایک نوجوان نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور مجھ سے سوال کیا کہ ’’مولوی صاحب! دوبئی کب آئے گا؟‘‘ میں نے حیران ہو کر اس سے پوچھا کہ کیوں کیا بات ہے؟ اس نے کہا کہ ہم نے ادھر اترنا ہے۔ ہم نے دریافت کیا کہ تم کتنے آدمی ہو؟ اس نے بتایا کہ ہم دو آدمی ہیں، میرے ساتھ میرا بھائی ہے۔

اصل بات یہ ہوئی کہ جہاز میں اعلانات انگریزی اور ترکی زبان میں ہوتے رہے جنہیں وہ سمجھ نہ سکے اور دوبئی ایئرپورٹ پر طیارے کے قیام کے دوران وہاں اترنے کی بجائے اپنی سیٹوں پر ہی بیٹھے رہے، اس دوران مسافر اترے اور چڑھے لیکن انہیں اندازہ نہ ہوا۔ لیکن اب کیا ہو سکتا تھا، طیارے نے تو استنبول جا کر ہی رکنا تھا اور ان دونوں کے پاس وہاں کا نہ ویزا تھا اور نہ ہی ٹکٹ تھا اس لیے ہم پریشان ہوگئے اور انہیں بتایا کہ جہاز تو اب استنبول جا رہا ہے۔ اس نوجوان کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ استنبول کہاں ہے، اس نے پوچھا کہ وہ کدھر ہے، جب اسے بتایا گیا تو اس نے پریشانی کے عالم میں شور مچانا شروع کر دیا کہ جہاز کو روکو ہم نے اترنا ہے۔ اس کی اس بات پر پریشانی کے باوجود ہم بھی ہنس پڑے کہ یہ بس تو ہے نہیں جو راستے میں بریک لگا کر سواری کو اتار دے گی۔ اس کا شور سن کر عملے کے لوگ متوجہ ہوئے تو نہ انہیں ان کی بات سمجھ میں آرہی تھی اور نہ ہی یہ ان کی بات سمجھ پا رہے تھے۔ بڑی دقت کے بعد وہ صورتحال کو سمجھے تو کہا کہ اب تو کچھ نہیں ہو سکتا، اب جو بھی ہوگا استنبول ایئرپورٹ پر ہی ہوگا۔ ان نوجوانوں کو سمجھا بجھا کر خاموش کرایا اور تعارف چاہا تو پتہ چلا کہ وہ شمالی وزیرستان کے شہر میرعلی کے رہنے والے ہیں اور دوبئی میں محنت مزدوری کرتے ہیں۔ میں نے میر علی کے ایک پرانے جماعتی دوست کا نام لیا تو اس نوجوان نے بتایا کہ وہ ان کا ماموں ہے، اس سے پریشانی میں اور اضافہ ہوگیا۔ مزید لطیفے کی بات یہ ہے کہ ہم نے جب اس نوجوان سے پوچھا کہ طیارہ دوبئی ایئرپورٹ پر ایک گھنٹے سے زیادہ دیر تک کھڑا رہا، سواریاں اتریں اور نئے مسافر سوار ہوئے، کیا انہیں اس سے اندازہ نہیں ہوا؟ اس نے کہا میں تو یہ سمجھا تھا کہ جہاز خراب ہوگیا ہے، اوپر ہی کھڑا ہے اور اس کو لوگ ٹھیک کر رہے ہیں۔ اس کی یہ بات سن کر ہم میں سے کوئی ہنسے بغیر نہ رہ سکا۔

ہمیں اس بات کا اندازہ تھا کہ ان کے پاس ٹکٹ ہے نہ ویزا اس لیے جہاز سے اترتے ہی انہیں گرفتار کر لیا جائے گا اس لیے ہم نے استنبول کے ایئرپورٹ پر اترنے اور انٹری لگوانے کے بعد پہلے وہاں پی آئی اے کا کاؤنٹر تلاش کر کے وہاں کے عملے کو اس سے آگاہ کیا اور پھر استنبول میں پاکستانی قونصل خانے کا پتہ معلوم کر کے ٹیکسی کے ذریعے وہاں گئے اور قونصل خانے کے حکام کو مطلع کر کے ان سے درخواست کی کہ وہ ان دو پاکستانیوں کی مدد کے لیے کچھ کریں جس کا انہوں نے وعدہ کیا اور ہم وہاں سے روانہ ہوگئے۔

ہم نے استنبول میں ایک روز قیام کیا اور اگلے روز ترکش ایئرلائن کے ذریعے ہیتھرو جا پہنچے جہاں ایئرپورٹ پر مختصر انٹرویو کے بعد ہمیں ویزا دے دیا گیا۔ ہم کم و بیش ایک ماہ لندن میں رہے، کانفرنس کی تیاری میں مختلف شہروں کا دورہ کیا، ختم نبوت کانفرنس انتہائی بھرپور رہی اور مختلف ممالک کے دیگر بزرگوں کے علاوہ بنگلہ دیش کے معروف بزرگ حافظ جی حضورؒ سے بھی ملاقات ہوئی، واپسی پر ہم نے مصری ایئرلائن کے ذریعے حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی۔

یہ بات یقیناً قارئین کے لیے دلچسپی کا باعث ہوگی کہ اس پورے سفر میں یعنی لاہور، کراچی، استنبول، لندن، قاہرہ، جدہ، قاہرہ، کراچی اور لاہور کے اس فضائی روٹ پر ہمارا کرائے کی مد میں مجموعی خرچہ پندرہ ہزار روپے فی کس سے کم تھا۔ اس لیے اگلے سال ۱۹۸۶ء میں ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کے لیے میں صرف ایک ہفتہ کے لیے لندن گیا اور اس موقع پر یہ لطیفہ ہوا کہ جب ہیتھرو ایئرپورٹ پر اترنے کے بعد ویزے کی انٹری کے لیے کاؤنٹر پر پہنچا تو میں دل ہی دل میں وہ الفاظ دہرا رہا تھا جو مجھے انٹرویو کے دوران کہنے کے لیے بتائے گئے تھے۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ میں نے انہیں بتانا ہے کہ میں پریسٹ ہوں اور ریلیجئس کانفرنس میں شریک ہونے کے لیے آیا ہوں۔ کاؤنٹر پر ایک لمبا سا انگریز کھڑا تھا اس نے میرے ہاتھ سے پاسپورٹ لے کر دیکھا اور ٹھیٹھ پنجابی میں یہ کہہ کر دھماکہ سا کر دیا کہ ’’تسی کتھوں آئے او؟‘‘ میں نے بتایا کہ گوجرانوالہ سے آیا ہوں۔ اس نے پوچھا ’’جیڑا لاہور دے نیڑے ہے‘‘۔ میں نے اثبات میں جواب دیا تو کہنے لگا کہ میں نے گوجرانوالہ دیکھا ہوا ہے، میں نے اس کے پنجابی بولنے پر خوشی کا اظہار کیا تو اس نے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میں نے پنجاب یونیورسٹی سے پنجابی زبان میں ایم اے کر رکھا ہے۔

یہ میرے برطانیہ کے ان دو سفروں کا تذکرہ ہے جو میں نے پیشگی ویزا لیے بغیر کیے، اس کے بعد کم و بیش پچیس سال تک تقریباً ہر سال باقاعدہ ویزا لے کر برطانیہ جاتا رہا ہوں جبکہ گزشتہ تین سال سے مسلسل برطانیہ کے ویزا حکام مجھے ویزا دینے سے انکاری ہیں اور اب انہیں شبہ ہونے لگا ہے کہ میں کہیں برطانیہ میں رہ نہ جاؤں۔ ان کا کہنا ہے کہ میں انہیں اس بات کے لیے مطمئن نہیں کر سکا کہ میں برطانیہ پہنچنے کے بعد اپنے وطن واپس بھی آجاؤں گا۔ جبکہ مجھے ترکش ایئرلائن کے ان دو پٹھان مسافروں کی طرح برطانوی ویزا حکام کی اس بات پر بھی ہنسی آرہی ہے کہ جب میں بھرپور جوانی کے دور میں کم از کم ۲۵ مرتبہ موقع ملنے کے باوجود وہاں نہیں رکا تو اب ۶۴ برس کی عمر میں وہاں رہ کر آخر کیا کرلوں گا؟